کھل جا سم سم - نصرت یوسف

کیا صبح تھی، لگتا تھا آسمان نے بڑی فراخی سے حسن زمین پر بکھیر دیا ہے، گلابوں پر بارش کی بوندیں ایسے ٹکی تھیں جیسے کسی نرم سی مخمل پر چمکدار موتی ٹکے ہوں، سوہا نے نرمی سے سرخ گلاب کی پتی سے ایک بوند اپنی پور میں چن لی۔ بارش کی رم جھم پھر شروع ہو چکی تھی، لاؤنج میں کھڑے بڑے سے گھڑیال نے آواز بلند کی تو سوہا نے گردن گھما کر برآمدے سے اندر کی جانب کھلتے دروازے کو دیکھا، صبح کے آٹھ بجے تھے، موسم کی دلکشی نے اس کو بستر اور اپنے کمرے سے باہر لا کھڑا کیا تھا۔ سرعت سے اس نے ہاتھ میں پکڑے سیل فون سے پھولوں کی تصاویر لینی شروع کر دیں۔ بلاشبہ یہ پھولوں کا حسین کنج تھا جسے سرمئی موسم نے مزید حسین کر دیا تھا۔

کچھ دیر اپنے شغل میں تندہی سے مصروف رہنے کے بعد سوہا نے اندر کا رخ کیا۔ آخری تصویر برستی بارش کی لی جو ترچھی چادر کی طرح آسمان سے زمین تک تنی ہوئی تھی۔ کچن سے آتی آوازوں سے اندازہ بخوبی ہو رہا تھا کہ دن کا آغاز پوری طرح ہو چکا ہے۔
.................................................

''خوبصورتیاں مربوط نظام سے ہی پنپتی ہیں''
انیسہ محسن نے رات کے کھانے کے برتن دھوتے ہوئے ایک نگاہ سامنے سے گزرتی اپنی بہو سوہا کو دیکھتے سوچا جو ''السلام علیکم ممی'' کہتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی۔ آج کے موسم نے کسی بھی ''بیرونی مددگار'' کے آنے کی کوئی امید نہ چھوڑی تھی، سو انھوں نے کاموں کی اسی حساب سے ترتیب بنا لی تھی۔ رم جھم موسم انہھں بھی کمرے سے باہر لے آیا تھا۔ دھنک بھرے اس موسم کی خوشبو نے غیرمتوقع پڑنے والی ذمہ داری کو آسان کر دیا تھا۔
اس پورے دن بارش کی جھڑی لگی رہی، گھر کے مرد بھی کام پر نہ جا سکے اور نہ سوہا اپنے میکہ کا چکر لگا پائی۔ ہاں اس دن اس نے آن لائن ترکیب دیکھ کرجھٹ پٹ عمدہ پکوان دوپہر کھانے کے لیے تیار کیا جس نے کچن تو خوب ہی پھیلایا مگر ذائقے کو بھی سب نے ہی سراہا۔
سب میں تھا ہی کون؟
محسن صاحب، ان کی بیوی انیسہ محسن، دوسرے شہر سے آئی مہمان بہن، بیٹا رضا اور سوہا۔
اور پھر یہ ہوا کہ روایتی کھانا جو انیسہ محسن نے تیار کیا تھا، وہ رکھا ہی رہ گیا اور کچن ایک بار پھر تفصیلی صفائی کا حقدار بن گیا۔
انیسہ محسن نے باورچی خانہ کی یہ کیفیت دیکھ کر بےاختیار ایک ٹھنڈی سانس لی، برتن تو دھل چکے تھے لیکن شیلف اور فرش توجہ مانگ رہے تھے۔
.................................................

پچھلے برس ہی محسن صاحب اور انیسہ محسن کے اکلوتے بیٹے رضا کی شادی ہوئی تھی، وہ چار شادی شدہ بہنوں کا ایک ہی بھائی تھا، سب کو سوہا سے محبت تھی تو امیدیں بھی تھیں۔
ان کا خیال تھا جیسے انیسہ محسن اپنے سسرال کے رنگ میں رنگی ان کا ہی حصہ بن گئی ہیں، ایسے ہی ان کی بہو بھی ہوگی۔
سوہا واقعی ہنرمند تھی، ایسے ہنر جو سوہا کی ماں کو نہ آتے تھے، وہ اس کے اپنے شوق تھے۔ عمدہ چائینیز کھانا بنانا اسے آتا تھا، ہیروئین کی طرز کے میک اپ میں کمال تھا، فٹنس برقرار رکھتی تھی، نت نئے ملبوسات کی شوقین، نرم لہجے کی انگریزی زبان بھی یقینا اس کی خوبی تھی۔ وہ حلیم اور حسین طبیعت مزاج ماں کی بیٹی تھی، اس لیے سوہا سے اس کی ماں جیسی صفات کی توقعات تھیں کہ پھول اپنی ڈال کی ہی خصوصیات رکھتا ہے۔

انیسہ محسن کے گھر کا برآمدہ انواع و اقسام کے پودوں سے سجا تھا۔ بارشوں نے پھولوں میں جیسے شوخی سی بھر دی تھی، ہوا کے ہلکورے دیتی لہروں پر وہ جھوم رہے تھے، لگتا تھا چمکدار رنگوں کی نرم نرم سی بہار اتر آئی ہے۔ سوہا نے اس رم جھم صبح بھی ڈھیروں تصاویر ہمیشہ ہی کی طرح خوب دل اور وقت لگا کر دلچسپ جملوں کے ساتھ آن لائن پوسٹ کر دیں۔ دو بجے دوپہر کھانے کی میز ترتیب دینے میں سوہا کی مدد کرنے سے شام چار بج کر چونتیس منٹ پر جب انیسہ محسن کچن کی صفائی پر آخری نگاہ ڈال کر چائے کی ٹرے تھامے باہر آئیں تو ان کے میاں اپنی مہمان بہن سے مصروف گفتگو اور بیٹا بہو اپنے کمرے میں تھے۔

سوہا گھنٹہ بھر سے رضا کے ساتھ بات چیت کے دوران کئی بار سیل فون چیک کر چکی تھی، بارش میں جھومتے پھولوں اور آج کی نئی ڈش کی آن لائن بھیجی تصاویر کواب تک 434 پسندیدگیاں وصول ہو گئی تھیں۔
ٓ''آج کا دن بڑا ہی کارآمد رہا'' سوہا نے اطمینان سے آنکھیں موندتے قریب لیٹے رضا کو دیکھتے ہوئے سوچا،
''انٹرنیٹ کمال کی ٹیکنالوجی ہے، کہاں سے کہاں انسان کا تعارف کرا دیتی ہے، مزیدار کھانے اور تصاویر کی تعریف۔''
''ساسو ماں کی مدد بھی کھانے کے برتن دھونے میں کرا ہی دی، حالانکہ رکھ دیتیں، نہ دھو تیں، کل زری نے آہی جانا تھا، وہ دھو لیتی۔''
سوہا کی نگاہ یہ سوچتے سامنے میز پر رکھے ہینڈ لوشن پر ٹک گئی۔
''مطلب میں اچھی بہو ہوں۔'' بہتے خیالات کے رو کے آخری جملے نے اس کو بڑا ہی مطمئن کر دیا اور وہ اپنے حالیہ خریدے جدید ترین سیل فون کو محبت سے دیکھتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
اور پھر واقعی مغرب کے لگ بھگ آسمان خاصا صاف ہوگیا۔ نیلے آسمان پر تربوز کی قاشوں کا سا نمونہ بادلوں نے بنا دیا لیکن اگلے دن زری نہیں آئی، اور مہر بھی نہیں، جو گھر کی جھاڑ پونچھ کر دیا کرتی تھیں۔ دونوں کام والی لڑکیوں کی مستقل دو دن کی غیرحاضری سے انیسہ محسن پر کام کا دباؤ خاصا پڑا، ان کی ٹانگوں پر عمر کے تقاضے کی بنا پر ورم آگیا، لیکن گھر کا انتظام بخوبی چلتا رہا۔
.................................................

