بلاعنوان - دعا عظیمی

نیلے پانیوں پہ پھیلےسبز منظر پلکوں سےجدا نہیں ہوتے
آنکھوں کو سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہیں ملتیں

کئی ادھوری نظموں کے عنوان نہیں ہوتے۔ حنا شیرازی نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا، احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اس کے عارض کو چھو رہی تھیں، جبکہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انھیں کسی مشتاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔ یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ جانے کیوں اسے وہ مختلف اور الگ تھلگ نظر آئی، جیسے زمانے کی تیزی نے اس کے نقش و نگار زخمی نہ کیے ہوں۔ اسے وہ اچھی لگی کہ واقعی اس میں اچھی لگنے والی ہر بات تھی، وہ اپنی لکھی ہوئی کسی نظم کی طرح سندر تھی۔

سنو! کوئی بات کرو۔
خاموشی کے ایک لمبے وقفے کو توڑنے کی ہمت بالآخر اسے ایک مرد ہونے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری لگا۔
اس کی بات سن کر لڑکی کے ہونٹ تبسم سے بھیگ گئے۔ پھر کچھ سوچتے ہوئی بولی:
''کیا تم نے کبھی لفطوں کو چڑیوں کی طرح محبت کے پانیوں میں نہاتے ہوئے دیکھا ہے۔''
لڑکے نے اپنی یادداشت پر زور ڈالا، اور دلچسپی سے بولا، نہیں! میں نے حرفوں اور لفظوں کو ہمیشہ خشک اور چپ چاپ ہی پایا، لیکن مجھے لگتا ہے تمھارا مشاہدہ مجھ سے بہتر ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی تمھاری طرح ان کو محسوس کروں۔
''اچھا! اس کا ایک طریقہ ہے جب تم تھک جاؤ تو بانسری کے سر چھیڑنا، ان کی لے میں کھو جانا، تمھارے من مندر میں رنگ اتریں گے، محبت کی کوملتا پھوٹے گی، اور لفظوں کی رنگین چڑیاں اس پانی میں نہائیں گی.'' یہ کہتے ہوئے وہ شانتی سے مسکرائی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
تب سے لے کے آج تک وہ محبت کی بانسری کی لے میں رنگین چڑیوں اور محبت کی کوملتا سے پھوٹنے والے پانی کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ لفظوں کی جادوگرنی تو پھر نہیں ملی، مگر نمکین پانیوں کا حوض خوابوں میں رنگین چڑیوں کے نہانے کا منتظر تھا۔

اپنے والد کی بےوقت موت نے احتشام علی پر سنجیدگی کی بوجھل چادر ڈال دی تھی، دھوپ اس کے آنگن سے ہوتی ہوئی اس کی آنکھوں میں چبھنے لگی، بیوہ ماں اورچھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری کا بوجھ اس نے اس جانفشانی سے نبھایا کہ اسے خود اپنا ہوش نہ رہا۔ اچانک اس شاعرہ کی بےعنوان نظموں نے اس کی خاموشیوں کو ہلایا، جیسے سوئے ہوئے پتوں کو ہواچھیڑ دے۔ وہ عجیب لکھاری تھی، اکثر بےعنوان نظمیں شائع کرنے کے لیے بھیج دیتی اور وہ اپنی مرضی کے عنوان دے کر انھیں اشاعت کے لیے بھیج دیتا۔ جواب میں سلیقے سے شکریہ کا پیام مل جایا کرتا، مگر اب تو اس ملاقات کے بعد نہ اس کی کوئی نظم موصول ہوئی نہ اتہ نہ پتہ۔ اس سے پہلے بھی وہ ایک اداس شخص تھا جس کی زندگی میں بہار کبھی مہکی نہیں تھی، بابا کی بےوقت موت نے اس سےخوشی کے سر تال چھین لیے تھے۔

