نوعمر بچے بات کیوں نہیں سنتے؟ حنا تحسین طالب

ایک سوال جو اکثر والدین کرتے ہیں کہ نوعمر بچے بات کیوں نہیں سنتے؟
اس کی کئی وجوہات ہیں. سب سے پہلے اپنی بات منوانے پر زور دینے کے بجائے والدین کو وہ بنیادی وجہ تلاش کرنی چاہیے جس کی وجہ سے بچہ باغی ہو رہا ہے.

ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ مضبوط اور خوبصورت تعلق تب ہی قائم ہوتا ہے، جب دوسرے کی بات سمجھنے کی اتنی ہی کوشش کی جائے، جتنی کہ اپنی بات سمجھانے کی کی جاتی ہے، لہذا بچوں کی بات بھی سمجھنے کی کوشش کیجیے.

1- اگر بچے کی بات بچپن میں نظرانداز کی گئی ہو، اس کی ضروریات کو پورا نہ کیا گیا ہو تو ایسے بچے بلوغت کو پہنچتے ہی وہی لوٹانے لگتے ہیں جو انھیں ملا، کیونکہ بچے اپنے ماحول اور خصوصا والدین سے سیکھتے ہیں، لہذا ابتدائی عمر سے ہی بچے کے ساتھ قریبی تعلق رکھیے، اس سے بات کیجیے، اس کی باتوں کو توجہ سے سنیے. کسی بھی تعلق میں فاصلہ جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی کسی دوسرے کو درمیان میں جگہ بنانے کا موقع ملے گا. پھر آپ کا اپنے بزرگوں کے ساتھ جیسا رویہ ہوگا بچے بھی ویسا ہی رویہ آپ کا ساتھ اپنائیں گے. یہاں والدین کو بچوں کی تربیت کے ساتھ اپنی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے.

2- لڑکپن عمر کا سب سے نازک دور ہے. اس عمر میں بچے زیادہ حساس اور جذباتی ہوجاتے ہیں. جسم میں کئی تبدیلیوں کے باعث جذباتی اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے. کبھی شدید غم و غصہ، کبھی شدید خوشی، کبھی بہت زیادہ توانائی محسوس ہوتی ہے. جہاں اس عمر میں بچوں کی جذباتی اور نفسیاتی الجھنیں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں، وہیں والدین اس عمر میں بچوں پر زیادہ سختی کرنے لگتے ہیں. ان کے مطابق بچہ اب بڑا ہوگیا ہوتا ہے، اور اسے کئی ذمہ داریاں اٹھانی چاہییں. جبکہ بچے کی تربیت انھوں نے اس کے مطابق کی نہیں ہوتی، لہذا جب بچہ توقعات پر پورا نہیں اترتا تو والدین ڈانٹ ڈپٹ، نالائقی کے طعنے، انھیں جج کرنے، ان کی صلاحیتوں کو رد کرنے اور دوسرے بچوں کے ساتھ ان کا موازنہ کرنے لگتے ہیں. نتیجتا بچہ جذباتی طور پر فیملی سے دور ہوتا جاتا ہے. جس طرح کی تربیت کی ہے، اسی کے مطابق بچے سے توقعات رکھیں، زیادہ نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کو کائنات سے جوڑیں - راحیلہ چوہدری

کبھی غور کیا ہے کہ اس عمر کے بچے فیملی کے بجائے دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت کیوں گزارنا چاہتے ہیں؟ انھیں ہی اپنے راز کیوں بتاتے ہیں؟ کیونکہ دوست انھیں جج نہیں کرتے. نہ ہی ان کے جذبات اور الجھنوں کا مذاق اڑاتے ہیں، بلکہ توجہ سے ہر بات کو سنتے اور اہمیت دیتے ہیں. لہذا والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ ایک شفیق دوست جیسا رویہ اختیار کریں (تاہم زیادہ ہنسی مذاق سے گریز کریں کہ اس سے رعب ختم ہو جاتا ہے). مسئلہ کتنا ہی غیراہم کیوں نہ ہو، مذاق اڑانے سے گریز کریں ورنہ بچہ کبھی نزدیک نہیں آئے گا.
بجائے اس کے کہ بچے سے توقع کریں کہ بچہ ہماری شعوری سطح پر آکر بات کو سمجھے، خود بچے کی سطح پر جاکر معاملہ کریں.

