سیکولرزم = لادینیت؟ - محمد دین جوہر

الوہی ہدایت نظری علوم یا فکری مواقف کا ارتقاء پذیر مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقائق، اقدار اور احکام کا ایسا متعین اور غیر مبدّل مجموعہ ہے جو وحی سے عطا ہوا ہے۔ بالعموم انہی حقائق و اقدار کی رو سے ارتقاء پذیر اور متغیر انسانی افکار اور اعمال پر حکم لگایا جاتا ہے، اور ان کا دینی یا لادینی ہونا اجمالاً معلوم ہو جاتا ہے۔ اُلوہی ہدایت کا بنیادی مقصد انسان کو یہی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس تناظر میں سیکولرزم پر بھی اگر کوئی حکم لگایا جا سکتا ہے تو وہ لادینیت ہی کا ہے۔ سیکولرزم انسان سے جن اعمال کا مطالبہ رکھتا ہے، ان کے لادینی ہونے میں کوئی ابہام نہیں۔ لیکن جب سیکولر فکر کو علی الاطلاق لادینی قرار دیا جاتا ہے تو اس میں چندے تفصیل کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ اس کی حیثیت نظری ہے۔ تمام نظری علوم اور معقولی فکر اصالتاً حقائق اور اقدار کا نطق ہے۔ مثلاً جدید انسان کا تصورِ حقیقت مکمل طور پر مادی ہے، اور اس کے اقداری مجموعے میں سب سے بڑی قدر آزادی ہے، اور سیکولرزم انہی کا نطق ہے۔ بطور فکر، سیکولرزم جن ”حقائق“ کی فرع ہے، اور جو ”اقدار“ اس فکر کے ذریعے انسان سے مخاطب ہیں، وہ ہر لحاظ سے مذہب کی ضد ہیں، اس لیے سیکولرزم کے اپنی اقدار اور فکر سمیت لادینی ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں۔ لیکن لادینیت کے حکم کا براہ راست محتمل وہ حقائق و اقدار ہیں جن سے سیکولر فکر پیدا ہوئی ہے اور یہ فکر اس میں تضمناً شامل ہے۔

کسی مؤقف یا عمل کو لادینیت قرار دینے کا بڑا مقصد الوہی ہدایت اور غیر ہدایت کے امتیاز کو باقی رکھنا ہے۔ سیکولرزم کو لادینیت قرار دینے سے یہ امتیاز تو قائم ہو جاتا ہے، لیکن اس کا تنقیدی فکر میں مفصّل ہونا باقی رہتا ہے۔ آج کے دور میں اس فکر کو درست تسلیم کرنے والے حضرات کے لیے تفصیل کے بغیر محض یہ امتیاز کسی بڑی معنویت کا حامل نہیں رہا۔ لادینیت کے زیرِ عنوان مشمولات کی فہرست طویل اور غیرحتمی ہے، اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ مزید یہ کہ جدید عہد میں دینی یا لادینی اور اسلامی یا غیر اسلامی کا مفہومی دائرہ اور اس کے عملی اطلاقات بہت کمزور اور لچکدار واقع ہوئے ہیں۔ لادینیت قرار دینے کی اہمیت ایک مانعاتی حکم کی ہے جس کی تنفیذ کے عملی مؤثرات نہ ہونے کی وجہ سے ایسی ضروری فہرستوں کی افادیت بھی کم ہو گئی ہے۔ اگر کسی فکری موقف پر ایسا حکم لگایا جائے جسے نفاذی قوت حاصل نہ رہی ہو، تو اس موقف کی فکری کشش اور عملی پیش قدمی کو روکنا ممکن نہیں ہوتا، اور مزاحمت کے وسائل بھی پیدا نہیں ہو پاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیکولرزم پر لادینیت کے حکم سے آگے جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے اس کو بھی دیکھا جائے۔ صورت حال میں ایک بڑی پیچیدگی اس لیے بھی در آئی ہے کہ بطور مسلمان ہم جن حقائق و اقدار پر ایمان رکھتے ہیں، وہ آج بے نطق ہیں اور کسی فکر میں ظاہر نہیں۔

سیکولرزم کو لادینیت قرار دینے سے ہماری داخلی مذہبی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے، اور مشترک انسانی ذمہ داری کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہماری ایک اہم انسانی ذمہ داری یہ واضح کرنا ہے کہ ہمارے عقائد اور اقدار جو سیکولرزم پر حکم کی بنیاد ہیں جدید عہد اور جدید انسان کے لیے کیا معنویت رکھتے ہیں؟ یہ کام نظری علوم اور معقولی فکر میں رہتے ہوئے ہی انجام دیا جا سکتا ہے۔ یہیں سے جدید سیکولر تصورات اور نظریات اور ان کے عملی نتائج کو سمجھنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ وہ انسانی ذہن اور عمل دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں سیکولرزم کی بحث ابھی تک لغت سے الفاظ معنی دیکھنے تک محدود ہے، جبکہ یہ ایک پورا تصور حیات ہے اور اتنا ہی بڑا فکری مبحث ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف علم کے ہر ڈسپلن پر ہیں، بلکہ جدید انسان اور معاشروں کی واقعاتی تشکیل بھی اسی پر عمل میں لائی گئی ہے۔

سیکولر تصورات نے جدید انسانی معاشروں میں کچھ مستقل یا ارتقاء پذیر ہیئتوں کو تشکیل دیا ہے۔ یہ ہیئتیں عام طور پر سماجی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی ہیں۔ سیکولرزم کی پیدا کردہ ان ہیئتوں کو ہمارے معاشرے میں وسیع تداول حاصل ہے۔ یہ ہیئتیں ہماری روزمرہ خانگی زندگی، دفتر، سکول، جامعات، ہسپتال، ابلاغ اور مواصلات کے ادارے، انصاف، سرمائے اور طاقت کے ادارے ہیں، اور ان اداروں کی حرکیات بھی وہ قوتیں متعین کرتی ہیں جو سیکولر اور قطعی مادی تصور حیات سے پھوٹی ہیں، اور عالمی نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ استعمار کے ساتھ صرف جدید تصورات ہی نہیں آئے تھے بلکہ معاشرے کی تمام جدید ہیئتیں بھی اسی کے جلو میں یہاں پہنچیں اور معاشرے میں تمکن حاصل کیا۔ یہ ادارے سیکولر اور مادی تصورات کے عملی مصداقات یا مظاہر ہیں۔ ایک بڑے درجے میں ہم ان ہیئتوں کو نہ صرف قبول کر چکے ہیں، بلکہ ان کے بغیر انفرادی، سماجی اور اجتماعی حیات ہی ناقابل تصور ہے۔ یہ وہ دبدھا ہے جس میں ہمیں سیکولرزم کی بحث درپیش ہے۔ اس مشکل صورت حال کا جو حل ہم نے نکالا ہے وہ بھی دلچسپ ہے کہ سیکولرزم بطور تصور لادینی ہے، اور بطور سماجی ہیئت عین دینی ہے، یا کبھی دونوں ہی لادینی ہیں یا کبھی دونوں ہی دینی ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں ہم سے کوئی نہیں پوچھتا کہ سیکولرزم دینی ہے یا لادینی؟ بلکہ دنیا تو ہم سے یہ پوچھ رہی ہے بتاؤ مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ ہم نے دنیا کے سامنے اس سوال کا جواب لانے میں کوئی محنت نہیں کی، اور سیکولرزم کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی بحث کو گھر آنگن سے کسی عالمگیر چوراہے پر منتقل کریں تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ یہ افکار و مباحث آ کہاں سے رہے ہیں، اور بات کہاں تک بڑھی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کی عصمت کا محافظ اسلام یا لبرل ازم ؟ فہیم حسین

ہمیں دیانتداری سے جواب دینا ہے کہ مذکورہ بالا تمام ہیئتیں کیا ایسے تصورات اور نظریات کی روشنی میں وضع نہیں کی گئیں جن کی جڑیں استعماری فرمانروائی، مادی تصور حیات اور اقدار، اور سیکولر افکار میں پیوست ہیں؟ اور ان اداروں نے آہستہ آہستہ ہمارے پرانے اداروں کو replace کیا ہے۔ استعماری تہذیب اپنے تصورات اور ادارے بیک آن ساتھ لائی تھی۔ جب ہم سیکولرزم کے تصور کو لادینی قرار دیتے ہیں تو عین اسی سیکولرزم کی پیدا کردہ ان تمام ہیئتوں کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہوتا ہے؟ مثلاً جدید گھر، سکول، ہسپتال، بینک، میڈیائی ادارے اور سرمائے اور طاقت کے تمام ریاستی ادارے وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں اپنے کسری مشاہدے اور نقال تجربے سے اس حقیقت کا ادراک ضرور ہے کہ آج کی دنیا میں سرمائے اور طاقت کے تمام ذرائع اور وسائل انہی جدید اداروں پر منحصر ہیں، لیکن ان کا شجرہ بھی ہمیں ازبر ہے۔ اشکال اور دبدھا کی اس بیک آن اور اعصاب شکن صورتحال سے نکلنے کا ہمارے پاس واحد ذریعہ نعرہ ہے جو فلک شگاف تو ہوتا ہی ہے، ذہن پاش اور دلدوز بھی ہوتا ہے، اور یہی وہ احوال ہیں جن میں ہم کاروبار زندگی گزشتہ کئی صدیوں سے چلا رہے ہیں۔

مختلف فکری موضوعات سے تعرض کا مقصد اپنے ایمانی محتویات کی سلامتی اور دفاع ہے، اور جدید سماجی، معاشی اور سیاسی ہیئتوں کو سمجھنے کا مقصد عمل صالح کے امکان اور مواقع کو باقی رکھنا ہے۔ اسی لیے سیکولرزم کے تصور اور عمل دونوں کو الگ الگ دیکھنے اور دیانتداری سے نتائج تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں سیکولرزم کا فروغ کسی تبلیغی سرگرمی کے نتیجے میں واقع نہیں ہوا۔ مغرب کے مادی تصور حیات اور سیکولر فکر نے جدید انسانی معاشروں میں جو نئے ادارے تشکیل دیے ہیں وہ حاوی فطرت، حاوی حیات اور حاوی شعور ہیں، اور ان اداروں کی پیدا کردہ کنڈیشن معاشرے میں سیکولر ذہن اور سیکولر طرز حیات کے فروغ کا باعث ہے۔ یہ سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ سیکولرزم کو لادینیت قرار دینا ہمیں کس بات کا فائدہ دیتا ہے؟ فی زمانہ یہ ایک نعرہ تو ہے جو کسی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم نے اس حکم کے فکری، اخلاقی یا معاشرتی مضمرات کو جاننے کی کوشش نہیں کی ہے۔ لادینیت کی اقداری تصریحات کے ساتھ ساتھ نظری توضیحات ایک ضروری کام ہے جس کے بغیر سیکولر فکر کے خلاف مزاحمت ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام اور آزادی بے لگام - اسامہ الطاف

سیکولرزم کے بارے میں کچھ گزارشات اس کی تناظری تفہیم کے لیے عرض ہیں۔ اول، سیکولرزم بطور فکر و عمل کا منبع مکمل طور پر مادی تصورِ حیات اور تصورِ کائنات ہے۔ دوم، سیکولرزم بنیادی طور پر ایک سیاسی اور اجتماعی فکر ہے، جو جدید معاشرے کا واحد تنظیمی اصول ہے۔ انسانی اجتماع، یعنی معاشی اور سیاسی معاملات، کو منظم کرنا ہر معاشرے کا پہلا مسئلہ ہے، اور اسی مسئلے کے حل کے لیے مغرب اپنی سیکولر اقدار اور سیکولر فکر کو سامنے لایا ہے۔ سوم یہ کہ سیکولرزم اور اسلام (اپنے اعتقادی اور اجتماعی پہلوؤں میں) تصور اور عمل دونوں سطحوں پر باہم یک نگر (mutually exclusive) ہیں۔ یعنی یہ دونوں تصورہائے حیات، انسان اور انسانی معاشرے سے جو بھی مطالبات رکھتے ہیں وہ ایک جیسے ہیں، کلّی ہیں اور ایک دوسرے سے قطعی متضاد ہیں، اور کسی انسان اور معاشرے کے لیے بیک وقت دونوں کے مطالبات کا پورا کرنا محال ہے۔ چہارم یہ کہ لادینیت کہنے سے ایک مراد یقیناً یہ ہوتی ہے کہ مذہبی آدمی اس سے، شاید انفرادی طور پر، مجتنب رہے۔ لیکن کیا ہم کسی فرد سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ سرمایہ داری نظام سے مجتنب رہے؟ ایسی صورت حال میں بالکل سیکولر اداروں کو بھی دینی کہنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور انہیں لادینی قرار دینے سے پورے معاشرے اور ریاست کے خلاف ایک شکست خوردہ اور جارحانہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جو بیک وقت مذہبی اور nihilistic ہوتی ہے۔ پنجم یہ کہ سیکولرزم اپنے عملی پہلوؤں میں ہمارے معاشرے کی واقعاتی تشکیل مکمل کر چکا ہے، اور اجتماعی سطح پر ہمارے معاشرے کی کوئی ایسی ساخت باقی نہیں رہی جسے درست تر معنی میں مذہبی کہا جا سکتا ہو۔ دین کی تمام جدید تعبیرات بنیادی طور پر سیکولرزم کو تصور یا واقعے میں معروف مان کر دین کو ان کے مطابق بنانے کی کارگزاری ہے اور گزشتہ دو صدیوں میں ہمارے مہمات مذہبی مباحث کی کل متاع یہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نعرے بازی سے پرہیز کیا جائے اور سیکولرزم کی تفہیم معروف معیارات پر کرتے ہوئے معروف طریقۂ کار سے اس کا رد کیا جائے۔ اس کی پیدا کردہ عملی ساختوں کا تجزیہ سماجی علوم میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم ان ساختوں میں ضروری تبدیلیاں کر کے انہیں اپنی اقدار سے ہم آہنگ کر سکیں۔

ہمارے ہاں سیکولرزم کی بحث ابھی تک لغت سے الفاظ معنی دیکھنے تک محدود ہے، جبکہ یہ ایک پورا تصور حیات ہے اور اتنا ہی بڑا فکری مبحث ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف علم کے ہر ڈسپلن پر ہیں، بلکہ جدید انسان اور معاشروں کی واقعاتی تشکیل بھی اسی پر عمل میں لائی گئی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کو دیکھنے کا پس منظر اور پیش منظر بھی اتنی ہی وسعت کے ساتھ ترتیب دینے کی کوشش کی جائے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم
    پاکستانی معاشرے کی ساخت مذہبی ہے اور اس میں ں سیکولرازم کو ایک الگ مذہب کے طور پر متعارف کروانے کی سعی اس لحاظ سے "قابل تحسین "ہے کہ عدم برداشت کے عنصر کو تقویت حاصل رہے ، اور اس کو ایک" گالی " کا نام دیا جائے تو اس کو قبول کرنے میں مشکل رہے ، سیکولرازم کو ذہنی آزادی ، مکالمے اور دلیل کے کلچر کے طور پر متعارف کروایاجائے تو اس سے معاشرے میں نئے نئے مباحث جنم لیتے ہیں ، جب سرمایہ دارانہ نظام ہمارے معاشر ے میں پر پرزے نکال رہا تھا تو اس وقت کمیونزم اور سوشلزم سے بڑی کوئی گالی بھی نہیں ہوتی تھی اور ان لفظوں سے بھی وحشت ہوتی تھی، اور اب سرمایہ دارانہ نظام نے سود کے تصور نےجس طرح ہمارے معاشرے میں کسی نہ کسی رنگ میں اپنے پاؤں پھیلائے ہیں، ان مصائب کو دیکھئے جو معاشرے میں پھیل گئے ہیں ، اسی طرح سیکولرازم جو معاشرے میں برداشت کے عنصر کو متعارف کروانے کا ایک آلہ ہے اس کے گلے میں ایک الگ مذہب کا طوق ڈال کر متعارف کروایاجار ہاہے اس سے کوئی "خیر " برآمد ہونے کی امید نظر نہیں آرہی، بلکہ اس کی بجائے سرمایہ دارانہ نظام نے جس طرح سود کو متعارف کروایا اور اسی طرح سیکولرازم کی جگہ جو بھی نظام لایاجائے گا وہ عدم برداشت کا عنصر لے کر حاضر ہوگا،