بہت دنوں تک وہ اس کی باتوں کی پراسرار خوشبو کے جنگل میں بھیگتا رہا، سوچتا رہا کھوجتا رہا، پہلے توخوشی کسی طلسم کی طرح سرشاری میں بدلی، بہت دنوں تک کیفیت طاری رہی، پھر من بوجھل ہو کر بھاری ہوگیا۔ دوسری جانب کوئی اشارہ تھا ہی نہیں، جیسے وجود ایک دم ٹین کے ڈبے کی طرح بےجان اور خالی ہوگیا، بھک کر کے سب اڑگیا۔ ہرچیز بےمقصد اور ویران لگنے لگی، رت بدلی اور شدت سے خواہش جاگی کہ قرب ہو اور خوشیوں کی پریاں اس کے اطراف رقص کریں۔ کوئی ہو جس کا لمس اسے جنت عطا کرے۔

اندر کے شور سےگھبرا کر احتشام علی کو کسی پرسکون گوشے کی تلاش ہوئی، اس کا دھیان بابا کی قبر کی طرف گیا، اس سے پہلے بھی بارہا اسے بہت سے مسائل کا حل وہاں سے مل جایا کرتا تھا۔ اس نے بائک کا رخ قبرستان کی طرف کیا۔ ذہن محبت موت ہونے اور کھونے کی گتھی سلجھانے میں محو تھا۔ سورج غروب ہونے میں ابھی وقت تھا کہ مشک کافور اور اگربتیوں کی مخصوص اداسی بھری باس نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد اسے لگا کہ زندگی اور موت باہم گلے ملی ہوں، آہٹ پہ نظر اٹھی تو جھپکنا بھول گئی، تیسری رو میں دائیں طرف کچھ فاصلے پر وہی تھی۔ سوز کی کالی چادر اوڑھے ایک پھول سی بچی کا ہاتھ تھامے ایک قبر پر پھول بکھیرتے ہوئے حنا شیرازی مجسم کھڑی تھی، آنسو اس کے گالوں پہ تواتر سے بہہ رہے تھے۔ احتشام علی ایک غیر شعوری احساس سے مجبور اس کے قریب ہوتاگیا، قبر پہ احمد شیرازی کا کتبہ تھا۔ اوہ! اس کا مطلب حنا شیرازی کی نظموں کا عنوان کھو چکا تھا۔ ہمدردی کی ایک گہری لہر اٹھی اور اس کا دل چاہا کہ اس کی بےعنوان زندگی کو اپنے نام کا عنوان دے ڈالے۔

ہمدردی اور محبت کیا ایک ہی جذبے کے دو رخ ہیں۔ احتشام علی نے سوچا نہیں تھا، دونوں بہت زور آور لگے۔ وہ اس سمے یہاں اور رکنا نہیں چاہتا تھا، شاید وہ اسے دیکھ کر خوش نہ ہو۔ خشک اور گیلی مٹی کی ڈھیریوں میں سوئے لوگوں کو سلام کرتے وہ بیرونی دروازے سے نکل چکا تھا۔ سوز کے حاشیے میں نکھری زندگی اسے پیاری لگی، اس نے اپنا دل ماں کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ ماں کی عدت زدہ انکھوں میں نمی اتری، مائیں اپنی اولاد کے لیے دکھ منتخب نہیں کیا کرتیں۔ اولاد کے معاملے میں ماں کے دل سے زیادہ کون خود غرض ہو سکتا ہے۔ ماں کو یہ سمجھنے میں تھوڑی سی دیر لگی، دکھ اور خوشی باہم مل چکی تھیں، دکھ سکھ بانٹ لینے سے کم ہو جاتے ہیں، ہاں! ہو جاتے ہیں۔ ماں کی آنکھوں میں ممتا کا سمندر تھا، شام کا سورج ہونٹوں پہ نیم مسکراہٹ سجائے رخصتی چاہتا تھا۔

اگلے سال فلوریکلچر کے تحت گل داؤدی کی نمائش دیکھنے سے پہلے حناشیرازی حنا احتشام بن چکی تھی۔ طویل نظموں کو من چاہا عنوان ملنےلگا تھا۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.