اس کی غلطی پر بولیں کہ "اٹس اوکے، مجھ سے بھی کئی غلطیاں ہوئیں تب کہیں جاکر میں تجربہ کار ہوئی/ ہوا. بس ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے، آپ نے اپنی غلطی سے کیا سیکھا؟"
بچوں کو ہمیشہ یہ اعتماد دیجیے کہ غلطی کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، آپ ہمیشہ سچ سننے کے لیے اور مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ اپنے احساسات، کسی غیر کے بجائے آپ کے ساتھ شیئر کریں. اس کا طریقہ یہ ہے کہ سچ سامنے آنے پر، زیادہ منفی ردعمل کا مظاہرہ مت کریں. نہ ہی یہ احساس دلائیں کہ تم نے دنیا سے انوکھا کام کیا ہے. نہ ہی خود کو بہت بلند اور انھیں کمتر محسوس کروائیں. انھیں صرف یہ احساس دلائیں کہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں اور انھیں سدھارنے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں. یہ جو "ساتھ" کا احساس ہوتا ہے نا، یہ بڑے بڑے مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتا ہے.

یاد رکھیے نرمی ہر حال میں فائدہ دیتی ہے. نازک ڈوریں جب الجھ جائیں تو انھیں نرمی سے سلجھایا جاتا ہے، سختی انھیں مزید الجھا دیتی ہے یا توڑ دیتی ہے. نوعمر بچوں کے ساتھ ہمیشہ حسن اخلاق، حکمت اور صبر کے ساتھ معاملہ کریں. نتیجتا وہ آپ کی بات سنیں گے بھی اور مانیں گے بھی.

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی تربیت کے لیے خود کو بدلیں - نمرہ فرقان

3- گھر کا ماحول ایسا بنائیں کہ بچہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرسکے. سوال کرسکے تاکہ اسے گھر سے باہر بھی اپنے اور دوسروں کے حق کے لیے مثبت انداز میں بات کرنی آسکے. بچوں کو بڑوں کا ادب کرنا سکھائیں تاہم ساتھ یہ بھی سکھائیں کہ کسی بھی بڑے کی غلط بات نہیں ماننی. انھیں ادب و اخلاق کے ساتھ انکار کرنا سکھائیں اور اس کی عادت انھیں گھر سے ہی پڑے گی، جب وہ والدین کے کسی غلط مطالبے پر جائز سوال اٹھائیں گے یا نرمی سے انکار کریں گے، لہذا ان کے "بات نہ ماننے" پر غصہ کرنے کے بجائے، ان سے نرمی سے وجہ دریافت کریں. اگر بچہ باشعور ہے تو وہ غلط بات نہیں مانے گا اور ماننی بھی نہیں چاہیے کیونکہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں.

4- والدین کے باہمی اختلافات اور ان میں بچوں کو شامل کرنے سے بھی، بچوں میں سرکشی پروان چڑھتی ہے، لہذا بچوں کو اپنے اختلافات سے دور رکھیں اور ان کی تربیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں.

5- والدین اعلی اخلاق و کردار کے حامل ہوں تو بچے انھیں پسند کرتے اور ان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں.

6- ہمیشہ موقع و محل دیکھ کر بات کریں. اس وقت بات کرنے سے گریز کریں، جس وقت بچہ اسی کام میں مشغول ہو، جس سے آپ روکنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ بات نہیں سنے گا الا یہ کہ اسی وقت روکنا انتہائی ضروری ہو. بعد میں مناسب وقت دیکھ کر "تنہائی" میں بات کریں، وہ بھی اس طرح کہ اس کی انا کو ٹھیس نہ پہنچے. اگر عزت نفس کا خیال رکھا جائے تو بچے بات سنتے بھی ہیں اور مانتے بھی ہیں. یاد رکھیں ابتدا سے ہی جن بچوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے، وہ زیادہ فرمانبردار ہوتے ہیں.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.