آرمی چیف کسی کا بندہ نہیں ہوتا - نصرت جاوید

نومبر2013ء میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بطور آرمی چیف معیادِ ملازمت تین سالہ توسیع کے بعد مکمل ہونے والی تھی۔ یہ بات تقریباً طے تھی کہ اسی سال پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیراعظم نواز شریف انھیں مزید توسیع ہرگز نہیں دیں گے۔ نواز دشمنوں کا بلکہ اصرار تھا کہ ”اپنی طبیعت کے عین مطابق“ لاہور سے آئے ”ضدی اور خود پرست“ وزیراعظم جرنیلوں میں سے کسی ”اپنے بندے“ کو اس عہدے پر تعینات کریں گے۔ ٹی وی سکرینوں پر مسلسل رونمائی اور جناتی انگریزی میں طویل مضامین لکھنے کی بدولت ”ماہرینِ امور دفاع“ اور ”فوج کی رگ رگ سے واقف“ مشہور ہوئے افراد کو مگر یقین تھا کہ جنرل کیانی نے بہت مہارت سے اپنے جرنیلوں کی Placing اس انداز میں کی ہے کہ نواز شریف کے پاس ان ہی کے نامزد کردہ جنرل کے علاوہ کسی اور جنرل کو آرمی چیف کے منصب پر فائز کرنے کا جواز، موقع یا بہانہ ہی نہیں مل پائے گا۔

جرنیلوں کی اس Placing کو انگریزی اخبارات میں چھپے کئی ”تجزیاتی مضامین“ کے ذریعے میرے اور آپ جیسے عامیوں کی سہولت کے لیے بیان کیا گیا۔ ایمان داری کی بات ہے کہ میں نے ان میں سے کوئی ایک مضمون بھی غور سے نہیں پڑھا۔ کئی برس قبل دریافت کر چکا ہوں کہ ریٹائرڈ فوجیوں کے ساتھ گالف کھیلنے اور ان کی محافل شبینہ میں مسلسل شرکت کسی "Bloody Civilee" کو دفاعی امور کا ماہر ہرگز نہیں بناتی۔

میری بدقسمتی مگر یہ بھی رہی کہ The Nation کا رپورٹر ہوتے ہوئے میں نے جون 1991ء میں یہ خبر دی تھی کہ جنرل اسلم بیگ کی اس سال اگست میں ریٹائرمنٹ سے کچھ ماہ قبل ان کا ”جانشین“ نامزد کردیا جائے گا۔ میں تواتر کے ساتھ یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگیا تو جنرل بیگ کے حامی بہت ناراض ہوئے۔ شکایات وغیرہ ہوئیں۔ نامعلوم افراد نے موٹر سائیکلوں پر میرا تعاقب شروع کردیا۔ میری حرکات وسکنات پر نگاہ رکھی جانے لگی۔ مجھے اپنی خبر کے درست ہونے کا مگر یقین تھا۔ مرحوم جنرل آصف نواز جنجوعہ کو اسلم بیگ صاحب کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل نیا آرمی چیف نامزد کرنے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ اس کے لیے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کو رضا مند کرنے کے لیے جو افراد ”قاصد“ کا کردار ادا کر رہے تھے، میں ان کی ”آنیوں جانیوں“ سے بخوبی واقف تھا۔ ایوانِ صدر تک میں نے خود بھی بطور رپورٹر سو جتن کے بعد کچھ رسائی حاصل کر لی تھی۔ جس روز اس فیصلے کی منظوری ہوئی، اُس دن وزیراعظم پارلیمان ہاؤس میں موجود تھے۔ انہیں منظوری کی اطلاع دینے اس وقت کے سیکرٹری دفاع سلیم جیلانی صاحب پارلیمان ہاﺅس آئے تھے، میں نے سیکرٹری دفاع کو وزیراعظم کے چیمبر سے نکلتے دیکھا تو ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑگیا۔ جیلانی صاحب میرے سسر کے ہم نام تھے اور دونوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ہاسٹل کے ایک کمرے میں کئی برس گزارے تھے۔ اس حوالے سے وہ میرا لحاظ بھی کرتے تھے۔ میں اصرار کرتا رہا کہ ان کی بغل میں جو فائل ہے، اس میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کی نامزدگی کا فیصلہ موجود ہے، وہ میری بیوی ساس اور سسر کا حال پوچھتے مجھے ٹالتے رہے۔ میں بیرونی دروازے تک اپنے سوال سمیت ان کے ہمراہ چلتا رہا۔ بالآخر ان کے ڈرائیور کو پکارا گیا۔ گاڑی پورچ میں آگئی۔ ان کے ڈرائیور نے پچھلی نشست کی بائیں طرف والا دروازہ کھولا تو گاڑی میں بیٹھنے سے قبل وہ صرف مسکرائے۔ ”خبریں ڈھونڈنے کے لیے تم کافی محنت کرتے ہو“ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہوگئے۔ میری خبر کی تصدیق ہوگئی۔ میں نے اسے فائل کر دیا اور دوسری صبح کا Exclusive بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومتِ وقت اور ملکی سیاست - شیخ خالد زاہد

جنرل مشرف اور جنرل کیانی کی تعیناتی کے بارے میں بھی قسمت نے یاوری کی، میں نے مگر یہی سمجھا کہ جیسے کچھ لوگوں کے ماتھے پر حرام لکھا ہوتا ہے، میری صورت میں ”خبر“ لکھ دی گئی ہے۔ ربّ کے اس کرم کو ہمیشہ اپنی محنت کا صلہ شمار کیا۔ پھنے خانی بگھارنے کی جسارت کبھی نہیں کی۔ ایک بات وقت نے البتہ سکھا دی ہے اور وہ یہ کہ آرمی چیف کسی کا بندہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک ادارے کا سربراہ اور اس کی اجتماعی سوچ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یہ معلوم کرنا کہ کسی آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیا زید یا بکر کون ہوگا، لہذا وقت کا ضیاع ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ محنت کی عادت بھی جاتی رہی۔ ربّ کریم نے خبروں کے حوالے سے مہربانی البتہ جاری رکھی۔

اکتوبر یا نومبر2016ء کے آخری یا پہلے ویک اینڈ پر میں اتفاق سے لاہور میں تھا۔ چند صحافی دوستوں سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ رائے ونڈ میں کوئی ”اہم“ اجلاس ہوا ہے۔ ماتھا ٹھنک گیا۔ ان سے رخصت ہونے کے بعد مذکورہ اجلاس کی سن گن لینے میں جت گیا۔ محنت کا پھل ملا اور اطلاع یہ ملی کہ ”اہم“ اجلاس میں جنرل کیانی کے جانشین کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ نام ان کا راحیل شریف ہے۔ ان کا نام آیا تو مجھے یاد آیا کہ جرنیلوں کی Placing کو بیان کرنے والے ماہرین نے تو انہیں "Medicore General" لکھا تھا۔ تاثر اس لفظ کے ذریعے یہ دیا گیا کہ ”پورا پنڈ مرجائے تو بھی....“

بہرحال، جن دنوں راحیل شریف صاحب کی تعیناتی سے قبل جنرلوں کی Placing کے تذکرے ہو رہے تھے تو جنرل طارق خان کا بھی بہت ذکر ہوا تھا۔ مشہور یہ بھی تھا کہ طالبان کے ساتھ تخت یا تختہ والا معرکہ برپا کرنے کو ہمہ وقت بےچین یہ جنرل صاحب اپنی Enlightened سوچ کی وجہ سے امریکہ بہادر کو بھی بہت پسند ہیں۔ دبنگ آدمی ہیں۔ نوازشریف انھیں آرمی چیف لگا دیں تو جنرل طارق طالبان کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ سیاسی امور میں دخل نہیں دیں گے۔ نوازشریف صاحب تک یہ ”خبر“ شاید پہنچ نہ پائی۔ ربّ کریم کا مگر لاکھ لاکھ شکر کہ انہوں نے راحیل شریف کے بجائے انہیں آرمی چیف بنا نہیں دیا۔ طارق خان صاحب ان دنوں اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی وجہ سے بہت رش لے رہے ہیں۔ Whatsapp گروپس میں بہت مقبول ہیں۔ اب ٹی وی سکرینوں پر بھی اپنے خیالات کو کھل کر بیان کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان کے حالات کے بارے میں یقیناً بہت متفکر ہیں۔ سیاست دانوں سے قطعاًََ مایوس ہیں۔ لہذا وطن عزیز کو سنوارنے کے لیے Out of Box آئیڈیاز سوچتے رہتے ہیں۔ ان کی سوچ کے مطابق عدلیہ اور پاک فوج ہی کو باہم مل کر نیا اور خوشحال پاکستان بنانا تھا۔ اپنے حالیہ انٹرویوز میں البتہ ریٹائرڈ جنرل طارق خان صاحب عدلیہ سے بھی مایوس دِکھنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ”40 گاڑیوں کے ہجوم“ کے ساتھ احتساب عدالت میں پیش ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہوئے نواز شریف عدلیہ کو ”بلیک میل“ کر رہے ہیں۔ اس ”بلیک میلنگ“ سے نجات کے لیے جنرل صاحب نے تجویز دی ہے کہ نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت احتساب بیورو کے بنائے کیسز فوری انصاف کے حصول کے لیے فوجی عدالت میں چلائے جائیں۔ فوجی عدالتیں، جنرل صاحب کے خیال میں، پارلیمان ہی نے قائم کی تھیں۔ پاک فوج نے ان کے قیام کا مطالبہ ہرگز نہیں کیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے احتساب کا معاملہ بھی ان عدالتوں کے سپرد کردیا جائے۔ جنرل طارق کے اس مطالبے کی Whatsappگروپس میں بہت پذیرائی ہو رہی ہے. انتظار ہو رہا ہے کہ عمران خان صاحب بھی اس مطالبے کو Own کر لیں۔ ایسا ہوگیا تو یہ ”عوام کا مطالبہ“ بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ویڈیو اور بیان حلفی آنے کے بعد کئی سوال سامنے آگئے

مجھ میں طارق خان صاحب کے مطالبے پر اعتراض کرنے کی ہمت ہے نہ حوصلہ جان کی امان پاتے ہوئے مگر جاننا صرف یہ چاہتا ہوں کہ فوجی عدالتیں احتساب والے مقدمات صرف نواز شریف کے خلاف ہی کیوں سنیں۔ جہانگیر ترین کے ”لیز“ پر لیے 21,000ایکڑوں کا فیصلہ بھی مثال کے طور پر ان ہی عدالتوں میں کیوں نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ بھی کہ عدلیہ نے نوازشریف کو وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اقامہ کی بنیاد پر نااہل کردیا تھا۔ پرویز مشرف صاحب کی عدالتوں میں پیشی کے دوران مگر ایک ”ہنگامی صورت حال“ پیدا ہوگئی تھی۔ راولپنڈی کے ہسپتال میں مقیم رہے اور بالآخر کمر کے درد نے انہیں بیرون ملک علاج کروانے پر مجبور کردیا، ان کے خلاف بنے مقدمات کا فیصلہ کب اور کس عدالت میں ہوگا؟