اسموگ اور سوگ - اسماعیل احمد

وہ زمانہ پرانا ہوا جب چاند صرف بدلی کی اوٹ میں چھپا کرتا تھا۔ اب بچوں کے" چندا ماموں "زہریلی گیسوں اور مٹی کے ذرات کے مجموعے "اسموگ" کی اوٹ میں نظر آتے ہیں۔ انسان کی ماحولیاتی بداحتیاطیوں نے مظاہر فطرت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سردیوں والی دھند کا آغاز نہیں ہوا مگر پھر بھی سورج پھیکی پھیکی دھوپ پھینک رہا ہے۔

انسان فطرتًا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنے کا عادی ہے۔انسانی معاشرہ کا آغاز اس وقت ہوا جب حضرت انسان کو زمین پر اتارا گیا۔ رفتہ رفتہ انسان غاروں سے نکل کر شہر آباد کرنے لگے۔یہ ارتقائی عمل جاری ہے۔ جہاں انسان نے ترقی کی، اپنے لیے سہولیات پیدا کیں، وہیں کچھ مسائل نے بھی جنم لیا۔ ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے۔ صنعتی ترقی، بڑھتی ہوئی آبادی غلط منصوبہ بندی کے نتیجہ میں ماحولیاتی آلودگی بہت بڑھ گئی اور آج ہر فورم سے تحفظِ ماحول کی آواز اٹھ رہی ہے۔مختلف سوچ و عقائد کے لوگ اپنے اپنے طریقے سے اس مسئلے کا حل نکال رہے ہیں۔ قرآن و حدیث میں ماحول کی افادیت و اہمیت کے بارے میں کئی ہدایات بیان کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں احکامات والی آیات کی بہ نسبت فطرت اور فطری مظاہر والی آیات زیادہ نازل فرمائی ہیں۔اسلامی تعلیمات کے ذریعے بالخصوص قدرتی وسائل کا استعمال اور ان کا تحفظ، وسائل کا مناسب استعمال، ان میں اسراف سے پرہیز وغیرہ۔ انہیں تعلیمات کی بدولت اسلامی تمدّن میں آلودگی سے پاک ماحول کو پروان چڑھایا گیا ہے۔

انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ (نائب) کی حیثیت سے پید ا ہوا ہے۔ اور خلیفہ یا نائب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالک و آقا کی طرف سے دی گئی تمام اشیا ءکی حفاظت و صحیح استعمال کرے۔ خلیفہ کے لیے لازمی ہے کہ وہ خدائی احکامات کی پابندی کرے اور حتی المقدور اپنے اردگرد ماحول کی بقا کے لیے کوشاں رہے۔یعنی اسلام کے مطابق ہر انسان فطرت کا امین ہے۔اور اگرحضرت انسان اس فطری ماحول کے تحفظ و بقا کی جانب سے بے پروا ہوجاتا ہے تو وہ اپنی اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوگا، جو اسے اللہ کی جانب سے حاصل ہوتی ہے۔

قرآن میں ارشاد ِ ربانی ہے :

"کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ، تمھارے لیے مسخّر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے۔"

ماحول کی تباہی اور بربادی کے لیے اس سے زیادہ اور کوئی بات خطرناک نہیں ہوسکتی کہ انسان، فطرت پر اپنے تصرّف کو خدائی ہدایات سے بے نیاز ہوکر استعمال کرے۔ انسان کو بذات خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اسے جو کچھ اختیارات ملے ہیں، وہ سب اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ خواہ یہ اختیار اسے اپنے نفس پر ہو یا اس کائنات پر، کیونکہ وہ ان میں سے کسی کا خالق نہیں ہے۔ اس لیے اس کو خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے ہی ان اختیارات کاذمّہ دارانہ استعمال کرنا چاہیے۔آج کی ماحولیاتی آلودگی انسان کی اپنی ہی حرکتوں کا نتیجہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ "خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔ "

اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کرنے کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر منحصر کر دیا اور اسی طرح دنیا میں اعتدال و توازن برقرار ہے۔تمام مخلوقات (جاندار اور بے جان) ایک قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے مقصد ِ وجود کو پورا کرنے میں مصروف ہے۔اگر انسان اس میزان اور توازن میں خلل ڈالے، ان قدرتی وسائل کا استحصال کرے، غلط استعمال کرے، یا انھیں برباد کرے، انھیں آلودہ کرے، تو اس کے نتیجہ میں کائناتی توازن و عدل متاثر ہوگاجو کہ خود انسان کے حق میں بہتر نہیں۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہوجاتا ہے کہ ہم ان قدرتی وسائل کے تحفظ و بقا کے لیے کوشش کریں، ورنہ ہمیں انتہائی بھیانک حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ فطرت سے جنگ میں شکست لازماً انسان ہی کی ہوگی۔

زمین کی چھاتی پر رواں دواں دریا، اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے، اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں، اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے، اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت،زیبا بدن سبزے، نورنگ پھول،پھیلتی سمٹتی روشنیاں، رشک مرجاں شبنمی قطرے،لہلہاتی فصلیں، مسکراتے چمن، جہاں تاب بہاریں اشرف المخلوقات انسان سے سوال کر رہی ہیں ہم نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ تو نے اپنی نسلوں کے ساتھ ہمیں بھی اسموگ اور سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس مسئلے پر نیوز چینلز میں ٹاک شوبھی نہیں ہوتے کہ قدرت کی ان صناعیوں کے پاس ہمیں دینے کے لیے اور بہت کچھ ہے "لفافے" نہیں ہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */