سعودی عرب میں تبدیلیاں، مسلم دنیا و پاکستان - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

خبروں میں رہنے کے حوالہ سے نہایت نامناسب عالمی ماحول میں سعودی عرب مسلسل خبروں میں ہے۔ تازہ ترین معاملہ ایک شاہی حکم کے تحت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں اعلی اختیاراتی انسداد بدعنوانی کمیٹی کا قیام اور اس کی ہنگامہ خیز کاروائیوں سے متعلق ہے۔

کمیٹی کے اختیارات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی قانون یا ضابطہ اس کی کسی کاروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکے گا۔ نیز کمیٹی کے سربراہ گرفتاری، سفر پر پابندی ، اثاثوں کی چھان بین سے لے کر "پیش بندی" کے نام پر کسی بھی نوعیت کے اقدامات لینے میں مکمل آزاد ہوں گے۔ اپنے قیام کے چند ہی گھنٹوں کے اندر اس کمیٹی نے پہلا کام یہ کیا کہ شاہی خاندان کے 10 شہزادوں سمیت بہت سی موجودہ و سابق سرکردہ سرکاری شخصیات اور تین بڑے نشریاتی اداروں کے سربراہان کو حراست میں لے کر ریاض کے ایک بڑے ہوٹل میں نظر بند کر دیا۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب میں کسی بڑی سیاسی یا پالیسی تبدیلی کی آمد آمد ہے۔ ورنہ اس پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ سعودی تاریخ میں خال ہی کبھی دیکھنے میں آئی۔ شاہ سلمان کی تخت نشینی سے قبل وہاں پر سب سے زیادہ تفاخر پالیسی تسلسل اور طے شدہ بنیادوں پر اقتدار کی پرامن منتقلی پر کیا جاتا تھا۔ تاہم شاہ سلمان کے دور میں ابتدا ہی سے اندرونی اتھل پتھل کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس میں یکے بعد دیگرے دو ولی عہد شہزادوں کی معزولی کے بعد حالیہ تبدیلیاں سب سے بڑا اقدام کہی جا سکتی ہیں، شاید اس سے بھی بڑھ کر، کیونکہ اس سے قبل شاہی خاندان اور دیگر اشرافیہ کو اتنے بڑے پیانے پر کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔

حالیہ اقدامات کے نتیجہ میں ہمارے سامنے جو تصویر بنتی ہے، وہ اختلاف رائے اور اختلافی رائے والوں سے قومی منظر نامے کی تطہیر کا پیغام دیتی ہے۔ مخالفت کا ہر راستہ بند کرنے کا اہتمام صاف نظر آتا ہے۔ اس وقت تک کی آمدہ اطلاعات میں جن شہزادوں کی نظر بندی یا عہدوں سے علیحدگی سامنے آئی ہے اس میں معروف ارب پتی تاجر شہزادہ ولید بن طلال اور نیشنل گارڈز کے اب تک کے سربراہ شہزادہ متعب بن عبداللہ نہایت اہم نام ہیں۔

شہزادہ ولید اپنی دولت، حکمران شاہی خاندان میں اپنے اثر و رسوخ اور مغرب سے بہترین تجارتی تعلقات کی وجہ سے اپنے خیالات اور بیانات میں خاصے "بے تکلف" سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہ ہونے کے باوجود سعودی معاشرے میں ان کی بات کافی توجہ سے سنی جاتی ہے۔ ان پر بدعنوانی کا الزام بہت سے حلقوں کے نزدیک صرف انھیں محدود کرنے کا ہتھیار ہے۔ وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل شخص ہیں اور سعودی پالیسی پر ان کا معاندانہ بیان حکمران خاندان کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال سعودی تیل کمپنی "آرامکو" کے حصص کی عالمی منڈی میں فرخت کا سعودی منصوبہ ہے جس سے دو ٹریلین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ یہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030ء کا بنیادی حصہ ہے، جس میں سعودی قومی آمدنی کو خام تیل کے بجائے دیگر ذرائع پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اطلاعات ہیں کہ شہزادہ ولید آرامکو کے حوالے سے اس اقدام کے ناقدین میں سے ہیں، یہ بات ولی عہد کے وژن کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کے دورہ سعودیہ و ایران کے اثرات و مضمرات - قادر خان یوسف زئی

دوسری جانب شہزادہ متعب بن عبداللہ سابق سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ کے صاحبزادے ہیں، اور اپنے والد کی طرح سعودی قبائل پر مشتمل مسلح تنظیم "نیشنل گارڈز" کے سربراہ تھے۔ انہیں بھی گزشتہ ہفتہ کے روز اپنے منصب سے فارغ کر دیا گیا۔ ایک لاکھ افراد پر مبنی نیشنل گارڈز ایک باقاعدہ فوج کہی جا سکتی ہے، تاہم یہ سعودی عرب کی مسلح افواج سے بالکل علیحدہ ایک تنظیم ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ سعودی بادشاہ کسی ممکنہ فوجی بغاوت کی صورت اسے اپنے لیے ایک مضبوط دفاعی لائن خیال کرتے آئے ہیں۔ شہزادہ متعب عملاً 1996ء سے لیکن باقاعدہ 2010ء سے اس فورس کی سربراہی کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ میں سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈمی کے تربیت یافتہ شہزادہ متعب نہایت مؤثر کمانڈر تھے اور فعالیت کی وجہ سے ماتحتوں میں خاصے پسند کیے جاتے تھے۔ یہ بات بھی کافی معروف ہے کہ شاہ عبداللہ اس وقت کے نائب ولی عہد شہزادہ مقرن سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنی تخت نشینی کے موقع پر شہزادہ متعب کو نیا ولی عہد نامزد کریں گے۔ شہزادہ متعب کی سبکدوشی سے موجودہ ولی عہد نے اپنے خلاف نیشنل گارڈز کی جانب سے کسی ممکنہ مسلح بغاوت کا راستہ روک دیا ہے، کم از کم بظاہر۔

