تمارے پاس یہ دولت کہاں سے آئی؟ - عطا محمد تبسم

گزشتہ دو تین دن میں سعودی عرب کے صحرا میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف جو صحرائی بگولے اٹھ رہے ہیں، اس پر ہرطرف واہ واہ اور آہ آہ کا شور ہے۔سعودی اخبار"عکاظ" نے اس بارے میں اپنے پہلے صفحے پر شاہ سلمان کی تصویر کے ساتھ شہ سرخی لگائی ہے کہ سلمان کے عہد میں بدعنوانی کی جرات کون کرے گا؟ ‘‘ولی عہد کے زیر صدارت انسداد بدعنوانی اعلیٰ کمیشن کی تشکیل، شہزادے ، وزراء، سابق اور موجودہ عہدیدار عدالت کے کٹہرے میں۔ بدعنوانی کے مسائل سے تعلق رکھنے والے اداروں، افراد ، جرائم اور خلاف ورزیوں کا احاطہ، بدعنوانوں کی گرفتاری،سفر پر پابندی، کھاتوں کا پتہ لگانے اور انہیں منجمد کرنے اور تحقیقات کے احکام۔

المدینہ اخبار نے بھی انسداد بدعنوانی مہم کی خبر کی سرخیاں میں کہا ہے کہ "شاہ سلمان بدعنوانی کی بیخ کنی اور سرکاری املاک پر ہاتھ صاف کرنے والوں کا احتساب جاری رکھے ہوئے ہیں" ۔ کہا جارہا کہ سعودی قیادت نے 2فیصلے ایک ساتھ کیے ہیں۔ پہلا فیصلہ یہ کہ لوٹی ہوئی قومی دولت سرکاری خزانے میں واپس کرائی جائے گی۔ دوسرا فیصلہ یہ کہ بدعنوانوں اور بدعنوانی پھیلانے والوں کو بیک وقت سزا دی جائے گی۔ اس حوالے سے ولی عہد کا ایک ٹی وی انٹرویو کا یہ جملہ بھی زباں زد عام ہے کہ ’’بدعنوانی میں ملوث کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہے گا۔ وہ وزیر ہو یا شہزادہ ہو جس کے خلاف بھی بدعنوانی کے شواہد ملیں گے اس کا احتساب ہوگا۔

’’تمہارے پاس یہ دولت کہاں سے آئی؟‘‘ یہ سوال اب ہر سطح پر کیا جائے گا۔ سعودی حکمرانوں سے ہماری محبت سر آنکھوں پر کہ وہ حرم کے پاسباں ہیں لیکن جب میں گرفتار ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال بن عبدالعزیز کے اس طیارے کا سوچتا ہوں، جسے انھوں نے اپنے نجی استعمال کے لیے خریدا تھا اور جسے وہ اپنی ابتلاء کے دنوں میں یاد کرتے ہوں گے۔وہ دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ہے۔ شہزادہ الولید اے 380 طیارہ خریدنے والے وہ پہلے شخص ہیں۔اس سے پہلے ان کے پاس بوئنگ کا سب سے مہنگا 747-400 جمبو طیارہ بھی موجود تھا۔ اے 380 میں بیک وقت آٹھ سو مسافر بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے ’فلائنگ پیلس‘ یا ہوائی محل کا نام دیا گیا ہے۔ اس دو منزلہ طیارے میں پانچ سو اکیاون مربع میٹر قابل استعمال جگہ ہے، یعنی اگر آپ کو ٹینس کا شوق ہے تو اس میں ٹینس کے دو کورٹ آرام سے بنائے جاسکتے ہیں۔اس طیارہ کے سادے ماڈل کی قیمت تین سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے یعنی تقریباً اٹھارہ سو کروڑ پاکستانی روپے لیکن جو ماڈل سعودی شہزادے نے خرید تھا اس کی قیمت خرید بتائی نہیں گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

کہا جارہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدعنوانوں کے خلاف فیصلہ کن مہم کی بذات خود سرپرستی کی۔ انہوں نے اس عزم کے ساتھ مہم کا آغاز کیا کہ دین، روایت ، شریعت، اخلاق کوئی بھی بدعنوانوں کے ساتھ نہیں ہے۔جس کی گواہی علماء سے فتویٰ لے کر دی گئی ہے۔لیکن سوال تو سعودی فرما روا کی ذات گرامی پر بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کی عنایات خسروانہ ( اب اسے سعودیانہ کہا جانا چاہیے) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کی تاریخ میں سب سے مہنگے تحائف پیش کیے۔ٹرمپ کو شاہ سلمان کی طرف سے پیش کیے جانے والے تحائف انتہائی قیمتی اور نایاب ہیرا، خالص سونے سے تیار کردہ گن جس پر شاہ سلمان کی تصویر نقش تھی، 25 کلوگرام وزنی خالص سونے سے تیار کردہ تلوار جس پر ہیرے اور دیگر نادر قسم کے پتھر اور جواہر نصب ہیں اور اس تلوار کی قیمت 200 ملین ڈالر ہے، سونا اور ہیروں سے تیار 25 گھڑیاں، ٹرمپ اور اس کے گھر والوں کے لیے جن کی کل قیمت 200 ملین ڈالر ہے، ہیرے اور جواہرات سے سجے 150 سے زائد عبابہ، سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع سب بڑی شاہراہ کو ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کرنا، اور اس شاہراہ کے شروع میں ٹرمپ کی شکل کے ایک مجسمے کی تنصیب جو، امریکہ میں واقع مشہور ’’مجسمہ آزادی‘‘ کا ایک چھوٹا سا ہم شکل مجسمہ ہوگا جسے سونے، ہیرے اور جواہرات سے تیار کیاگیا ہے۔ اس مجسمے کوایک خاص سعودی طیارے کے ذریعے وائٹ ہاوس منتقل کیا جائے گا، 800 ملین ڈالر کی قیمتی یاچ (کشتی) جس کی لمبائی 125 میٹر، جو دنیا کی سب سے لمبی ذاتی یاچ ہے، جس میں 80 کمرے اور 20 شاہی کمرے موجود ہیں اور ان کمروں کے بیشتر اجزاء سونے سے تیار کردہ ہیں۔ اس کشتی کو امریکی بحریہ کے ذریعے امریکہ روانہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتا ہے؟

یہ بھی امر واقعہ ہے کہ شاہ سلمان نے مراکش کے شہر طنجہ میں اپنے ایک بیٹے کی شادی میں 3 ارب ڈالرز کی رقم خرچ کرکے اپنا ایک ریکارڈ بنایا ہے۔ اس پنتالیس روزہ سفر کی داستانیں مشہور و مقبول ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی خاندان کے سفر کی وجہ سے مراکش کی تمام رقاصائیں شہر طنجہ میں جمع ہوگئی تھیں، کیونکہ ان کی ایک رات کی کمائی مراکش کی نرسوں کی ایک سال کی کمائی سے زیادہ تھی۔ سعودی عرب کے فرمان روا شاہ سلمان کا دورہ ماسکو بھی ایک داستان شوق ہے۔ کسی سعودی حکمران کا یہ پہلا دورہ روس تھا۔ ان کے وفد میں 1500افراد شامل تھے جن دو ہوٹلوں میں انہوں نے قیام کیا ان دونوں ہوٹلوں کوخالی کروا لیا گیا تھا۔ ہوٹل اسٹاف کی جگہ ذاتی شاہی خادمین نے لے لی تھی۔81 سالہ سعودی حکمران کے شان و شوکت کی کئی کہانیاں عالمی میڈیا میں موجود ہیں۔ لوگوں نے ماسکو ایئرپورٹ پر طیاروں کے آنے جانے کے تمام مناظر دیکھے ہیں۔ یہ طیارے جو وفد کے شاہی افرادکے لیے کبھی پانی لاتے تھے تو کبھی خوراک، کبھی لباس تو کبھی خوشبو۔ شاہ سلمان جب جہاز سے اترتے ہیں تو ان کے لیے سنہری سیڑھی لگائی جاتی ہے۔ شاہ سلمان جب روس آئے تو ان کی آمد سے پہلے ان کے لیے قالین پہنچا دیے گئے۔ ان کے استعمال کافرنیچر بھی ایک جہازمیں لاد کر ماسکولے جایا گیا۔ شاہ سلمان نے انڈونیشیا کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت بھی ایک ہزار افراد وفد میں شامل تھے۔ جکارتہ پہنچنے کے لیے سعودی شاہی وفد نے 27 طیارے استعمال کیے۔ شان و شوکت اور جاہ و جلال کا اظہار کرنے والے ، یہود ونصاریٰ سے تعلقات بڑھانے والے، ملکی اور قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے والے ،حکمران چاہے سعودی ہوں یا پاکستانی ،جب یہ کہتے ہیں کہبدعنوانی میں ملوث کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہے گا۔ وہ وزیر ہو یا شہزادہ ہو جس کے خلاف بھی بدعنوانی کے شواہد ملیں گے اس کا احتساب ہوگا اور سوال ہوگا کہ ’تمہارے پاس یہ دولت کہاں سے آئی؟‘‘ تو بے ساختہ مجھے ہنسی آتی ہے۔