’’سرسید اور تضادات!‘‘ رعایت اللہ فاروقی

پاک و ہند میں سر سید احمد خان کے دو سو سالہ جشن ولادت کا موقع ہے اور اس نسبت سے اس تعلیمی نظام سے وابستہ اداروں میں اس جشن کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جس کے سرخیل سرسید احمد خان ہیں۔ ہر سسٹم کے ایک ابا حضور بھی ہوا کرتے ہیں اور رواج یہ ہے کہ سسٹم کی عظمت دل میں بٹھانے کے لیے سسٹم کے ابا حضور کی مبالغۃ الآراء تعریفوں کا بندوبست ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایسا تال میل بٹھایا جاتا ہے کہ اگر سسٹم کی تعریف ہو تو اس کا لازمی فائدہ سسٹم کے ابا حضور کو پہنچے اور اگر ابا حضور کی تعریف ہو تو اس کے خوشگوار اثرات سسٹم پر مرتب ہوں۔ ہم ہر پہلو سے ایک ستم ظریف معاشرہ ہیں۔ سر سید اور ان کے نظام تعلیم کے حوالے سے ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمارے ممتاز و غیر ممتاز دانشور سال کے 363 دن اس بات پر متفق ملتے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم نہایت فرسودہ و ناکارہ ہے۔ وہ اس موضوع پر ہونے والے سیمینارز میں مقالے پڑھ پڑھ کر ہمیں اس نظام تعلیم کی لاتعداد خرابیوں سے آگاہ فرماتے ہیں اور جب ایسا کر رہے ہوتے ہیں تو اس ملک کے کسی ایک بھی کونے کھدرے سے یہ آواز بلند نہیں ہوتی کہ صاحب! آپ غلط کہہ رہے ہیں، اس نظام تعلیم میں کوئی کمی نہیں بلکہ اس میں تو فلاں فلاں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ سال کے 363 دن ہمارے نظام تعلیم پر ہونے والی تنقید ایک ایسی اجماعی شکل رکھتی ہے جس سے کسی ایک بھی انسان کو اختلاف نہیں لیکن تماشا دیکھیے کہ جب سال کے وہ دو ایام آئیں جن میں سے ایک سر سید کی سالگرہ اور دوسرا برسی کا دن ہے تو یہی ممتاز و غیر ممتاز دانشور عظیم الشان سیمینارز کے روسٹرم پر کھڑے ہو کر فرماتے ہیں ’’سرسید مسلمانان ہند کے عظیم محسن ہیں‘‘ اس دعوے کی بنیاد وہ سرسید کے اس تعلیمی نظام پر رکھتے ہیں جس کی شروعات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوئی اور جو آج پاک و ہند میں ’’مروجہ تعلیم‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جو ان دانشوروں سے پوچھے کہ اگر یہ سرسید کا کارنامہ ہے اور اس کارنامے کی بنیاد پر ہی آپ سرسید کو ’’مسلمانان ہند کا عظیم محسن‘‘ قرار دیتے ہیں تو پھر سال کے 363 دن آپ سرسید کے اس کارنامے کے بانجھ پن کا ماتم کیوں کرتے ہیں؟ اور سرسید کے اس کارنامے سے آج بھی فیض پانے والے تب تک کچھ پیدا کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں، جب تک کسی مغربی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اس کا بانجھ پن ختم نہ کرا لیں؟

ستم ظریفی کا ایک اور پہلو دیکھیے کہ ہمارے ہاں پچھلے کچھ سالوں سے یہ دعویٰ بڑے تواتر کے ساتھ دہرایا و تہرایا جا رہا ہے کہ ہماری درسی تاریخ مسخ شدہ ہے۔ اس دعوے کا بنیادی مقصد نظام تعلیم میں پایا جانے والا واجبی سا مذہبی رنگ ختم کرنا ہے۔ چنانچہ یہ دعویٰ کرتے ہی مسلم فاتحین اور پھر جہادی آیات کے خلاف واویلا شروع کردیا جاتا ہے لیکن سر سید احمد خان کے حوالے اپنی زبان بند رکھی جاتی ہے حالانکہ تاریخ سب سے زیادہ مسخ ہی خود سر سید کی کی گئی ہے۔ مثلا یہی دیکھ لیجئے کہ سر سید کو بانیان پاکستان میں شمار کیا جاتا ہے حالانکہ سر سید کی جد و جہد ہی یہ تھی کہ مسلمانان ہند کو ملکہ وکٹوریہ کا وفادار غلام بن کر رہنا چاہئے۔ وہ برصغیر پر انگریز کے قبضے کو خدا کی رحمت بتاتے تھے اور 1857ء کی جنگ آزادی کو ’’غدر‘‘ کہتے تھے۔ سر سید کی سب سے نمایاں خوبی ان کا دو ٹوک اور غیر مبہم موقف ہے۔ وہ اپنی بات اسقدر واضح اور شفاف انداز سے پیش کرتے کہ نہ ان کے زمانے میں کسی شارح کی ضرورت تھی اور نہ ہی آج ان کی بات سمجھانے کے لئے کسی دانشور کی احتیاج ہے۔ وہ اپنے عہد کے واحد انسان ہیں جن کے جملے کے دو ممکنہ مطالب نہیں ہوتے۔ ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں سر سید کے متعلق جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے کوئی بھی دانشور اسے خود سرسید کی تصانیف کی روشنی میں درست ثابت نہیں کر سکتا ہے۔ جبکہ اس کا جھوٹ اور من گھڑت ہونا خود سر سید کی ہی کتب سے ثابت کرنا اس قدر آسان کام ہے کہ میٹرک کا وہ طالب علم بھی یہ کر سکتا ہے جس نے سر سید کی تصانیف کا بالاستیعاب مطالعہ کر رکھا ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس صریح جھوٹ کی ضرورت کیا ہے ؟ تو وہ ضرورت اس کے سوا کچھ نہیں کہ جو بانجھ نظام تعلیم ہم نے خود پر سو سال سے مسلط کر رکھا ہے اس کی ولدیت کے خانے میں سر سید احمد خان کا نام لکھا ہے اور بر صغیر میں ’’پدر من سلطان بود‘‘ کا بھرپور رواج ہے پھر چاہے پدر بچارہ فی الحقیقت موچی اور لوہار ہی کیوں نہ رہا ہو۔ اگر یہ حضرات سر سید سے دستبردار ہوجائیں تو وہ نظام تعلیم باپ سے محروم ہوجاتا ہے جسے پڑھنے اور پڑھانے والے اس کے فرسودہ ہونے پر متفق ہونے کے باوجود بھی اس سے چپکے بیٹھے ہیں۔ وہ نظام تعلیم جو عقلی علوم کا کوئی عالم تو پیدا نہیں کر سکتا البتہ وہ ’’ملازم‘‘ تھوک کے حساب سے پیدا کرتا ہے جن کی فکری غلامی کا یہ عالم ہے کہ اجنبی تہذیب سے وابستگی کو کامرانی کا راز سمجھتے ہیں۔ قصور ان ملازمین کا نہیں بلکہ سر سید نے اپنے نظام تعلیم میں بند بست ہی اسی کا کیا تھا جس کا نہ صرف وہ خود اپنی تصانیف میں برملا اظہار کر چکے ہیں بلکہ اقبال نے بھی اسی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازہ تجدید
مشرق میں ہے تہذیب فرنگی کا بہانہ

یہ بھی پڑھیں:   انٹری ٹیسٹ دھوکاہے - حافظ ذوالنون

اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اس لحاظ سے ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے کہ یہ آدھا تو سر سید والے نظام سے وابستہ ہے جبکہ نصف وابستگی سعودی نظام تعلیم سے رکھتا ہے۔ اس یونیورسٹی میں مخلوط کے بجائے مرد و زن کے الگ الگ شعبے ہیں سو اس کے شعبہ اردو مردانہ حصے کے صدر بہت ہی مہربان ڈاکٹر عزیز ابن الحسن جبکہ زنانہ حصے کی صدر ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ ہیں۔ اس یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے بھی سر سید کے دو سو سالہ جشنِ پیدائش کے موقع پر دو روزہ سیمینار کا اہتمام کیا جو ان دونوں ماہرین تعلیم کی محنت و فکر کا نچوڑ تھا۔ اس سیمینار کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس میں صرف سر سید کے پیرو کاروں کو مدعو کرکے کسی یکطرفہ پروپیگنڈے کا بند و بست نہ تھا بلکہ سر سید کے حامی اور مخالف دونوں ہی مکاتب فکر کے دانشور ایک چھت تلے جمع کر دئے گئے تھے تاکہ سرسید اور ان کی ’’خدمات‘‘ کا منصفانہ جائزہ لیا جا سکے۔ اس سیمینار کے دوران ممتاز دانشور استاذ محترم احمد جاوید صاحب کا کلیدی خطبہ سب سے اہم رہا۔ انہوں نے معاشرت کی تین اساسوں، تصور خدا، تصور انسان اور تصور دنیا کو سامنے رکھ کر اس حوالے سے سر سید کے کام کو علمی بنیاد پر تخریبی عمل ثابت کیا کیونکہ علمی قاعدہ ہے کہ اینٹی تھیسس خود تھیسس سے جنم لیتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو یہ تخریبی عمل قرار پاتا اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سر سید کا اینٹی تھیسس اپنے تھیسس کا نہیں بلکہ مغرب کی پیداوار تھا۔ احمد صاحب نے واضح کیا کہ کسی بھی معاشرے میں در آنے والی خرابیوں کو دور کرنے والی کوئی اصلاحی تحریک کبھی بھی ان تین بنیادوں کو نہیں چھیڑتی ورنہ وہ اصلاحی تحریک نہیں رہتی اور یہ باقاعدہ علمی کلیہ ہے۔ اگر یہ تین بنیادیں ہی باقی نہ رہیں تو وہ معاشرہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ احمد جاوید صاحب جب یہ فرما رہے تھے تو میری نظروں کے سامنے بکھرتا مسلم اندلس اور واپس پلٹتا جدید ترکی گھوم گئے۔ مسلم اندلس مفتوح ہونے کے باوجود مسلم معاشرے کے طور پر اپنی ان تین اساسوں کے ہوتے باقی رہ سکتا تھا جبکہ فاتحین کو یہ بھی قبول نہ تھا اور دلوں سے اس بنیاد کو ختم کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ فاتحین نے بد ترین قتل عام اور ملک بدری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی تذلیل کی وہ راہ اختیار کی جس سے تنگ آ کر بچے کھچے لوگ بھی اندلس چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ سو جب افراد ہی نہ رہے تو مسلم معاشرت بھی نہ رہی۔ اس کے برخلاف ترکی کو جدید ترکی بنانے والوں نے ان تین اساسوں کو چھیڑا اور نہ ہی قتل عام یا ملک بدری کی کیفیت پیدا کی تو نتیجہ یہ کہ لادینیت کی یہ بھرپور تحریک بالآخر ناکامی سے دو چار ہوئی اور آج کا ترکی اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا نظر آ رہا ہے۔ سر سید احمد خان نے مسلم معاشرت کی ان تینوں بنیادوں پر حملہ کیا لیکن ان کی یہ غیر فطری و غیر علمی حرکت اپنے فطری انجام سے دو چار ہوئی۔ احمد جاوید صاحب نے اپنے خطبے کا اختتام اس دو ٹوک حقیقت پسندانہ موقف پر کیا کہ ’’ہم تب تک آگے بڑھ ہی نہیں سکتے جب تک سرسید کو اس مقام سے نہ ہٹا دیں جہاں انہیں کالجز اور یونیورسٹیز میں بٹھا دیا گیا ہے‘‘ ان کی اس بات کی اہمیت یہ ہے کہ اس فرسودہ نظام تعلیم کی بنیاد سر سید ہیں۔ اس نظام تعلیم کو فرسودہ بھی مانا جائے اور اور سر سید کو ’’مسلمانان ہند کا عظیم محسن‘‘ بھی قرار دیا جائے تو اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ آپ تضاد کا شکار ہیں اور اس تضاد کے ہوتے تعلیمی نظام میں تبدیلی ممکن ہی نہیں !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں