میرے الیکشن - عطا محمد تبسم

اس دن صبح ہی سے تیاریاں تھیں، ایک میلے کا سا سماں تھا،کچے پکے مکانوں میں عورتیں بچے اور بڑے ہر طرف ووٹ کا نام سنائی دیتا تھا۔ سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ ایک دعوت کا انتظام تھا، سامنے باغ میں دریاں بچھی تھیں، جہاں چاول کی دیگ رکھی تھی اور لوگ دری پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ پھر مکھی باغ میں سب ووٹ ڈالنے گئے۔

میرے ہوش میں یہ پہلا الیکشن تھا، جس کی کچھ یادیں میرے ذہین کے کسی حصے میں محفوظ ہیں۔ امیدوار حاجی محمد شفیع تھے، شاید مسلم لیگ ہی کے تھے۔ سندھی تھے، بڑی سی حویلی میں رہتے تھے، چشموں کی دکان تھی۔یہ ہمیرانی خاندان تھا، اسی لیے اس چاڑی کا نام بھی ہمیرانی رکھ دیا تھا۔ اس حویلی میں بڑے بڑے کمرے تھے اور بڑی بڑی مسہریاں جو جھولے پر ہلکورے لے رہی ہوتی تھیں۔ محلے میں اس خاندان کا بڑا اثر رسوخ تھا۔ آس پاس بھی دو تین خاندان سندھی قیام پاکستان سے پہلے ہی سے آباد تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ حویلی کسی ہندو خاندان کی تھی۔ محلے میں میمن انجمن اسکول تھا، جو اب پلازہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔

گھر کے سامنے تارا چند اسپتال تھا، جس کے آس پاس اونچی نیچی کچی مٹی کے ٹیلے تھے، جس پر عموماً کچرا پھینکا جاتا تھا۔ محلے میں بجلی نہ تھی اور پانی کا ایک میونسپلٹی کا نلکا لگا تھا، جس پر صبح چار بجے سے بالٹیاں، گھڑے، صراحیاں، کنستر، بگونے، جیسے برتن لائن میں لگا دیے جاتے تھے۔ بابو جی سحر خیر تھے، اس لیے صبح سویرے ہی پانی بھر لاتے، حیدرآباد کی شدید سردیوں میں وہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے اور اندھیرے اندھیرے رینجر کی ملیشیاء وردی پہن کو سائیکل پر ہی ایس پی آر ہیڈ کواٹر حالی روڈ پہنچ جاتے۔

دوسرا الیکشن کچھ زیادہ یاد ہے۔ ہمارے ایک عزیز تھے ظہیراحمد، وہ اس الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے۔ پوری برادری ان کی حمایت کررہی تھی۔ الیکش کے دن شامیانہ لگا تھا اور صبح سویرے چائے پاپے بسکٹ کا ناشتہ بھی ہوا تھا۔ وہ الیکشن میں کامیاب نہیں ہوئے، لیکن یہ یونین کونسل کے الیکشن اس اعتبار سے اچھے تھے کہ ان کے تحت محلے میں بجلی کے پول لگے، پانی کے نل لگے اور لائن ڈالی گئی اور نالیوں کی باقاعدہ صفائی ہوئی۔ محلے میں جھاڑو سے سڑک صاف ہونے اور گھروں سے کچرا لے جانے کا عمل شروع ہوا۔ پانی کی قلت کا ایک واقعہ اب بھی یاد پڑتا ہے۔ کئی دن سے پانی نہ آنے کے باعث لوگ،نیو کلاتھ مارکیٹ میں واقع ایک کنویں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ لوگ دور دور سے اس کنویں پر پانی لینے آرہے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہر میں جگہ جگہ ایسے کنویں بھی موجود تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ متروک ہوئے اور بند ہوگئے۔ گھروں میں قبریں بھی موجود تھی۔ کئی بزرگوں کے مزارات کے احاطے بھی تھے۔محلے میں کبیرشاہ کا مزار تو اب بھی موجود ہے۔سید شاہ کا مزار ہمارے گھر کے سامنے نیم والی مسجد میں واقع ہے۔ ہمارے گھر کے پیچھے والے مکان میں ایسی کئی قبریں موجود تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ مٹ گئی اور اب ان پر مکانات اور پلازے قائم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنے گھر میں شکست - محمد احمد

ایک اور الیکشن جو مجھے یاد ہے وہ مادر ملت اور ایوب خان کا الیکشن تھا، پھول اور لالٹین کا مقابلہ تھا۔ ہر جگہ مادر ملت کی بڑی بڑی لالٹین آویزاں تھیں۔ گلاب کے سرخ پھول کے بڑے بڑے سینما سائز کے پوسٹر لگے تھے۔ قاضی اکبر مسلم لیگ کے بڑے رہنما تھے۔ اس زمانے میں پہلی بار شہر میں پٹھان-مہاجر کشیدگی دیکھنے میں آئی، اور شور مارکیٹ میں آگ لگانے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ یہ مارکیٹ مولا علی قدم شریف کے سامنے نالے پر قائم تھی۔ یہاں ٹائر کی دکانیں بھی تھی اس وجہ سے بہت زور کی آگ لگی تھی، اور بہت مشکل سے بجھائی گئی تھی۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح حیدرآباد آئی تو اسٹیشن روڈ سے بہت بڑا جلوس نکلا۔ جس میں ہم بھی شامل ہوئے اور کینٹ میں مادر ملت کا بہت بڑا جلسہ ہوا تھا۔