نئی بوتل میں پرانا محلول اور کراچی والے! - فراز الحسن

22 اگست کی تقریر کے بعد شروع ہونے والے دائرے کے چکر نے 8 نومبر 2017ء میں اپنا منطقی چکر مکمل کیا جب فاروق ستار کی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور مصطفیٰ کمال کی پاکستان سرزمین پارٹی نے اپنی جاری کشمکش کو نا صرف ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ آئندہ ایک نام، ایک منشور اور نشان سے اپنی سیاست کرنے کا عندیہ دیا۔

آج کے اعلان سے قطعہ نظر جب مصطفیٰ کمال کو دبئی فیکٹری سے ڈرائی کلین کر کر کراچی امپورٹ کیا گیا تھا اس وقت ہی تجزیہ کیا تھا کہ یہ مائنس کا کھیل ہے، باقی کھلاڑی بھی وہ ہی رہیں گے اور کھیل بھی وہ ہی کھیلا جائے گا۔ آج اس کی تصدیق مصطفیٰ اور ستار پارٹی نے عل الاعلان اتحاد کر کر خود ہی کردی حالانکہ ماضی قریب میں مصطفیٰ کمال فاروق ستار پارٹی پر کافی شور مچاتے رہے کہ یہ الطاف حسین کے ہی نام لیوا ہی، اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن میری نظر میں وہ سیاسی شعبدہ بازی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔

پاکستان کی سیاست کو دیکھیں تو یہ اتحاد ویسے بھی بے حد فطری اتحاد ہے کہ جب پی پی پی کی اندرون سندھ کے علاوہ کہیں دال گلتی نظر نہیں آتی اور اندرون سندھ بھی اس کو کئی جگہ ذوالفقار مرزا اور فنکشنل لیگ کے ہاتھوں کافی نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا ہوگا، ایسے میں جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی کا شہری سندھ سے نشستیں حاصل کرنے کا خواب صرف خواب ہی رہ جائے گا اگر کراچی کا لسانی ووٹ ایک پارٹی کے پاس رہے۔ اس سیاسی حکمت عملی سے پی پی پی مسلم لیگ نون کے ساتھ سیاسی داؤ پیچ بھی کھیل سکتی ہے اور پی ٹی آئی کی عددی برتری اکثریت میں تبدیل ہونے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔

اب اگر آپ سوال کرتے ہیں کہ اس سے کس کو سب سے زیادہ فائدہ ہے تو میں کہوں گا کہ صرف و صرف اسٹیبلشمنٹ! عمران خان کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اس کو صرف اتنی ہی نشستیں لینے دی جائیں کہ وہ پریشر ککر سے زیادہ کا کردار ادا نہ کرسکے۔ 'ٹیکنیکل پلے' شاید اس ہی کو کہا جاتا ہے کہ نہ ہی بے ایمانی نظر آتی ہے اور نہ ہدف کے حصول میں ناکامی۔

اس سارے ڈرامے کے بعد کراچی میں کیا گیا آپریشن اور اس کی افادیت کا بھی اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ذی شعور انسان سے پوچھا جائے کہ 'مائنس الطاف' سے کراچی میں امن قائم ہو گیا تو وہ صرف مسکرا کر آگے بڑھ جائے گا۔ ایسے میں متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کے لندن سے روابط نظر آئے تو حماد صدیقی کارڈ متحدہ پاکستان اور پی ایس پی کو ایک شٹ اپ کال کے ٹول کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ اب ہونا کیا ہے نئی بوتل میں پرانا محلول اور کراچی والے!

اب اس نئے سیٹ اپ میں مشرف و عشرت کا کردار، چوہدری برادران اور دیگر جماعتوں کے ناراض قائدین کی انٹری اس محلول کو سندھ کے شہری علاقوں سے آگے بڑھا کر قومی سطح پر لائی جائے گی، جس پر میں بعد میں ضرور لکھوں گا۔