آل سعود کے لیے بصیرت کی دعا - یاسر محمود آرائیں

کہتے ہیں کہ اقتدار ایسی چیز ہے جس میں بہت سی وجوہات کی بنا پر شراکت ممکن نہیں ہے اور اقتدار پر بلا شرکت غیرے گرفت مضبوط رکھنے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی اسی طرح کوئی بھی اقتدار منقسم طاقت میں پائیدار نہیں ہوسکتا۔ اقتدار اور طاقت کے حصول کی خاطر باپ اور بیٹوں کے درمیان اختلافات سے دنیا کی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ بہت سے ایسے واقعات ماضی کے اوراق پر بکھرے پڑے ہیں کہ سگی اولاد نے طاقت اور اقتدار کے حصول کے لیےاپنے باپ کو زہر دے کر یا مختلف طریقوں سے قتل کردیا اور ایسی بھی کئی مثالیں موجود ہیں کہ سازش کا بروقت علم ہونے یا سازش ناکام ہونے پر باپ نے اپنی اولاد کو برسوں کے لیے حوالہ زنداں کردیا یا پھر ان کی گردنیں ہی اتروادیں۔ مگر اس کے بعد بھی یہی دیکھا گیا وہ اقتدار جس کی خاطر اپنے خونی رشتوں کی جان تک لی گئی جلد ہی ہاتھ سے نکل گیا کیونکہ ہمیشہ سے حاسدین اپنے مفادات کے تحت باپ، بیٹوں اور بھائی بھائی کو آپس میں بھڑوا کر ان کی طاقت کمزور کرتے آئے ہیں تاکہ ان کو شکست دینے میں آسانی ہوسکے۔

اقتدار اور قوت کے حصول کی خاطر شاہی خاندانوں میں رسہ کشی اور محلّاتی سازشیں تقریباً تمام خطوں اور مذاہب کے ماننے والوں میں موجود رہی ہیں مگر مذہب اسلام کو ان سازشوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔

روز اوّل سے مسلم حکمرانوں اور شاہی خاندانوں میں جو بھی آپسی جنگیں اور لڑائیاں ہوئی ہیں اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جائے تو ان تمام کے پیچھے کسی نہ کسی سطح پر یہودیوں کا ہاتھ واضح نظر آتا ہے۔ یہودیوں کی مسلم دشمنی ہرگز ڈھکی چھپی نہیں ہے اور خلافت راشدہ میں جب مسلمانوں کی فتوحات چہار سو بڑھتی جارہی تھی اور ان کی عظمت کا ڈنکا بچ رہا تھا تو مسلمانوں کی اس عظمت کے پیچھے خلافت کی قوت یہود کے بالکل علم میں تھی اور وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ جب تک خلافت قائم ہے، اسلام کی طاقت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مگر چونکہ خلفائے راشدینؓ اقتدار کو آزمائش اور طاقت کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ان پر ایسا اثر تھا کہ ان کے دلوں میں کسی بھی دنیاوی شے کی بدولت رنجش پیدا کرنا کسی طور ممکن نہیں تھا۔

چنانچہ ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے داماد رسول حضرت علیؓ کی محبت کی آڑ لے کر خلافت کے خلاف سازش برپا کی اور پھر انہیں شہید کروا کر دم لیا۔ اس سانحے کی وجہ سے اسلام سے پیشتر زمانہ جاہلیت کی بنی امیہ اور بنی ہاشم کی آپس کی رنجش ایک بار پھر زندہ ہوگئی اور اسی رنجش کے نتیجے میں بعد ازاں صحابی رسول حضرت امیر معاویہؓ کے بیٹے یزید کی حکومت میں نواسہ رسول صل اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ ہوا اور اس شہادت کے بعد خلافت مکمل طور پر ختم ہوکر ملوکیت کا آغاز ہوگیا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر کبائر صحابہ کا کہا قول پورا ہوگیا کہ ایک بار خلافت ختم ہوگئی تو دوبارہ کبھی مسلمانوں کا ایک ساتھ نماز تک پڑھنا ممکن نا رہے گا۔

پھر ہوا بھی وہی جس کا ڈر تھا۔ جوتیوں میں دال بٹنا شروع ہوگئی۔ شورائیت کی جگہ خوشامد، نفسانیت اور شہوانیت در آئی۔ بائیس لاکھ مربع میل کی ریاست ٹکڑوں میں منقسم ہونا شروع ہوگئی۔ معدودے چند کو چھوڑ کر نااہل، کمینے اور لالچی لوگ سروں پر مسلط ہونا شروع ہوگئے۔ جن کو عورت اور شراب کے عوض بھی آپس میں لڑوادیا گیا۔ آپسی قتل وغارت کے عوض امت کا وہ حال ہوا کہ الامان والحفیظ!