سوہا کی بارش میں بھیگتے پھولوں کی دو تصاویر کو شہر کے مشہور طلائی زیورات بنانے والوں نے اپنی تشہیر کے لیے منتخب کر لیا تھا۔
کھانا تیار کرنے کا اپنا فیس بک پیچ بھی ''سوہا کا باورچی خانہ'' کے نام سے اس نے شروع کر دیا تھا۔
اس کی زندگی انٹرنیٹ کے گرد ہمیشہ خاصی مصروف رہتی تھی۔ تکیہ پر سر رکھنے سے لے کر سر اٹھانے تک، کچن کی موجودگی سے کھانے کی میز تک،گاڑی کے سفر سےگھر آنے تک، قرآن کی قرات سے رضا کی ٹائی باندھنے تک، زندگی کے ہر گوشے میں انٹرنیٹ اس کے ساتھ تھا۔
انیسہ محسن اس کوگاہے بگاہے ہلکے پھلکے انداز میں کہتیں ''سوہا! ہم سے زیادہ تو تم موبائل سے ملاقات کرتی ہو۔'' ان کی بات پر اس کی بھنویں تن جاتیں۔

ایک شام وہ ساس سسر کو بھاپ اڑاتی چاکلیٹ چائے کے مگ تھما کر، اپنے مگ سے چسکیاں لیتی، ان کے ساتھ بیٹھی اپنا سیل فون تھامے سمندر پار بیٹھی کسی تنہا بڑھیا کی دلجوئی میں مصروف تھی۔ انیسہ محسن کے شکوے پر اس نے دل میں خاصا برا مانا "بنا تو دی چائے، پھر بھی شکایت!"اس نے کوئی تاثر دیے بغیر فون ہاتھ سے رکھ کر مگ تھام لیا۔ مگر خاموشی بدستور تنی ہی رہی۔
کبھی انیسہ محسن رضا کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے سوہا کو اسکرین پرگھنٹوں مصروف دیکھ کر فکرمندی سے کہتیں،
''سوہا وائی فائی لہروں کا طویل اخراج انسان کے جسمانی نظام کے لیے بےانتہا تباہ کن ہے۔''

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

ایک بار یوں ہوا کہ یہ سننے کے بعد سوہا کی نظریں گود میں دھرے نوٹ بک سے لمحہ بھر کو اٹھیں، انگلیاں کی بورڈ پر ساکت ہوئیں، سر اثبات میں ہلا، اور پھر وہ zumba fitness کی نئی ویڈیو کی تلاش میں مصروف ہو گئی۔ وہ مقامی جم میں ہفتہ واری کلاس کی استاد بھی بن چکی تھی۔ اسے اگلے دن کلاس لینی تھی، کچھ نیا سکھانا تھا، اس لیے کچھ نیا تلاش کر رہی تھی۔ رضا آچکا تھا، بیوی کو مصروف دیکھ کر لب بھینچتا نہا دھو کر لاؤنج میں ٹی وی چینل بدلنے لگا۔ ماں نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر کمرے کے ادھ کھلے دروازے کو جہاں سے سوہا کے آنے کی امید تھی لیکن وہ نہ آئی، کیونکہ رضا آج وقت سے دو گھنٹے قبل گھر آگیا تھا، اور یہ سوہا کی مصروفیت ہی کا وقت تھا۔ گزشتہ ماہ ہی دونوں میاں بیوی نے محسن اور انیسہ محسن سمیت "time managment'' کی ورکشاپ میں شرکت کی تھی، کسی ابھرتے ہوئے مشہور مفکر کی ورکشاپ تھی، محسن صاحب کے دوست نے اپنی کمپنی کے اسٹاف کے لیے خصوصی طور پر منعقد کی تھی، دیگر دوست بھی خاندان سمیت مدعو تھے،
''عمر کے مخصوص اسٹیج کے لیے طے کیاگیا ہدف پورا کرنے کی لگن، وقت کے ضیاع سے بچاتی ہے۔''
سوہا کے ذہن میں ورکشاپ کا نمایاں جملہ گڑ چکا تھا اور پھر گھر پہنچنے تک مشہور بالی وڈ اداکارہ ''بپاشا باسو'' اس کے ذہن میں ابھر آئی،
''شوبز میں کامیاب''
''شوخ سی آن لائن شیف''
''بہترین ایکسرسائز استاد''
دنیا میں مشہور بھی ہے۔ لوگ مرعوب بھی ہیں۔ کیا زبردست کامیابیاں اس نے حاصل کرلیںَ، اتنے کامیاب تو ورکشاپ انسٹرکٹر خود بھی نہیں۔''
سوہا نے آخری جملہ رضا سے کہا تو وہ قہقہہ مار کر ہنس دیا۔
''تم کیا کم ہو سوہا رضا'' اور پھر سوہا نے بھی جو اہداف بنائے، ان کے ساتھ یکسو ہوگئی۔
پہلے اگر دن کے سات گھنٹے اسکرین اور انٹرنیٹ کے ہمراہ گزرتے تھے تو اب وہ بڑھ کر بارہ ہو چکے تھے، کیونکہ اس نے 'کامیاب' ہونا تھا تو مستقل مزاجی سے اپنا کام کرنا تھا۔
کوکنگ سائٹ کو دلچسپ رکھنا تھا، فوٹوگرافی معیاری رہتی تو اس کو مختلف کمپنیاں اپنے اشتہار کے لیے آڈر دیتی رہتیں، جم میں بھی اس نے نام بنانا تھا۔ اس کے لیے دنیا بھر سے تازہ ترین معلومات کی آگاہی رکھنی تھی، اپنی من چاہی کامیابی کا بیج وہ ڈال چکی تھی۔
.................................................