یہی نہیں، دیگر تمام شہزادوں اور شاہی خاندان سے متعلق بھی فوری نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ سب کے بیرون ملک جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور ان کے نجی طیارے تا حکم ثانی گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔

تین نشریاتی اداروں کے سربراہوں کی گرفتاری بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ابلاغ پر ریاستی کنٹرول اور بھی سخت ہوگا۔ عوام کے لیے بھی سخت قوانین کا اعلان کیا گیا ہے جن کے مطابق "دہشت گردی" کی کارروائیوں میں معاونت پر سزائے موت دی جائے گی اور بادشاہ کے خلاف بات کرنے پر پانچ سے دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ ابھی تک مملکت کی طاقتور مذہبی اشرافیہ کے حوالہ سے کوئی اقدامات یا پالیسی سامنے نہیں آئی۔

اس وقت کی صورتحآل سے متعلق مبصرین کی آراء منقسم ہیں۔ کچھ لوگ اسے اصلاحات کے ایجنڈہ کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں ۔ ان کی رائے میں ولی عہد کے وژن 2030ء کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ روایتی فکر کے حامل حلقوں کو سائیڈ لائن کیا جائے۔ اس حوالہ سے وہ بالخصوص سعودی نوجوانوں میں ولی عہد کی مقبولیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اس قبول عام کو ولی عہد کے اقدامات کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بعض تجزیہ نگار اسے مشرق وسطی اور خود سعودی عرب میں بڑی تبدیلیوں کا نکتہ آغاز بتا رہے ہیں۔ اس ضمن میں وہ ہفتہ ہی کے روز ریاض پر مبینہ میزائل حملہ کی جانب اشارہ کرتے ہیں جسے سعودی حکومت نے یمن کےحوثی جنگجوؤں کا کام بتایا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسے براہ راست ایران کا سعودی عرب پر حملہ قرار دیا۔ دوسرا اہم واقعہ لبنانی صدر سعد الحریری کا سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ کر اپنے عہدے سے استعفی کا اعلان اور اس کی وجہ اپنی جان کو لاحق خطرات بتانا ہے۔ اس کا مطلب لبنان میں حکمران جماعت کی حزب اللہ سے علیحدگی اور ایران کو واضح پیغام کے طور دیکھا جا رہا ہے۔ سعد حریری کو استعفی سے روکنے کے لیے ایرانی رہبر کےنمائندہ اور سابق وزیرخارجہ علی اکبر ولایتی نے بیروت کا ہنگامی دورہ بھی کیا لیکن بظاہر یہ ناکام رہا۔ ان تجزیہ نگاروں کی رائے میں سعودی عرب اور امریکہ علاقائی معاملات، بالخصوص ایران کے حوالہ سے ایک مشترک پالیسی کی راہ پر گامزن ہیں۔ شام اور یمن کی صورتحال کے پس منطر میں یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کے دورہ سعودیہ و ایران کے اثرات و مضمرات - قادر خان یوسف زئی

اس وقت ایک طرف بڑا خدشہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے اندرونی حالات، شاہی خاندان میں جاری اختلافات اور اقتدار کی ممکنہ رسہ کشی اور دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کو درپیش داخلی مشکلات، بالخصوص"مولر" تحقیقات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا داخلی دباؤ کسی بڑی علاقائی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے خطہ بھی عدم استحکام کا شکار ہوگا اور سعودی عرب میں بھی گڑبڑ کا امکان بڑھے گا۔ شام جیسی خانہ جنگی بھی جنم لے سکتی ہے۔ حرمین کی وجہ سے سعودی عرب کی مسلم دنیا کے لیے اہمیت اس کشمکش کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے جو ان حالات میں بڑی تباہی کا باعث ہوگا۔

پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال پریشان کن ہے۔ ایک تو یہ دیکھنا ہوگا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا قریبی سفارتی و اسٹریٹجک تعاون جاری رہ پائے گا یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی سعودی عرب میں موجودگی اور ترسیلاتِ زر بیک وقت پاکستان کو بےروزگاری کے مسئلہ سے نمٹنے میں مدد کرتی ہے اور ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر کو بھی سنبھالا دیے ہوئے ہے۔ کسی ہنگامی صورتحال میں اگر پاکستانی افرادی قوت کو وطن لوٹنا پڑتا ہے تو یہ ایک بڑا معاشی دھچکا ہو گا جو اس وقت خاصا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.