اے غُربت! تیرا شکریہ - امجد طفیل بھٹی

یوں تو ہر انسان کی خواہش بھی ہوتی ہے اور کوشش بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح امیر بن جائے لیکن بعض اوقات انسان اپنی غربت پر اس قدر خوش ہوتا ہے کہ اسے اپنی غربت پر ناز ہوتا ہے اور وہ امیر لوگوں کے مسائل، پریشانیاں اور غم دیکھ کر اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس امارت سے غربت لاکھ درجے بہتر ہے۔

ایسی امیری کا کیا فائدہ جس میں ذہنی سکون نہ ہو، انسان ڈر کے مارے آزاد ماحول میں نہ گھوم سکتا ہو اور نہ ہی باہر کھا پی سکتا ہو؟ اور ویسے بھی امیر لوگ پرہیزی کھانا کھاتے ہیں لیکن کیا فائدہ ایسے کھانے کا جب پرہیز کے باوجود بھی شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر بیماریاں پیچھا نہ چھوڑ رہی ہوں؟ جب پیسہ ہونے کے باوجود مسلسل علاج ہی چل رہا ہو اور وہ بھی ملک اور بیرون ملک کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں جبکہ اس کے برعکس غریب آدمی کو نہ تو کھانے کی پرہیز چاہیے اور نہ ہی کوئی اعلیٰ قسم کا صاف ستھرا ماحول چاہیے بلکہ اسے تو صرف دو وقت پیٹ بھرنا ہے، اُسے نہ تو علاج کے لیے کسی ہسپتال کی فکر ہے اور نہ کی کسی بڑے ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لینے کی۔ غریب کو نہ تو دولت اکھٹے کرنے کی فکر ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت کی فکر ہے، اُس کو نہ تو ٹیکس بچانے کے لیے بینک اکاؤنٹس چھپانے کا ڈر ہے اور نہ ہی باہر ملک دولت پکڑے جانے کا خوف۔ اسے یعنی غریب کو نہ تو 'نیب' کا ڈر ہے اور نہ ہی 'ایف بی آر' کا خوف، غریب کو نہ تو اپنے بچوں کو بیوروکریٹ بنانا ہے، نہ سرکاری افسر اور نہ ہی سیاستدان بنانا ہے اس لیے اسے کسی “ بڑے شخص “ کی خدمت گزاری کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کے آگے جھُکنے کی ضرورت ہے۔

امیر کو نہ جانے ہر وقت کسی انجانے خوف نے گھیرا ہوا ہوتا ہے، اسے ہر وقت لُٹنے کا ڈر ہے، اسے ہر وقت دولت چھن جانے کی فکر ہے، جبکہ اُسے اپنی اولاد اور گھر والوں کی قطعاً پروا نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ایسے امیر اور بڑے گھرانوں میں جہاں دولت کی فراوانی ہو اس گھر کے فرد ایک ہی چھت کے نیچے تنہائی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہے اور گھر سے باہر Social Activities کے لیے ڈھیروں ڈھیر وقت ہے۔

غربت میں میسر اوپر بیان کردہ سہولتوں کی قیمت اشرافیہ کے پاس جمع اربوں روپے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ غربت میں سکون اور اطمینان ہے اور دوسری طرف بے سکونی اور پریشانیاں ہیں۔

غریبوں کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ انہیں تو غربت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انہیں ہزاروں غموں اور پریشانیوں سے دور رکھا ہوا ہے اور بچایا ہوا ہے۔ کہتے ہیں ناں کہ “ صحت بڑی دولت ہے “ یہ بالکل حقیقت ہے کیونکہ صحت کی قدر اس سے پوچھیں جو کہ اس دولت سے محروم ہے۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ دنیا جہان کی ہر سہولت کے میسر ہوتے ہوئے بھی بیماریوں کا شکار ہیں اور یقینا اپنی دولت کو کوستے ہوں گے کہ یہ دولت ان کے کس کام کی؟

لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے لوگ شاید بہت زیادہ خوش نصیب بھی ہیں اور خوش بھی ہیں مگر دل ودماغ میں انجانا عدم تحفظ ہی ان لوگوں کے لیے اصل بد نصیبی ہے۔ بڑے بڑے محل نما گھروں میں تنہائی اور ہر وقت کی پراسرار خاموشی ذہنی سکون سے کوسوں دور کیے ہوئے ہوتی ہے۔ ہر مہینے لاکھوں کی آمدن مگر اخراجات پورے نہ ہونے کا گلہ زبان پر ہر وقت رہتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف غریب کو بسوں اور رکشوں کے دھکے بظاہر تو عذاب لگ رہے ہوتے ہیں مگر اپنے گھر اور اپنے بچوں سے ملنے کی تمنا ہر مشکل کو ختم کر دیتی ہے، چھوٹے سے گھر میں سب اکھٹے اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے اور وقت گزارتے ہیں، اسی دولت کی قیمت کوئی نہیں بھر سکتا، چند ہزار روپے ایک مہینے کی کمائی ہونے کے باوجود بھی اپنی خواہشات پوری کرنا ہی اصل امیری ہے۔ غربت کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں ظاہری بناوٹ کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ناک کٹنے کی فکر میں لاکھوں روپے فضول محفلوں میں اُڑانے کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے غریب کو غربت کا ہر وقت شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ طرح طرح کے شیطان دوست کاموں سے محفوظ ہے۔ غریب کو غربت کا شکریہ اس لیے بھی ادا کرنا چاہیے کہ اسے اپنی دولت بچانے اور چھپانے کے لیے جابجا جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی دوسرے لفظوں میں غربت کوئی بُری چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو باعث سکون اور باعث اطمینان ہے کہ جس کے ہونے سے بندہ بہت سی مصیبتوں، پریشانیوں اور نقصانات سے محفوظ رہتا ہے، کیونکہ ناجائز دولت اکھٹی کرنے والے اور دوسروں کا حق مار کر جھوٹی شان وشوکت حاصل کرنے والے کبھی بھی سکون کا سانس نہیں لے سکتے چاہے جتنے حج اور عمرے کر لیں، چاہے کتنی دیگوں اور کالے بکروں کے صدقے دے دیں، ایک خلش دل میں ہمیشہ رہے گی کہ کچھ نہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے ایک واقعہ ایک دوست نے سنایا تھا کہ ایک بار ایک شخص اس سے ملنے آیا اور کہا کہ یار یہ دولاکھ روپے رکھ لو اور اپنے بینک اکاؤنٹ سے دو لاکھ نکلوا کر مجھے دے دو تو دوست کے استسفار پر اس نے بتایا کہ دراصل میرے پاس حرام کی کمائی ہے اور میں نے حج پر جانا ہے اس لیے یہ مناسب نہیں کہ میں ان پیسوں سے حج کروں اس لیے آپ سے پیسے بدلنے کا سوچا۔ یہ واقعہ دراصل اپنے آپ کو دھوکا دینے اور قلبی سکون حاصل کرنے کی کوشش ہے مگر یہ کبھی ممکن نہیں ہے۔ جبکہ اس کے برعکس خوش نصیب ہے وہ غریب شخص جو ساری زندگی اس نیت سے گزارتا ہے کہ اللہ نے چاہا تو وہ بھی حج کی سعادت حاصل کرے گا۔ اگر گہرائی میں سوچا جائے تو امیر نے اور غریب نے تقریبا ایک جتنی ہی عمر جینی ہوتی ہے، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کتنی جائیداد کا مالک ہے کیونکہ قبر کی زمین امیر اور غریب کے فرق کو دیکھ کر کم یا زیادہ نہیں ہو جاتی بلکہ سب کے لیے ایک سی ہوتی ہے۔ اس لیے ہر انسان کو اپنے سے اوپر والوں کو نہیں بلکہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف ذہنی سکون میسر آئے گا بلکہ اللہ کا شکر بھی ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */