جلال آباد میں پاکستانی سفارتی اہلکار کا قتل - اصغر خان عسکری

افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں پاکستان کے سفارتی اہلکار نیئر اقبال رانا کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ نیئر اقبال 6 نومبر کو نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد گھر جارہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کو شہید کردیا۔

ننگرہار کا دارالحکومت جلال آباد پاک افغان سرحد یعنی طور خم سے تقریبا 70کلو میٹر دور ہے۔ سرحد کے اس پار یعنی پاکستان کے علاقے کو طورخم کہا جاتا ہے۔ اسی طر ح سرحد کے اس پار یعنی افغانستان کی حدود جہاں سے شروع ہوتی ہے، اس کا نام بھی طورخم ہے۔ مطلب طورخم دو ہیں، ایک پاکستان کا اور دوسرا افغانستان کا۔ ننگر ہار کی سرحد پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملتی ہے۔ جہاں طورخم کے مقام پر دونوں ملکوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت اور افراد کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور عام افراد کے داخلے کا سب سے بڑا مرکزی راستہ طورخم ہی ہے۔

افغانستان کی حدود میں'' شمشاد'' کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ ہے، جبکہ'' شمشاد'' کے بالکل سامنے خیبر ایجنسی کی ''تاترہ'' کی پہاڑیاں ہیں۔ یہ دونوں پہاڑ بالکل ایک دوسرے کے آمنے سامنے صدیوں سے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ شمشاد کے نیچے پاکستان کی حدود میں آخری گاؤں کا نام آول خان کلے ہے، جہاں سے کچھ فاصلے پر ایف سی کا قلعہ بھی موجود ہے۔ طورخم سے جلال آباد جانے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں سے جلال آباد یا کابل جانے کے لیے لگژری 2ڈی موٹرز سروس چلتی ہے۔ طورخم سے جلال آباد تک کا کرایہ تقریباً چار سو روپے ہے، جبکہ سوا گھنٹے بعدآپ جلال آباد میں ہوں گے۔ راستے میں سڑک کے کنارے دونوں طر ف زیتون کے درخت ہیں۔ 35 کلومیٹر کا سفر کر نے کے بعد صرف ایک سائن بورڈ ''بٹی کوٹ'' کے مقام پر لگا ہوا ہے جس پر جلال آباد کا فاصلہ 35 کلومیٹر لکھا ہوا ہے۔ بٹی کوٹ کے مقام پر سڑک کے دائیں طرف ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس کے سامنے سے ایک ندی گزر رہی ہے۔ زیادہ تر گاڑیاں یہاں کچھ دیر کے لیے رکتی ہیں۔

نیئر اقبال کی لاش کو بھی ایمبولینس میں پاکستان منتقل کی گئی، اس لیے کہ یہ مختصر راستہ ہے۔ ننگرہار میں زیادہ تر پشتون آباد ہیں۔ خدائی خدمت گار عبدالغفار خان المعروف باچا خان کا مقبرہ بھی جلال آباد میں ہے۔ بہرحال اس شہر میں پاکستانی سفارتی اہلکار نیئر اقبال کا قتل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں موجود تناؤ میں مزید اضا فے کا سبب ہوگا۔ اس لیے کہ گزشتہ مہینے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے نئے سرے سے کوششوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات کر کے ان کو اسلام آباد آنے پر آمادہ کیا تھا۔ عمان میں چار فریقی رابطہ گروپ کا اجلاس بھی ہوا تھا۔ اس اجلاس میں بھی افغانستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صلاح مشورے ہوئے تھے۔اس مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ چارفریقی رابطہ گروپ کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ اس کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے ساتھ ایک ساتھ ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی تھی۔ آرمی چیف کے دورہ کابل، ڈاکٹر اشرف غنی کی پاکستان ممکنہ آمد، چارفریقی مذاکرات کی بحالی اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی اسلام آباد آمد کے بعد امید ہو چلی تھی کہ ممکن ہے کہ واشنگٹن ، کابل اور اسلام آباد مل کر افغانستان میں مفاہمتی عمل کو دوبارہ سے آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جب بھی افغانستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے، اس کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو کوئی ایسا سانحہ رونما ہوتا ہے کہ جس سے پورا مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ مری میں جب افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور ہوا، تو اس کے چند دن بعد ملا عمر کے جاں بحق ہونے کی خبر لیک کی گئی جس سے مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہوا۔ اس کے بعد چار فریقی رابطہ گر وپ تشکیل دے دیا گیا۔ اس گر وپ کے کئی اجلاس کابل اور اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔ امید تھی کہ مفاہمتی عمل آخری مراحل میں ہے۔ اسی دوران بلوچستان میں ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور کونشانہ بنایا گیا، جس سے مذاکرات ختم ہوگئے۔ اب جب دوبارہ اس مفاہمتی عمل کی شروعات کی گئی تو پاکستان کے سفارتی اہلکار کو شہید کر دیا گیا۔

