اتنے اجلے نہ بنو - رومانہ گوندل

ارسطو نے انسان کو 'معاشرتی حیوان' کہا ہے کیونکہ لوگوں کے درمیان رہنا اس کی ضرورت بھی ہے اور فطرت بھی۔ چونکہ پوری کائنات فطرت کے ایک اصول پہ چل رہی ہے، اس لیے جب کوئی بھی چیز فطرت کے اس اصول سے ہٹتی ہے تواس سے تباہی جنم لیتی ہے۔ اسی طرح انسان بھی جب فطرت کے اصولوں سے انحراف کرتا ہے تو کمزور اور بے سکون ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان کمزور اور بے سکون ہے کیونکہ وہ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان تنہا کیوں ہو گیا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اپنے ہی احساسِ برتری نے اسے تنہا کر دیا۔ احساسِ کمتری ایک نفسیاتی بیماری ہے یہ تو سب جانتے ہیں اس کا شکار لوگوں کا خود پر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور وہ دوسروں سے ملنے جلنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔ لیکن ایک احساس اور بھی ہے، جس کو اگر بیماری مان لیا جائے تو ہمارے معاشرے کا کیا، دنیا کا ایک بڑا حصہ مریض سمجھا جائے گا، اس کو احساس برتری کہتے ہیں۔ یہ بھی ا حساسِ کمتری جیسی ایک بیماری ہے، یا پھر یہ ایک ہی بیماری کی دو شکلیں ہیں۔ اس کا بہترین جواب تو ماہرین نفسیات ہی دے سکتے ہیں، لیکن نتیجہ اس کا بھی یہی نکلتا ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ گھلتا ملتا نہیں ہے اور تنہا رہ جاتا ہے۔

کیونکہ اس کا شکار انسان جب دوسروں سے ملتا ہے تو صرف خامیاں ہی ڈھونڈتا ہے اور پھر یہی کوشش کرتا ہے کہ ان کا اظہار کر کے دوسروں پہ اپنی برتری ثابت کر دے۔ اس لیے اپنا بہت سا وقت اور انرجی دوسروں کی غلطیاں بتانے میں لگا دیتا ہے۔ برتری ثابت ہوتی ہے یا نہیں، لیکن یہ رویہ دوسروں کو ان سے دور ضرور کر دیتا ہے۔ اب تو احساسِ برتری کے اس وائرس نے پورے معاشرے کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی نہ اپنی غلطی مانتا ہے اور نہ دوسروں کی خوبی۔ اپنے آپ کو اتنا کامل سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیاں برداشت کر پاتے ہیں نہ معاف!

ممتاز مفتی اپنی کتاب الکھ نگری میں لکھتے ہیں کہ اتنے اجلے نہ بنو کہ دوسرے میلے نظر آئیں۔

اپنی شفافیت کے اس وہم نے انسان کو ایسا احساس برتری دیا ہے جس نے اس سے زمین پہ رہنے کا سلیقہ چھین لیا۔ انسان کا اس زمین پہ پہلا فرض تھا کہ اپنے جیسے انسانوں کو عزت دیتا، ان کے ساتھ گھل مل کر رہتا۔ لیکن خود کو برتر دیکھنے کے خیال نے اس سے دوسروں کو عزت دینے کا ظرف چھین لیا۔ اگر ہم آج سے دوسروں کو ویسی عزت دینے لگ جائیں جو انسانیت کا حق ہے، دوسروں کی دس غلطیاں گننے کے ساتھ، اپنی ایک غلطی بھی ماننے لگ جائیں، اپنی کاملیت کے وہم میں مبتلا ہو کر جس خول میں بند ہو گئے ہیں اس میں سوراخ کر کے دوسروں کی خوبیوں پہ ایک نظر ڈال لیں تو یقین مانیں کہ دنیا سکون اور محبتوں کا گہوارہ بن جائے۔

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.