انیسہ محسن کے لیے یہ سب خوشگوار نہ تھا، کامیابی اور اہداف کی یہ تصویر خاصی اختلافی تھی لیکن باوجود ان کی تمام تر کوشش کے سوہا کے سوچ کے کینوس پر کوئی ''روشن نقش'' نہیں بن رہا تھا، اسے مضر اور مفید میں فرق کرنا آجاتا تو ان کو تسلی ہو جاتی۔ یہ بطور گھر کی ماں ہوتے ان کی محبت بھی تھی اور ذمہ داری بھی۔ وہ جانتی تھیں کہ
'بپاشا باسو' کی کامیابیوں کی نوعیت، اثرات اور تجربات، اور نو سال کی 'زیمل عمر' جو ایک سماجی پرو جیکٹ zee bags کی بانی ہے، میں بہت فرق ہے۔
'نورا عافیہ' مسلم بلاگر جسے کاسمیٹک کمپنی cover girl نے اپنا برانڈ سفیر چنا تھا بھی 'بپاشا' سے بہتر چناؤ تھی ۔
'رے عوف الحمیدی پندرہ سالہ جرمن نژاد سعودی لڑکی جس نے emojis میں 'حجابی' سائن کا اضافہ کرکے دنیا کو اپنا تعارف دیا، کیا خوب ہے۔
یہ باتیں وقتا فوقتا ذکرہو ہی جاتیں لیکن سوہا کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آتا۔ دل میں وہ ضرور ہمیشہ ایک جملہ دہراتی typical conservative minds!
.................................................

براڈ بینڈ کا بل عرصے بعد محسن صاحب کی نظر سے گزرا تو وہ چونک گئے، ''اتنی رقم!''
انیسہ محسن نے سن کر بھی ان سنی کر دی۔ کیا کہتیں؟
''تمہیں کچھ اس کے نقصانات کا اندازہ ہے؟ کینسر کا سبب بنتی ہیں یہ شعائیں'' ان کی آواز میں خاصی خفگی تھی،
''سوہا کو تو بالکل بھی ان شعاعوں کے درمیان نہیں ہونا چاہیے۔''
''تم میں اور ایک جاہل عورت میں کیا فرق، اگر تم کو بھی یہ بتانا پڑا۔''
ان کی آخری بات سن کر انیسہ نے بھی جواب دینا چاہا لیکن سوہا کو غیر متوقع طور پر آتا دیکھ کر چپ ہوگئیں اور محسن صاحب تن فن کر کے بل کو فائل میں لگانے چل دیے۔
سوہا خاصی سست لگ رہی تھی، ماں بننے کے مراحل میں تھی، بظاہر اس سے زیادہ خوشی آنے والے بچہ کے دادا دادی کو تھی۔ رضا بھی خاصا خوش تھا، اور اس کی بہت خواہش تھی کہ اس کا پہلا بچہ لڑکا ہو، بھائی تو کوئی تھا نہیں، اب بیٹے کی تمنا تھی۔

