تیس سال سے کم عُمر کے افراد کے لیے - سید اسرار احمد بخاری

درج ذیل دس کام عمر کے تیس سال مکمل ہونے سے پہلے کرلینے چاہییں،

1) کم از کم ایک سال کےلیے اکیلے رہیے
اکیلےزندگی گزارنا کئی اعتبار سے فائدہ مند ہے، اول یہ کہ آپ Self Dependent زندگی گزارنا سیکھتے ہیں، اکیلے رہ کر زندگی ایسے ایسے سبق سکھادیتی ہے جو کسی درسگاہ میں سیکھنا ناممکن ہے، ان میں سے اہم ترین Skill اپنی Basic Needs کو از خود پورا کرنے کی اہلیت جو بہت سے لوگ بڑھاپے تک بھی نہیں سیکھ پاتے اور تمام عمر دوسروں کے سہارے اور دوسروں پر بوجھ بنے گزاردیتے ہیں، شادی سے پہلے امی اور بہنیں کام کرکے دیں، شادی کے بعد بیگم اور بڑھاپے میں بچے!

چھوٹی موٹی ڈش خود بنالینا، اپنے کپڑے خود دھونا، اپنا خیال خود رکھنا، کہنے کو عام سی عادات ہیں لیکن Self esteem اور خوداعتمادی پیدا کرنےمیں ان عادات اور اسکلز کا رول سب سے زیادہ ہے، ایک بار آپ سیکھ گئے تو تمام عمر کے لیے دوسروں کی Dependency سے آزاد ہوجائیں گے. اگرچہ بزرگوں اور بڑوں کی 'خدمت' ہمارے ہاں سعادت سمجھ کر کی جاتی ہے، لیکن یاد رکھیے وہ بزرگ یا بڑے جو دوسروں پر انحصار کم سے کم یا بالکل نہیں کرتے، چھوٹے (یا جونئیرز) ان کا کام کرنے اور ان کو سہارا دینے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں، بنسبت ان کے جو ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے چھوٹوں کو آرڈر دیتے ہیں، خود انحصاری آس پاس کےماحول اور لوگوں میں آپ کی عزت اور مقام کو بڑھا دیتی ہے۔

2) چھوٹا موٹا بزنس
تیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کم سرمائے سے کوئی چھوٹا بزنس شروع کیجیے جس میں آپ کسٹمر ڈیلنگ، پبلک ڈیلنگ، پراڈکٹ بیچنے اور لوگوں کو کنونس کرنے کی اسکل، انوسٹمنٹ اور سرمائے کو مینیج کرنے کی اسکلز سیکھ پائیں. آپ کسی کو سروس دے سکتے ہیں، ایک کمرے پر مشتمل کوئی چھوٹی سی ٹیچنگ اکیڈمی کھول سکتے ہیں، آن لائن خریدوفروخت کرسکتے ہیں یا ایجنٹ بن سکتے ہوں، حتیٰ کہ چھوٹا موٹا اسٹال لگانے کی اہلیت رکھتے ہوں تو کرڈالیے، اس تجربے سے آپ کو یوں توبہت سے فائدے حاصل ہوں گے، لیکن ایک نقد فائدہ یہ ہوگا کہ آپ خود کو ڈسکور کر پائیں گے کہ آیا آپ کے مزاج کے مطابق آپ کے لیے نوکری کرنا زیادہ موزوں ہے یا کاروبارکرنا. ساتھ ساتھ یہ فائدہ بھی حاصل ہوگا کہ کبھی زندگی میں بےروزگاری کے دن کاٹنے پڑگئے تو آپ ہاتھ پیرچھوڑ کر مایوس نہیں بیٹھیں گے یہ چھوٹا سا بزنس چلانے کا تجربہ ان مشکل دنوں مٰں آپ کے کام آئے گا ، اور اگلا روزگار لگنے تک کا وقت عزت سے کٹ سکے گا۔

3) ناکامی کے تجربات
نئے سے نئے پراجیکٹ ٹرائی کیجیے اور زندگی میں ناکامی اور کبھی کامیابی کا مزہ چکھیے، آپ حیران ہوں گے ناکامی آپ کو وہ کچھ سکھادے گی جو آپ کو کامیابی نہیں سکھا سکتی! ناکامی سے سبق سیکھیے یہ وہ اسباق ہوں گے جو آپ کوعمر کے 70s, 60s, 50s, 40s میں کام آئیں گے۔

