ماحول - ریاض علی خٹک

کیا یہ دنیا انسان کے لیے ہے؟ یا انسان دنیا کے لیے؟ مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا انسان کے لیے ہے. انسان دنیا کےلیے نہیں ہے. آج دنیا میں انسان کے علاوہ کچھ بھی کم کردیں، انسان کی کسی نہ کسی ضرورت کو بلاواسطہ یا بالواسطہ فرق پڑ جاتا ہے. ہاں انسان آتے ہیں جاتے ہیں. دنیا کے کاروبار کو کچھ فرق نہیں پڑتا.

اللہ رب العزت نے دنیا بسائی، اس دنیا کو انسانی ضروریات سے آراستہ کیا. اس کی ایک ترتیب بنائی. یہاں چرند بھی ہیں، پرندے بھی. یہاں حشرات بھی ہیں قسم ہا قسم کے پودے بھی. یہاں ندی نالے دریا سمندر بھی ہیں اور یہ پانی آبی مخلوق سے آباد بھی ہے. اس کارخانہ قدرت میں انسان کو بھیجا گیا ہے.

قدرت نے اپنے کارخانہ قدرت کو صرف آباد نہیں کیا. اسے ایک صاف ستھرا سسٹم دیا. ہم بطور مسلمان صفائی کو نصف ایمان کہتے ہیں. اللہ رب العزت نے اس صفائی کے لیے اپنے کارخانہ قدرت میں نظام رکھا ہے. یہ ری سائیکلنگ و ڈی کمپوزیشن کا نظام ہے. کسی جنگل بیاباں میں چلے جائیں. ترتیب فطرت کی ہوگی، لیکن یہ صاف ستھری ہوگی. درخت سے گرا پتہ بھی ضائع نہیں جاتا. ہر وہ چیز جو کسی ایک سے زائد ہوجائے وہ دوسرے جی کی خوراک بن جاتی ہے. خوراک نہ بنے تب بھی وقت اسے برباد نہیں کرتا. اگلے وقت کی آبادی کی بنیاد بناتا ہے.

کہیں جانور مر جائے تو کسی چیز کی خوراک بن جاتا ہے. پتہ نہیں کہاں کہاں سے قسم قسم کے کیڑے آکر کچھ دنوں میں اس کو چٹ کر جاتے ہیں. کسی صحرا میں کوئی جانور لید بھی کرے تو اس بیاباں میں ایک کیڑا نمودار ہوکر اسے گیند کی طرح گول گول کر کے لڑھکاتا نکل جاتا ہے. گرے ہوئے پتوں پر کیڑے پلتے ہیں. ان کیڑوں پر پرندے پلتے ہیں. یہ باہمی ربط کا عظیم الشان نظام ہے جس میں فوج در فوج صفائی کرنے والی ٹیمیں ہیں، چاہے لکڑی کی دیمک ہو کہ مردار خور گدھ، یہ سب اپنا کام کیے جاتے ہیں.

حضرت انسان جس کے لیے یہ دنیا بسائی گئی، یہ اس کا کچھ وقت کا گھر ٹھہرا. اس کی داستان الگ ہے. شروع میں جب تک فطرت کے قریب تھا، جسے آج عرف عام میں ہم غیر تہذیب یافتہ دور کہتے ہیں، یہ اپنے ماحول میں رچا بسا تھا. اس کی ضروریات بھی اسی ماحول سے پوری ہوتی، اور اس کے استعمال اور طرز زندگی کے بقایا جات بھی ماحول سے مطابقت رکھتے تھے.

آج تہذیب کا دور کہلاتا ہے، تعلیم اور تمدن کا دور کہلاتا ہے، ترقی کا دور کہلاتا ہے، لیکن یہ کیسی ترقی ہے، یہ کیسی تہذیب ہے جس میں اپنی دنیا کو ہم نے کچرا کنڈی بنا دیا ہے. ایسا کچرا جو ماحول دوست ہی نہیں. جس کی ڈی کمپوزیشن صدیاں لے گی. یہ پلاسٹک کے بیگ، یہ پلاسٹک کی بوتلیں، کنکریٹ و سریے کے پہاڑ، ایٹمی فضلہ جات، فضاؤں میں اڑتا دھواں سمندر بھی بھر رہا ہے، اوپر اوزون کی لہروں کو بھی چیر رہا ہے اور زمین کا کونا کونا بھی بھر رہا ہے. جنگل کٹ رہے ہیں، جنگلی حیات سمٹ رہی ہے، آبی حیات آلودگی سے پریشان سمٹ رہی ہے.

کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ یہ کیسی تہذیب ہے؟ یہ کیسی ترقی ہے؟ ہم اپنا یہ بسیرا یہ مسکن کل آنے والی نسلوں کے لیے کس حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ یہ سموگ میں لپٹے شہر، یہ کچرا کچرا آبادیاں، کنکریٹ کے جنگل جہاں جنگلی حیات اب صرف چڑیا گھروں میں کھونے کھدروں میں سمٹے جی رہے ہیں. کیا دنیا پہلے ایسی تھی؟ تہذیب تو کرائے کے گھر کو بھی آنے والے مکینوں کے لیے صاف چھوڑتی ہے کہ اسی سے جانے والوں کی تہذیب کا پتہ چلتا ہے.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.