نمازیوں کے مدارج - محمد اشفاق

جس بنک میں آپ کا اکاؤنٹ ہے، اس نے اپنے روزمرہ کے معاملات نبٹانے کے لیے ایک نہایت جدید اور پیچیدہ سافٹ وئیر تیار کر رکھا ہے. اس سافٹ وئیر تک بنک کے تمام ذمہ دار عملے کو رسائی حاصل ہے، مگر سب کی رسائی کا درجہ مختلف ہے. برانچ مینیجر کو جن آپشنز، جن کمانڈز تک رسائی حاصل ہے، وہ کیشئر کو نہیں، اور کیشئر کو جو رسائی حاصل ہے، وہ کلائنٹ ریلیشنز آفیسر کو حاصل نہیں، یعنی اسی ایک سافٹ وئیر پر کام کرنے والے مختلف افراد کا یوزر انٹرفیس الگ الگ ہے. نماز کا بھی یہی معاملہ ہے.

نیت کرنے کی دیر ہے کہ مجھے جسم پہ کھجلی شروع ہو جاتی ہے، میں کبھی کان کھجاتا ہوں تو کبھی کمر، کبھی میں جیب تھپتھپا کر تسلی کرتا ہوں کہ موبائل پاس ہی ہے، کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ کہیں کسی کلائنٹ کی کال نہ آ رہی ہو، یہ سوچ کر میں اپنی سپیڈ بڑھا دیتا ہوں. میرا قیام، رکوع اور سجدہ منٹوں، سیکنڈوں میں نمٹ جاتے ہیں. جلدی جلدی منہ پہ ہاتھ پھیر کر میں مسجد سے باہر نکلتا ہوں، اس اطمینان کے ساتھ کہ ایک فرض سر سے اترا. یہ beginner level ہے. آپ کسی نہ کسی طرح لگے بندھے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، خواہ گزشتہ تیس برس سے آپ نماز ادا کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالات ایسے ہی ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوئے تو آپ پڑے پڑے سینئر نہیں ہوں گے، آپ کا لیول beginner ہی رہے گا. ہاں اس درجے کی بھی فضیلت اتنی ہے کہ مجھ ایسے تارکِ صلوٰۃ اس beginner level کی جوتیوں کے بھی برابر نہیں پہنچتے. یہ فرق جو ہمیں ابھی سمجھ نہیں آتا، آگے جا کر ہم بہت اچھی طرح سمجھ جائیں گے، اللہ ہم سب کو آگے کی تیاری کرنے کی توفیق دے. آمین

کچھ لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ ویسے بہت مضطرب، بہت تیز طرار، بہت بے چین ہوتے ہیں مگر نماز میں داخل ہوتے ہی ان کے اعضاء حالتِ سکون میں آ جاتے ہیں، دلی کیفیت جو بھی ہو، خواہ پہلے لیول جیسی ہی کیوں نہ ہو، مگر وضو اور نماز کے تمام ارکان کو یہ ٹھیک ٹھیک اور سکون کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں. یہ دوسرا درجہ ہے، یہاں بھی آپ فرض کو فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، مگر جس طرح اپنے دنیاوی فرائض کو حتی الامکان ذمہ داری اور احتیاط سے بجا لاتے ہیں، ویسے ہی نماز میں بھی کوشش کر رہے ہیں. آپ کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جاتی. ہر روز، ہفتے میں ایک آدھ بار، مہینے یا سال میں کبھی کبھار اچانک ہی نماز کے دوران آپ پر ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے، دل بھر آتا ہے، آنکھ سے آنسو بہنے لگتے ہیں، گردوپیش سے آپ لاتعلق اور بے نیاز ہو جاتے ہیں، جی چاہتا ہے یہ نماز کبھی ختم نہ ہو. یہ آپ کی اس کوشش کا انعام ہوا کرتا ہے، اس سے کہیں بڑے انعامات آگے آپ کے منتظر ہیں.

اس سے اوپر expert level ہے. یہ وہ خوش نصیب ہیں جو شعوری طور پر اللہ کو حاضر و ناظر جان کر، اپنے دل و دماغ کو حتی الوسع پاک اور متوجہ کر کے اس یقین کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہیں، اور اللہ انہیں دیکھ رہا ہے. ان کے لیے نماز بوجھ نہیں رہتی، انعام بن جاتی ہے. وہ میٹھی کیفیت جس کا اوپر ذکر ہوا، ان پر اکثر ہی وارد رہتی ہے. ان کی نماز فواحش و منکرات اور ان کے درمیان ڈھال بن کر آن کھڑی ہوتی ہے. اس درجے میں آپ کے دنیاوی اعمال آپ کے دین کے تابع ہونے لگتے ہیں، برائیوں سے دامن چھڑانا اور نیکیوں کو اختیار کرنا آسان ہونے لگتا ہے، مگر زیادہ خوش مت ہوں، اس درجے کی آزمائشیں بھی سخت ہیں، یہاں آپ پر شیطان اور اس کی ذریت زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے. وہ جو دلوں میں وسوسے پیدا کرتے ہیں، خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، آپ کا ان سے اکثر پالا پڑنے لگتا ہے. یہیں پر آپ کو خوف، بھوک، جان اور مال کے نقصانات کے ذریعے بھی زیادہ آزمایا جاتا ہے، لیکن اگر آپ صبر اور صلوٰۃ کا دامن تھامے رکھیں گے تو اس سے اوپر کا درجہ آپ کا منتظر ہے÷

جب آپ کی نماز میں یہ کیفیت آ جائے کہ آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں، اور یہ کیفیت مستقل ہو جائے یا اکثر ہونے لگے تو مبارک ہو، آپ expert level پہ آ چکے ہیں. یہاں کے رنگ ڈھنگ جن خوش نصیبوں نے دیکھ رکھے، وہی بیان کر سکتے ہیں، مگر وہ کرتے نہیں. یہ وہ مقام ہوا کرتا ہے، جو مؤمن کی معراج کہلاتا ہے- یہی وہ مقام ہے جہاں پر
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

یہاں آپ کی دعائیں تو رہیں ایک طرف، دل میں آئے خیالات بھی یوں پورے ہونے لگتے ہیں کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں. اس مقام پر پہنچ جانے والے اکثر اپنے لیے دعائیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں، ان کی دعائیں امت اور انسانیت کے لیے وقف ہو جاتی ہیں. زندگی سراپا انتظار بن جاتی ہے، ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار. فجر اور ظہر کے درمیان کا وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے، عشاء اور فجر کے درمیان تو وہ کیفیت گزرتی ہے جسے عشاق ہی سمجھ سکتے، حتیٰ کہ جب دل بہت بیتاب ہو اٹھتا ہے تو آپ تہجد کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں. ایسے خوش نصیب بظاہر خواہ گردن تک دنیا میں دھنسے دکھائی دیں، درحقیقت دنیا ان کے اندر سے نکل چکی ہوتی ہے. اب وہ اس وقت کے منتظر ہوتے ہیں جب وہ سچ مچ اپنے خالق کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بیچ میں کوئی پردہ حائل نہ ہوگا. لیکن اسی مقام پر سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے، کہ جو یہاں سے پھسلتا ہے، وہ پاتال کی تہوں میں جا پہنچتا ہے. یاد رکھیے، کبھی شیطان کا وہ رتبہ تھا جہاں ابھی آپ بھی نہیں پہنچے، اور آپ کو وہاں پہنچنے سے روکنے کے لیے وہ اپنے خطرناک ترین حربے آپ پر آزمائے گا. زعمِ تقویٰ اس کا مہلک ترین ہتھیار ہے، اور بدعت خطرناک ترین دھوکہ

اللہ پاک سب مسلمانوں کو اس expert level پر پہنچنے کی اور شیطان کے دجل سے بچنے کی توفیق دے. آمین