پیراڈائز لیکس اور فلسفہ ِ قارون - وقاص احمد

پیراڈائز لیکس کے نمودار ہوتے ہی پاکستانی میڈیا نے دو تین دن تک تو کہرام مچا یا لیکن پھر ملکی سیاست اور نواز شریف کی نظر ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے ہمارے میڈیا کو کٹی پتنگ کی طرح ہوا کے موافق سمت موڑ دیا۔ برمودا کے جزیرے پر موجود ایپلبائی (Appleby) نامی لاء فرم جو آف شور کاروبار کے حوالے سے دنیا کی بڑی قانونی خدمات فراہم کرنے والی فرم ہے، سے لیک ہونے والے لاکھوں دستاویزات اور مراسلات کے اس منظر نامے کو بغور دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتنے امیر کبیر طاقتور لوگ، دنیا کو اپنے لیے جنت کی طرح سجانے والے اور اس کی تمام نیرنگیوں اور دل فریبیوں سے کما حقہ لطف اندوز ہونے والے یہ رئیس اور نامور لوگ اور اس سے بڑھ کر دنیا میں غربت و بیماری کے خلاف جہاد اور امیرو مسکین کے درمیان حائل وسیع خلیج کو پاٹنے کا درس دینے والے، کیوں آف شور کمپنیز بنا بنا کر، پیسہ ملک میں لانے کے بجائے آف شور رکھ کر یا تو ٹیکس بچاتے ہیں یا پھر ٹیکس کے ساتھ کرپشن، منی لانڈرنگ بھی چھپاتے ہیں؟ کیا ا س عمل کے پیچھے صرف سادہ لالچ، حرص، بخل اور نفسانیت کا دخل ہے یا کوئی اور بھی گہری سوچ کا رفرما ہوسکتی ہے؟ یہ معاملہ محض سرمایہ دارانہ نظام میں دانستہ طور پر موجود ٹیکنیکل خرابی (چور دروازہ) کو استعمال کرکے فرائض سے فرار اور اخلاقی کمزوری کا شاخسانہ ہے یا اس میں کوئی فلسفیانہ سوچ بھی رچی بسی ہے؟

لبریٹیرین (Libertarian) سیاسی فلسفہ کے بارے میں ہم میں سے بہت سے لوگ آگاہ ہوں گے۔ اس فلسفہ کے حمایتی اس بات کا پرچار کرتے ہیں کہ انسان فطرتاً آزاد ہے اس لیے اسے بہت سا رے معاملات میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ ذاتی معاملات میں تو اسے پسند و انتخاب کا اختیار تو چاہیے ہی، اجتماعی معاملات میں بھی حکومت کم ترین سطح پر اس کے معاملات اور کاروبار میں دخل اندازی کرے۔ لبریٹیرین ذاتی املاک و دولت کو حد سے زیادہ ہی ذاتی سمجھتے ہیں۔ اس حد تک کہ حکومت کے وہ محصولات اور ٹیکسز کو جو عام عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے لیے وصول کیے جاتے ہیں، اپنے لیے ایک بوجھ بلکہ اسے غیر منصفانہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دولت، یہ جاگیریں، یہ حویلیاں و محلات اُنہیں انسانوں کی دَوڑ میں آگے نکلنے پر ملی ہیں جس دوڑ میں ہر انسان لگا ہوا ہے کہ اسے ایک آسائشوں والی، مسائل سے آزاد، تکالیف سے دور، پریشانیوں سے مبرّا زندگی ملے۔ ٹیکسز میں وصول پیسہ ان کی سیکورٹی، خوبصورت سڑکوں، شاندار ائرپورٹس اور کلبوں کی تعمیر پر تو خرچ ہوں لیکن اس پیسے کو مفت تعلیم، صحت، سبسڈ یز، بے روزگار الاؤنسز وغیرہ پر لگانا لبریٹیرین کے نزدیک سراسر زیادتی اور ظلم ہے۔

اس سوچ میں انتہا پسندی کے حامل مطلق (absolute)آزاد مارکیٹ کے حامی او ر ریاست کے فلاحی اور ولفیئر ہونے کے خلاف ہوتے ہیں۔ (گوکہ اب اس پولیٹیکل فلسفے میں بھی دائیں اور بائیں بازو کے لوگ آگئے ہیں لیکن وہ ابھی زیرِ بحث نہیں )۔ تو اصل میں اس فلسفے کے پیچھے یہ سوچ کا ر فرما ہوتی ہے کہ یہ مال و دولت، یہ صلاحیتیں، یہ کاروبار فلسفیانہ یا نظریاتی طور پر بھی میری ذاتی ہیں کیونکہ یہ میری قسمت ہے، یہ میرا Talent ہے، میری صلاحیتیں ہیں جس میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اگر قسمت کا عمل دخل ہے بھی تو قسمت بھی بہادر کا ساتھ دیتی ہے، رسک لینے والے کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ میری مرضی ہے کہ میں اس خوش قسمتی سے خوش ہوکر صدقہ خیرات کروں یا نہ کروں، میری مرضی ہے کہ میں کسی کو خیرات میں کچھ دوں نہ دوں۔ زیادہ دوں، کم دوں لیکن حکومت یا ریاست مجھ سے زبردستی، مجھ سے بغیر پوچھے کچھ نہیں لے سکتی۔ کوئی پابندی نہیں لگا سکتی۔

