مشرق وسطیٰ میں نیا جنگی محاذ - آصف خورشید رانا

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر میزائل حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ ایک نئے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مسلسل حملے ایک نئے اور بڑی جنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ایران کی مداخلت کے باعث اس بحران میں مزید شدت آرہی ہے۔ ریاض پر میزائل حملے کے بعد سعودی عرب نے شدید ردعمل کا اظہارکیا اور اسے کھلی جنگ قرار دے کر یمن میں فضائی، سمندری اور زمینی راستے بند کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے موجود اتحادی فورسز نے بھی ریاض میزائل حملے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے ایک جنگی عمل سمجھا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حملے کا الزام تہران پر عائد کیا ہے جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ میزائل حملے کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے اور واضح کیا ہے کہ حوثی باغیوں کو ان کی جانب سے میزائل فراہم نہیں کیے گئے۔ تاہم اس کے باوجود ایران حوثی باغیوں کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے جو تاحال جاری ہے۔اتحادی فورسز نے حوثی باغیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر یمن کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ اتحادی فورسز کے مطابق یہ اقدام عارضی طور پر اٹھایا گیا ہے اور راستے بند ہونے کے باوجود بھی امدادی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔اس عارضی ناکہ بندی کا مقصد حوثی باغیوں کو ایرانی ہتھیاروں کی فراہمی کو روکنا ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا کا مرکزی ایئر پورٹ حوثی باغیوں کے زیر قبضہ ہے اور وہ اگست دو ہزار سولہ سے بند ہے۔سعودی اتحادی فورسز 2015ء سے حوثی باغیوں سے لڑ رہی ہیں اور اس جنگ میں اب تک دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزرتے دنوں کے ساتھ حوثی باغیوں کو قابو کرنے اور یمن کے مسئلہ کے سفارتی حل کے امکانات کی امید دم توڑتی جارہی ہے۔ عرب لیگ کے اجلاس میں خلیجی ریاستوں کی تنظیم نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر ڈالتے ہوئے اسے خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ جبکہ عرب لیگ نے سعودی عرب کے خلاف کسی بھی بیرونی خطرے یا اس کے امن کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے مقابل سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے سعودی عرب کے خلاف غیر مسبوق نوعیت کی جارحیت کی شدید مذمت کی اور ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایران خطے میں دوسروں پر غلبہ پانے کے لیے کشیدگی اور شورشیں پھیلانے کی خواہش کی تکمیل کے لیے خطے میں مداخلت کر رہا ہے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ ابوالغیط کے مطابق عرب ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کریں جس کو اپنے امن و امان کے حوالے سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے یمن میں تنازع کے دائرہ کار میں توسیع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کو اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کے لیے کہا ہے کہ جن کی وجہ سے مشرق وسطیٰ عرصہ دراز سے جنگ و جدل کی آگ میں جل رہا ہے۔

ریاض پر میزائل حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے سعودی عرب میں پہنچ کر اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر استعفیٰ کے اعلان کیا۔ سعد حریری نے اپنے استعفیٰ کی بنیاد ایران کی مداخلت کو قرار دیا ہے۔ سعد حریری کے مطابق وہ پھر سے ایسی صورتحال سے گزر رہے ہیں جو 2005میں درپیش تھی جب ان کے والد اس منصب پر موجود تھے۔ ان دنوں ان کے والد اور لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کا الزام بھی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ پر لگایا گیا تھا۔رفیق حریری کے قتل کے بعد اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ عدالتی ٹربیونل میں اس کیس کی سماعت ہوئی جس نے اس کیس میں حزب اللہ کے چند لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ سعد حریری نے بھی اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی ذمہ داری حزب اللہ پر عاید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم ایک ایسی صورتحال سے گزر رہے ہیں جیسی کہ رفیق حریری کے قتل سے پہلے تھی۔ میں نے اپنے قتل کی درپردہ کوششوں کو محسوس کیا ہے میں نے محسوس کر لیا ہے کہ میری زندگی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیا پوشیدہ منصوبہ بنایا جا رہا ہے‘‘۔ سعد حریر ی نے یہ بھی کہا کہ ایران ’’عرب دنیا کے معاملات میں اپنی مداخلت سے محروم ہو رہا ہے۔‘ لبنان ایک بار پھر ابھرے گا جیسا کہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے اور ’’ان ہاتھوں کو کاٹ دے گا جو بزدلانہ طور پر اس کے اندر تک گُھس آئے ہیں۔‘‘ایران کئی ممالک میں 'خوف اور تباہی' کا مظاہرہ کر رہا ہے۔سعد حریری نے اس کے ساتھ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کی لبنان میں اچھی خاصی طاقت ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنے بیانات میں سعودی عرب کو خصوصی طور پر نشانہ بنا رکھا ہے۔سعد حریری کے استعفیٰ پر ایران نے اسے سعودی عرب دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث ہے۔ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ردعمل کے طور پر سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سعد حریری کا یہ ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ سعودی عرب نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اس ساری صورتحال میں شام میں جاری خانہ جنگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شام میں بشار الاسد کی حمایت کے لیے حزب اللہ کے جنگجو اور ایران کی فوج موجود ہے جو وہاں کی سنی عوام کے قتل عام میں مبینہ طور پر شریک ہے۔ اس میں البتہ کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ بشار الاسد شام میں موجود سنی عوام کے قتل عام کے لیے ہر طرح کے غیر اخلاقی و غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے۔ کیمیکل ہتھیاروں سے لے کر روایتی ہتھیاروں کے ساتھ سنی اکثریت کے علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مساجد ہسپتال سمیت کوئی بھی عوامی جگہ اور بچوں بوڑھوں عورتوں سمیت کوئی بھی فرد شامی افواج کے مظالم سے محفوظ نہیں۔ بشار الاسد کی افواج کے ظلم نے بیرونی قوتوں سمیت دہشت گرد تنظیم داعش کو بھی موقع فراہم کیا کہ وہ اس جگہ پہنچ کر اس قتل عام میں حصہ دار بن جائے۔ انسانی تاریخ کا بدترین بحران اس خطے میں پیدا ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کی حمایت ایک اور بڑے بحران کو جنم دے رہی ہے جو کسی حد تک پیدا ہو چکا ہے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مقامات مقدسہ کو بھی نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کیں۔ یہ مقامات مقدسہ دنیا بھر میں موجود ہر مسلمان کی امیدو عقیدت کا مرکز و محورہیں۔ جس پر کسی قسم کی چڑھائی قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ ایران کو ا س موقع پر حوثی باغیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں اسلحہ کی فراہمی کی بجائے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا فائد ہ بیرونی قوتوں اور بالخصوص اسرائیل یا دہشت گرد تنظیم داعش کو ہو گا۔ داعش کامستحکم ہونا سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ اگر یمن کے مسئلہ کو بات چیت کے لیے حل نہ کیا گیا تو مشرق وسطیٰ میں ایک نیا جنگی محاذ کھل سکتا ہے جس کا نقصان کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو ہو سکتا ہے۔