سموگ سے بچنے کے 45 طریقے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

تصور کیجیے ایک ایسا شہر جو حسین ترین بلندوبالا عمارتوں اور عظیم الشان فلائی اوورز سے مزین ہو، چمکتی دمکتی گاڑیاں اور دن رات کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ملک کی بےمثال ترقی کا نقشہ پیش کرتا ہو لیکن کسی سائنس فکشن اینی میشن کی طرح اس تصویر میں ایک غیرفطری فیکٹر نوٹ کیجیے کہ وہاں درخت کہیں نہ ہوں، چمکتی گاڑیوں کے ایگزاسٹ پائپوں سے نکلتا دیدہ یا نادیدہ دھواں آب و ہوا کو مسموم کرتا ہو، شہری علاقوں میں قدرتی حسن کو نگلتے کنکریٹ اسٹرکچرز اور فیکٹریوں کی چمنیاں شہر میں زہریلی ہوائیں چلاتی ہیں۔ کتنا غیر فطری تصور ہے یہ، ہے نا؟یہ کیسی تعمیر ہے جس کی کوکھ سے تخریب جنم لے رہی ہے!

درخت قدرت کا انمول عطیہ جو ہمارے لیے قدرت کے پھیپھڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے پھیپھڑے خون میں سے فاسد، ضرر رساں گیسز مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال کر سانس کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں جبکہ ہوا میں سے حیات بخش آکسیجن حاصل کر کے اسے خون میں شامل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح جسم میں اچھی اور بُری گیسز کا تناسب درست مقدار میں برقرار رہتا ہے اور انسانی جسم اپنے افعال بخیر و خوبی سرانجام دیتے ہیں۔ قدرتی نظام کے پھیپھڑے درخت ہیں۔ درختوں کے سرسبز پتوں میں موجود کلوروفل (سبز رنگ کا نامیاتی مادہ) دھوپ کی موجودگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن تیار کرتا ہے اور فضا میں بکھیر دیتا ہے جبکہ آکسیجن کے بدلے یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسز چوس لیتا ہے، جسے یہ اپنی سانس اور خوراک کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس طرح قدرت کے یہ پھیپھڑے کھلی فضا میں گیسز کے تناسب کو حیاتِ انسانی کےلیے مفید تناسب میں برقرار رکھتے ہیں۔ درخت ہوا میں نمی کا تناسب بڑھا کر درجہ حرارت کم کرتے ہیں اور بارش کے برسنے کا سبب بنتے ہیں جس سے فضا دھل کر صاف شفاف ہو جاتی ہے۔ جیسے سگریٹ پیتے ہوئے یا دھویں سے بھری زہریلی فضا میں ہمارے پھیپھڑے کم کام کرنے لگتے ہیں، اسی طرح اگر ماحول میں گاڑیوں اور فیکٹریوں کے مقابلے میں درختوں کا تناسب کم ہوتا چلا جائے تو فضا میں گیسز کا تناسب بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکسپاکستان میں کیا ہورہاہے؟ ملاحظہ فرمائیے۔

پچھلے کچھ برسوں میں لاہور کی تعمیر و ترقی کے نام پر ان گنت درخت کاٹ دیے گئے ہیں، ان درختوں کی ہریالی اور تازگی کو اسٹیل اور کنکریٹ کے جناتی سائز کے اسٹرکچرز سے تبدیل کر دیا گیا۔ شہری تازہ ہوا اور دھوپ دونوں سے نہ صرف محروم ہوگئے ہیں بلکہ فضا کو صاف کرنے والے درختوں کی عدم موجودگی میں زہریلی گیسز کا تناسب بڑھ گیا ہے، آکسیجن کم ہو گئی ہے، زہریلی گیسز، گرد اور دھویں نے مل کر لاہور اور گرد و نواح پر زہریلی دھند کی چادر تان دی ہے۔ جسے سموگ (سموک +فوگ) کا نام دیا گیا ہے۔ باغات اور زندہ دلان کا شہر کہلانے والا لاہور اب اوور ہیڈ فلائی اوورز کے سائے میں گم ، پژمردہ بیماروں کا شہر بن چکا ہے۔ یہ سموگ پہلی چیز ہے۔ پوری دنیا میں میٹرو کو ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

اگر آپ لاہور میں ’میٹرو بس سروس‘ چلنے کے بعد لوگوں کی صحت کی بابت اعدادوشمار جمع کریں گے تو آپ کو دھوپ کی محرومی سے وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں رکٹس (rickets) میں مبتلا بچے اور جوڑوں،گردوں، سانس، جلدی بیماریوں اور کینسر کے مریضوں میں پچھلے برسوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی اور فضائی آلودگی نمونیا، تپ دق اور دمہ کے مریضوں میں بھی اضافہ کرے گی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ آرتھرائٹس اور بانجھ پن میں بھی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ درختوں کی کمی، اسٹیل کنکریٹ اور شیشے سے بنے اسٹرکچرز میں اضافہ، گرمی میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ماہرین کے مطابق یہ گلوبل وارمنگ کا بہت بڑا فیکٹر ہے۔ ماحولیاتی گرمی بڑھنے کے منطقی نتیجہ کے طور پر گاڑیوں اور گھروں میں ائیرکنڈیشنزکا استعمال بڑھے گا، جو کوروفلورو کاربنز کے فضا میں مزید اضافے کا باعث ہوگا، جس سے اوزون لئیر کو نقصان پہنچے گا۔ نتیجتاً انسانی صحت کے لیے مضر اثرات کی حامل شعائیں بلا روک ٹوک زمین تک پہنچنے لگیں گی۔ یعنی بظاہر ترقی نظر آنے والے عوامل قدرتی ماحول کی ’’تنزلی‘‘ (deterioration) کا باعث ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ماحولیاتی آلودگی سے 55 لاکھ افراد سالانہ ہلاک ہورہے ہیں۔سب سے زیادہ اموات چین اور بھارت میں ہو رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمربچوں کی اموات کے اسباب کا جائزہ لیاجائے تو ہر چار میں سے ایک بچہ فضائی آلودگی کے سبب موت کے گھاٹ اتر رہا ہے۔ اس اعتبار سے ماحولیاتی آلودگی کے سبب مرنے والے بچوں کی سالانہ تعداد 17 لاکھ بنتی ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسی اموات کی تعداد ایک لاکھ 35 ہزار سالانہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اور ہمارے بچے فضائی آلودگی کی وجہ سے قبروں میں اترنا پسند کریں گے؟ نہیں نا! تو پھر اس کے خلاف ہر لمحہ سینہ سپر ہوجائیے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم اس کے خلاف کیسے سینہ سپر ہوسکتے ہیں؟ اس سنگین مسئلہ کا حل ہنگامی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر شجر کاری ہے اور دوسرا یہ کہ میٹرو، اورنج فلائی اوورز کا روٹ میپ سرکلر یا رنگ روڈ کی طرز پر شہری آبادی سے باہر شفٹ کیا جانا ہے۔ جو آبادیاں ان فلائی اوورز کے سائے میں آ کر اپنے حصے کی دھوپ سے محروم ہو چکی ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر حکومتی سرپرستی میں کھلی فضا اور بہترین پلاننگ والے علاقوں میں بسایا جائے۔یہ ہماری آنے والی نسلوں کی صحت اور بقا کا معاملہ ہے۔ یقیناً ہمارے ہاں بھی ملکی ترقی اور اسٹرکچر ڈویلپمنٹ کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے لیکن مغربی ممالک کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات بھی ساتھ ہی کئے جانا اہم ہیں، ورنہ صحت کی مد میں بڑھتے مسائل اور اخراجات ملکی وسائل پر ایک غیر متوقع بوجھ بھی ڈالتے ہیں اور رائے عامہ کو بھی حکومت بیزاری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

حکومت کیا کرے؟

دہلی اور بیجنگ میں سموگ سے نمٹنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر ہمارے ہاں ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارگر ہیں:
1۔ مفرد /جفت اصول
مفرد نمبر پلیٹ والی گاڑیاں مفرد تواریخ پر اور جفت نمبرز والی گاڑیاں جفت تواریخ پر روڈز پر آ سکیں گی۔ اس طرح روڈز پر ٹریفک کا دباؤ فوری طور پر نصف ہوگیا۔ یوں سڑک سے اڑتی دھول اور ایگزاسٹ پائپس سے نکلتا زہریلا دھواں بھی نصف ہوگیا۔
2 ۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار جو سب سے زیادہ خطرے میں تھے، انہیں بہترین معیارکے فیس ماسک مہیا کیے گئے تاکہ ان کی صحت کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
3۔ لگژری ایس یو ویز اور 2000 سی سی سے بڑی ڈیزل گاڑیوں کی رجسٹریشن پر فی الفور پابندی عائدکر دی گئی تاکہ امراء شہر آب و ہوا کو آلودہ کرنے کی قیمت پر قیمتی گاڑیوں میں مت گھومیں۔
4۔گرین سیس (green cess ٹیکس)، بڑی گاڑیوں کے شہر میں داخلے کا ٹول 100 گنا بڑھا دیا گیا۔ اس طرح شہر پر بڑی گاڑیوں سے بڑھنے والا ٹریفک لوڈ مزید کم ہوا۔
5۔شہر میں چلنے والی تمام ٹیکسیوں کو سی این جی پر شفٹ کرنے کی تاکید کی گئی نیز 10 سال سے زیادہ پرانی رجسٹرڈ کمرشل گاڑیوں کا شہر میں داخلہ روک دیا گیا۔
6۔ بھارت میں نیشنل گرین ٹربیونل ایکٹ منظور کیاگیا، اس کے بعد نیشنل گرین ٹریبونل(NGT) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیاگیا جس نے کوڑا کرکٹ جلانے اور تعمیراتی گردوغبار کو پھیلانے پر پابندی عائد کی اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا۔
7۔نیشنل گرین ٹربیونل نے اپنی گورنمنٹ سے استدعا کی کہ کار سرکار کے لیے ڈیزل گاڑیاں نہ خریدی جائیں اور عوامی بہبود کے اداروں کے ڈیزل وہیکلز کو سی این جی پر شفٹ کرنے کی تجویز دی گئی۔
8۔ نیشنل گرین ٹربیونل نے ایک نوٹس کے ذریعے دلی اور اس کے نواح میں فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں آگ لگانا منع کر دیا۔
9۔ مفرد /جفت اصول کے تحت عوام کی سہولت کے لیے 1000 نئی بسیں اگلے 3 ماہ میں فراہم کی گئیں اور 9000 سی این جی کیریجز بھی کنٹریکٹ پر حاصل کیے گئے۔
10۔ شہر میں دھول پھیلانے کے جرم میں 38 بڑے پراجیکٹس کو پچاس ہزار روپے تک کا جرمانہ کیا گیا۔
11۔ بھارتی دارالحکومت دلی کے پانچ تھرمل پاور پلانٹس میں سے دو کو فوری بند کر دیا گیا، باقی تین کو بھی بند کرنے کی تجویز دی گئی۔
12۔ سڑک کی دھول کے لیے روڈز کی ویکیوم کلیننگ کرائی جاتی ہے جو بظاہر عجیب بات لگتی ہے لیکن یہ پارٹیکولیٹ میٹر دس (PM10 )جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے کو کم کرنے کا باعث ہے۔
13۔ یہ ذرات سب سے زیادہ ٹرکوں کی وجہ سے ہوا میں شامل ہوتے ہیں، اس لیے شہری حکومت نے رات 11 بجے سے پہلے ٹرک کا شہر میں داخلہ منع کر دیا ہے۔کھلے ٹرک میں ریت، مٹی، بجری اور سیمنٹ ٹرانسپورٹ کرنے کی بجائے اگر بند کنٹینر استعمال کیے جائیں تو یہ بھی ماحولیات کے تحفظ میں خاطر خواہ کردار ادا کریں گے۔
14۔ فیکٹریز /انڈسٹریز کو آلودگی سے بچاؤ کی تدابیر بتائی جائیں اور ان پر عمل کرایا جائے۔
15۔ کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے جلانے یا کسی کھلے میدان میں پھینکنے کی بجائے ری سائیکل کر کے اس سے کھاد اور بجلی بنائی جائے۔
16۔ نئے ائیر کنڈیشنگ یونٹس میں ہائیڈرو کلوروفلورو کاربن استعمال کیا جاتا ہے جو CFCسے 95 فیصد کم اوزون ضائع کرتا ہے۔ یہ پانچ فیصد کا بچ رہنے والا فرق بھی بہت بڑا ہے کیونکہ اے سی تو ہر گھر میں موجود ہیں۔
17۔ تعمیراتی سائٹس کو مکمل پردے میں ڈھانپ کے رکھا جائے تاکہ فضائی آلودگی کے ساتھ ہی ساتھ کسی حادثے سے بھی بچاؤ ممکن ہو۔
18۔ بچوں کے سکول جانے کے لیے سائیکلز کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور ان کے لیے سڑک پر الگ لین مختص کی جائے۔
19۔ شدید فضائی آلودگی کی صورت میں گورنمنٹ سلور آئیوڈایڈ کے بادل سے بارش برسا کر فضا کو صاف رکھے۔ یہ طریقہ چین میں مستعمل ہے حتی کہ چین میں منعقدہ اولمپکس سے پہلے فضا صاف کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا گیا۔
20۔ ہر گھر کے گرد پودوں اور درختوں کی کم از کم تعداد کے لیے قانون سازی کی جائے اور گھر کا مالک اس تعداد کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہو۔
21۔ قانون سازی کی جائے کہ روڈ یا بلڈنگ بنانے کے دوران تعمیراتی سائٹ پر موجود درخت کاٹے نہیں جائیںگے بلکہ انہیں شفٹ کیا جائے گا۔گورنمنٹ کی مدد حاصل ہو تو مناسب مشینری کے استعمال سے ایسا عین ممکن ہے۔
22۔ شجر کاری کے مقابلے ضلعی سطح پر منعقد کرائے جائیں جن میں انعامات اور تعریفی اسناد کے ساتھ شرکاء کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   "بازار حسن" کی سیر کریں ۔حکومتی سرپرستی میں - محمد عاصم حفیظ

عوام کیا کریں؟

گھر یا آفس کی اندرونی ہوا کو مصفا بنانے کے طریقے
1۔ وینٹی لیشن بڑھایے: ہوا کی آمد و رفت کا نظام بہتر کرنے کے لیے صرف کھڑکی یا روشن دان کھولنے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ بیرونی آلودہ ہوا اندر داخل ہونے لگے گی۔ اس کا حل نہایت سادہ ہے۔ کھڑکی، دروازے یا روشن دانوں میں ٹرکل وینٹس(trickle vents ) لگائے جائیں۔ یہ ترچھی درزیں ہیں جو کھڑکی یا روشن دان میں لگا دیے جاتے ہیں اور بیرونی ہوا میں شامل بھاری اور بڑے زرات کو کمرے کا اندر داخلے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس طرح بیرونی آلودگی کو فلٹر کر کے مصفا ہوا اندرونی ہوا میں شامل ہوتی ہے.
2 ۔ قدرتی ائیر کنڈیشنگ: بجلی کے ہوشربا بل دیکھ کر یہ اچھا آئیڈیا لگتا ہے کہ اے سی نہ چلایا جائے، تمام کھڑکیاں دروازے کھول دیے جائیں تاکہ تازہ ہوا اندر آئے لیکن تازہ ہوا باہر بھی موجود نہیں۔ اب کیا کریں۔
٭چھت کا پنکھا استعمال کیجیے۔
٭گرمی کی لہر کو باہر ہی روکنے والی ٹیکنیک ڈبل گلیزنگ کا استعمال کھڑکیوں پر کیجیے۔
٭ایسی مشینری جو دوران استعمال حرارت پیدا کرتی ہیں، کا استعمال کم کر دیجیے مثلاً ہیٹر، جنریٹر، استری، گیزر، اینڈرائیڈ فون، ٹیبلٹس وغیرہ ۔
٭گھر کے باہر سایہ دار درخت لگایے جو گھر کو بیرونی تپش سے بچائیں۔
3۔ انڈور ایئر فلٹرز: ہائی ایفیشینسی پارٹیکولیٹ ائیر(HEPA) یہ ایک مکینیکل فلٹر ہے، اس میں ایک باریک جالی ہوتی ہے جو ہوا میں موجود ذرات کو فلٹر کرتی ہے، عام گھریلو اے سی میں موجود فلٹر 10.0 مائیکرون سائز تک کے ذرات چھان سکتا ہے لیکن ہیپا فلٹر اس سے بھی چھوٹے ذرات مثلا زردانہ،تمباکو کا دھواں، کیمیائی اجزا،گرد اور جانوروں کے جسم سے جھڑی خشکی تک کو چھان لیتا ہے۔ یہ مختلف سائزز میں آتا ہے اور کمرے کے سائز کے مطابق سینٹرل ائیر کنڈیشنگ یا پورٹ ایبل حالت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایمزون پر دستیاب ہے۔
4۔آلودگی کی وجہ ختم کیجیے: اضافی نمی، پردوں یا قالین میں گردو غبار کا جمع ہونا، تمباکو نوشی، پینٹ ، ڈٹرجنٹس، تیزاب وغیرہ گھر کے اندرونی ماحول کو آلودہ کرنے کا باعث ہیں۔ جتنا ممکن ہو ان سے بچیے۔ یاد ہے نا صفائی نصف ایمان ہے۔
5۔ بیز ویکس کینڈل: عام موم بتی پٹرولیم پراڈکٹ ہے جو جلنے پر پٹرولیم کی زہریلی بائی پراڈکٹس ہوا میں شامل کرتی ہے۔شہد کے چھتے سے حاصل کیا جانے والا موم محفوظ ہے اور اس سے بنائی جانے والی موم بتی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ہوا کو آئیونائز کر کے اسے زہریلے اجزا سے پاک کرتی ہے۔ زیادہ دیر تک جلنے اور کم گھلنے کی وجہ سے کم خرچ بالا نشین بھی ہے۔
6۔ نمک کے لیمپ: گلابی نمک سے بنائے جانے والے لیمپ نہ صرف آرائش میں استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی ہوا کو آئیونائز کر کے اسے صحت بخش بناتے ہیں۔ اس لئے اسٹور میں چھپا کر رکھے نمک کے لیمپ کو آج ہی نکال کر جھاڑ پونچھ کر اس سے فائدہ اٹھانا شروع کیجیے۔
7۔ایکٹیویٹڈ چارکول: اگرچہ اس کا استعمال پاکستان میں کم ہے لیکن فش ایکوریم اور آرائشی آتش دانوں میں عام کوئلے کی جگہ اسے ہی رکھا جاتا ہے۔ اس کے فلٹرز بڑے شہروں میں ہوم امپروومنٹ شاپس یا ایمزون سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ہوا میں موجود زہریلے اجزا کے لیے انتہائی جاذب ہے اور آکسیجن سے بھرپور بھی۔
8۔ انڈور پلانٹس: ہوا کو صاف کرنے والی قدرتی خوبصورت چھلنیاں قریبی نرسری سے گھر لایے۔مثلاً ربڑ پلانٹ، منی پلانٹ یا لیڈی پام. گھر کے حسن اور گھر والوں کی صحت بڑھایے۔
9۔کار کا استعمال کم کریں۔
10۔ میٹرو استعمال کریں۔
11۔ سائیکل چلائیں۔
12۔ کھلی فضا میں کچھ مت جلائیں۔
13۔ توانائی کی ضروریات کے لیے سولر پینل لگوائیں۔
14۔ دو پہیوں والی سواری چار پہیوں والی سواری سے زیادہ آلودگی خارج کرتی ہے، اس لئے اس کا استعمال گھٹائیں۔
15۔فیس ماسک استعمال کریں۔
16۔ روم فلٹرز لگوائیں۔
17۔صحن اور کمروں میں پانی کی پھوار برسائیں۔
18۔پانی کا ضیاع روکیں تاکہ اس پانی کو پراسیس کرکے پائپوں کے ذریعے آپ تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانے والا کوئلے کا ایندھن کم استعمال ہو۔
19۔ بچوں کو سائیکلز پر یا پیدل سکول جانے کی عادت ڈالیں۔ ایک سائیکل سوار جو روزانہ 4 میل کا سفر آفس جانے اور 4 میل آنے کے لیے سائیکل پر طے کرتا ہے وہ سالانہ 900 کلوگرام کاربن ڈائی اکسایڈ کا اخراج بچاتا ہے۔ پس ہر سائیکل سوار قوم کا محسن ہے ۔
20۔اپنے گھر گلی محلے شہر میں پودے لگائیں، اپنے آج اور اپنی اولاد کے کل کے لیے ۔
21 ۔ تین آر (THREE R’s ) کے اصول کو تھامیے: ری ڈیوس، ری یوز، ری سائیکل۔
22۔ گھر کے کوڑے کو دو اقسام میں تقسیم کیجیے: پلاسٹک اور باقی۔ پلاسٹک کا کوڑا کباڑی کو دیجیے، کیش کمایے اور فضا بچایے۔
23۔ کوڑا ڈسٹ بن میں پھینکنے کی عادت اپنایے، شاہراہوں، میدانوں یا ندی نالوں کو گندا مت کیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابا جی - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

فضائی آلودگی ماپنے کا پیمانہ
ائیر کوالٹی انڈیکس AQI ایک ایسا نمبر ہے جو حکومتیں عوام کی تفہیم کے لیے استعمال کرتی ہیں تاکہ بتایا جا سکے، ابھی ہوائی آلودگی کتنی ہے اور مستقبل میں کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
AQI…
0-50=GOOD اچھا
51-100=MODERATE درمیانہ
100-200=UNHEALTHY مضر
101-300=VERY UN HEALTHYبہت مضر
301-500= HAZARDOUS خطرناک
500+ = EMERGENCY ایمرجنسی
پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں اگست 2017 کا ائیر کوالٹی انڈیکس 77.1 ہے جسے ماڈریٹ یعنی درمیانے میں رکھا جائے گا لیکن انسانی صحت کے لیے یہ بھی خطرناک یعنی سرخ بتی جلا چکا ہے۔

سانس لینے کیلئے چین میں بوتل بند تازہ ہوا بکتی ہے
بیجنگ میں سموگ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا تو ایک کینیڈین کمپنی نے ڈالر کمانے کا سوچا۔ کمپنی نے منرل واٹر کی طرز پر بوتل میں بند تازہ ہوا بیچنی شروع کردی۔ کمپنی کے مطابق وہ پہاڑوں کی اونچائیوں پر اپنے کینز میں دباؤ کے ذریعے تازہ ہوا بھرتے ہیں۔ جار کی قیمت اس کے سائز کے حساب سے 10 سے 60 ڈالر تک ہو تی ہے۔ سب سے کامیاب سائز کا جار بانف ائیر 3 (BaanfAir3) ہے جس میں 3 لٹر ہوا بھری ہوتی ہے۔ ایک جوان انسان کے سانس کی رفتار 12 سے 20 سانسیں فی منٹ ہے، اس 3 لٹر کے جار میں 80 سانسیں قید ہیں جن کی قیمت 19 ڈالر ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے:’’ہم اپنے صارف کو ویسا سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں جیسا سانس لینے کا حق ہے۔ گردوغبار، شہری آلودگی، بدبو یا خوشبو سے پاک تازہ سانس۔ چین کے شہری علاقوں میں تازہ سانس ایک مہنگی عیاشی ہے جو ہر کسی کے بس میں نہیں‘‘۔

اس کمپنی ’وائٹیلیٹی ائیر‘ ( Air Vitality ) کا قیام ایک مزاح کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ ادارے کے شریک چئیر پرسن موسس لیم نے بتایا کہ موسس اور ٹرائے پے کی( شریک چئیرپرسن) نے2014 ء میں پلاسٹک بیگ میں ہوا بھر کر نصف ڈالر میں ای بے(آن لائن کمپنی) میں بیچنا شروع کی، بالآخر ایک روز ایک بیگ 160 ڈالرز میں بک ہی گیا۔ ادارے کے ایک نمائندہہیریسن وانگ کے مطابق ہماری گاہک امیر چینی خواتین ہیں جو صاف ہوا سے بھرے جار اپنی سہیلیوں کے لیے تحفتاً خریدتی ہیں،کچھ نائٹ کلبز بھی ان جارز کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

2013 ء میں بھی ایک کروڑپتی چن گانگ بیائو نے 3 دن میں تازہ ہوا کے 30 لاکھ کین بیچے۔ اس کے مطابق ’وہ چین کی آلودگی کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔ میں شہر کے میئر اور بڑے اداروں کے سربراہان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف جی ڈی پی بڑھانے پر توجہ مرکوز مت رکھیں۔ ہمارے بچوں، ہمارے بچوں کے بچوں اور ہمارے ماحولیاتی نظام کی قیمت پر بھاری سرمایہ کاری مت کیجیے‘۔

بلاشبہ دورحاضر کا چین اس زبردستی کی انڈسٹریلائزیشن کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے لیکن اس نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا ہے اور انہیں سدھارنے کا آغاز کر چکا ہے۔ حال ہی میں کوئلے کی کھپت میں واضح کمی اس کا واضح ثبوت ہے۔ ان کی معاشی ترقی نے کوئلے کے استعمال سے توبہ کرلی ہے۔ اگرچہ منزل دور ہے لیکن سفر جاری ہے۔ اب اگرہم نے بھی اپنے ملک سے سانس لینے کے لئے تازہ ہوا باقی نہ بچائی تو دو ہی آپشنز بچیں گے، زہریلی ہوائوں میں مرجائیں گے یا پھر تازہ سانسیں ڈالرز میں خریدناپڑیں گی۔کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اس احمقانہ نظریے کو ابھی سے رد کر دیں کہ ملک کے ایک حصے سے تازہ سانس قید کر کے دوسرے حصے کو بیچی جائیں۔

فضائی آلودگی دور کرنے والے مصنوعی درختزہریلی گیسز اور کاربن سے بننے والے ہیرے
ایک ڈچ آرٹسٹ نے فضائی آلودگی دور کرنے والے گنوسی درخت یا ٹاور تیار کیے ہیں جو ہوا میں سے زہریلی گیسز اور کاربن کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں جبکہ اس جذب شدہ کاربن کو ہیروں اور قیمتی پتھروں میں بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان پتھروں کو جیولری میں جڑ کر بیچا جاتا ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی سے مزید مصنوعی درخت لگائے جاتے ہیں۔ ڈچ ڈیزائنر ڈان روزے گارڈے( Daan Roosegaarde) نے ایک ایسا پون مصفا یا ہوائی فلٹر تیار کیا ہے جو آج کی شہری فضائی آلودگی’ سموگ‘ کا بہترین حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ہوائی چھلنی میں جو بھی زر پھنستا پے، اسے نفیس زیور کی شکل دے دی جاتی ہے۔

چینی دارالحکومت بیجنگ میں سموگ اپنی بدترین شکل میں موجود ہے لیکن امریکہ میں بھی صورتحال کچھ اچھی نہیں۔ زیادہ تر شہروں میں ہوا کا معیار بدتر ہے۔ امریکن لنگ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق 10 میں سے 4 افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں کی فضا میں ذرات یا اوزون کی مقدار مضر صحت کا نشان چھو رہی ہے۔

ڈان روزے گارڈے نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھانی اس نے تین سال کی تحقیق اور محنت سے ایک شش جہتی ہوائی فلٹر تیار کیا جس کی لمبائی7 میٹر یعنی 23 فٹ ہے۔ ٹاور یا مصنوعی درخت کا بالائی حصہ سموگ کے لیے ویکیوم کلینر کا کام کرے گا اور اس کے وینٹس صاف ہوا بیرونی فضا میں خارج کریںگے ۔ یہ ٹاور ایک گھنٹے میں 1400 واٹس توانائی استعمال کرتے ہوئے تیس ہزار کیوبک میٹر ہوا کو صاف کرے گا۔

کک سٹارٹر کے مطابق سموگ فری ٹاور آغاز میں ہلکے مثبت کرنٹ سے چارج کیے جانے پر ہوا میں مثبت آئین بکھیر دے گا یا مثبت آئین گرد کے مہین زرات کو اپنے ساتھ چپکا لے گا۔ دوسرے مرحلے میں مقابل الیکٹروڈ کی منفی چارج والی سطح اس گرد آلود مثبت آئین کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔ گرد کے یہ ذرات ٹاور میں جمع ہو جائیںگے۔ اس طریقہ کار سے گرد کے مہین ترین ذرات جو عام فضائی فلٹرز سے بچ نکلتے تھے وہ بھی قید کر لیے جائیںگے۔

روزے گارڈے کے مطابق یہ طریقہ نہ صرف سادہ اور کارآمد ہے بلکہ اس ٹاور کا فائدہ یہاں تک نہیں رہتا۔ قیدشدہ کاربن ذرات کو دباؤ کے ذریعے ننھے منے قیمتی پتھروں مثلاً ہیروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جنہیں نفیس زیورات میں جڑ کر بیچا جاتا ہے۔ ایک ننھا ہیرا قریباً 1000 کیوبک میٹر ہوا کو مصفا کرنے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ روزے گارڈے کا پہلا ٹاور روٹرے ڈیم میں نصب کیا گیا لیکن ڈیزائنر کا ارادہ اپنے ٹاور کو بیجنگ، میکسیکو، پیرس اور لاس اینجلس تک لے جانے کا ہے۔ اس ٹاور کے فائدے اپنی جگہ لیکن اس کے اخراجات ، توانائی کا خرچ اور یہ کمی کہ یہ پہلے سے موجود ہوا کو صاف کرتا ہے، قدرتی اشجار کی مانند نئی آکسیجن تیار نہیں کرتا۔ اس کے فائدے پر سوالیہ نشان ضرور ہیں لیکن ذرا سوچیے صاف تازہ ہوا اور نازک جیولری ایک ساتھ.۔

فضائی آلودگی کے دو بڑے اسباب
1۔گرین ہائوس گیسز
گرین ہائوس گیسز کے بڑے ذرائع تھرمل پاور پلانٹس، گاڑیاں، فیکٹریز/انڈسٹریز، کوڑے کے ڈھیر اور ائیر کنڈیشنرز ہیں۔

2۔ پارٹیکولیٹ میٹر یا معلق ذرات
ذرات کے بڑے ذرائع تعمیراتی کام ،گاڑیاں، پاور پلانٹس، فیکٹریاں /انڈسٹریز،جلتا کوڑا، سڑک پر اڑتی دھول اور ٹرانسپورٹ ہیں۔
100 کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں ایک پٹرول انجن 22 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتا ہے جبکہ اسی فاصلے میں ایک سی این جی گاڑی 16.3 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتی ہے جو 21 فیصد کم اور اہم فرق ہے لیکن مسئلے کا مستقل اور اصل حل نہیں۔ اس کا بہترین حل الیکٹرک کار / رکشہ ہے۔ اس تناظر میں دو بڑے پڑوسی ممالک میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے جو اقدامات کئے گئے، راقم نے ان کا جائزہ لیا اور انہیں تجاویز کی صورت میں حکومت اور عوام کے کرنے کے کاموں میں تقسیم کر کے ترتیب سے لکھا ہے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.