ذرا نم ہو تو یہ مٹی - عمارہ جے ملک

آج یوم اقبال پر ٹوٹ کر وہ سارے مظالم یاد آ رہے ہیں جو اقبال اور اردو زبان پر ڈھائے گئے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اقبال کےشاہین اب اقبال خود تخلیق کرنے لگے ہیں۔ کافی دن پہلے ایک طالب علم کا پرچہ دیکھا۔سوال یہ تھا کہ اقبال کا کوئی شعر تحریر کریں۔ جواب میں طالب علم نے اردو کی ٹانگیں توڑتے ہوئے کھڑے کھڑے کمرہ جماعت میں ایک نیا اقبال تخلیق کیا۔ جواب کچھ یوں لکھا تھا

بیٹھنا اٹھنا اٹھ کر بیٹھنا

یہ سارے بہانے ہیں

اس عظیم شعر پرتو ہو سکتا ہے علامہ اقبال کی روح تک کو تکلیف پہنچی ہو لیکن ایک دوسرے شاہین نے اقبال پر یوں احسان عظیم کیا اور تاریخ پیدائش کے حوالے سےکچھ یوں معلومات فراہم کیں

سوال: علامہ اقبال کب پیدا ہوئے؟

جواب: علامہ اقبال سردیوں میں پیدا ہوئے۔

اتنی گراں قدر معلومات ملنے پر ہم ہکا بکا رہ گئے۔ موجودہ دور کے بہت سے طالب علم ہے جو اقبال کے اشعار کی ایسی ایسی تشریحات کرتے ہیں کہ بے ساختہ سر دیوار پہ مارنے کو دل کرتا ہے۔ مسئلہ صرف چھوٹی جماعت کے بچوں تک نہیں بڑے بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔ میٹرک کے طلباء کوئی بچے نہیں ہوتے لیکن وہ جب اشعار کی تشریح کر رہے ہوتے ہیں تو شاعر کچھ اور کہہ رہا ہوتا ہے اور وہ کچھ اور کہانی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ وجہ؟ ایک ہی ہے اردو کی کمزوری۔۔ ۔۔لیکن یہ ظلم صرف اقبال کے اشعار پر نہیں ڈھایا جایا رہا

اور بھی شاعر ہے کتابوں میں اقبال کے سوا

لیکن ہوتا یوں ہے کہ" نازکی اس لب کی" اور" دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے "کی گھسی پٹی تشریح کرتے ہوئے طلبہ پچاس مرتبہ محبوب کی تکرار کرنے کے بعد اگلے شعر "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ" میں زبردستی محبوب کو گھسیٹ گھسیٹ کے لاتے ہیں۔

اقبال کے اشعار کا ایک اور مصرف جو بہت مقبول ہے۔ تقاریر میں ان کا استعمال، جا بجا اور بے جا استعمال۔ اگر کوئی سنجیدہ یا قومی نوعیت کا موضوع ہو تو اس تقریر میں جملے اتنے نہیں ہوتے جتنے اقبال کے اشعار ہوتے ہیں۔

تقریر شروع ہی "شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات" سے کی جاتی ہے پر زور تالیوں سے پہلے ڈائس پر دو تین مکے مارے جاتے ہیں۔ دو تین سطروں کے بعد پھر "غلامی میں نہ کام آتی ہے، شمشیریں نہ تدبیریں" اس طرح کے اشعار مقرر چلا چلا کر کر ڈائس پہ مکے مار مار کر بیان کرتا ہے۔ ناظرین تالیاں پیٹ پیٹ کر ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔ آخر میں ہمیشہ سب ہی اتفاق کے ساتھ" لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا" شعر سے تقریر کا اختتام کرتے ہیں۔

لیکن بات پھر وہی آتی ہے، طالب علم رٹے لگا لگا کر ایک دو اشعار تو یاد کرتے ہیں لیکن ان کی تشریح تو تشریح الفاظ لکھ بھی نہیں سکتے۔ اپنی گناہ گار آنکھوں نے ایسے ایسے الفاظ بھی لکھے دیکھے ہیں کہ بینائی سے محروم ہونے کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا، تسبیح کو تسبی، نکھارنا کو نخارنا، حالانکہ کو ہالانکے ۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے دیکھنے کی تاب آنکھوں میں نہیں رہی اور یہ ہم نویں جماعت کے طلباء کا ذکر خیر کر رہے ہیں۔ ایک پرچے میں ایک طالبہ نے اقبال کے ایک شعرکا یوں حوالہ دیتے ہوئے لکھا:

"پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں، ایک فلم بھی ہے "پھول اور کانٹے"، اقبال نے کہا ہے

تمنا ابرو ہے تو کر گلزار اس کو

اور پھر کانٹوں سے الجھ کر خو کرے

ایسے اشعار اور ایسےکانٹے دیکھ کر بندہ کم از کم ایک گھنٹے کے لیے حالت وجد میں جا سکتا ہے اور اس کو چپ بھی لگ سکتی ہے۔

سکول کے ایک طالب علم سےایک مرتبہ ایک نئے استاد نے اپنے حس ادب پر کلہاڑی مارتے ہوئے ایک شعر کی تشریح پوچھی۔ شعر تھا

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

تو طالب علم نے اپنے "علمی خزانے" کا منہ کھولتے ہوئے کہا "اس شعر میں علامہ اقبال ویراں کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتےہیں کہ میں ویراں سےبالکل مایوس نہیں، ویراں کا پورا نام کشت ویراں ہے تو اقبال ویراں کی تعریف کرتے ہوئےساقی سےکہتے ہیں کہ ویراں ماشاء اللہ بہت ذہین ہے۔ "

ہو سکتا ہے اس استاد کی حرکت قلب بعد میں بند ہو گئی ہو۔ ایسے ایک نہیں، ان گنت قصے ہیں۔ لیکن اس سے یہ حقیقت پتہ چلتی ہے کہ اقبال کیا کسی بھی موضوع کو رٹّے کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ کم از کم لگانے ہی ہیں، تو کلیات اقبال کے درست تلفظ کے ساتھ ہی لگا لیں۔ جس طرح اردو ہماری پہچان ہے اس طرح اقبال بھی ہماری پہچان ہے۔ اس کا علم ہو جائے تو ستاروں پر کمند ڈالنے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com