ترکوں کے دیس میں (8) – احسان کوہاٹی

شانلی عرفا میں آئی ایچ ایچ کا دفتر ایک متوسط طبقے کے علاقے میں ہے۔ یہاں بھی چاروں طرف کثیرالمنزلہ عمارتیں ہی عمارتیں ہیں۔ سیلانی کو ایسا لگا جیسے وہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں آگیا ہو۔ یہاں آئی ایچ ایچ عرفا شہر کے مسؤل برادر بہچت ہیں۔ درمیانے قد،مضبوط جسم اور جوان العمر بہچت نسلاً کرد اور پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ شامی مہاجرین کی آمد سے پہلے مزے سے زندگی گزار رہے تھے۔ اچھی تنخواہ، گھر بار، بچے اور پرسکون زندگی تھی لیکن عرفا میں لٹے پٹے شامی مہاجرین کی آمد شروع ہوئی اور وہ جس بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کرکے آئے، بہچت کے لیے ممکن نہ رہا کہ وہ یہ سب نظر انداز کرکے خودغرض بن جائے وہ مہاجرین کی خدمت میں جت گیا۔ اسے لگا کہ اس کی ملازمت اس کے کام میں حائل ہو رہی ہے تو اس نے ملازمت ہی چھوڑ دی۔ اب وہ عرفا میں آئی ایچ ایچ کے مسؤل یعنی ڈائریکٹر ہیں۔

برادر بہچت نے اپنے مہمانوں کو ٹھیٹھ ترکی زبان میں بریفنگ دی۔ ترجمے کے فرائض نوجوان ارسلان نے ادا کیے۔ یہ اس کا پہلا تجربہ تھااسے مشکل پیش آرہی تھی لیکن وہ مافی الضمیر بیان کرہی دیتا تھا۔ برادر بہچت ہی کی بریفنگ کے بعد مفتی ابو لبابہ صاحب سیلانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے ’’سیلانی! ساتھ ہی وہ فلیٹ ہے جہاں کالج یونیورسٹی کی بچیاں مہاجرین کے لیے چیزیں بنا بنا کر بیچتی ہیں، پچھلی بار جب میرا یہاں آناہوا تویہاں دو بچیاں دکھائی دیں وہ کچھ رقم عطیہ کر رہی تھیں۔ میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ طالبات کسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں اور انہوں نے ایک گروپ بنا رکھاہے انہوں نے شامی مہاجرین کی مدد کرنے کا یہ طریقہ نکالا کہ یہ اس فلیٹ میں کھانے پینے کی کچھ چیزیں بنا کر اپنی یونیورسٹی میں اسٹال لگاتی ہیں۔ ساتھی طالبات اور طالب علموں کو بتاتی ہیں کہ اس اسٹال سے ہونے والا نفع شامی مہاجرین کو دیا جائے گا۔ طلباء ان سے دونرکباب، پیٹس وغیرہ خریدتے ہیں۔ چھٹی ہونے تک ساری چیزیں فروخت ہو جاتی ہیں اورپھر یہ یہاں آکر اصل رقم کسی اور موقع کے لیے بچا نفع جمع کرا دیتی ہیں۔ میں بڑا متاثر ہوااوران بچیوں سے پوچھا کہ آپ کو اس کام میں کوئی مشکل تو نہیں ہوتی؟آپ طالبہ ہیں آپ کی تعلیم کا حرج تو ہوتا ہوگا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ سامان کی تیاری میں مشکل ہوتی ہے کیوں کہ انہیں سارا کام ہاتھ سے کرنا ہوتا ہے، ہمارے پاس مشینری نہیں ہے۔ اتفاق سے میرے ساتھ ایک پاکستانی سیٹھ بھی بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے کہا کہ سیٹھ صاحب !میں نے آج تک آپ سے کچھ نہیں کہا۔ ان بچیوں کو بہترین قسم کی مشینری خرید کر دیں تاکہ یہ نیکی کام جاری رہے اور آپ کو بھی اجر ملتا رہے۔ سیٹھ نے اسی وقت کہا انہیں جو جو سامان چاہیے وہ میری طرف سے ہدیہ۔ پھر ان کے لیے آٹا گوندھنے کی مشین، بیکنگ، پریشر ککر، برتن وغیرہ جو جو چیزیں درکار تھیں اس سیٹھ نے خرید کر دیں۔ اب یہ بچیاں ہفتہ دس دن میں ایک دو بار یہاں جمع ہو کر اسٹال لگانے کی تیاری کرتی ہیں ان کاکام اب پہلے سے آسان ہوگیا ہے۔

ترک طالبات کی " فوڈ فیکٹری" جس کی مدد سے شامی مہاجرین کی مدد کے لیے کھانے بنا کر کالجوں جامعات میں اسٹال لگائے جاتے ہیں

سیلانی ان طالبات کی اسپرٹ پر بڑا حیران ہوا۔ لڑکیوں بالیوں کی یہ عمریں تو سخت پڑھائی کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کیریئر بنانا ہوتا ہے، گھر گرہستی سیکھنی ہوتی ہے کہ بابل کے آنگن سے پیا دیس کوچ کا یہی وقت ہوتا ہے یا پھر پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون کے ذریعے سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا کے ذریعے سہیلیوں دوستوں کو بھیجنے اور ’’likes‘‘سمیٹنے کی ہوتی ہے لیکن یہ ترک لڑکیاں عجیب نہیں؟ بعد میں سیلانی کو پتہ چلا کہ آئی ایچ ایچ اور دیگر رفاعی اداروں سے منسلک ترک طالب علم اور طالبات ایسا ہی کرتی ہیں۔ استنبول میں پاکستانی نوجوان عاطف گردیزی نے بتایا کہ اکثر طالبات گھر سے یونیو رسٹی جاتے ہوئے ٹرام میں چھوٹی موٹی چیزیں فروخت کرتے ہوئے جاتی ہیں۔ کوئی لڑکی کسی بچت بازار سے اسکارف خرید لے گی اور کو ئی طالب علم موزے، رومال، بال پین، چاکلیٹس اور اسی قسم کی عام استعمال ک چیزیں خرید لیتے ہیں اور راستے میں فروخت کرتے جاتے ہیں اور پھر کچھ دن بعد یہ رقم آئی ایچ ایچ کے دفتر میں آکر جمع کرا دیتے ہیں۔ کراچی بھی لگ بھگ استنبول جتنا ہی ہے یہاں بھی جامعات، کالجز تک بچھے فاصلے سمیٹنے کے لیے ہمارے طالب علموں کو کافی وقت صرف کرناہوتا ہے لیکن کیا ہم نے کبھی اس وقت کو اس طرح کارآمد بنانے کا سوچا؟ہمارے نوجوانون کے لیے اس وقت کا بہترین استعمال اسمارٹ فون سے چھیڑ چھاڑ اورطالبات کوتاڑنا ہی رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے - سفیر پاکستان

ترک واقعی عجیب لوگ ہیں۔ یہ قدم قدم پر سیلانی کو حیران کیے دے رہے تھے۔ اس کے لیے حیرت کا سامان دفتر کے استقبالیے پر بھی تھا، جہاں ایک گیارہ بارہ برس کا بچہ کمپیوٹر پر کسی کام میں مصروف نظر آیا ہے۔ سیلانی سمجھا کہ یہ بہجت صاحب کا صاحبزادہ ہوگا لیکن اس کی یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہوگئی، پتہ چلا کہ یہ کمسن بھی آئی ایچ ایچ کا رضاکار ہے، قریب ہی رہتا ہے یہ روزیہاں کچھ وقت دیتا ہے، دفتر کے چھوٹے موٹے کام نمٹا دیتاہے یا پھراستقبالیہ سنبھال لیتا ہے۔ سیلانی یہ سن کر بڑا خوش ہوااس کے ہاتھ بے اختیار وا ہوگئے۔ ننھا رضا کار بھی مسکراتا ہوا اپنے پاکستانی انکل کے سینے سے لگ گیا۔ اس کے بعد اس نے ترک آداب کے مطابق سیلانی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی پشت پر بوسہ دیااور ادب سے دو قدم پیچھے ہو کر کھڑا ہوگیا۔ سیلانی نے اس کا شانہ تھپتھپایا، دعائیں دیں اورنماز کے لیے مفتی صاحب کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑا۔ مسجد سامنے ہی ایک اپارٹمنٹ میں تھی،مسجد میں بہت کم نمازی تھے لیکن یہی بہت ہے کہ نمازی تھے۔ یہاں مسجدیں پہلے سی ویران نہیں،ورنہ کبھی تو حال یہ تھا کہ مسجدوں کو تالے پڑے رہتے تھے۔ مفتی صاحب ہی کے توسط سے پتہ چلا کہ نوّے کی دہائی میں ایک پاکستانی تاجر استنبول آیا۔ نماز کا وقت ہوا ایک مسجد میں جماعت کھڑی نظر آئی تو جلدی سے وضو کرکے پیچھے صف میں کھڑا ہوگیا۔ امام صاحب کوئی زبردست قاری معلوم ہوتے تھے خوب تلاوت کی نماز کے بعد ان کا جی چاہا کہ ترک امام سے مصافحہ کرے لیکن پوری مسجد میں امام صاحب ہی دکھائی نہ دیے،ایک صاحب انگریزی جاننے والے ملے ان سے پوچھا کہ یہ امام صاحب کہاں ہیں؟ میں نے تو انہیں مسجد سے باہر جاتے نہیں دیکھا اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسجد میں بھی نہیں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فلاں مسجد میں ملیں گے۔ اس پر وہ سٹپٹا گئے کہ جب وہ اس مسجد میں تھے تو یہاں نماز کس نے پڑھائی؟یہی بات ان سے پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ نماز تو انہیں امام صاحب نے پڑھائی ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر سے پڑھائی ہے۔ دراصل ان کے پاس پانچ مساجد ہیں وہ ایک جگہ خود موجود ہوتے ہیں باقی جگہوں پر اسپیکر سے نماز پڑھاتے ہیں۔ ترک اس ماحول سے پلٹ کر اپنے اصل کی جانب پلٹ رہے ہیں اور قدم جما جما کر پلٹ رہے ہیں۔

آئی ایچ ایچ کا ننھا رضاکار جو شام کا وقت کھیلنے کے بجائے رفاعی کاموں میں ہاتھ بٹاتا ہے

نماز مغرب کے بعد برادر بہجت ان ہی طالبات کے فلیٹ میں لے گئے۔ یہاں ان کے لیے ضیافت کا اہتمام تھا۔ ترک نمازیں بھی اول وقت میں ادا کرتے ہیں اور کھانا بھی اول وقت میں کھا تے ہیں ان کے یہاں مغرب کے بعد دسترخوان بچھا دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی دسترخوان بچھا دیا گیا جس پر سلاد،مسور کی دال کا سوپ،ابلے ہوئے چاولوں پر مقتول مرغی کے ریشے اور کچوریوں سموسوں کی طرح کی کچھ چیزیں تھیں،ان سب کے ساتھ ’’آئیرن‘‘اور’’معدین ‘‘کا بھی اہتمام تھا۔ ترکی آئیرن اور چائے بہت پیتے ہیں۔ ترکی زبان میں آئیرن لسی کو کہتے ہیں جویہاں یہ چھوٹے چھوٹے پلاسٹک گلاسوں میں عام ملتی ہے۔ معدین سوڈا قسم کا کوئی محلول ہوتا ہے جو عموماً کھانے کے بعد طبیعت کی گرانی دور کرنے کے کام آتا ہے۔ ترک لوگ مرچیں بہت کم کھاتے ہیں ان کے کھانے سادہ ہوتے ہیں جن میں روغن بھی برائے نام ہوتا ہے ایک عجیب بات اور وہ یہ کہ ترکوں کے دسترخوان پر میٹھا نہیں ہوتا کم از کم سیلانی نے تو نہیں دیکھا۔ یہاں بھی کھانے کے بعد برادر بہجت بکلاوہ کھلانے کہیں اورلے گئے۔ بکلاوہ ترکی کا مشہور اور روایتی میٹھا ہے۔ ترک ہماری طرح مٹھائیاں نہیں کھاتے۔ یہاں کی مٹھائیاں بیکری میں بنتی ہیں۔ بکلاوہ بھی دراصل بیکری ہی میں تیار ہوتی ہے، آسان لفظوں میں اسے میٹھا پیٹس سمجھ لیں۔ پیٹس سے چکن، قیمہ مصالحہ نکال کر کھویا قسم کا میٹھا بھر دیا جائے تو بکلاوہ تیار ہوجائے۔ برادر بہچت ایک بکلاوے کی دکان پر لے آئے، جہاں دنیا جہاں کے بکلاوے قطار سے رکھے ہوئے تھے۔ سب نے ایک بڑی سے میز سنبھال لی جس کے بعد بکلاوہ آتا رہا اور جانے کہاں جاتا رہا؟سیلانی کے ہم رکاب نوے فیصد مولوی حضرات تھے۔ علماء کرام اکثر خوش خوراک ہی ہوتے ہیں اور میٹھا تو ویسے ہی ان کی کمزوری ہے، پھر بکلاوے کی دعوت پرمہمانوں کا ہاتھ بھلا کیوں کر رکتا؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا جموں و کشمیر کامسئلہ حل ہونے جارہا ہے؟ پروفیسر جمیل چودھری
عرفا میں آئی ایچ ایچ کے برادر بہچت کی بکلاوے کی دعوت

بکلاوے کی دعوت کے بعد اب سب کو بستر کی شدت سے طلب ہو رہی تھی۔ شدید تھکن بھی اپنا اثر دکھا رہی تھی اور خمار گندم بھی ااپنا رنگ جما رہا تھا۔ ساتھی اسی بڑی سی وین میں بیٹھ گئے جو حطائی ائیر پورٹ سے ان کے ساتھ تھی۔ ترک ڈرائیور نے گیئر لگایا اور انہیں لے کرہوٹل آگیا۔ سیلانی تو سیدھاکمرے میں جا کر بستر پر گر گیا جبکہ اس کے ساتھی کمرے کی کھڑکی کھولنے لگے۔ سیلانی جان گیا کہ انہیں نکوٹین کی طلب ہو رہی ہے۔ سگریٹ نوشوں کو کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب شدت سے ہوتی ہے۔ باہر مفتی صاحب کی موجودگی کی وجہ سے سگریٹ پی نہیں سکتے تھے سو طبیعت پر جبر کر کے بیٹھے رہے لیکن اب مزید جبر نہیں ہوسکتا تھا۔ خرم شہزاد بھائی نے جھٹ سے سگریٹ سلگا لی اور لمبا کش لیتے ہوئے کہنے لگے ’’آج تو بال بال بچ گئے۔‘‘

ان کی بات پر سیلانی چونک گیا۔ خرم شہزاد بھائی سرگودھا کے پراپرٹی ڈیلر ہیں، خوبرو خوش مزاج باشرع نوجوان ہیں۔ تبلیغی جماعت اور نسوار سے جڑے ہوئے ہیں۔ نسوار سے ان کا تعلق یقینی طور پر مدرسے میں پشتون ہم مکتبوں کے سبب جڑا ہوگا جو اتنا مضبوط ہواکہ برازیل میں بھی نہ ٹوٹا۔ خرم صاحب تبلیغی جماعت کے ساتھ برازیل میں بھی دین کی محنت کر چکے ہیں۔ یہ وہاں بھی نسوار ساتھ لے گئے تھے۔ یہاں جانے کیا وجہ ہوئی کہ وہ مناسب مقدار میں ساتھ نہ لاسکے۔ اب نسوار کی طلب سگریٹ سے پوری کر رہے تھے۔ وہ بتانے لگے کہ میں سگریٹ لینے ایک دکان میں گیا اورسوچا کہ شاید یہاں کھلا تمباکو بھی مل جائے۔ اسے اشارے میں سمجھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ پھر میں نے سگریٹ انگشت شہادت اور انگوٹھے میں پکڑ کر مسلنے کا اشارہ کیا،جس پر وہ ایک دم چونک گیا اورسمجھاکہ میں چرس مانگ رہا ہوں۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور مجھے گھورتے ہوئے کہنے لگا

’’حوجام !ممنوع، ممنوع، ممنوع۔۔۔‘‘

میں نے اسے پھر سمجھانے کی کوشش کی مگر اس نے مجھے بھگا دیا۔ یہ سن کر سیلانی اور مدنی صاحب کا زوردار قہقہ بلند ہوا۔ سیلانی نے خرم صاحب سے کہا شکر کرو اس نے بھگا دیا بٹھا کر پولیس کو نہیں بلا لیا۔ سیلانی کے دونوں ہم سفربڑے خوش مزاج تھے خاص کر مدنی صاحب کی تو بات ہی کیا۔ انہیں مفتی ابو لبابہ صاحب نے سیلانی کی ذمہ داری سونپی تھی اور وہ سیلانی کا ایسے خیال رکھتے تھے جیسے کوئی مرید پیر کا،لیکن سگریٹ کے معاملے میں وہ ’’پیر صاحب‘‘ کی بھی پروا نہیں کر تے تھے۔ سچی بات ہے سیلانی نے بھی تعرض نہیں کیاکسی زمانے میں وہ بھی سٹے مارا کرتا تھا اور جانتا تھا کہ اگر منہ اور ناک سے کم بخت سگریٹ کے دھویں کے مرغولے نہ نکلیں تو سر سے درد نہیں نکلتا۔دونوں دوستوں نے سیر ہو کر سگریٹ پی اور کھڑکی بند کرکے چادریں اوڑھ کر سو گئے، صبح واپسی کے سفرکا آغاز ہونا تھا(جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.