کہانی بارہ مہینوں کی - ضیغم قدیر

یہ گئے گزرے وقتوں کی بات ہے۔ اس وقت کی جب ملک میں نئی نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن شروع ہوئی تھی اور 'کول پاور' پیدا کرنے کا ہنر پاکستانی ثمر مندوں نے سیکھا تھا۔ اس سارے عرصے میں کسی نے بھی موسم کی سرگرمیوں پر توجہ نہ دی۔ اُلٹا جو تھوڑی بہت توجہ پہلے دیتے تھے، اب وہ بھی دینا چھوڑ چکے تھے۔ سو موسم جو پہلے سے ہی خود پسند تھے اور شدت پسند ہوگئے۔ جون، جولائی میں آنے والی گرمی نے معصوم سی بہار کا حق مارنا شروع کردیا اور اس کے دو مہینے بھی چھین لیے اور اپریل میں ہی گرمی نے آنا شروع کر دیا۔ پورے چھ ماہ لوگوں کو ذلیل و خوار کرنے والی گرمی نے خزاں کے ساتھ بھی اپنے "ناجائز"مراسم شروع کرلیے اور خزاں میں بھی گرمی ہی رہنا شروع ہوگئی۔ ادھر سردی اور بہار بیچاری اس سارے عمل میں سکڑ کررہ گئیں۔ جہاں سردی کو گرمی کے خزاں کے ساتھ مراسم کا غم ہوتا، وہی سردی نے بہار کو اپنے جال میں پھانسنا شروع کردیا اور جنوری میں شدید بارشیں اور مارچ میں کہر والی سردی آنا شروع ہوگئی۔ یہ چاروں موسم ان موسم رلیوں بلکہ رنگ رلیوں کے انجام سے قطعی باخبر تھے اور یہ سب حضرت انسان کی دی گئی کھلی چھوٹ کا نتیجہ تھا۔ سو چند سالوں بعد ہی ان موسموں کے ہاں تبدیلیوں کی صورت میں بچے موسموں نے جنم لینا شروع کردیا۔

گرمی اور خزاں کے ملاپ نے سموگ جیسے سفاک بچے کو جنم دیا، وہیں ہیٹ سٹروک جیسا آوارہ گرد موسم بھی پیدا ہوگیا جبکہ مون سون جو پہلے جیسی فرمانبردار تھی، وہ ویسی نہ رہی اور طبعیت میں غصہ پیدا کرلیا اور ملیریا جیسے بھائی کو پروان چڑھانے لگ گئی۔ جبکہ سردی نے خزاں سے بدلہ جنوری میں شدید آنسو بہانے سے لینا شروع کردیا اورکہرے جیسے ناسمجھ اکڑے ہوئے بچے کو جنم دیا۔ ادھر سردی نے خزاں کے سموگ سے بدلہ اپنے بیٹے دھند کو دسمبر میں بھیج کرلیا اور بہار کے ساتھ سازش کرکے بخار اور نزلے والے بچے کو گرمی سے پہلے بھیجنا شروع کردیا ۔ یوں قدرتی موسمی سائیکل حضرت انسان کی نالائقوں کی وجہ سے چار سے بارہ موسموں میں تقسیم ہوکر رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   خزاں کا موسم کمال کا - طاہرہ بشیر سلہریا

اب یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم موسموں کو توجہ دے کر واپس ان کی پرانی حالت میں لائیں یا ان کی نسل کو یوں ہی بڑھنے دیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

نوٹ:-یہ کہانی غیر سیاسی اصطلاحات میں لکھی گئی ہے۔ سیاسی مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