اسلام اور شادی کی عمر – اعجاز احمد

اسلام نے لڑکے اور لڑکی کی شادی کی کوئی خاص عمر طے نہیں کی ہے تاہم اسلام کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی شادی کی عمر بلوغت ( puberty) آنے کے بعد شروع ہوجاتی ہے اور بلوغت کس عمر میں آتی ہے؟ یہ آپ سائنس کے کسی جرنل یا ویب سائیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

شادی کس عمر میں کرے؟ یہ اسلام کے نزدیک مرد اور عورت کا ذاتی معاملہ ہے، اسلام نے کسی کو کسی خاص عمر میں شادی کا کسی بھی طرح پابند نہیں کیا ہے اور نہ ہی اسلام کسی دوسرے فرد کو اس معاملے میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے تاہم اسلام نے شادی کے لیے غیر ضروری تاخیر کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

اسلام صرف شہر کے لیے یا دیہات کے لیے یا کسی خاص طرزِ زندگی گزارنے والے لوگوں کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ تمام انسانیت کے لیے آیا ہے جس میں ہر طرح کے امیر، غریب، شہری، دیہاتی، گرم اور سرد علاقوں میں رہنے والے اور قومیت اور کلچر کے لوگ شامل ہیں۔ لہٰذا اسلام نے انکو پیغام دیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو بلوغت کے بعد کسی بھی وقت شادی کی جاسکتی ہے۔

سیکولر معاشرے کا ہدف ہے کہ سوسائٹی میں زیادہ سے زیادہ غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد رہے۔ سیکولر سرمایہ داری نظام شادی کی کئی طرح حوصلہ شکنی کرتا ہے تاکہ گلیمر اور سیکس کی دنیا آباد رہے اور کھربوں ڈالر کی فیشن، سیکس اور پورنوگرافی انڈسٹری چلتی رہے۔

روزنامہ گارجین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ جیسے پاکستان سے ایک تہائی چھوٹے ملک میں ساڑھے چھ لاکھ لڑکے اور لڑکیاں 12 سال سے پہلے، 52 لاکھ لڑکے اور لڑکیاں 13 سال سے پہلے، سوا کروڑ لڑکے اور لڑکیاں 13 اور 15 سال کے درمیان اور ڈھائی کروڑ لڑکے اور لڑکیاں 15 سے 18 سال کے درمیان سیکس کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بغیر شادی کے سیکس کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں شادی کی سرکاری عمر 16 سال ہے۔

بھارت میں 10 سے 15 سال تک کی 15 لاکھ لڑکیاں سیکس ورکر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ انڈیا میں ' prostitution' قانونی ہے جس میں کم و بیش پچاس لاکھ لڑکیاں ہر روز غربت اور بھوک سے تنگ آکر اپنی عزت و آبرو کا سودہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ایسے بھی کیسز دیکھنے میں آئے ہیں کہ 9 سال کی لڑکی کو asteroid کا انجیکشن دیا جاتا ہے تاکہ ان کی جسمانی نشوونماء تیزی سے بڑھ سکے اور وہ اپنے گاہکوں کو پسند آسکیں۔

برطانیہ میں 16 سال کی لڑکیاں قانونی طور پر اور 13 سال کی لڑکیاں انتہائی ہلکے غیر قانونی طور پر prostitution میں ملوث ہیں۔ یہ لڑکیاں اپنی خواہشات کے لیے خوشی خوشی سیکس نہیں کرتی ہیں بلکہ ان لڑکیوں میں سے بیشتر single mother یعنی بِن بیاہی ماں ہیں یا اسکول کالج کی فیس دینے کے لیے سیکس کرتی ہیں۔

امریکہ کی صورتحال اور زیادہ خراب ہے۔ جہاں ننگے کلبز (strip clubs) ہیں جہاں 13 سے 15 سال تک کی لڑکیاں ننگے ناچ کے ذریعے بڈھے گاہکوں کو خوش کرتی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہیں؟ کوئی extraordinary مشکل صورتحال کے لیے اسلام نے بلوغت کے بعد شادی کی اجازت دی ہے اور قحبہ گیری (prostitution) کو سخت ترین گناہ کا کام قرار دیا ہے۔

تاریخ انسانی ایسے معاشرے کی مثال دینے سے قاصر ہے جہاں بلوغت کے بعد شادی پر پابندی لگائی گئی ہو اور وہاں اس عمر کے بعد سیکس رُک گیا ہو یا وہاں قحبہ گری عام نہ ہوگئی ہو۔

جو لوگ انڈیا اور مغرب کی طرح خدانخواستہ پاکستان میں قحبہ گری کو قانونی بنانا چاہتے ہیں وہ بھارت جیسے بیوقوف ملک کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں 18 سال سے کم لڑکی سے شادی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کاش کہ وہ دیکھ پاتے کہ بھارت میں اس قانون کے کیا اثرات نکلے گے یا ہندوستان میں موجود لاکھوں بچیاں جو غربت اور بھوک سے تنگ آکر قحبہ گری کے لیے مجبور ہوتی ہیں، ان کے دل اور روح کس طرح زخمی ہوتے ہیں۔

Comments

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کرنے کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پچھلے 26 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آجکل اسی شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.