وقت انتظار نہیں کرتا - قاضی عبدالرحمن

کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیا

طرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیا

یہ کمھاروں کا علاقہ تھا. گاہےبگاہے اس علاقہ سے گذر ہوتا تو میں انھیں ہمیشہ کام میں مشغول پاتا. عورتیں برتن بنانے کے لیے مٹی چھانتی تھیں. بچے اس مٹی پر پانی ڈال کر ڈھک دیتے تاکہ مٹی میں چکناہٹ پیدا ہو جائے. مرد، ایک دن قبل تیار کی گئی چکنی مٹی کا گارا چاک پر بکھیرتے. بڑی چابکدستی سےاس چاک کو دائروی گردش دیتے ہوئے گھڑا تیار کرتے. تیار ہونے پر اس خام گھڑے کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا تاکہ پختگی پیدا ہوجائے. بعد ازاں آگ میں پکا کر مزید سوختہ کر دیا جاتا تاکہ مضبوطی اپنی انتہا کو پہنچ جائے.

یہ نظارہ مجھے قونیہ کے درویش خدا مست پیر رومی کا شعر یاد دلا دیتا. وہ کہتے ہیں،

حاصلِ عُمرَم سہ سُخَن بیش نیست

خام بُدَم، پختہ شُدَم، سوختَم

(میری عمر کا حاصل ان تین باتوں سے زائد کچھ بھی نہیں ہے، خام تھا، پختہ ہوا اور جل گیا۔)

یقین مانیے زندگی کا سفر اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے. بچپن چاک سے اتارا گیا گیلا برتن ہے جسے وقت کی تیز دھوپ پختگی عطا کرتی ہے. آرزوؤں، تمنائوں اور رنگینیوں کو اس کے وجود میں تحلیل کرتی ہے، پھر شباب عرف عذاب کا نزول ہوتا ہے. یہ وجود اب ایک پختہ مٹکے یا پکے پھل کی مانند ہوتا ہے. معاش کی ذمہ داری اور گھر گرہستی کا بوجھ اس سیمابی وجود کو اکثر و بیشتر ماضی کی حویلی میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے اور بقول نشور واحدی،

بڑی حسرت سے انساں بچپنے کو یاد کرتا ہے

یہ پھل پک کر دوبارہ چاہتا ہے خام ہو جائے

لیکن کیا کیجیے وقت کا پہیہ نہ رکتا ہے، تھکتا ہے نہ اٹکتا ہے، اور نہ معکوس چلتا ہے. یہ رکے بھی تو کیوں؟ یہ تو دریا ہے جسے سمندر میں مدغم ہونا ہے، یہ سمندر کی ایسی لہریں ہیں جو سکون اور سکوت سے ناآشنا ہیں. وہ کہتے ہیں نا،
Time and tide wait for none.
(وقت اور جوار بھاٹا کسی کا انتظار نہیں کرتے)

یہ بھی پڑھیں:   سرسوں کا تیل زندگی میں کیسے تبدیلی لاسکتا ہے؟

انقلاب تو اس وقت آتا ہے جب وقت کو کمک پہنچانے "تجربہ" بھی آ دھمکتا ہے. ایک طرف تو اعضائے بدن کو وقت کا خنجر، بےرحمی سے داغ داغ کر کمزور کرتا رہتا ہے تو دوسری سمت "تجربہ" اسے غلطیوں اور نادانیوں کی بھٹی میں تپاکر جلاتا ہے. قوائے جسمانی کی قوت کو گلادیتا اور بڑھاپا عرف "براپا" کا لبادہ پہنا دیتا ہے. توانائی، امنگ اور جوش بھی عمر کے حصہ میں ندی کے موڑ کی طرح منہ موڑ کر کسی اور طرف منہ مارنے چلے جاتے ہیں، ایسے وقت میں بقول منشی خوش وقت علی خورشید، دل کا کوہ ندا ہانک لگاتا ہے،

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

رہا سہا کام اجل پورا کرتی ہے. یہ انسان کے خرمن حیات پر صاعقہ آسمانی بن کر نازل ہوتی ہے اور اس جلے ہوئے بوسیدہ اور سوختہ وجود کو خاکستر کر دیتی ہے. انجام کار کہار کا یہ برتن ٹوٹ جاتا ہے.

موت کیا ایک لفظ بے معنی
جس کو مارا حیات نے مارا

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.