اس بات سے قطع نظر کہ دنیا میں کئی دوسرے فلسفوں، سیاسی نظریات اور جمہوری روایات و مجبوریوں کی وجہ سے آئیڈیل طرز کی لبریٹیرین حکومت کا بننا ناممکنات میں سے ہے، مگر لبریٹیرین دانشور اور تنظیمیں دنیا کی حکومتوں میں لابنگ کرتے رہتے ہیں اور ٹیکس سے جان نہ بھی چھوٹے تو کم ازکم اسمیں کمی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

منبع رشد و ہدایت، قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے والوں کو یہ سطریں پڑھنے کے بعد قرآن میں مذکور ایک حقیقی کردار یاد آرہا ہوگا۔ جی ہاں! میں قارون کی بات کر رہا ہوں۔ قارون نے ہزاورں سال پہلے انہی خیالات کا اظہار کیا تھا جسکو قرآن نے نہایت عبرت انگیز اندازمیں نقل کیا۔ یہاں ضمناً ایک بات عرض کر دوں کہ مغرب کے نشاط ثانیہ اور دورِ تنویر (Enlightenment Era) سے ضرورت سے زیادہ متاثر لو گ قرآن سے دور رہنے کا یہ بہانہ بھی بناتے ہیں کہ دنیا بہت بدل گئی ہے۔ وقت نے نظریات اور فکریات کو بھی بدل دیا ہے جبکہ قرآن تو ساتویں صدی عیسوی میں منظر عام پر آیا۔ تو یہاں مجھے اقبال کے عظیم شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی اور قرآ ن کے نامور مدرس ڈاکٹر اسرار ا حمد کی گفتگو کا ایک حوالہ یاد آتا ہے جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا کہ پروفیسر صاحب کہا کرتے تھے کہ اکثر جدید فلسفی یہ بات مانتے ہیں کہ دنیا میں اِس وقت جتنے بھی فلسفے اور مذہبی تھیولوجیز موجود ہیں ان کے چشمے 600 قبل مسیح سے 600ء کی درمیانی مدت میں ہی ایک باقاعدہ علمی فکر کی حیثیت سے سامنے آئے۔ اسی دور میں گوتم بدھ، کنفیوشس، سقراط، افلاطون اور ارسطو نے اپنے تجربات، جذبات، علمی کوششوں اور جدوجہد سے علم و حکمت کے موتی بکھیرے، عیسٰی علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور اسی دور میں کرسچن تھیولوجی کا ظہور و پھیلاؤ ہوا۔ اسی طرح آج مادّیت، الحاد، دہریت اور عقلیت و تجربیت وغیرہ ، سارے فلسفوں کی جڑیں ہمیں اِسی دور کی یونانی فلسفہ میں مل جاتی ہیں۔ گویا قرآن انسانی تاریخ کے اِس عہد میں جب انسانیت کی سوچ اور عقل بالغ ہوچکی تھی، انسان کی فلاح و کامرانی کے لیے عظیم روشنی اور سر چشمہ ہدا یت بن کر آیا۔ جب حق اور باطل، نیکی اور بدی، رحمانی عدل اور طاغوت کے بنیادی فکر کی تمام طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھل کر سامنے آچکی تھیں اور ایک دو سرے سے معرکہ آرا ئی کر تی آرہی تھیں۔ نبی آخرالزماں اور رسول رحمت ﷺ کی بعثت کے بعد تو بس انداز و اوزار اور کردار ہی تبدیل ہوئے۔

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہم سورۃ القصص میں قارون کے متعلق آیات بینات کا ترجمہ پڑھتے ہیں:

"قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ﴿۷۶﴾ اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجیے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ﴿۷۷﴾ بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا ﴿۷۸﴾ تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے ﴿۷۹﴾ اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لیے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا ﴿۸۰﴾ پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا ﴿۸۱﴾ اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے ﴿۸۲﴾ وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لیے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے ﴿۸۳﴾ جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کیے ان کو بدلہ بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے ﴿۸۴﴾"

تذکیر اور یاد دہانی کی سطح پر مندرجہ بالا آ یات اتنی واضح ہیں کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔ یہ تھا قارون کا لبریٹیرین فلسفہ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں آف شور بینکس اور جعلی، کاغذی کمپنیوں کا یہ چور دروازہ نیا نہیں بلکہ ساٹھ ستّر کی دہائی سے ہے۔ آغاز میں کمیونسٹ، سوشلسٹ ملکوں کے جابر حکمرانوں سے بچنے کے لیے ان ملکوں کے دولتمند رؤسا ء اور انتہائی امیر افراد اسی کے ذریعے اپنی دولت کو فرار کرواتے۔ رفتہ رفتہ تمام ہی ممالک کے انتہائی امیر لوگ، کارپوریٹس اور ملٹی نیشنل کمپنیز نے، چاہے وہ مغربی جمہوریت کے دیوانے ہوں، سوشلزم کے پروانے ہوں یا خاندانی بادشاہت کے مستانے، اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اپنا وطیرہ بنا لیا۔ اور اپنے قانونی اور اس سے بڑھ کر اخلاقی فرض سے کنّی کترانا شروع کردیا۔

اس پورے متوازی نظام سے فائدہ اٹھانے والے صرف انتہائی امیر لوگ اور کارپوریشنز ہیں۔ یہ دس، بیس لاکھ ماہا نہ کمانے والے نوکری پیشہ یا تاجر بھی نہیں بلکہ ماہانہ کروڑوں اربوں (روپے کی قدر میں) کمانے والے امراء اور کاروباری ہیں۔ ظاہر ہے ان جیسے لوگو ں کی پہنچ ہی آف شور جزائر تک ہوتی ہے۔ آپ کو بتاؤں کہ اس ٹیکس چوری کا نتیجہ کیا ہو تا ہے اور اب تک کیا ہو چکا ہے؟ سنیے! یہ ہوش ربا رئیس لوگ اور ملٹی نیشنل کار پوریشنز عالمی نظام میں پائے جانے والے دانستہ طو ر پر بنائے جانے والے سقم کو استعمال کرکے ٹیکس چوری کرتے ہیں اور اپنے ملک کے غریبوں کا حق مارتے ہیں۔ مڈل اور اپر مڈل حتٰی کہ اپر کلاس والے جو ٹیکس سے بچنا بھی چاہیں بھی تو نہیں بچ پاتے، ان پر خسارہ پورا کرنے کے لیے بلاواسطہ اور بلواسطہ مزید بوجھ لادا جاتا ہے۔ یعنی انتہائی امیر (Ultrarich) اور بااثر لوگوں تو کم ٹیکس دیں اور باقی لوگ اپنی تفریحات، سہولیات حتیٰ کہ ضروریات کم کرکے ٹیکس بھریں۔دنیا کے امیر ترین 7 کروڑ لوگوں کے پاس، جو دنیا کی آبادی کا ایک فیصد ہیں، بقیہ ساری دنیا سے زیادہ دولت ہے۔ صرف آٹھ ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جن کے پاس دنیا کی نچلی آدھی آبادی سے زیادہ پیسہ ہے۔

دنیا کی 200 بڑی کمپنیز میں سے 190 کمپنیز کے آف شور اکاؤنٹس اور معلاملات ہیں جس سے وہ اپنے حواس باختہ منافع میں سےٹیکس بچا کر دنیا کے بھوک، افلاس و بیماری کے پھیلاؤ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ 50 چوٹی کی امریکی کمپنیوں کے 1.6 ٹریلین ڈالر آف شور پڑے ہیں۔ یہ کمپنیا ں اُن غریب ممالک میں جہاں وہ کاروبار کرتی ہیں مجموعی طور پر 100 بلین ڈالر سالانہ کا چونا لگاتی ہیں۔ یہ پیسہ کروڑوں بچوں کی صحت، تعلیم اور صاف پانی پر لگا کر لاکھوں جانیں بچانے کے کام آسکتا ہے۔ آپ پیراڈائز لیکس میں موجود پاکستانیوں کے نام پڑھیں۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، این آئی سی ایل کے 2010 میں چیئر مین ایاز خان نیازی، نامور بزنس مین صدرالدین ہاشوانی، میاں منشاء جو کسی تعارف کے محتاج نہیں، سونیری بینک کے چیئرمین علاؤالدین فیراستا، عبید الطاف خانانی، داؤد گروپ کے چیئرمین حسین داؤد، تاثیر فیملی، پرنس کریم آغا خان صاحب سمیت 135 پاکستانی ہیں جنہوں نے پاکستان کو اپنی بیش بہا دولت میں سے پورا ٹیکس وصول کرنے کے قابل نہیں سمجھا۔ اب اس کے پیچھے کونسی سوچ کار فرما ہے؟ سادہ والی یا نظریاتی یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن تمام امراء و رؤساء اور مجھ سمیت تمام قارئین سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر سورۃالقصص کی آیات سے تذکیر حاصل کریں۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com