انیسہ محسن نے ایک گہری فکرمند نگاہ بہو پر ڈالی، جو صحت بخش کھانے کے نام پر ٹیٹرا پیک کھانے پینے کی شوقین تھی، جو میڈیا دکھاتا تھا، اس پر ایمان کی حد تک یقین لانے والی نسل میں سے تھی۔ انہوں نے اس کو خاموشی سے بیٹھا دیکھ کر گرم دودھ کا مگ تھما دیا، اس نے دو گھونٹ لے کر چھوڑنا چاہا تو انیسہ نے اصرار کرکے اسے پورا کرا ہی دیا۔
''اب ہماری پوتی آئے گی کچھ دن بعد، اسے پالنے کے کورسز کرو، یہ نیٹ کا پیچھا چھوڑو، صحت دیکھو اپنی، ابھی سن لیا ہوگا تم نے، ابو کو تمہاری بہت فکر ہے، یہ electro magnetic waves کا جال سب کے لیے برا ہے اور خصوصا تمھارے لیے تو بےانتہا مہلک۔'' انہوں نے اس کو پھر مادی نقصان دکھانا چاہا جو ان دیکھا ضرور تھا لیکن حقیقت تھی۔
''ہنہ!! یہ ساری دنیا کی ورکنگ ویمنز جو گھنٹوں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے درمیان سانس لیتی ہیں، کیا ان کے بچے نہیں ہوتے؟ بس یہاں ہی کوئی انوکھا گرینڈ چائلڈ آ رہا ہے۔'' دل میں کلس کر جواب دیتے سوہا نے ان کی بات سنی اور خاموشی سے ہمیشہ کی طرح سر ہلا دیا۔ لیکن آگے دنوں میں کیا وہی جو اس کے مزاج میں آیا، آخر مجبور ہو کر انیسہ محسن نے رضا سے بات کر کے نیٹ سسٹم ہی عارضی طور پر ہٹوا دیا۔
سسٹم تو ہٹ گیا لیکن سوہا سب گھر والوں سے کھنچ گئی۔ خاموشی گہری ہوگئی، تعلقات میں خلیج آگئی۔ نیٹ کا استعمال کم ضرور ہوگیا تھا، لیکن موبائل ڈیٹا سے وہ پھر بھی مصروف رہتی۔
انیسہ محسن اب مزید کچھ نہ کر سکتی تھیں سو انھوں نے رضا کے ہونے والے بچے کی کامل عافیت کی دعائیں شدید کر دیں، اور پھر جیسے ہی دنیا میں اس اولاد کے آنے کے آثار اپنی آخری سطح پر ظاہر ہونے لگے تو انیسہ محسن نے مانگی منت بھی پوری کر دی۔

پندرہ نومبر کی کہر آلود صبح تھی جب سوہا اور رضا کو ماں باپ کا درجہ مل گیا۔
''سبطین رضا'' دادا نے اذان دیتے ہی پوتے کا نام رکھ دیا۔ خوشی سی خوشی تھی، دیکھنے میں صحتمند، خوبصورت سا سبطین رضا! رضا تو جیسے زندگی میں اتنا خوش کبھی نہ ہوا تھا، انیسہ محسن کی آنکھوں میں بیٹے کی بےانتہا خوشی دیکھ کر نمی سی آگئی، سوہا بہت ہی کمزور لگ رہی تھی لیکن اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اپنے بچہ کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھے۔
''رضا یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا؟''سوہا نے سبطین کو بےقراری سے تھامتے پوچھا۔
''کھولے گا، صبر تو کرو۔'' سوہا کی امی اس کی بےقراری پر ہنس دیں، لیکن گھنٹہ بھر بعد بھی سبطین نے نہ تو آنکھیں کھولیں اور نہ کوئی غذا حلق سے اتاری، وہ بھوک سے رو رہا تھا، اور پھر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ سبطین کے پپوٹوں کے نیچے کوئی عضو نہیں، اور حلق میں غذا کی کوئی نالی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا سے فرار! - شیخ خالد زاہد

خوشیاں اندھیرے میں بدلنے کا مطلب پوری طرح رضا کے خاندان پر ظاہر ہوگیا، سوہا بالکل سکتے کے عالم میں آگئی، محسن صاحب سجدے میں گرچکے تھے، انیسہ بیٹے کے کپکپاتے وجود کو بازوؤں میں تھامے بس ایک ہی فریاد کر رہی تھیں "یااللہ میں نے عافیت کی منت پوری کر دی تھی۔''
کربناک صورتحال کو ہفتہ بھر ہو چکا تھا، ڈرپ کے ذریعہ سبطین کو غذا دی جاتی، جسے کسی حد تک ہی اس کا جسم قبول کرتا اور پھر اس کا فورا ہی اخراج بچے کو بھوک سے بےقرار کر دیتا، بچے کی یہ کیفیت ناقابل برداشت تھی۔ انیسہ کی مستقل رب سے گریہ وزاری جاری تھی۔
ہسپتال کی راہداریوں میں گھومتے ان کے اعضاء شل ہوچکے تھے، دسواں دن تھا کہ دسواں مہینہ تھا، لگتا تھا وقت کے خدوخال بکھر چکے ہیں، ہسپتال کی عمارت میں کھڑے رضا کو ڈوبتے سورج کے ساتھ اپنا دل بھی ڈوبتا لگ رہا تھا، سوہا کے چہرے سے خون جیسے نچڑ چکا تھا۔ جاتے سورج کی کرنوں میں رضا کو وہ کسی آسیبی فلم کا کردار لگ رہی تھی۔ وہ دونوں سبطین کے سلسلے میں ڈاکٹر سے خصوصی ملاقات کرنے آئے تھے، کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی طے شدہ وقت پر ملاقات نہ ہو سکی تھی۔ وہ دونوں اسی انتظار میں ہسپتال کے باغیچے میں بیٹھے تھے۔ بالآخر رضاکے سیل پر انتظامیہ کی طرف سے ملاقات کی کال آ ہی گئی۔

ڈاکٹر سدرہ عیسانی کے کمرے میں داخل ہوتے ہی رضا نے بےآرامی سی محسوس کی، سوہا کی ہیل کی باریک سی آواز اس کو ایکدم سے چھبنے لگی تھی۔
ڈاکٹر نے نشست سنبھالتے میاں بیوی کو گہری نگاہ سے دیکھا، ان کے بچے کا کیس اس کے 35 سالہ طبی تجربے کا دردناک کیس تھا۔ عمومی باتوں کے بعد اس نے اپنے سامنے رکھی فائل کھول لی جس پر سوہا رضا لکھا ہوا تھا۔ اب اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہو گئے تھے۔ رضا کو اے سی کی کولنگ ناگوار لگنے لگی تھی۔ وہ سوہا کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا، لیکن ڈاکٹر مستقل رضا کو دیکھ رہی تھی۔
''آپ کے بچے جیسے کیس طب کی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر سامنے آتے ہیں۔''،
''سوہا رضا! آپ کی ہسٹری میں بظاہر ان میں سے کوئی وجہ نہیں۔'' اب ڈاکٹر عیسانی کا رخ ذرا گھوم کر سوہا کی جانب ہو چکا تھا۔
''ڈاکٹر صاحبہ! آخر یہ سب کیوں ہوا، اور اب کیا ہوگا؟'' سوہا کی لرزتی سرگوشی نما آواز پر سدرہ عیسانی نے آگے جھک کر میز پر رکھا اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
''حوصلہ رکھو!''
''تمہیں یہ حقیقت قبول کرنی ہوگی جلد یا بدیر، کہ خدا نے تمہیں اس آزمائش کے لیے چنا ہے۔" ڈاکٹر کے یہ جملے کمرے کی بےجان دیواروں کی زبان سے بھی ادا ہوتے سوہا کو محسوس ہونے لگے۔

''آج کل کی دنیا میں بہت سی بیماریاں اور ابنارمل کیس electro magnetic waves کے اثرات سے بھی سامنے آرہے ہیں، لیکن فائل کے مطابق آپ ہاؤس وائف ہیں، پھر آپ کی ایسی کیا مجبوری تھی جو آپ جیسی باشعور عورت نے اپنے ہونے والے بچے کی فکر نہ کی''. یہ کہتے ہی ڈاکٹر نے رضا کی جانب ترشی سے دیکھا، جیسے اس نے ہی سوہا کو قید کر رکھا تھا۔
''آپ کا مطلب ہے کہ یہ سب ان لہروں کی وجہ سے ہوا؟'' رضا نے ڈاکٹر سدرہ کے تاثرات کو واضح طور پر محسوس کر لیا تھا۔
'نہیں! ہم حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے، لیکن ممکنہ اسباب پر غور کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے.''
ڈاکٹر اپنے طور پر سوہا کو ہی 'مجبور' بہو سمجھ کر ہمدردی بھری نگاہ سے دیکھتی گفتگو کر رہی تھی۔ حالانکہ سوہا کے چہرے اور آنکھوں کے تاثر میں دکھ کا طلاطم تو تھا لیکن کڑے رستہ کی بےبسی نہ تھی۔ رضا کے چہرے پر تناؤ آچکا تھا، سوہا اس کی شرر بار نگاہوں کو محسوس کر چکی تھی۔
.................................................

