این آر او یا خاموش مفاہمت؟ لائق مذمت - یاسر محمود آرائیں

پچھلے کچھ عرصہ میں متواتر بہت سی زبانوں سے بار بار 'این آر او' کا تذکرہ سننے میں آیا ہے۔ این آر او اصل میں ایک سابق ملٹری ڈکٹیٹر اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو کہا جاتا ہے، جس کے مطابق ایک خاص وقت سے پہلے کے تمام مقدمات کو معطل کردیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں ان مقدمات میں مطلوب تمام ملزمان کو معصوم عن الخطا قرار دے کر فری ہینڈ دے دیا گیا تھا۔

اس بہتی گنگا میں سب سے زیادہ متحدہ قومی موومنٹ کے سزا یافتہ دہشت گردوں نے ہاتھ دھوئے جبکہ پیپلز پارٹی نے بھی اس متنازع قانون سے بہت فائدہ اٹھایا۔ جبکہ اس معاہدے کے دوسرے فریق یعنی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے بھی اس معاہدے کو اپنے صدارتی انتخاب کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا اور پیپلز پارٹی سے یہ گارنٹی لی کہ اس کے اراکین پارلیمنٹ عین صدارتی انتخاب کے وقت اسمبلیوں سے استعفے دے کر ان کے لیے کوئی مشکل کھڑی نہیں کریں گے۔ لیکن بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس خلاف فطرت اور عقل کے کسی بھی پیمانے پر پورا نہ اترنے والے قانون کو خلاف آئین بھی قرار دے کر کالعدم کردیا۔

اب ایک بار پھر نواز شریف کے ساتھ لندن میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ملاقات کے بعد، جس کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ ان دونوں حضرات کا مقصد نواز شریف کو اداروں کے خلاف محاذ آرائی ترک کرنے پر قائل کرنا تھا، زور وشور سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ کہیں نہ کہیں دوبارہ کوئی این آر او یا کوئی اورخاموش مفاہمت کا نیا فارمولا تشکیل پارہا ہے۔

اس خدشے کو تقویت کچھ روز قبل میاں صاحب کے خاموش دورہ سعودی عرب سے ملی، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا گمان یہ ہے کہ وہ سعودی ذمہ داران کے اثرورسوخ کو استعمال کرکے اپنے حق میں کوئی ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مگر گزشتہ این آر او میں تو ہر دو فریق بالکل سامنے تھے اور دونوں کے اپنے اپنے مفادات تھے اور انہوں نے اس کے ذریعے اپنے مفادات حاصل بھی کیے۔ جب کہ اس این آر او میں دینے والا ہاتھ بھی سب کے سامنے تھا اور لینے والے ہاتھ سے بھی سب بخوبی واقف ہیں۔ مزید اس شرمناک مفاہمت کےنتیجے میں جو بندر بانٹ ہوئی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی ہرگز نہیں ہے۔ دینے والے نے کیا کچھ عطا کیا اور اس کے نتیجے میں کیا کیا منوایا؟ وہ بھی بچے بچے کے علم میں ہے۔ لینے والے فریق نے بھی کیا اور کتنا وصول کیا اور اس کے بدلے میں کون سی شرائط تسلیم کیں؟ یہ دہرانے کی بھی اب ضرورت باقی نہیں ہے۔ لیکن اس بار جس این آر او کا الزام لگایا جارہا ہے اس میں دینے والا فریق تو نجانے کس پردہ زنگار میں ہے کہ جہاں تک کسی نظر کی رسائی ممکن نہیں جبکہ لینے والا فریق بھی سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے مسلسل انکاری ہوا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ اب تک اس نئے معاہدہ کے خدوخال بابت بھی کوئی رہنمائی نہیں کہ اس توبہ کی شرائط کیا ہیں اور اس کے انعام میں کس قدر گناہوں میں خلاصی کی نوید سنائی گئی ہے؟

میرے ناقص علم اور محدود حاشیہ خیال میں ہرگز اس قدر وزنی باتیں نہیں آتیں اور نہ ہی مجھے قطعی علم ہے کہ واقعی کوئی ایسی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر جب احتساب کا تمام تر کریڈٹ حاصل کرنے کے دعوے دار عمران خان خود یہ کہیں کہ سزا یافتہ شخص کو چھوڑنے کے لیے کوئی این آر او ہو رہا ہے تو پھر نہ چاہتے ہوئے، اور نیک گمان رکھنے کے باوجود، دل میں یہ خیال کسی نہ کسی سطح پر سر ابھارنے لگتا ہے کہ واقعی ملزم کی اس بات میں کچھ وزن ہے کہ اسے دی جانے سزا کا سبب وہ بالکل نہیں جو دکھایا اور بتلایا جارہا ہے، بلکہ کچھ اور ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے۔

ہر چند کہ میاں نواز شریف کی جانب سے احتساب کے عمل پر اٹھائے جانے والے بہت سے اعتراضات ایسے ہیں جن سے اختلاف کرنا آسان نہیں ہے اور کوئی بھی محب وطن اور جمہوریت پر یقین رکھنے والا شخص اس احتساب کو انقلاب کی نوید سمجھنے پر جلدی سے تیار نہیں ہوگا۔ مگر میں پھر بھی کہنا چاہوں گا تمام تر اعتراضات اور خدشات کے باوجود اب اگر کرپشن،جرم اور خطاؤں پر گرفت کا آغاز کرہی دیا ہے خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی نیت اور مقصد کارفرما ہو اس کو اب کسی مصلحت کسی اندیشے کسی مفاد کسی لالچ کسی عناد سے بالاتر ہو کر منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔

مگر نہایت دل گرفتگی سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ تمام تر پھرتیاں اور آنیاں جانیاں کسی خاص مقصد کے لیے ہیں اور نظر یہی آرہا ہے کہ اب کی بار بھی یہ میدان صرف چند ضرورت سے زیادہ آزاد خیال ذہنوں کو پھر سے تابع کرنے کی خاطر سجایا گیا ہے۔ خدا کرے کہ میرا گمان باطل ہو مگر نظر یہی آرہا ہے کہ اس احتساب کے فوائدو ثمرات سے میرے عزیز وطن کے آنگن میں کوئی خوشحالی نہیں آنے والی اور اس کے بدحال عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹنے والے کسی بھی رہزن کو ہرگز سزا نہیں ہوگی۔

میرے اس خیال کو خواہ کوئی جتنا بھی جھٹلاتا رہے اور چاہے مجھے پاگل یا دیوانہ کہتا رہے مگر یکایک سعودی عرب کے دورے کے بعد لندن میں وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے نواز شریف کا ملاقات کرنا اور پھر واپس آکر عدالت میں پیش ہونا اور ان کے رویے اور باڈی لینگویج میں ایک بار پھر اعتماد کے اظہار کا آخر کیا سبب ہے؟ اگر کوئی نیا سمجھوتا یا این آر او نہیں ہورہا تو صرف ایک الطاف حسین کو مائنس کرکے پہلے اس کے تمام تر کن کٹے،لنگڑے اور بھینگے شیطانوں کو زمین اور آسمان کی وسعتوں کے برابر ایسے گناہوں پر، جن کی معافی کا اختیار مالک کائنات نے اپنے ہاتھ میں بھی نہیں رکھا، منصوبہ بندی کے تحت پہلے ایک ڈرائی کلیننگ مشین میں ڈالنا ، اس کے بعد بھی جب ان کی روح اور کردار پر لگے دھبے دور کرنے اور انہیں اجلا نکھرا بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو بجائے ان بدبودار پوتڑوں کو جلانے اور دفنانے کے، دوبارہ نئے سرے سے ایک غسل کے اہتمام میں کون سی مصلحت آڑے آئی ہے؟

میری اوقات،طاقت،صلاحیت،اہلیت اور جرات اس قدر ہرگز نہیں کہ میں کسی صاحب اختیار کو سمجھاؤں یا کچھ بتلاؤں، مگر گستاخی کی پیشگی معافی چاہتے ہوئے خدا لگتی کہوں گا کہ اس معیار انصاف اور دہرے رویے سے مجھ جیسے تیسرے درجے کے کمزور افراد کا نظام عدل پر سے ایمان مزید متزلزل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جب ایک خاص "مقدس طبقے" سے تعلق رکھنے والے فرد کو غداری اور قتل جیسے مقدمات کے باوجود ناچتے گاتے دیکھتے ہیں تو دل کو کسی طور سمجھا بجھا کر چپ کروا ہی لیتے ہیں کہ کیا ہوا، ان ہستیوں کے ہمارے اوپر اتنے احسانات ہیں کہ لاکھ کوشش کے باوجود ہم ان کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ ہم جب اپنے نرم گرم بستروں پر محو استراحت ہوتے ہیں تو یہی ملائک ہمارے تحفظ کی خاطر سرحدوں پر پہرا دیتے ہیں کیا ہوا، اگر کسی "مقدس ہستی" نے چند سرکشوں کو پھڑکا دیا۔ آخر مہربان باپ بھی تو اولاد کو دوچار لگا ہی دیا کرتا ہے۔ مگر جب سیاست دانوں کو جو ہمارے ہی جیسے گوشت پوست کے حامل ہیں اور جن کے سیاہ کرتوت آپ ہی کی زبانی ہم تک پہنچتے ہیں اور ہمارے مطالبے پر ہرگز نہیں بلکہ اپنی رضاومنشا سے آپ جب ہمارے مال پر ڈاکا ڈالنے والوں اور ہماری ماں دھرتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف ڈنڈا اٹھاتے ہیں تو پھر ہم ہی آپ کے قصیدے پڑھتے ہیں۔ مگر جب ہمیں امید بہار ہونے لگتی ہے تو نجانے کون سی مصلحت کے تحت آپ ان سیاہ کاروں اور ملت کے غداروں کو پھر سے ہمارے سروں پر مسلط ہونے کا پروانہ عطا کردیتے ہیں۔

مکرر عرض کررہا ہوں اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی جو ہم "بلڈی سویلینز"کے گمان وخیال میں نہیں سماسکتی یا پھر ہماری اتنی اوقات ہرگز نہ ہوگی ہم آپ سے کچھ پوچھ سکیں۔

مگر خدارا! ہم پر ایک تو رحم کیجیے جو کچھ کرنا ہو، جیسے کرنا ہو، خواہ جتنا بھی کرنا ہو ہمیں لاعلم رکھ کر کرلیا کریں کیونکہ نہایت شرمندگی سے بتانا پڑ رہا ہے کہ آپ کی جانب سے جب ڈنڈا اٹھتا ہے تو ہم تالیاں پیٹتے ہیں، جب نجات کے پروانے بانٹے جاتے ہیں تو بھی ہمیں آپ کی اعلیٰ ظرفی کی تحسین کرنی پڑتی ہے کیونکہ ہم بادشاہ کے غلام ہیں، بینگن کے ہرگز نہیں۔ اور ہم میں اتنی طاقت کہاں کہ کسی انکار یا اختلاف کی جرات کرسکیں؟ بس اپنے حال پر رودھو کر چپ ہوجاتے ہیں اور موجودہ بدحالی پر پھر سے قانع ہوجاتے ہیں۔ مگر معاف کیجیے گا جب ہمارا دل زیادہ پریشان ہوتا ہےتو مسلمان ہونے کے ناطے دل کے نہاں خانوں میں اللہ اور اس کے رسول کی یاد سر ابھارتی ہے تو اس کے احکامات سے رہنمائی لینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس میں واضح لکھا نظر آتا ہے کہ "تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوگئی تھیں کہ ان میں جب کوئی طاقتور جرم کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا لیکن اگر کوئی کمزور وہی جرم کرے تو اس کو سزا دے دی جاتی تھی۔ "

