خیبر پختونخوا ایک لیبارٹری ہے - اے وسیم خٹک

جب سے ہوش سنبھالا ہے، تب سے اپنے صوبے جس کا پہلے نام صوبہ سرحد تھا، پھر عوامی نیشنل پارٹی کی وجہ سے یہ خیبر پختونخوا کہلانا شروع ہوا، جس سے ہونا تو چاہیے تھا کہ اس کی قسمت بھی بدل جاتی، مگر نام میں کیا رکھا ہے، صوبہ سرحد ہو یاشمالی مغربی صوبہ یاپھر خیبرپختونخوا، علاقے میں کام سے مقصد ہونا چاہیے. مگر یہاں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا. پشاور جو خیبر پختونخوا کا ہیڈ کوارٹر ہے، اس میں کسی بھی حکومت میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے. گیلانی آیا تو کوہاٹ کی قسمت بدلی، درانی آیا تو بنوں کی قسمت جاگ گئی، ہوتی آیا تو مردان میں روشنی ہوگئی، اور پھر خٹک آیا تو نوشہرہ کے نصیب جاگ گئے، مگر پشاور ہمیشہ نظرانداز ہوا. جو عرصہ داراز سے ایک تجربہ گاہ بنا ہوا ہے، بلکہ پوا صوبہ تجربہ گاہ ہے. جہاں پر تجربات ہوتے ہیں. روس سے مقابلہ امریکی مفادات کے لیے ہوا تو اثر اس صوبے پر پڑا. افغانیوں کی ایک فوج ظفر موج ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی جس میں اس صوبے کا حصہ زیادہ آیا، جس سے معیشت کا ستیاناس ہوا اور ساتھ میں کلاشنکوف کلچر بھی پروان چڑھا. بےترتیبی کی فضا بنی تو جرائم کی شر ح بھی بڑھ گئی. صوبے میں اپنوں کے لیے جگہ کم پڑ گئی کیونکہ افغانی مہنگے داموں جگہیں لے لیتے تھے. گیلم جم کی وجہ سے بےحیائی پشاور کے حیات آباد تک پھیل گئی.

امریکہ میں ٹوئن ٹاورز نشانہ بنے تو افغانستان پر پھر حملے کی زد میں آیا اور اس کا اثر پشاور پر براہ راست ہو. پھر ڈمہ ڈولا پر حملے کے ساتھ ایک نئے تجربے کی ابتدا ہوتی ہے، لال مسجد پر حملے کا اثر بھی پشاور پر ہوتا ہے اور یوں ایک نہ تھمنے والی جنگ شروع ہوجاتی ہے. فاٹا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے. تحریک طالبان اسی صوبے میں پیدا ہوتی ہے، اسے ان سنگلاخ پہاڑوں میں آپریشنوں سے نیست ونابود کرنے کے لیے کوشیشیں کی جاتی ہیں. آئی ڈی پیز سوات سے صوبہ بھر میں پھیل جاتے ہیں. ڈرون حملے، دھماکوں پر دھماکے، کبھی کوہاٹ، کبھی مردان، کبھی صوابی، کبھی کرک، کبھی چارسدہ، کبھی پشاور زد میں آتے ہیں. عوام، پولیس اور فوج کے جوانوں کی جانیں قربان ہوتی ہیں. اورکزئی، مہمند، وزیرستان اور سوات میں عام لوگ نشانہ بنتے، دربدر ہوتے ہیں. وزیرستان سمیت کچھ علاقوں کے آئی ڈی پیز ابھی تک اپنےگھروں سے دور ہیں.

شکیل آفریدی کے ذریعے اسامہ کو تلاش کیا جاتا ہے، اور ایبٹ آباد آپریشن کرکے اسے ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو بھی نشانہ خیبرپختونخوا ہوتا ہے. پھر سلالہ آپریشن بھی اسی صوبے کی قسمت میں آتا ہے. سیاست دانوں کو اسی صوبے میں ٹارگٹ کیا جاتا ہے، آرمی پبلک سکول کا سانحہ بھی پشاور میں ہوا، اور اس نے ملک کی تاریخ میں ایک بدنما داغ کی صورت اختیار کر لی.

تحریک انصاف کی حکومت سے تبدیلی کی امید تھی مگر حالات اس کے باوجود بدلے. کرپشن کے خاتمے کا راگ الاپنے والے خود کرپشن میں ملوث ہوئے، مگر پارٹی چئیرمین نے اس پر خاموشی اختیار کر لی. اسی صوبے کی خاتون کے ساتھ عمران خان کی شادی، پھر طلاق کا واقعہ ہوتا ہے. اسی صوبے کی ایک دختر عائشہ گلاَلئی عمران خان پر گندے پیغامات بھیجنے کا الزام لگاتی ہے یہی وہ صوبہ ہے جہاں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسمنٹ کے کیسز میدان میں آکر میڈیا پر چھا جاتے ہیں، حالانکہ اس سے بڑے بڑے واقعات ملک کے دیگر حصوں میں رونما ہوتے ہیں. یہی وہ صوبہ ہے جہان قانون کے ہوتے ہوئے خاتون کو برہنہ گھمایا جاتا ہے اور قانون ٹس سے مس نہیں ہوتا. لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ڈاکٹر ہراساں ہوتی ہے تو ایچ ایم سی میں جعلی ڈاکٹر شہ سرخیوں میں ہوتا ہے. یہ صوبہ خیبر پختونخوا نہیں بلکہ صوبہ تجربہ گاہ ہے جہاں تجربات کیے جاتے ہیں.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com