مفاہمتی عمل کے دوران تواتر کے ساتھ اس طرح کے واقعات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون ہے جو مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتا ہے؟ اس حوالے سے جب افغان امور پر عبور رکھنے والے دانشوروں سے بات ہوتی ہے، تو ان کا کہنا ہے کہ خود کابل کے حکمران اس مفاہمتی عمل میں روکاٹ ہیں۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ افغانستان کے حکمران کیوں مفاہمتی عمل کے خلاف ہیں؟ تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ افغانستان کے حکمرانوں کا ذاتی مفاد امن سے نہیں بلکہ جنگ سے وابستہ ہے، اس لیے وہ امن بات چیت کو کا میاب نہیں ہونے دیتے۔دوسرا یہ کہ افغانستان کے وار لارڈز کے مفادات بھی جنگ سے وابستہ ہیں، اس لیے وہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے ملک میں امن ہو۔

بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ افغانستان کے حکمران یہ سب کچھ ہندوستان کے کہنے پر کرتا ہے، اس لیے کہ بھارت اس خطے میں اپنی بالادستی چاہتا ہے جس میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب ہم سوال کرتے ہیں کہ ہندوستان کیوں ایسا کر رہا ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و جبر سے دنیا کی نظریں ہٹانے کے لیے وہ یہی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ جب امریکی کردار پر سوال اٹھا تے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ جب تک واشنگٹن کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں وہ کھیل ہی کھیلتے رہیں گے۔ جب ان کی مفادات ختم ہو جائیں گے تو وہ اپنا بوریا بستر گول کر کے چلے جائیں گے۔

لیکن امریکہ کیوں خطے کو آگ کی لپیٹ میں چھوڑ کر جائے گا؟ اس سوال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس عالمی گاؤں کا چوہدری ہے ان سے کوئی پوچھ نہیں سکتا، اس لیے جب ان کے من میں آجائے، وہ یہاں سے نہ صرف چلے جائیں گے، بلکہ اسلام آباد اور کابل پر دباؤ بھی بڑھائیں گے کہ آپس میں موجود تنازعات خود بیٹھ کر حل کریں۔ بہرکیف وجوہات جو بھی ہو، افغانستان کے حکمرانوں کو چاہیے کہ مفاہمتی عمل پر ذاتی مفادات کو تر جیح نہ دیں۔ امن بات چیت کے دوران رونما ہونے والے سانحات کا سدباب کریں تاکہ مذاکرات کا یہ عمل کا میابی سے ہمکنار ہو۔ پاکستان اس امن بات چیت کا ایک اہم فریق ہے اس لیے افغانستان کی ذمہ داری ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو اس نہج پر پہنچانے سے اجتناب کریں کہ جہاں سے پھر واپسی مشکل ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کل امریکہ اور ہندوستان دونوں کابل کو جواب دیں کہ اسلام آباد کے ساتھ بیٹھ کر اپنے مسائل باہمی مشاورت سے خودہی حل کرلیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */