علی پور کا ایلی، چند اقتباسات - نورین تبسم

سال اشاعت 1962ء
پیش لفظ۔
یہ روداد ہے
ایک ایسے شخص کی جس کا تعلیم کچھ نہ بگاڑ سکی۔
جس نے تجربے سے کچھ نہ سیکھا۔
جس کا ذہن اور دل ایک دوسرے سے اجنبی رہے۔
جو پروان چڑھا اور باپ بننے کے باوجود بچہ ہی رہا۔
جس نے کئی ایک محبتیں کیں لیکن محبت نہ کر سکا، جس نے محبت کی پھلجڑیاں اپنی انا کی تسکین کے لیے چلائیں، لیکن سپردگی کے عظیم جذبے سے بیگانہ رہا، اور شعلہ جوالہ پیدا نہ کر سکا جو زندگی بھر اپنی انا کی دھندلی بھول بھلیوں میں کھویا رہا، حتٰی کہ بالآخر نہ جانے کہاں سے ایک کرن چمکی اور اسے نہ جانے کدھر کو لے جانے والا ایک راستہ مل گیا۔

"علی پور کا ایلی" کے بارے میں جناب ممتازمفتی اپنی کتاب "الکھ نگری" میں کچھ یوں لکھتے ہیں۔
"علی پورکا ایلی میں، میں نے جان بوجھ کر ادب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ مجھے یہ ڈر تھا کہ بھید نہ کھل جائے، قاری کو پتہ نہ چلے کہ یہ ناول نہیں بلکہ خود نوشت ہے۔ علی پور کا ایلی میں، میں نے اپنے غلیظ پوتڑے چوک میں بیٹھ کر دھوئے تھے، لیکن مجھ میں اتنی جرات نہ تھی کہ اپنی حماقتوں، غلاظتوں، کمیوں، کجیوں کو اپناؤں۔ اب جبکہ بات کھل چکی ہے کہ علی پور کا ایلی میری سوانح حیات ہے، اور میں اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ لکھ رہا ہوں، تو مناسب ہے کہ میں ادب کے متعلقہ کوائف کو تحریر میں لے آؤں۔ میرے دل میں کبھی آرزو پیدا نہ ہوئی تھی کہ ادیب بنوں، میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھا کہ میں اردو میں لکھنے کا شغل اپناؤں گا۔ جوانی میں میں ایک نالائق لڑکا تھا۔ میری توجہ کتاب کی جانب نہیں تھی۔ سکول میں چونکہ میں ہیڈماسٹر کا بیٹا تھا، اس لیے اساتذہ پاس کردیا کرتے تھے۔ کالج میں شدید احساس کمتری کی وجہ سے میرے لیے جماعت میں بیٹھنا مشکل تھا۔ 1928-29ء میں جب میں بی اے میں تھا اور اسلامیہ کالج لاہور کے کریسنٹ ہوسٹل میں رہتا تھا، تو اتفاق سے جو کمرہ مجھے ملا، وہ فیاض محمود کے کمرے سے ملحق تھا۔ فیاض محمود ان دنوں کمبائنڈ آنر سکول میں پڑھتا تھا۔ فیاض کو کریسنٹ ہائوس میں رہنے کی خصوصی اجازت ملی تھی۔ اس پر مطالعہ کا جنون طاری تھا اور اس کے مطالعہ میں بڑی وسعت تھی۔ مطالعہ کے سوا اس کا اور کوئی شغل نہ تھا۔ اس کے ذرائع بہت محدود تھے، لیکن جو پیسہ اس کے ہاتھ آتا، اس کی کتابیں یا رسائل خرید لیتا تھا۔ اس کے کمرے میں فرش پر یہاں وہاں کتابوں اور میگزین کی ڈھیریاں لگی رہتی تھیں، انگریزی ادب، پینٹنگ، فلسفہ، فلم سازی، پامسٹری، سائنس، مطالعہ۔ فیاض اور اس کا بھائی ضیا دونوں کریسنٹ میں مقیم تھے۔ وہ بٹالہ کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ فیاض نے کبھی مجھے پڑھنے کی ترغیب نہ دی تھی۔ الٹا میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر وہ طنزاً کہتا، اچھا تو آپ کتاب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں تو کوئی تصویر نہیں ہے، جسے آپ دیکھنا چاہیں گے۔ یہ کہتے ہوئے اس کی بات میں بڑی کاٹ ہوتی اور انداز میں تحقیر۔ شاید اس تحقیر کی وجہ سے میں چوری چوری فیاض کی کتابوں کی ورق گردانی کرتا رہتا۔ بہرحال کتاب کی عظمت کا احساس مجھے فیاض نے دلایا۔ پھر محبت کا ایک بلبلہ پھوٹا۔ محترمہ نے مجھے کرسی سے اٹھا کر دھم سے فرش پر پھینک دیا۔ اتنی تذلیل ہوئی کہ میں تنکا تنکا ہوگیا۔ اس شاک کے بعد ہوش آیا تو حسن اتفاق سے میرے سامنے کتاب آگئی۔ ڈوبتے کے ہاتھ تنکا آگیا۔ پنجاب پبلک لائبریری نے مجھے پناہ دی۔ یہ مثبت مطالعہ نہ تھا بلکہ فرارتھا، ان دنوں میں گوجرہ ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول میں استاد تھا۔ ہمارے ہیڈماسٹر مبارک اسمٰعیل میں اتنی جان تھی، اتنی بے چینی تھی کہ وہ جن بنا ہوا تھا۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے اسے سوجھی کہ سکول کا ایک جریدہ شائع کرنا چاہیے۔ وہ اتنا بڑا آمر تھا کہ کسی استاد میں روبرو کھڑے ہوکر ، بات کرنے کی ہمت نہ تھی۔ جب مضامین کی بانٹ ہورہی تھی کہ جریدے کے لیے کون، کیا لکھے گا، وہ بولا، ممتاز صاحب آپ اردو سیکشن کے لئے کوئی مزاحیہ چیز لکھیں گے۔ میں نے عرض کی، عالی جاہ! میں انگلش ٹیچرہوں۔ ہائی کلاسز کو انگریزی پڑھاتا ہوں۔ اردو سے ناواقف ہوں۔ انگریزی پڑھتاہوں، پنجابی بولتا ہوں۔ ہیڈماسٹر بولے، سنیے! مسٹر میں اپنی بات دہراتا ہوں۔ ممتاز صاحب! آپ اردو میں ایک مضمون لکھیں گے۔ میں نے کہا، جناب والا! میں اپنی بات دہراتا ہوں۔میرے یہ الفاظ دیے کی رگڑ ثابت ہوئے۔ جن باہر نکل آیا۔ مجبوری میں، رو دھو کر میں نے ایک نفسیاتی مضمون لکھ دیا۔ جو گھر کے موضوع پر تھا۔"

"علی پور کا ایلی" سے چند منتخب اقتباسات۔

صفحہ 343
ان دنوں ایلی یہ نہ جانتا تھا کہ عورت کے لیے محبت محض ایک ماحول ہے، چرن تپسیہ بھری نگاہوں اور رومان بھرے خوابوں سے بنا ہوا ماحول۔ اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ عورت کو مردانہ جسم کی خواہش ضمنی ہوتی ہے، اس کے نزدیک محبت ایک ذہنی تاثر ہے، جسم کو وہ صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ وہ طلسم نہ ٹوٹے، وہ تپسیہ بھری نگاہیں گم نہ ہو جائیں۔

صفحہ 488
اب وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ محبت میں ذہنی بےتعلقی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے اور انسان جس قدر متاثر ہوتا ہے، اسی قدر ناکام رہتا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عورت فطری طور پر اس مرد کی تسخیر پر شدت سے آمادہ ہوتی ہے، جو ناقابل ِ تسخیر نظر آئے اور جو دل وجان سے اس کا ہو چکا ہو، اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں کرتی۔

صفحہ 584
ایلی کو ابھی تک یہ علم نہ تھا کہ عشق میں ازلی طور پر خود کشی کا عنصر ہوتا ہے۔ عشق بذات ِخود عاشق کو محبوب کے وصال سے محروم کر دیتا ہے، اس علم نہ تھا کہ محبت محبوب کا حصہ ہے عاشق کا نہیں، اوراگر کسی کی محبت حاصل کرنا مقصود ہو تو اسے محبوب بننے کی کوشش کرنا چاہیے نہ کہ عاشق اور بے نیازی محبوب کی بنیادی خصوصیت ہے۔

