شعر اقبال کا شکوہ - ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

علامہ اقبال ہماری حالیہ تاریخ کی وہ شخصیت ہیں جن کے افکار نے ملت اسلامیہ کو بالعموم اور مسلمانان برصغیر کو بالخصوص سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ان کی حیات افروز فکر اور ولولہ انگیز شاعری نے مسلمانان ہند کے تن مردہ میں روح پھونک دی اور انہوں نے نہ صرف غلامی کی زنجیروں کو توڑ پھینکا بلکہ ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا۔ آج بھی ان کی شاعری معاشرے کے عام فرد کے لیے یقین اور جذبہ عمل کی بیداری کا محرّک ہے۔ معاشرے کا کم و بیش ہر فرد اپنی بات میں ثقاہت پیدا کرنے کے لیے علامہ کے افکار اور اشعار کا حوالہ ضرور دیتا ہے۔ مگر ہر بڑے شاعر کی طرح یہ المیہ علامہ کی شاعری کو بھی درپیش ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں الحاقی اشعار کا اضافہ اصل کلام کو پس منظر میں لے جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اب علامہ کی شاعری کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آرہی ہے اور یہ المیہ سوشل میڈیا کے عام ہونے کے بعد زیادہ فروغ پذیر ہے۔ کیونکہ جب تک معاملہ صرف کتب تک محدود تھا، علامہ کے اشعار کو حوالہ بنانے سے پہلے کسی نہ کسی حد تک تحقیق کا چلن موجود تھا مگر جب سے سوشل میڈیا نے ’فروغ علم‘ کا منصب سنبھالا ہے یہ تکلّف بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔

علامہ کے افکار کے سلسلے میں مغالطے اور غلط و خود ساختہ اشعار کو علامہ سے منسوب کرنے کا معاملہ صرف عوام الناس تک ہی محدود نہیں بلکہ بعض اوقات اس مغالطے کا ارتکاب ادارتی سطح اور ملک کی نمایاں علمی و سماجی شخصیات سے ہوتا بھی نظر آتا ہے۔ گزشتہ سال کے آغاز میں ملک کے ایک قومی کاروباری ادارے نے اپنی تعارفی ڈائری شائع کی اور اس ڈائری کو علامہ سے منسوب کیا۔ ڈائری کو علامہ کی تصاویر، انگریزی و اردو اقوال اور اشعار سے مزین کیا گیا۔ ڈائری کے ہر تیسرے چوتھے صفحے پر علامہ کے اشعار دیے گئے تھے۔ تاہم یہ دیکھ کر افسوس ہو ا کہ ان اشعار سے نوّے فیصد اشعار کا علامہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اشعار کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے۔ جب اس ادارے کو اس سہو سے مطلع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ سارے اشعار سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس سے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طرح چند روز قبل ایک قومی اخبار میں ’تعلیم بھی فتنہ‘ کے عنوان سے ایک کالم شائع ہوا جس میں ان اشعار کو علامہ سے منسوب کر کے موجودہ تعلیمی نظام پر تنقید کی گئی:

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر فتنہ

مگر ان اشعار کا علامہ سے کوئی تعلق نہیں۔ کراچی میں منعقد ہونے والے ایک حالیہ جلسے میں ایک قومی سیاسی رہنما نے اس شعر کو علامہ سے منسوب کر دیا:

تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

حالانکہ یہ شعر سید صادق حسین کاظمی کا ہے جو ان کی کتاب ’برگِ سبز‘ میں شامل ایک نظم کا حصہ ہے۔ ان کے ورثا نے یہ شعر ان کی لوح مزار پر بھی لکھ دیا ہے تاکہ ممکنہ حد تک اس شعر کے حوالے سے غلط فہمی کی اصلاح ہو۔

علامہ سے خود ساختہ اشعار کو منسوب کرنے کا معاملہ ہمارے تعلیمی نظام کے سقم کی نشاندہی کرتا ہے۔ قوم کے دلوں میں علامہ کے قومی شاعر کے طور پر جو قدر و منزلت اور اعتبار موجود ہے اس کا لازمی اثر یہ ہے کہ وہ علامہ کے کلام کو پڑھنا، سمجھنا اور یاد کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہمارے تعلیمی نظام کی خامی اور اقبالیات، اقبال کے فکر اور کلام کو تعلیمی نظام میں مناسب مقام نہ دیے جانے کے باعث ایسے مجہول اشعار جو عوام الناس کی سوچ میں علامہ کی فکر کی نمائندگی کرتے ہیں علامہ سے منسوب کر دیے گئے ہیں۔ اگر علامہ سے منسوب ان خود ساختہ اشعار کو دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر چہ یہ اشعار، شعر کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتے مگر علامہ کی فکر کے کسی نہ کسی گوشے کو بیان کرتے ہیں، سو علامہ سے منسوب کر کے بیان کردیے گئے۔ مثلاً مومنانہ یقین کے تصور کو بیان کرنے کے لیے علامہ سے یہ شعر منسوب کر کے پڑھا جاتاہے:

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہی گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

یہ شعر شاید قابل اجمیری کا ہے مگر اقبال کا ہر گز نہیں۔ قوت عمل بیدار کرنے کے لیے یہ شعر علامہ سے منسوب کردیا گیا ہے:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ شعر ظفر علی خان کا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے وزیر آباد میں داخل ہوتے ہی جو بڑا دروازہ بنایا گیا ہے اس پر یہ شعر جلی حروف میں علامہ سے منسوب کر کے لکھا گیا ہے۔ تا دم تحریر یہی صورت حال ہے۔ گویاظفر علی خان کے شہر میں انہیں اپنے شعر سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کو بارہا متوجہ کیا گیا کہ اس غلطی کی اصلاح کریں کہ ہر آنے جانے والا فرد اسے علامہ کے شعر کے طور پر ہی یاد کر رہا ہے۔

علامہ کی نظم شکوہ اور جواب شکوہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کئی اشعار اس ذیل میں بھی تخلیق کر دیئے گئے۔ سوشل میڈیا پر یہ اشعار عام ملتے ہیں:

شکوہ:

بروز حشر بے خوف گھس جاؤں گا جنت میں

وہاں سے آئے تھے آدم وہ میرے باپ کا گھر ہے

جواب شکوہ:

ان اعمال کے ساتھ جنت کا طلبگار ہے کیا

وہاں سے نکالے گئے آدم تو تیری اوقات ہے کیا

یہ علامہ کے اشعار نہیں ہیں۔ بال جبریل کے مصرعہ ’دل سوز سے خالی ہے، نگہ پاک نہیں ہے‘ کے مفہوم کا حامل یہ شعر اقبال سے منسوب ملتا ہے:

دل پاک نہیں تو پاک ہو سکتا نہیں انسان

ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت

یہ علامہ کا شعر نہیں ہے۔ بال جبریل ہی کے ایک مصرعہ ’بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی‘ کے مفہوم کا حامل یہ شعر ملتا ہے:

کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال

وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے

یہ علامہ کا شعر نہیں ہے۔ بال جبریل ہی کے ایک مصرعے ’ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو‘ کے مفہوم کا حامل یہ شعر علامہ سے منسوب کر دیا گیا ہے:

تیری رحمتوں پر ہے منحصر میرے عمل کی قبولیت

نہ سمجھے سلیقہ التجا نہ مجھے شعور نماز ہے

یہ علامہ کا شعر نہیں ہے۔ الغرض علامہ سے منسوب خود ساختہ جو بھی شعر دیکھیں اس کا تجزیہ بتاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اقبال کی شاعری کو اصلاح احوال کا ذریعہ سمجھتا ہے اور اس سے تحریک بھی حاصل کرتا ہے۔ یعنی علامہ کا کلام اور فکر معاشرے میں ایک مثبت سماجی تبدیلی لانے کا بہت بڑا محرک اور سرچشمہ ہے۔ مگر ہمارے تعلیمی نظام کے سقم نے اس محرک کو مثبت اثرات پیدا کرنے والے سرچشمہ بنانے کی بجائے قوم میں جہالت پیدا کرنے کا سبب بنا دیا ہے۔

معاشرے میں کلام اقبال کی آگہی پیدا کرنے اور عوام الناس کو کلام اقبال سے آشنا کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل علم، صحافیوں، سوشل میڈیا کے افراد اور اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ایسی تحریر اور شعر پر نظر رکھیں جو بغیر کسی سند کے علامہ سے منسوب کی جا رہی ہو۔ اس کے لیے اقبال اکادمی پاکستان کی شائع کردہ کتب ’جوئے رواں‘ اور ’شعر دلآویز‘ سے مدد لی جاسکتی ہے جو علامہ اقبال کے تمام اردو کلام کے مصرعہ وار اور شعر وار اشاریے ہیں۔ ان کتب کی مدد سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ علامہ سے منسوب کر کے بیان کیا جانے والا کوئی شعر علامہ کا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے اقبال اکادمی پاکستان کی ویب سائٹس concordia.allamaiqbal.com.pkبھی ممد و معاون ہو سکتی ہے۔ اگر اہل علم نے اس میں کوتاہی کی تو ہمارا بہت ہی وقیع علمی سرمایہ جو علامہ کے کلام کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے مغالطوں کی زد میں رہے گا اور ہم اس کی افادیت اور تاثیر سے محروم ہوتے جائیں گے۔ علامہ نے بھی شاید اسی لیے اپنے شعر کے بارے میں اس آرزو کا اظہار کیا تھا:

ہے گلہ مجھ کو تری لذت پیدائی کا

تو ہوا فاش تو ہیں اب مرے اسرار بھی فاش

شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوراہ نہ رہ

کر کسی سینہ پرسوز میں خلوت کی تلاش