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

دنیا اس کے بعد کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟ باہمی مفادات کی بدولت یہود اور نصاریٰ آپسی اختلافات کے باوجود یک جان دو قالب بن کر جینا شروع ہوگئے اور ایک دوسرے کی قیادت پر راضی بہ رضا ہوگئے مگر ہمارے حکمران ایک اللہ کو ماننے والے، ایک نبی کے امّتی اور ایک کتاب کو پڑھنے والے اپنے خاندان کو طاقت اور اختیار میں شریک کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوئے۔

گزشتہ دنوں سعودی عرب میں کرپشن کے الزام پر ہونے والی گرفتاریوں کے پیچھے بھی وہی یہودی ہاتھ ہے اور اس کے پیش نظر بھی مسلمانوں کو لڑوا کر مزید تقسیم اور کمزور کرنے کا مقصد کار فرما ہے۔ کون کہتا ہے کہ مملکت سعودی عرب میں شہزادوں کو چوری، بے ایمانی اور کرپشن پر حوالہ زنداں کیا گیا ہے۔ اس الزام پر کیونکر عقل ایمان لائے؟ آخر راتوں رات ایسی کیا افتاد ٹوٹ پڑی تھی یا اچانک ایسی کون سی شاہی تجوری میں نقب لگ گئی کہ دن چڑھنے تک کا انتظار ممکن نہ رہا تھا اور ویسے بھی اگر الزام کو درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو پھر بھی جو کچھ ہوا اس کی ہرگز کوئی تک نہ بنتی تھی۔ کرپشن کیا اتنا سنگین جرم ہے کہ بغیر کسی صفائی کا موقع دیے کسی کو اچانک بے دست وپا کرکے قید تنہائی کی سزا دے دی جائے؟

یہ سب کسی کے اشاروں پر کی جانے والی کارروائی ہے، جس کا مفاد اور مقصد کچھ اور ہے مگر مطالبہ پورا کروانے کے لیے ہمیشہ کی طرح یہی پٹی پڑھائی گئی کہ یہ افراد تمہاری حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں لہٰذا اگر اقتدار کو دوام چاہتے ہو تو فی الفور ان کی بیخ کنی لازم ہے اور یہ اسی کی کارستانی ہے جو ازل سے اسلام کا دشمن چلا آرہا ہے اور اسے مزید کمزور کرنے کے لیے عربوں کو عجمیوں(ایرانیوں)سے بلکہ اب تو عربوں کو عربوں (سعودی عرب اور قطر)سے لڑانے کی کوشش تیز کرتا جارہا ہے۔

مسلمانوں کے نااہل اور خود غرض حکمران جو ایک دوسرے کی ہر حرکت کو سازش تصور کرتے ہیں انہیں یہ سازش کیوں نظر نہیں آتی کہ وہ یہود اور نصاریٰ جن کے اکسانے پر وہ آپس میں دست وگریبان ہونے کو تیار ہیں وہ ایک دن سعودی عرب کو ایران اور قطر کا ڈراوا دے کر 150 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرتے ہیں اور قطر کے بائیکاٹ پر اکساتے ہیں جبکہ دوسرے ہی روز قطر کو بھی 13 ارب ڈالر کے جنگی طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ کرتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے گا کہ آج تم جس ایران کی فوجی قوت کا ڈراوا دے کر روس کی جانب بڑھتے سعودی عرب کو ایک بار پھر اپنی مدد کا یقین دلا کر اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہو، اس کو ایٹمی معاہدے کی بدولت طاقت بڑھانے کا موقع ہی کیوں فراہم کیا تھا؟ اس وقت تم نے عربوں کے مفادات کا کیا خیال کیا یا ان کے احتجاج کو کیا اہمیت دی؟

حال ہی میں کرپشن کے الزام پر عتاب کا شکار ہونے والے سعودی شہزادے ولید بن طلال کی ٹرمپ کی الیکشن کمپین کے دوران ان سے ٹوئٹر پر جھڑپ بہت سے ذہنوں میں تازہ ہوگی۔ ان کے خلاف کارروائی پر اکسا کر ٹرمپ ایک تو ان سے اپنا حساب بیباک کرنا چاہتے ہیں دوسرا اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے دہانے پر کھڑے ہوئے سعودی عرب کو اندرونی طور پر بھی غیر مستحکم کروانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سعودی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ایران خطے کے عرب ممالک میں مسلسل سعودی مفادات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ یمن کی شورش میں ملوث حوثی باغیوں کو کھلم کھلا اسلحہ اور فوجی امداد مہیا کررہا ہے۔ گزشتہ روز یمن سے سعودی دارلحکومت پر میزائل داغا گیا جس کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اس کے جواب میں یمن کی ناکہ بندی کردی ہے اور مسلسل دونوں جانب سے بڑھتے اشتعال انگیز بیانات کے بعد یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ کسی بھی وقت دونوں ممالک میں تصادم ہوسکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ سعودی عرب کے خطے میں اور بھی کچھ ممالک کے ساتھ زیادہ خوشگوار تعلقات نہیں ہیں۔ قطر سے بھی اس کے تعلقات نہایت خراب ہیں۔ شام ان دنوں خانہ جنگی میں مصروف ہے۔ لبنان میں بھی ایران اپنے قدم مضبوط کرچکا ہے جس کا اندازہ سعودی حمایت یافتہ وزیراعظم سعدالحریری کے استعفے سے ہورہا ہے۔ دوسری جانب خطے کے ایک اور طاقت ور ملک ترکی کی جانب سے بھی کسی محاذ آرائی کی صورت میں سعودی عرب کی امداد کی امید بہت کم نظر آرہی ہے کیونکہ سعودی قطر تنازع میں ترکی نے اپنی تمام تر حمایت کا وزن قطری پلڑے میں ڈال دیا تھا۔

ایسے نازک موقع پر سعودی حکمرانوں کو سازش سمجھنی چاہیے اور مرحوم شاہ فیصل کی شہادت کو ذہن میں رکھنا چاہیے جو خود بھی ایک بغاوت کی بدولت اقتدار میں آئے تھے۔ بعدازاں ان کو اسی امریکہ
نے، جس سے ان کے کبھی خوشگوار تعلقات تھے، سگے بھتیجے کے ہاتھوں شہید کروایا تھا۔ ان کا واحد جرم یہ تھا کہ انہوں نے بکھری ہوئی امت کو ایک بار پھر متحد کرنے کی کوشش کی تھی اور تاریخ میں پہلی بار اپنی طاقت کو سمجھتے ہوئے تیل کو بطور ہتھیار مغرب کے خلاف استعمال کیا تھا لہٰذا ان کو شہید کروا کر راستے سے ہٹادیا گیا تھا۔

اب جب کہ مملکت سعودی عرب چاروں اطراف مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ اس نازک موقع پر اس طرح کی محلّاتی سازشیں اگر یونہی چلتی رہیں تو خدانخواستہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے کسی بڑے سانحے کا خدشہ ہے اور اللہ نہ کرے کہ اس مقدس سرزمین اور آل سعود پر کوئی بھی آزمائش آئے۔ سعودی حکمرانوں کی بہت سی پالیسیز سے اختلاف ہوسکتا مگر مسلمانوں کے روحانی مراکز کا جس طرح سے موجودہ سعودی حکومت نے انتظام و انصرام سنبھالا ہوا ہے اور حج جیسے عظیم اجتماع پر جس قسم کے انتظام کیے جاتے ہیں اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی ماننے کی ہے کہ آل سعود کو اللہ پاک نے بے پناہ دولت کے ساتھ بڑے دل سے بھی نوازا ہے آج تک دنیا کی کسی بھی کونے میں کسی بھی مسلم ملک پر کبھی بھی کوئی آفت آئی ہو ہمیشہ سب سے پہلے سعودی عرب کی جانب سے ہی امداد پہنچتی ہے اور آل سعود کی حکومت کے لیے کوئی بھی نقصان یا کسی بھی قسم کا خطرہ امت مسلمہ کے بالکل بھی مفاد میں نہ ہوگا۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ آل سعود کو بڑی بصیرت بھی اور کفار کی چالوں کو سمجھنے کی اہلیت بھی عطا فرمائے۔