غداری اور حب الوطنی کے معیارات کیا ہیں؟ رعایت اللہ فاروقی

پاکستان میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا شوق اب ذوق کے درجے میں داخل ہو چکا حالانکہ یہ ملک غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے نتیجے میں ہی ٹوٹا تھا۔ بنگالی اس ملک کے پہلے غدار تھے جو غداری کا سرٹیفکیٹ پاتے ہی ہم سے الگ ہوگئے۔ ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان سے نہ تب کچھ سیکھا تھا اور نہ ہی آج کچھ سیکھنے پر آمادہ ہیں۔ تب سقوط ڈھاکہ کے تقریباً فوراً بعد پختون و بلوچ قیادت کو غدار قرار دے کر حیدر آباد ٹریبونل میں جھونکنے کی کوشش نے واضح کردیا تھا کہ اب بچے کھچے پاکستان میں بھی غداری کا کھیل بدستور جا ری رہے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی نیپ کی اس معتوب قیادت کو رہا کردیا لیکن بہت جلد انہوں نے سندھ میں اپنے حصے کے غدار دریافت کر لیے۔ بھٹو کو وہ پھانسی پر چڑھا چکے تھے جبکہ سندھی قوم پرست انہی کے ہاتھوں غدار قرار پا چکے تو ایسے میں شہری سندھ میں ایم کیو ایم کے احیاء کی صورت اپنے لیے سیاسی سپورٹ کی سکیم عمل میں لائی گئی۔

ایم کیو ایم ان لوگوں کی جماعت تھی جنہوں نے پاکستان کے لیے ہجرت کی راہوں میں سب سے زیادہ قربانیاں دی تھیں لیکن جب جنرل ضیاء ہی نہ رہے تو یہ سکیم بے لگام ہوگئی اور یوں پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دینے والوں کے غدار ہونے کی بھی راہ ہموار ہوگئی۔ وہ جناح پور کے فرضی نقشوں کے ذریعے 1992ء میں غدار قرار پائے۔ اوپر تلے دو فوجی آپریشنز کے ذریعے بہت سے غدار مارے گئے اور بہت سوں کی ابھی باری آنی تھی کہ اچانک وہ پھر ایک جنرل کی ضرورت بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف کی سر پرستی نے انہیں حب الوطنی کا ایسا بھرپور احساس مہیا کیا کہ وہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے لگے۔ آنے والے سالوں میں سٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ نے کراچی کا چین و سکون چھین لیا لیکن قانون اور اس کے جملہ رکھوالے آنکھیں بند کئے بیٹھے رہے۔

2013ء میں نواز شریف بر سر اقتدار آئے تو ایک بار پھر فوجی آپریشن شروع ہوا جو ماضی کے آپریشنز سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ نہ تو کسی کو غدار قرار دیا گیا اور نہ ہی شہر میں افرا تفری والا ماحول قائم کیا گیا۔ سب سے اہم یہ کہ ایم کیو ایم کو توڑ پھوڑ کے عمل سے نہ گزارنے کی حکمت عملی بھی اختیار کی گئی لیکن اس حکمت عملی کو آخر تک بر قرار نہ رکھا جا سکا اور بالآخر وہ مرحلہ آ کر رہا کہ اس جماعت کو توڑنے کی درپردہ سکیم شروع ہوئی۔ رد عمل میں وہ کچھ ہوا جو ایک بار پھر غداری کے کھیل پر منتج ہوا اور یہ کھیل تا حال جاری ہے۔

غداری اور حب الوطنی کے اس تماشے کی سنگینی دیکھیے کہ سابق وزیر اعلیٰ سرحد مفتی محمود مرحوم ستّر کی دہائی میں گوجرانوالہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کرتے ہیں ’’نواب اکبر خان بگٹی پہلے محب وطن تھے، پھر غدار ہوئے، پھر محب وطن بنے، آج پھر غدار ہیں‘‘ ۔ اکتوبر 1980ء میں وفات پانے والے مفتی محمود نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ ابھی اکبر بگٹی نے غداری اور حب الوطنی کے کئی مراحل مزید سر کرنے ہیں اور بالآخر ایک دن غدار قرار دے کر انہیں قتل کردیا جائے گا۔

