دبئی کیسا ہے؟ میں نے کیا دیکھا؟ نیر تاباں

بچوں کو بہت شوق ہوتا ہے بڑوں کو کاپی کرنے کا، اور یہ شوق کڈزینیا میں پورا کیا جا سکتا ہے، جو ہمارا اگلا پڑاؤ ہے۔ دبئی مال کے اندر بسا ہوا یہ چھوٹا سا شہر بچوں کے لئے مضصوص ہے جہان وہ آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ والدین چاہیں تو بچوں کے ساتھ رہیں، چاہیں تو پیرنٹس لاؤنج میں آرام کریں۔ ہاں، چھوٹے بچوں کے والدین کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

کڈزینیا کی اپنی کرنسی ہے جسے وہ کڈزو کہتے ہیں۔ داخل ہوتے وقت آپکو 50 کڈزوز کا چیک ملتا ہے جسے کڈزینیا شہر کے بینک سے ہی کڈزو کرنسی میں ایکسچینج کروایا جاتا ہے۔ مزید پیسے کمانے کے لئے بچوں کو کام کرنا پڑتا ہے۔ 80 سے اوپر جاب آپشنز ہیں جس میں سے بچے چناؤ کر سکتے ہیں۔ ڈینٹسٹ، ڈاکٹر، کسٹم آفیسر، فائر فائٹر، پائلٹ، اور بہت سی اور۔ بچوں کو پہلے وہ جاب سکھائی جاتی ہے اور باقاعدہ یونیفارم پہن کر اسے پرفارم بھی کرتے ہیں۔ ہر جاب 15 منٹ کی ہے، اور آخر میں بچوں کو انکی "تنخواہ" دی جاتی ہے۔ اسے خرچ کہاں کرنا ہے، اس کا فیصلہ بھی بچے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔

کیا کام کریں، پیسے کیسے کمائیں، کہاں خرچ کریں، کتنی بچت کریں۔۔ ان سارے سوالوں پر ننھے دماغ سوچتے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ کڈزینیا میں صرف مستی مزہ ہی نہیں بلکہ بچوں میں احساسِ ذمہ داری، اعتماد، اور قوتِ فیصلہ بڑھانے کے لئے کافی کچھ ہے۔ زیرِ نظر تصویر میں احمد ایک ذمہ دار ڈینٹسٹ ہیں۔


بہت سی ماؤں کی طرح میں بھی احمد کو بازار کے جوسز اور فلیورڈ ملک نہیں لے کر دیتی بلکہ گھر میں جوس، ملک شیک اور سمودی بنا کر دیتی ہوں۔ جب وہ فلیورڈ ملک بنانے کی "کمپنی" میں کام کرنے گئے تو مجھے لگا کہ وہ بہت امپریس ہو کر آئیں گے اور مجھے نئے سرے سے سمجھانا ہو گا۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے خود دیکھا کہ یہ لوگ آرٹیفیشل فلیور ڈالتے ہیں اور ماما فریش فروٹ کے ساتھ "ہیلتھی" ملک شیک بنا کر دیتی ہیں۔ چلو، یہ مشکل تو ٹلی!


یونیفارم کا کوٹ پہنے فرسٹ ایڈ کے بارے میں فٹا فٹ کچھ سیکھا اور پھر ایمبولینس میں چکر لگانے چلے گئے۔


ٹریفک پولیس! نہ صرف ٹریفک کا خیال رکھنا بلکہ لوگوں سے یہ کہنا بھی کہ ہم آپکی حفاظت کے لئے یہاں ہیں۔ کوئی مشکل ہو تو اس اس نبمر پر کال کریں۔ باقی بچوں نہ یہ سب کیا، ہمارے سپوت تو بس لائٹ ہی گھماتے رہے۔


چاکلیٹ بنانے سے بڑھ کر کوئی اور 'مزے کا' کام ہو بھی کیا سکتا ہے بھلا؟ بالخصوص جب آپ کو کڈزو کرنسی کے ساتھ ایک چاکلیٹ بھی مل جائے؟!


سٹرابری فلیور پرفیوم سنا ہے کبھی آپ نے؟ ہم نے نہ صرف سنا ہے، بلکہ بنایا بھی اور ساتھ لائے بھی۔ یہاں بھی کڈزو کے ساتھ بچوں کو چھوٹی شیشی پرفیوم کی دی جاتی ہے۔ ہم نے وہ پرفیوم اپنے 'میموری باکس' میں رکھ دیا ہے. کافی کچھ اور بھی کیا، کچھ کی تصویریں لیں، کچھ کو جانے دیا۔ فائر فائٹر کی جاب کے لئے جانا چاہتے تھے لیکن اب آہستہ آہستہ تھکن ہو رہی تھی اسلئے باہر نکلنے کا سوچا۔ اندر آتے وقت آپکی کلائی پر ایک بینڈ پہنایا جاتا ہے جسکا مخصوص نمبر آپکے ساتھ آئے بچوں کے ساتھ میچ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے گم ہونے کے چانسز نہیں اور کڈزینیا کے اندر والدین بچوں کو بےفکری سے چھوڑ کر خود پیرنٹس لاؤنج میں بیٹھ سکتے ہیں۔ باہر جاتے وقت وہ بینڈ اتار لیا جاتا ہے اور دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتا۔ یعنی آپ سوچ سمجھ کر کڈزینیا سے باہر آئیے، کہ انہی پیسوں میں آپ دوبارہ اندر نہیں جا سکتے.


دبئی مال کے اندر سے ہی برج خلیفہ جایا جا سکتا ہے۔ برج خلیفہ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جسکی اونچائی 2716 فٹ ہے۔ جن دنوں اسکی تعمیر عروج پر تھی، بارہ ہزار مزدور روزانہ کام کرتے تھے، تب کہیں 2004 سے شروع ہوا 2010 میں مکمل ہوا۔ برج خلیفہ کے کل 163 فلورز ہیں۔ ٹاپ فلور سے باہر دیکھنے پر آپ 360 کے اینگل پر دور دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی الگ سا تجربہ ہوتا ہو گا۔ ٹاپ فلور پر جانے کا ٹکٹ 350 درہم تھا، اور مجھے ساتھ احمد کو بھی لے کر جانا پڑتا۔ 700 درہم اپنے آپ میں جدا اس تجربے کے لئے شاید زیادہ نہ ہوں لیکن مجھے یہی لگا کہ اگر آخری دن پیسے بچے تو پھر آ جاؤں گی۔ اگر چاہیں تو 148 فلور پر بھی رک سکتے ہیں جسکا ٹکٹ 125 درہم تھا۔ خیر، ہم نے برج خلیفہ دور سے ہی دیکھا۔ اچھا، یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اتنا اوپر جانے میں لفٹ کتنا وقت لے لے گی تو بتاتی چلوں کہ برج خلیفہ میں58 لفٹس لگی ہیں جنکی سپیڈ 10 میٹر فی سیکنڈ ہے اور آپ کو گراؤنڈ فلور سے163 فلور تک محض ڈیڑھ منٹ میں پہنچا دیتی ہیں۔ ہے ناں کمال!

برج خلیفہ کے ساتھ ہی نیچے 30 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ڈانسنگ فاؤنٹین ہیں جنہیں دبئی فاؤنٹین کہا جاتا ہے۔ موسیقی کی دھن پر 'رقص' کرتے یہ دنیا کے دوسرے بڑے ڈانسنگ فاؤنٹین ہیں۔ 25 مختلف رنگوں کی 6600 لائٹس سے مزین یہ فوارے 500 فٹ اوپر تک پانی پھینک سکتے ہیں۔جب فوارے رقص کرتے ہوں تو برج خلیفہ پر جلنے والے برقی قمقمے بھی جھلمل جھلمل چمکنے لگتے ہیں۔ رقص رک جائے تو برج پر روشنیاں بھی بند ہو جاتی ہیں۔ جب فواروں کا رقص شروع ہونے میں کچھ دیر باقی ہو تو برج پر بلب جلتے بجھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح دور سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آیا ابھی فوارے چل رہے ہیں یا رک چکے، یا کب شروع ہونے والے ہیں۔

Posted by ‎نیر تاباں‎ on Thursday, October 19, 2017

برج خلیفہ کے ساتھ ہی نیچے 30 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ڈانسنگ فاؤنٹین ہیں جنہیں دبئی فاؤنٹین کہا جاتا ہے۔ موسیقی کی دھن پر 'رقص' کرتے یہ دنیا کے دوسرے بڑے ڈانسنگ فاؤنٹین ہیں۔ 25 مختلف رنگوں کی 6600 لائٹس سے مزین یہ فوارے 500 فٹ اوپر تک پانی پھینک سکتے ہیں۔ جب فوارے رقص کرتے ہوں تو برج خلیفہ پر جلنے والے برقی قمقمے بھی جھلمل جھلمل چمکنے لگتے ہیں۔ رقص رک جائے تو برج پر روشنیاں بھی بند ہو جاتی ہیں۔ جب فواروں کا رقص شروع ہونے میں کچھ دیر باقی ہو تو برج پر بلب جلتے بجھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح دور سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آیا ابھی فوارے چل رہے ہیں یا رک چکے، یا کب شروع ہونے والے ہیں۔


آپ نے چھتریاں نوٹ کیں؟ یہ وہی رنگ برنگ چھتریاں ہیں جنہیں پہلے ہم نے اوپر سے دیکھا تھا۔ یہ مال کا گراؤنڈ فلور ہے اور اب ہماری واپسی ہے۔


دبئی کینال، یہاں آنے کا مقصد تو بہتی کینال کی رنگا رنگ دھار دیکھنا تھا لیکن وہ رات آٹھ سے دس کے درمیان چلتی ہیں اور ہمیں معلوم نہ تھا۔ خیر پانی میں روشنیوں کا عکس تو آنکھوں کو بھلا لگتا ہی ہے، دوسرا یہ کہ یہاں خاموشی تھی جو پورے دن کے شور شرابے کے بعد کانوں کو اچھی لگ رہی تھی۔ گھر جاتے جاتے بس یونہی کچھ دیر یہاں رک کر چہل قدمی کی اور پھر گھر کو چلے۔


وائلڈ وادی دنیا کے ٹاپ 20 بہترین واٹر پارکس میں سے ایک ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا واٹر پارک تو نہیں لیکن اتنے رقبے پر اتنی سلائیڈز اور رائیڈز دنیا کے کسی اور واٹر پارک میں نہیں ہیں۔ وائلڈ وادی واٹر پارک جہاں سب رائڈز پانی والی ہیں، کچھ تو ہم جیسے نازک دل والے جھیل سکتے ہیں، اور کچھ سلائیڈز پر جانے کے لئے بہت دل گردہ چاہیے۔ سب سے اونچی سلائیڈ 390 فٹ اونچائی پر ہے جسکی سپیڈ قریباً 50kmph ہے۔ یہ دنیا کا پہلا واٹر پارک ہے جو ISO سرٹیفائیڈ ہے۔ یعنی کوالٹی اور صفائی کے اعتبار سے بہترین۔ یہاں 41 مختلف قومیتوں کے لوگ کام کرتے ہیں جنہیں ہر ماہ چھ گھنٹے کی ٹریننگ دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد دبئی میں اور واٹر پارکس کھلنے کے باوجود ابھی تک معیار کے اعتبار سے کوئی وائلڈ وادی تک نہیں پہنچ سکا۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ وزٹ کئے جانے والے واٹر پارکس میں سے ایک ہے. ہم پہنچے تو کھانے پینے کی چیزیں انہوں نے باہر ہی رکھوا لی تھیں، شاید اسلئے کہ لوگ اندر موجود ریسٹورینٹس سے ہی کھائیں۔ یا شاید صفائی یا سیفٹی کی وجہ ہو، مجھے پوچھنا چاہیے تھا۔ ٹکٹ کے ساتھ ہی وہ آپ کو پارک کا نقشہ بھی تھما دیتے ہیں جس سے بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ بس نقشہ نکالیں اور دیکھ لیں کہ اب کس رائیڈ پر جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دبئی کا منفرد اعزاز


اس بڑے سے splash کا مجھے سب سے زیادہ مزہ آیا۔ ہر کچھ دیر میں ایک بہت بڑا سا ڈول جو اوپر رکھا تھا، وہ بھر جاتا اور اس کے بعد ڈول سے سارا پانی نیچے الٹا دیا جاتا۔ پہلے میں نے نوٹ ہی نہیں کیا، ہم یونہی پانی میں کھیل رہے تھے اور اتفاق سے میں یہاں کھڑی تھی جب اوپر سے اتنااا سارا پانی آیا۔ ایک لمحے کو تو جیسے سانس ہی رک گئی کیونکہ انتہائی غیر متوقع تھا۔ لیکن پھر تو ایسا مزہ آیا کہ ہم کچھ دیر سلائیڈز لیتے، پانی میں کھیلتے، اور پھر واپس یہاں کھڑے ہو کر انتظار کرتے کہ اب پانی آیا اور اب آیا۔ ابھی بھی احمد یہی کر رہے ہیں۔ منہ ہاتھوں میں چھپا کر انتظار ہو رہا ہے۔


وائلڈ وادی میں بہت کم تصاویر لی گئیں کیونکہ ایک تو پانی میں فون لے کر جانے کا مسئلہ، دوسرا ہمیں اس قدر مزہ آ رہا تھا کہ ہم بس کھیل میں مصروف تھے۔ کافی سارا وقت تو احمد یہیں پول میں کھیلتے رہے۔ جیسے جیسے آگے جاتے جائیں، پانی گہرا ہوتا جاتا ہے۔ گو کہ لائف گارڈز ساتھ ہی کھڑے تھے لیکن رش تھا اس لئے اس کو گہرے پانی میں جانے سے منع کر دیا۔ خیر، یہاں بھی بہت مزہ آیا۔ کچھ دیر یہیں بیٹھنے کے بعد میپ کھول کر دیکھا کہ کس طرف کا رخ کرنا چاہیے۔ اس پول کی پچھلی طرف جائیں تو ایک اور پول تھا جہاں سے آپ 8 کی شکل کی ٹیوب میں بیٹھتے ہیں۔ اکیلے بندے کے لئے O کی شکل والی ٹیوب تھی جیسی ہوا کرتی ہے۔ احمد اور میں بھی دو بندوں والی ٹیوب لے کر بیٹھے جس پر پیچھے میں اور آگے احمد تھے۔ ٹیوب پانی کے بہاؤ پر آہستہ آہستہ چلتی جا رہی تھی۔ ہر کچھ فاصلے پر لائف گارڈز موجود تھے۔ کبھی ہم کسی پل کے نیچے سے گزرتے، کبھی آبشار سائید پر بہہ رہی ہوتی تو اس سے بچتے ہوئے آگے بڑھتے۔ شاید پندرہ منٹ کے بعد ٹیوب ایک واٹر سلائیڈ پر گئی جو بہت زیادہ ترچھی نہیں تھی، پانی کا بہاؤ بھی مناسب تھا۔ سلائیڈ کبھی اس طرف مڑتی، کبھی تھوڑی نیچے ہوتی، اور اسکے ساتھ ساتھ ٹیوب پر بیٹھے ہم بھی۔ سپیڈ اتنی کم نہین تھی کہ بور ہو جائیں، نہ اتنی تیز کہ برداشت نہ ہو۔ سلائیڈ پر تیزی سے آگے بڑھتے احمد اور میں شوقیہ چیخیں مار رہے تھے۔ آگے والے لوگ آگے نکل چکے تھے، پیچھے والے ابھی دور تھے۔ بہت مزہ آ رہا تھا۔

اور پھر یہ ہوا کہ سلائیڈ اوپر سے بھی بند ہو کر ایک سرنگ کی شکل میں ہو گئی۔ اب پانی کے تیز بہاؤ پر ہم بہہ رہے ہیں، اندر گھپ اندھیرا ہے، سلائیڈ جیسے پہلے کبھی مڑتی تھی، کچھی ہلکا سا نیچے ہوتی، ویسے ہی تھی لیکن دل بند ہو رہا تھا۔ سب کلمے درود یاد آ گئے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ بمشکل ایک منٹ کے لیے ہم اس بند اندھیری سرنگ میں رہے ہوں گے، لیکن خوف کے مارے لگ رہا تھا کہ بہت دیر ہو گئی ہو۔ اس پر بیٹھنے سے پہلے میں نے دو تین بار کنفرم کیا تھا کہ یہ رائیڈ چھوٹے بچے کے ساتھ محفوظ ہے ناں؟ اور تسلی کرنے کے بعد ہی بیٹھی تھی اسلئے اس اندھیری سرنگ میں میری واحد امید یہی تھی کہ جلد سے جلد یہ ختم ہو جائے گی کیونکہ بچے کے دل کی حالت اس وقت کیا ہو، مجھے معلوم نہیں۔ میں نے بس ایک دو بار اس کو اتنا کہا، آپ ڈر تو نہیں رہے ناں؟ یہ ابھی ختم ہو جائے گی۔ یقیناً آواز میں وہ اعتماد نہیں تھا جو ایک بچہ اپنی ماں سے امید رکھتا ہے۔ خیر، شکر کیا جب روشنی دکھائی دی اور سلائیڈ سے سیدھے باہر پانی میں آئے۔ اب پھر وہی ہلکورے تھے اور ان پر بہتی ٹیوب۔ سلائیڈ سے نکلتے ہی ایک لائف گارڈ موجود تھا جس نے مجھ سے پوچھا:
Did you get scared?
شاید وہ سبھی سے پوچھتے ہوں، یا شاید میری ہوائیاں اڑی ہوئی دیکھ کر پوچھا ہو۔ میں نے کہا، ہاں میں ڈر گئی تھی۔ کیا آگے اس سے بڑھ کر کچھ ڈرا دینے والا تو نہیں؟ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ یہ آخری تھا، اب کچھ ہی دیر میں ختم ہو جائے گا۔ میں ڈر یوں بھی گئی تھی کہ آپ بیچ رستے اتر نہیں سکتے۔ شروع کیا تھا تو آخر تک مکمل بھی کرنا تھا۔ احمد سے بعد میں پوچھا تو اس نے کہا وہ ہلکا سا ڈرا تھا۔۔ شاید میرا ہی دل زیادہ کمزور ہے۔ مجھے نہیں سمجھ آتا لوگ کیسے اتنے ڈراؤنے جھولے لے لیتے ہیں۔ وہاں ایسی سرنگ والی واٹر سلائیڈز موجود تھیں، جو کہ لمبی تھیں۔ ہماری تو ان چند لمحوں میں ہی جان نکل گئی تھی۔


پانی میں کھیلنے سے بہت تھکن ہو چکی تھی۔ ایک بار تو دل چاہا کہ واپسی ہوٹل کی طرف کی جائے لیکن پھر وقت کم، مقابلہ سخت کے تحت اگلی منزل کی طرف چلے۔ اب ہمیں کریک پارک دبئی جانا تھا جہاں Dolphinarium میں ڈولفن شو ہمارا منتظر تھا۔

Planetarium

جب ہم نے انٹرنیٹ پر ڈولفن شو کی ٹائمنگز دیکھیں تو 3 اور 6 بجے کا شو تھا، بےدھیانی میں یہ خیال ہی نہ کیا کہ وہ ویک اینڈ کی ٹائمنگ تھیں۔ ہم جب پونے تین بجے وہاں پہنچے تو مایوسی ہوئی کہ ابھی شو میں کافی وقت رہتا تھا اور مجھے نہیں پتہ کہ اب اتنی دیر کیا کیا جائے۔سامنے نظر اٹھائی تو children's city نظر آیا۔ وقت گزارنے کے لئے وہیں چلے گئے۔ یہاں جانا تو مکمل طور پر حادثاتی تھا لیکن جو ہوا، بہت اچھا ہوا۔ کریک پارک میں واقع چلڈرن سٹی دبئی کا پہلا ایجوکیشن بیسڈ سٹی ہے جو 2 سال سے لے کر چودہ سال تک کے بچوں کے لئے ہے، اور خلافِ معمول ٹکٹ بھی کافی مناسب قیمت کے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لئے پلے ایریا ہے اور بڑے بچوں کے لئے تو سیکھنے اور ایکسپلور کرنے کے ان گنت مواقع۔ انسانی جسم کی ساخت، آرگن سسٹم، خلا اور سیارے، مقامی اور بین الاقوامی کلچر، اپلائیڈ سائینس اور میتھ، ماحولیات اور نیچر، سبھی کچھ اس ایک چھت کے نیچے۔ مشہور قول ہے “Tell me and I forget, teach me and I may remember, involve me and I learn.”یہاں آ کر واقعی سمجھ آتا ہے کہ بچے کے لئے چیز کو سمجھنا کس قدر آسان ہو جائے اگر اسکو visual demonstration دی جائے اور انوالو کیا جائے۔ اسی ویڈیو میں دیکھیے۔ سورج کے گرد سب سیارے اپنی اپنی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ سب کی شکل، رنگ، سائز، رفتار اور سورج سے فاصلہ۔۔۔ ایک چیز جو تین گھنٹے میں رٹا لگا کر یاد نہ کی جا سکے، وہ اسکو دیکھ کر آرام سے سمجھی جا سکتی ہے۔

Posted by ‎نیر تاباں‎ on Friday, October 20, 2017

جب ہم نے انٹرنیٹ پر ڈولفن شو کی ٹائمنگز دیکھیں تو 3 اور 6 بجے کا شو تھا، بےدھیانی میں یہ خیال ہی نہ کیا کہ وہ ویک اینڈ کی ٹائمنگ تھیں۔ ہم جب پونے تین بجے وہاں پہنچے تو مایوسی ہوئی کہ ابھی شو میں کافی وقت رہتا تھا اور مجھے نہیں پتہ کہ اب اتنی دیر کیا کیا جائے۔ سامنے نظر اٹھائی تو children's city نظر آیا۔ وقت گزارنے کے لئے وہیں چلے گئے۔ یہاں جانا تو مکمل طور پر حادثاتی تھا لیکن جو ہوا، بہت اچھا ہوا۔ کریک پارک میں واقع چلڈرن سٹی دبئی کا پہلا ایجوکیشن بیسڈ سٹی ہے جو 2 سال سے لے کر چودہ سال تک کے بچوں کے لئے ہے، اور خلافِ معمول ٹکٹ بھی کافی مناسب قیمت کے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لئے پلے ایریا ہے اور بڑے بچوں کے لئے تو سیکھنے اور ایکسپلور کرنے کے ان گنت مواقع۔ انسانی جسم کی ساخت، آرگن سسٹم، خلا اور سیارے، مقامی اور بین الاقوامی کلچر، اپلائیڈ سائینس اور میتھ، ماحولیات اور نیچر، سبھی کچھ اس ایک چھت کے نیچے۔ مشہور قول ہے
“Tell me and I forget, teach me and I may remember, involve me and I learn.”

یہ بھی پڑھیں:   دبئی کا منفرد اعزاز

یہاں آ کر واقعی سمجھ آتا ہے کہ بچے کے لئے چیز کو سمجھنا کس قدر آسان ہو جائے اگر اسکو visual demonstration دی جائے اور انوالو کیا جائے۔ اسی ویڈیو میں دیکھیے۔ سورج کے گرد سب سیارے اپنی اپنی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ سب کی شکل، رنگ، سائز، رفتار اور سورج سے فاصلہ۔۔۔ ایک چیز جو تین گھنٹے میں رٹا لگا کر یاد نہ کی جا سکے، وہ اسکو دیکھ کر آرام سے سمجھی جا سکتی ہے۔

Planetarium کے اندر ایک حصہ جہازوں کے لئے مخصوص تھا۔ انجن کیسے کام کرتا ہے، اسکے پراپیلر کیسے کام کرتے ہیں، کیسے پائلٹ کنٹرول روم سے رابطے میں ہوتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سے ویڈیو دیکھیں۔

Posted by ‎نیر تاباں‎ on Friday, October 20, 2017

Planetarium کے اندر ایک حصہ جہازوں کے لئے مخصوص تھا۔ انجن کیسے کام کرتا ہے، اسکے پراپیلر کیسے کام کرتے ہیں، کیسے پائلٹ کنٹرول روم سے رابطے میں ہوتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سے ویڈیو دیکھیں۔


زبان کے مختلف حصوں میں کس جگہ پر کھٹاس محسوس ہوتی ہے اور کہاں سے آپکو میٹھا یا کڑوا ہونے کا پتہ چلتا ہے، اس پر سب نشان لگے ہوئے ہیں۔ احمد فی الحال دانتوں کے بارے میں کچھ غور و فکر کر رہے ہیں۔ اس وقت ہم ہیومن باڈی والے سیکشن میں ہیں۔ انسانی جسم کی ساخت، تمام آرگنز کس طرح کام کرتے ہیں، جسم میں کیا اعضاء کس جگہ ہیں، کیسے ایکسرسائز کرنے سے ہماری ہارٹ بیٹ تیز ہوتی ہے، ہیلتھی ایٹینگ، اور بھی بہت کچھ اس سیکشن میں سیکھنے کے لئے تھا۔


مقامی و غیر مقامی کلچر، مختلف علاقوں کے رہنے والوں کی زبان، پہننے اوڑھنے کا طریقہ، کھانے پینے کا انداز اور انواع و اقسام، وہاں کے موسم کے اعتبار سے وہاں کا رہن سہن۔۔۔ سبھی کچھ یہاں دیکھنے کو ملا۔ چلڈرن سٹی کے تین لیول ہیں۔ تھیٹر میں بڑی سکرین پر ایجوکیشنل ویڈیوز بھی دکھائی جاتی ہیں۔ احمد پچھلے دنوں سیاروں کے بارے میں کافی پڑھ رہے تھے تو سوچا کہ چلو وہ والی ویڈیو دیکھیں گے۔ ویڈیو شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے سٹی میں اعلان کیا جاتا ہے کہ کس سیکشن میں اب ویڈیو دکھائی جانے لگی ہے۔ ہم بھی سیاروں کے متعلق ویڈیو کا اعلان سن کر چلے لیکن رستہ ڈھونڈتے اور پہنچنے میں ایک منٹ اوپر ہو گیا اور دروازہ بند ہو چکا تھا۔ ہمارے کہنے پر بھی انہوں نے دروازہ نہ کھولا۔ ہم وہاں سے واپس نیچے آئے جہاں 'ملک برگر' کے نام سے ایک ریسٹورنٹ تھا۔ نام سے تو لگا کہ شاید 'انڈے والا شامی برگر' بھی ملتا ہو لیکن وہی میکڈونلڈ اور برگر کنگ کے سٹائل کے برگر تھے۔ ذائقہ تو ٹھیک تھا لیکن بیٹھنے کا انتظام اچھا تھا۔ بڑی مسہری اور گاؤ تکیے۔ کھڑکی کے ساتھ بیٹھے تو درختوں کے لمبے ہوتے سائے اور سبزہ نظر آیا۔ دور کہیں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔


شام ہونے کو تھی۔ چلڈرن سٹی کو خیر باد کہا اور کریک پارک میں ہی Dolphinarium کی طرف چلے۔ شو شروع ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا لیکن ٹکٹ بھی لینا تھا اور وہاں تک واک کرنے میں بھی دس منٹ لگ جاتے۔ رستے میں قطار اندر قطار کھجور کے درختوں کے حسن نے روک لیا۔ خیر، تصویر لی اور آگے بڑھے۔

The Dolphin show

یہ ڈالفن شو کی تھوڑی سی جھلکی ہے جسی وجہ سے کریک پارک میں آئے تھے! یہاں کی کوئی تصویر نہیں لی۔ یاں یہ ایک چھوٹی سی ویڈیو ہے، اسے ہی دیکھ کر انجوائے کریں۔ ڈولفن کے ساتھ پول میں جا کر تیر بھی سکتے اور تصویر بھی کھنچوا سکتے ہیں۔ پھر وہی بات! اس کے ٹکٹ کی قیمت کافی زیادہ تھی اسلئے رہنے دیا۔

Posted by ‎نیر تاباں‎ on Friday, October 20, 2017

یہ ڈالفن شو کی تھوڑی سی جھلکی ہے جسی وجہ سے کریک پارک میں آئے تھے! یہاں کی کوئی تصویر نہیں لی۔ یاں یہ ایک چھوٹی سی ویڈیو ہے، اسے ہی دیکھ کر انجوائے کریں۔ ڈولفن کے ساتھ پول میں جا کر تیر بھی سکتے اور تصویر بھی کھنچوا سکتے ہیں۔ پھر وہی بات! اس کے ٹکٹ کی قیمت کافی زیادہ تھی اس لیے رہنے دیا۔


واپسی پر یونہی جمیرہ بیچ پر کچھ دیر رکے۔ گیلی ریت، پاؤں کو چھوتی لہریں، مدہم روشنی اور پورے دن کے ہلے گلے کے بعد پرسکون اندھیرا اور لہروں کی آواز۔۔ بس خاموش رہنے کا دل تھا! احمد کی ہمت کی داد دیجیے جو کپڑے میرے ہاتھ میں تھما کر پانی میں کود چکے تھے۔ میری ایک فرینڈ کہتی تھی کہ بچے چوزوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں نہ گرمی لگتی ہے نہ سردی، نہ ہی تھکتے ہیں۔ احمد کو دیکھ کر اسکی بات یاد آ گئی۔ وہیں بیٹھے برج العرب کی تصویر لی۔ برج العرب دنیا کا تیسرا سب سے اونچا ہوٹل ہے لیکن یہ دنیا کا پہلا ہوٹل ہے جو ہزار فٹ سے اونچا ہے۔ یہ دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلز میں سے ہے جو ایک دن کے 1000 امریکن ڈالر سے لے کر 15000 ڈالر تک لیتے ہیں۔ اس کے چھت کے قریب، زمین سے 689 فٹ اونچائی پر اس کا ہیلی پیڈ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا واحد سیون سٹار ہوٹل ہے لیکن اس میں صداقت نہیں۔ ہوٹل کی انتظامیہ اسے فائیو سٹار ہوٹل ہی کہتی ہے، نہ ہی انہوں نے کبھی خود ایسا کوئی دعوٰی کیا ہے۔ پہلی بار انگلیڈ کی کوئی صحافی یہاں ٹھہرنے آئی تو اس نے واپس جا کر اس کو سیون سٹار ہوٹل کہا، اس کے بعد کئی بار اسے سیون سٹار ہی کہا جانے لگا۔


واپسی پر رستے میں دبئی کینال پر نگاہ پڑی۔ کل پل پر احمد کی تصویر یاد ہے ناں؟ دور سے وہ پل اس طرح دکھائی دیتا ہے۔ کل اس پر نیلی روشنی تھی، آج دیکھا تو سرخ رنگ میں تھا۔ خیر، ہم تو چلے گھر! تھکا دینے والا ایک اور دن اپنے اختتام کو تھا۔ آج کے دن کی تصویریں کم اور یادیں زیادہ تھیں۔ الحمدللہ!

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.