4) عادات پر انویسٹ کیجیے۔
ہماری روز مرہ عادات ہمارا مستقبل بنانے میں سب سے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، یہ عادات ہی ہیں جو زندگی کا بیڑہ غرق بھی کرسکتی ہیں اور بیڑہ پار بھی، لہذا عادات پر انوسٹمنٹ سب سے کامیاب انوسٹمنٹ ہے، اپنی زندگی کا کوئی مشن، کوئی وژن مقرر کیجیے اور روز کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے ٹارگٹس اچیو کیجیے۔ اچھی عادات مثلا نماز کی پابندی، مطالعے کی عادت، ورزش وغیرہ ایسی عادات ہیں جنہیں زندگی میں لازم پکڑ لیجیے تو یہ تمام عمر نفع دیتی ہیں. اسی طرح بری عادات کو چن چن کر ختم کرنے کی کوشش کیجیے، مثلا سگریٹ نوشی، غیرضروری رت جگے، نیٹ سرفنگ، یوٹیوب، سوشل میڈیا پر پر وقت کا ضیاع ان سب عادات سے لڑ کر ختم کرنے کی کوشش کیجیے۔ اچھی عادت کیسے ڈویلپ ہوتی ہے اور بری عادات سے کیسے چھٹکارا پایا جاتا ہے؟ یہ بھی ایک سائنس ہے، سیکھیے ! بہت نفع ہوگا!

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

5) تعلیم مکمل کیجیے
عمر کے تیس سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے کم از کم ماسٹرز تک کی تعلیم یا کوئی پروفیشنل ایجوکیشن ضرور مکمل کرلیجیے، کیونکہ بعد از 30 زندگی آپ کو تعلیم کے مواقع نہیں دیتی، یا کم از کم اس کے بعد تعلیم جاری رکھنا تقریبا ناممکن ہوجاتا ہے، لہٰذا کوشش کیجیے کہ 24/25 تک اپنے تعلیمی کیرئیر کو کنارے لگالیجیے اور کسی وجہ سے دیرسویر ہوگئی ہے تو عمر کے تیس سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے مکمل کر لیجیے، یہ ابھی نہ کرپائے تو اس کے بعد صرف پچھتاوا رہ جائے گا۔

6) محبت کیجیے
آپ محبت کرکے شادی کرنا چاہتے ہوں یا شادی کرکے محبت یہ آپ کی چوائس ہے، اگرچہ ہر سینئر آپ کو شادی سے پہلے محبت کرنے کا مشورہ نہیں دے گا، اس کی پہلی وجہ اخلاقی ہے کہ ہمارے مذہب میں یہ ناپسندیدہ ہے. دوسری وجہ یہ کہ محبت کی شادیاں اکثر ناکام ہوتی ہیں، لیکن اگر آپ محبت کر ہی بیٹھے ہیں. اُس شعر کے مصداق
مجھے سمجھاؤ مت محسن کہ اب تو ہو چکی مجھ کو
محبت مشورہ ہوتی تو تم سے پوچھ کر کرتے
تو پھر اب شادی میں دیر مت کیجیے، محبت کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے اور میں بحیثیت ایک سینئر محبت کے حق میں ہوں، چاہے آپ (اخلاقی حدود کراس کیے بغیر) شادی سے پہلے کریں یا بعد. محبت ایک ایسا ایموشن ہے جو آپ کو فوکس ہونا اور قربانی دینا سکھاتا ہے، یہ ایسا دلچسپ اور پرکشش تجربہ ہے کہ اس میں ناکام ہو، تب بھی فائدہ اور کامیاب ہو تب بھی فائدہ 🙂

محبت کا دو میں سے کوئی ایک ہی انجام مقدر ہے
اوّل شادی، دوم ناکامی
کامیاب ہونے (یعنی شادی ہوجانے) کی صورت میں انسان کی عقل ازخود ٹھکانے پر آجاتی ہے، انسان کی فطرت ہے جو چیز اسے میسر نہ ہو اُس کے سحر میں تب تک گرفتا رہتا ہے جب تک وہ حاصل نہ ہوجائے، اور اس کے حصول تک اپنا وقت/صمحلاحیت اور پیسہ برباد کرتا رہتا ہے، لیکن جونہی وہ چیز اسے حاصل ہوجاتی ہے، اس کی اہمیت کم اور اس کے پیچھے وقت اور صلاحیت برباد کرنے کا جنون بھی ختم ہوجاتا ہے، لیکن اُس کے حصول کی جدوجہد میں خُود کو ہر اعتبار سے بہتر اور کامیاب انسان بنانے کی کوشش میں شخصی اعتبار سے بہت سا نفع مفت میں مل جاتا ہے. اسی طرح محبت میں ناکامی کا تجربہ انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے اور اگر آپ کی تربیت ٹھیک خطوط پر ہوئی ہے تو یہ ٹوٹنا کئی لحاظ سے کارآمد ہے، ناکامی کے نتیجے میں آپ کی خود اعتمادی اور سیلف اسٹیم چونکہ بری طرح متاثر ہوتی ہے، لہٰذا آپ اسے re-gain کرنے کے لیے خود کو کسی برتر مقصد کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی کامیابی میں محبت کی ناکامی کا بھی بڑا ہاتھ ہے. تاہم ان تمام باتوں کا تعلق مضبوط اور اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر نفسیاتی رہنمائی سے بھی ہے جو ہرایک کو ملنا مشکل ہے چنانچہ سب سےمحفوظ اور آسان راستہ شادی کے بعد محبت (یعنی ارینجڈ میرج) ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی جرگہ دیامر، ایک مثبت قدم - امیرجان حقانی

7) اپنے کام سے محبت کیجیے
بہت سے لوگ آپ کو مشورہ دیں گے کہ کام وہی کرو جس کام سے آپ کو محبت ہے، لیکن ایسا کم لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے کہ انہیں جس کام سے محبت ہے وہی پیشہ اختیار کرنے کا موقع ملے، ایسے میں کیوں نا جو کام بھی مل گیا ہے اسی سے محبت کرنا سیکھ لیا جائے؟ یہی حقیقت پسندی اور وقت کا تقاضہ ہے!

8) مطالعہ کیجیے
مطالعے کےبارے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور بارہا اپنے جونیئرز کو ایک ہی مشورہ کثرت سے دیتا ہوں کہ مطالعہ کیجیے. یہ آپ کے ذہنی افق کو وسیع اور آپ کی سوچ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے، یہ عادت روز کی بنیاد پر آدھا گھنٹے سے شروع کی جاسکتی ہے اس کے بعد وقت اور دلچسپی کے اعتبار سے اس میں اضافہ کرتے رہیے. جو لوگ کتابیں لکھتے ہیں، بعض اوقات ایک کتاب لکھنے میں انھیں دس دس سال لگ جاتے ہیں، گویا جس علم کو سیکھنے اور ضبط تحریر میں لانے میں مصنف کی زندگی کے دس سال وقف ہوئے، آپ تین چار سو صفحات کی اس کتاب کو دس پندرہ دن میں ختم کرکے وہ علم چند دنوں میں حاصل کرلیتے ہیں!

9) کسی اسکل میں مہارت
کوئی سی ایسی اسکل جس میں آپ میں خداداد صلاحیت رکھتے ہوں، اسے پالش کیجیے اور اس میں مزید مہارت حاصل کیجیے، مثلا کمیونیکیشن اسکلز، کمپیوٹر اسکلز، کوئی سی لینگویج وغیرہ ان میں سے ہراسکل تمام عمر آپ کو نفع دے گی!

10) سواٹ SWOT Analysis
گاہے گاہے اپنا SWOT Analysis کرتے رہا کیجیے، SWOT Analysis کیا ہے تفصیل کے لیے گوگل سرچ کرلیجیے، مختصرا عرض کیے دیتا ہوں،
S= Strengths
W=Weaknesses
O=Opportunities
T=Threats
اپنی Strengths کو جانیے اور ان کی مدد سے اپنی Weaknesses پر قابو پانا سیکھیے، آپ کے سامنے کون سے مواقع Opportunities میسر ہیں، انہیں حاصل کیجیے اور Threats پر قابو پائیے۔

یہ دس کام یوں تو 20s میں کرلینے چاہییں لیکن اگر آپ کی عمرمبارک 30 سے زیادہ بھی ہوچکی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں، بعد میں بھی کیے جاسکتے ہیں، لیکن وہی بات The earlier The Better 🙂

نوٹ: ان میں سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو کمنٹس میں پوچھ لیجیے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہت مفید مشورہ دیا ہے ۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ انسان کی زندگی کے جو نوجوانی کے دن ہوتے ہیں وہ بہت اہم ہوتے ہیں جن میں انسان بہت سے کام کرسکتا اگر ان کو گنوا دے تو ساری عمر پچھتائے گا اور ایک مشورہ یہ بھی دیتے کہ اس عمر میں سب سے زیادہ اللّٰہ کو یاد کیا جائے کیونکہ اللّٰہ کو جوانی کی عبادت بہت پسند ہے اور میرے نزدیک انسان کو ابھی سے سیدھے راستے کا تعین کرلینا چاہئے بعد میں جب عمر کا آدھا حصہ گزر جاتا ہے اس سے آخرت سنوارنے کی فکر لاحق ہوتی ۔۔باقی بہت اچھا آرٹیکل ہے ۔اللّٰہ آپ کو صدا خوش رکھے ۔۔آمین

  • یہ موصوف کی اپنی تحریر نہیں ہے.
    اسی مضمون کی ایک عربی تحریر 3 ہفتے پہلے ٹویٹر پر گردش کررہی تھی .
    نقالوں اور چھاپہ ماروں سے ہوشیار رہیں