اسی صوبے سے وہ سردار عطاء اللہ مینگل ہیں جو غداری کے لاتعداد سرٹیفکیٹ وصول کرچکے ہیں اور آج بھی انہیں پیرانہ سالی میں مشکوک شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی صوبے کے کئی سرداروں کو ایوب خان نے پھانسی دی۔ اسی صوبے کے نواب خیر بخش مری بھٹو دور میں غدار قرار پائے اور اسی صوبے میں آج بھی غداری ہی اہم ایشو ہے۔ کوئی بھی رک کر سوچنے کو تیار نہیں آخر ساٹھ سال سے اس صوبے میں غداری کے یہ سرٹیفکیٹ اس بے رحمی سے کیوں بٹ رہے ہیں اور یہ کب تک بٹتے رہیں گے؟

عام طور پر غدار چھوٹے صوبوں سے ہی چنے جاتے تھے۔ چنانچہ خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ میں تھوک کے حساب سے غدار تیار بھی کئے گئے اور مارے بھی گئے لیکن حالیہ عرصے میں پہلی بار پنجاب میں غدار تیار کرنے کی کوشش ہوئی اور وہ بھی صوبے کے سب سے مقبول رہنماء کو بالواسطہ طور پر غدار کہنے کی کوشش ہوئی۔ ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ غدار قرار دینے سے قبل زمین ہموار کی جاتی ہے۔ چنانچہ ’’مودی کا یار‘‘ زمین ہموار کرنے کی ہی تدبیر تھی۔

نواز شریف کو مودی کا یار اس لیے کہا گیا کہ وہ بھارت کے ساتھ تنازعات کے خاتمے کے قائل ہیں۔ بھارت نے 'موسٹ فیوریٹ نیشن' کا درجہ مانگا تو کہا گیا کہ نواز شریف یہ مطالبہ بس قبول کرنے ہی لگے ہیں۔ 'موسٹ فیوریٹ نیشن سٹیٹس' کے ذریعے بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی مطلوب تھی۔ آج پاکستان مودی کے یار سے نجات جبکہ بھارت چاہ بہار کے راستے افغانستان تک رسائی حاصل کرچکا۔ اس کی گندم کی پہلی کھیپ افغانستان کے لیے جا چکی۔ مقام حیرت نہیں کہ مودی کا یار اقتدار میں نہیں اور ہماری جانب سے افغانستان اور ایران کے ذریعے مودی کو پیغامات بھیجے جارہے ہیں کہ ہم آپ کو واہگہ کے راستے افغانستان تک رسائی دینے کو تیار ہیں۔ اسی نواز شریف کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل مشرف نے یہ پرو پیگنڈا کرایا تھا کہ نواز شریف کے بھارت کے وزیر اعظم سے خفیہ روابط تھے لیکن پھر جلد ہی جنرل مشرف خود اٹل بہاری واجپئی پر لٹو ہوتے نظر آئے۔ قربت کی تقریباً ساری ہی حدیں عبور کرلی گئیں اور مسئلہ کشمیر پر خفیہ یقین دہانیاں بھی کرادی گئیں۔ آج ایک بار پھر وہی ہو رہا ہے۔ اگر نواز شریف کا بھارت کو ممکنہ طور پر افغانستان تک رسائی دینا مودی سے یاری اور اور پاکستان سے غداری تھی تو آج رسائی کی یقین دہانی حب الوطنی کیسے ہوگئی؟ کوئی ہے جو ہمیں سمجھا سکے کہ اس ملک میں غداری اور حب الوطنی کے معیارات کیا ہیں؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.