اب آپ ہی بتلائیں کہ ہم اپنی تباہی کے اس کے سوا کسی سبب پر کیسے یقین کریں؟ مزید میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی سن لیجیے کہ "اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی پکڑی جائے گی تو وہ بھی کسی رعایت کی حقدار نہ ہوگی، اس کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ "

پھر یہ تیرے اور میرے،اچھے اور برے،مائنس اور پلس کی مصلحت کیونکر؟ آپ ہی بتادیجیے ہم کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔ شاید کوئی کہے کہ آج کل کی دنیا میں مصلحت بھی کوئی چیز ہوتی ہے مگر آپ کی اسی جدید دنیا سے ونسٹن چرچل کا واقعہ تو شاید آپ کو یاد ہو کہ جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کی افواج کو مسلسل پسپائی کا سامنا تھا اور کسی نے چرچل کو جاکر تمام صورتحال بتائی تو اس نے کسی پریشانی کا تاثر دیے بغیر یہ استفسار کیا کہ تم صرف اتنا بتاؤ کہ ہماری حدود میں عوام کو انصاف مل رہا ہے؟ اثبات میں جواب پاکر ان کا کہنا تھا کہ جاؤ پھر بے فکر ہوجاؤ، ہماری ریاست کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ حکومتیں جارحیت سے نہیں بلکہ ناانصافی سے ختم ہوا کرتی ہیں۔

جانتا ہوں کہ ہے تو چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے، مگر حضور والا نہایت معذرت سے پھر یہ کہنے کی جسارت کررہا ہوں کہ کچھ لوگ آپ کے ہر اچھے کام میں سازش کا پہلو ماضی کے تلخ اور ناخوشگوار تجربات کی بدولت ہی نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ بلاشبہ بحیثیت مجموعی آپ لوگ درد دل رکھنے والے اور محب وطن ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ آپ ہی کے قبیلے کے چند افراد کی کوتاہیوں کی وجہ سے آپ کے پاک دامن پر چھینٹے پڑتے رہے ہیں۔ مجھ سے بہتر آپ واقف ہیں کہ عزت بنانا صدیوں میں جاکر ممکن ہوا کرتا ہے جبکہ اس کے بگاڑ کی خاطر ایک لمحہ بھی کافی ہوتا ہے۔ اب جبکہ شہدا کے بابرکت لہو نے آپ کے دامن پر لگے چھینٹے دھو ڈالے ہیں تو خدارا کسی مصلحت کا شکار ہو کر اسے پھر داغدار نہ کیجیے گا۔

انسان کو اللہ پاک نے بھی صرف اسی کا مکلّف بنایا ہے، جتنی اس کی استطاعت اور طاقت ہے۔ اگر آپ میں یہ بھاری پتھر اٹھانے کی طاقت نہیں تو بار بار اسے چھیڑ کر بیچ راہ میں کرکے کیوں ملک کا راستہ کھوٹا کرنے کا سبب بنتے ہیں؟

اب جب کہ آپ نے اس کام کو چھیڑ ہی لیا ہے تو ہر قسم کی مصلحت کو طاق پر رکھ دیجیے اور قدم بڑھائیے، ایک بار تمام ملزموں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیجیے۔ چاہے پھر نواز ہو یا شہباز شریف،الطاف حسین ہو یا پرویز مشرف،آصف زرداری ہو یا کسی کا بھی حواری، سب کے ساتھ بلا تفریق انصاف کرڈالیے۔ یہی آپ کے لیے قوم کے لیے اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے لیے جس کے تحفظ کا آپ نے حلف اٹھایا ہے بہتر ہوگا۔

خاکم بدہن اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کے خلاف عالمی پروپیگنڈے اور دباؤ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے کیونکہ آپ کے اور اس ملک کے دشمنوں کو یہ کہنے کا جواز مہیا ہوجائے گا کہ یہ تو اپنے آپ سے بھی مخلص نہیں اپنے قومی مجرموں کے مواخذے میں بھی اچھے اور برے یا پھر تیرے اور میرے کی تمیز رکھتے ہیں تو پھر ہمارے مفادات کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے ساتھ ان کا رویہ مختلف کیسے ہوگا؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com