صفحہ 891
شرارت وہ لوگ کرتے ہیں جن پر شبہ نہ کیا جاسکے یا جن کا اعمال نامہ صاف ہو اوران پر حرف نہ آسکے۔ بدنام آدمی تو اپنا جائز تحفظ بھی نہیں کر سکتا، وہ تو کانچ کے گلاس کی طرح ہوتا ہے، ذرا ضرب لگی اورٹوٹ گیا۔
جھوٹ سچ۔ ایلی نے زندگی میں نئی بات سیکھی تھی، وہ سچ کے ذریعے جھوٹ بولتا تھا، اس نے تجربے کے زور پر اس حقیقت کو پا لیا تھا کہ سچی بات کہہ دی جائے تو سننے والا حیران رہ جاتا ہے، اس کے دل میں نفرت کے بجائے دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی احترام بھی۔ اس کے علاوہ کہنے والے کے دل پر بوجھ نہیں رہتا اور بات کہہ دی جائے تو وہ پھوڑا نہیں بنتی، اس میں پیپ نہیں پڑتی، اکثر اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ مذاق کر رہا ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا۔

صفحہ 894
ایلی جذباتی طور پر ڈرا ہوا بچہ تھا اور ذہنی طور پر ایک نڈر مفکر۔

صفحہ 1010
شادی کے متعلق ایلی اب سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کا قائل نہ رہا تھا۔ زندگی میں بہت سی باتیں جو اس نے سوچ سمجھ کر کی تھیں، ان کا انجام اچھا نہ ہوا تھا۔ عورت کے متعلق تو اسے یقین ہو چکا تھا کہ وہ چاند کی طرح ایک مخصوص پہلو آپ کے سامنے پیش کرتی ہے، اورعورت کے کئی ایک پہلو ہیں، متبسم پہلو، متذبذب پہلو، 'مجھے کیا' پہلو۔
ایلی سمجھنے لگا تھا کہ شادی ایک جوا ہے چاہے آنکھیں پھاڑ کر کھیلو یا آنکھیں بند کر کے۔

صفحہ 1018
اس روز ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان تھا۔ سیاسی خیالات کا سوال نہ تھا، مسلم لیگی اور کانگرسی کا سوال نہ تھا، یہ سوال نہ تھا کہ آیا وہ اسلام سے واقف ہے؟ آیا وہ شریعت کا پابند ہے؟ یہ سوال نہ تھا کہ آیا رام دین سا مسلمان ہے یا محمدعلی سا۔
سوال صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو۔ ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان ہی نہیں، بذات ِخود پاکستان ہے چاہے وہ پاکستان کے حق میں تھا یا خلاف۔ چاہے وہ اسلام سے بیگانہ تھا، چاہے وہ مذہبی تعصب سے بےنیاز تھا، وہ بذات ِخود پاکستان تھا۔ اس کے دل میں کوئی چلا رہا تھا۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد

صفحہ 1019
ایلی کے تمام خیالات درہم برہم ہورہے تھے، اس کا ذہن گویا ازسرِنو ترتیب پا رہا تھا، پرانے خیالات کی اینٹیں اُکھڑی جا رہی تھیں، نئی اینٹیں نہ جانے کہاں سے آ گئی تھیں اور اس کے ذہن میں آپ ہی آپ لگی جا رہی تھیں۔

صفحہ 1029
ریڈیو پاکستان
ایلی ریڈیو کھول کر بیٹھا تھا۔ گھڑی نے بارہ بجا دیے، ایلی کا دل دھک سے رہ گیا۔ بارہ بجے اعلان ہونے والا تھا۔ آج وہ محسوس کر رہا تھا جیسے وہ اعلان اس کی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہو، جیسے آج اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ مذہبی تعصب سے بلندوبالا ہے، وہ یہ بھول چکا تھا کہ قیام ِپاکستان سے بیگانہ ہے، وہ ہندوستان اور عوام کی بہتری کے فلسفے کو فراموش کرچکا تھا، وہ محسوس کر رہا تھا کہ وہ بذات ِخود پاکستان ہے، اور اس روز اس کی حدود طے ہونے والی تھیں، وہ محسوس کر رہا تھا، جیسے وہ ایک بادشاہ ہو اور پاکستان کے قیام کا اعلان دراصل اس کی رسمِ تاجپوشی کا اعلان تھا۔ اسے معلوم ہونا تھا کہ اس کی قلمرو کہاں سے کہاں تک ہوگی، لیکن وہ خوش نہ تھا ایک انجانی اُداسی اور پریشانی اس پر مسلط تھی جیسے اسے یقین نہ ہو کہ اس کی قلمرو اسے مل جائے گی، وہ مضطرب تھا بے حد مضطرب۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.