گھر پہنچ کر رضا کو جو چپ لگی تو سوہا کے لاکھ پوچھنے پر بھی نہ ٹوٹی۔ بچہ ہسپتال میں دس دن رہا، خصوصی نگہداشت کے اخراجات کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا، کب تک جیتا وہ ایسے، اس کی زندگی مصنوعی نظام سے ہی مشروط تھی، جو برقرار رکھنا بچہ اور ماں باپ دونوں کے لیے تکلیف دہ بھی تھا اور ناممکن بھی۔
اور پھر بے بی کو مشینی نظام سے ہٹالیا گیا، اس کی معصوم روح کو کچھ ہی لمحوں میں نرم سی مسکراہٹ والے فرشتے نے اپنے پاس سمیٹ لیا۔
وہ ستائیس نومبر تھی جب سوہا اور رضا کی اولاد، پہلی اولاد قبر کی تہہ میں اتر گئی۔
رضا بیٹے کو دفنا کر واپس لوٹا تو بہت بکھرا سا تھا، درد کی لہریں اس کو اپنے اندر پھیلتی لگ رہی تھیں، سبطین کے بےجان ہونے سے پہلے کے لمحے اس کی آنکھوں میں ابھرتے تو دنیا اسے دھند زدہ محسوس ہوتی، ماں بہنیں اس کی کیفیت سے بہت پریشان تھیں۔ سوہا ان لوگوں کے درمیان گم صم بیٹھی تھی۔ رضا نے تیزی سے آگے بڑہ کر سوہا کا بازو سختی سے پکڑ کر اسے کھڑا کر دیا ''تم نافرمان عورت، تم میرے بچے کی قاتل ہو۔''
''میں تمھیں طلاق'' جملہ پورا نہیں ہو سکا اور رضا کے باپ نے اپنی پوری طاقت سے رضا کے کندھے پر ہاتھ مارا تو جملہ ادھورا رہ گیا۔ شکوہ کناں آنکھوں سے رضا نے باپ کو دیکھا تو محسن صاحب بیٹے کو اپنے نحیف وجود میں تھامتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔

سوہا بے دم سی ہوگئی تھی، رضا دو دن بعد اس سے مخاطب بھی ہوا تو کس کیفیت میں۔ رضا کے الفاظ ٹھٹھرتی ہوا کی مانند تھے۔
''نہ زمین کا محور بدلا اور نہ آسمان کا رنگ، سب ہی تو جوں کا توں، بس میرا بچہ!'' اس کے ہونٹ خود کلامی روکنے کی کوشش میں جلنے لگے، پاس بیٹھی ماں نے اس کا سر اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔
.................................................

اٹھارویں صدی سے قبل علی بابا نے جب خزانے کے غار کے باہر کھڑے ہو کر "کھل جا سم سم'' کہا تھا تو وہ قطعا نہ جانتا تھا کہ یہ منتر کائنات کی لہروں پر سفر کرتا ہوا وہاں پہنچے گا جہاں سلیکون سے بنی 'سم' ہو یا 'فوٹونک چپ'، انسانوں کے لیے ایسے کئی غار بنا دے گی، جس میں اگر خزانوں کے ڈھیر ہیں تو گھاتیں بھی، زندگی کا لطف ہے تو چنگاریاں بھی۔

ان غاروں میں داخل ہونے والے اکثر سحرزدہ ہوجائیں گے، خواہشیں انہھں محو رقص کر دیں گی، وہ واپسی کا منتر بھو ل ہی جائیں گے، یوں غار کے چالیس چور ان کو دبوچ لیں گے اور پھر کوئی مرجینا ان کو نہیں بچا پائے گی۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.