لڑکیوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال - سعدیہ نعمان

فروری 2016ء میں نیویارک پوسٹ میں چھپنے والے ایک آرٹیکل کا عنوان تھا
How social media is destroying the lives of teen girls
رائٹر نے کئی سال کی تحقیق اور سروے کی روشنی میں واضح کیا کہ لڑکیوں میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور نتیجتا جنسی استحصال ہراساں کیا جانا، یہاں تک کہ خودکشی اور قتل تک نوبت پہنچ جانے کی صورت حال انتہائی خطرناک (alarming ) ہے. یہ اس معاشرے کی جھلک ہے جو لادین معاشرہ ہے، جہاں حیا کا کوئی تصور نہیں، وہاں بھی اہل دانش اس بے لگام آزادی سے پریشان ہیں.

وکٹر ہیوگو کا قول ہے کہ
"Invasion of armies can be resisted but invasion of ideas can not be resisted "
فوج کی یلغار کو روکا جا سکتا ہے، نظریات کی یلغار کو روکا نہیں جا سکتا "

پاکستانی معاشرے کی ایک تہذیبی، دینی و تاریخی شناخت ہے. ایسی اقدار و روایات کے ہم امین ہیں جو قابل فخر ہیں لیکن موجودہ تہذیبی جنگ میں ہم بہت کچھ کھو رہے ہیں، ہماری خوب صورت تہذیب پہ دشمن شب خون مار چکا ہے. وسیع تر ابلاغی ذرائع نے ہمیں جکڑ کے ایک جادونگری اور طلسماتی دنیا میں پہنچا دیا ہے. کم عمر معصوم ذہن کارٹون نیٹ ورکس کے غلام بن گئے ہیں، جبکہ ہمارے نوجوان اس حصار میں ایسے گھرے ہیں کہ ایک خوابوں کی دنیا کے اسیر ہو گئے ہیں، تلخ حقائق کا سامنا نہیں کر پاتے اور ڈپریشن کے مریض بن کے رہ گئے ہیں.

مشاہدہ ہے کہ بہت سی تعداد ایسی بچیوں کی ہے جو والدین سے چھپ کے جعلی اکاؤنٹ بناتی ہیں، والدین کو دھوکا دینے کے ساتھ اپنے ضمیر کی چبھن کا باعث بنتی ہیں.
اس دھوکہ دہی کی دنیا میں ایک بڑا فتنہ تصویر کا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں جنہیں عزت و عصمت اور حیا و پاکیزگی کی چادر اوڑھنے کا حکم ہے، (سورہ احزاب و نور)، اگر وہ اس طرح چوکوں چوراہوں اور راستوں پہ آراستہ و پیراستہ ہو کر سامنے آئیں گی تو شرم و حیا کا جذبہ دب جاتا ہے، بےکار اور ممنوع کاموں میں لطف آنے لگتا ہے، اس راستہ پہ مزید آگے بڑھنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے، پھر قدم ڈھلوان پہ آ جائیں تو لڑھکتے ہوئے گڑھے میں جا گرنے کا عمل زیادہ وقت نہیں لیتا.

یہ بھی پڑھیں:   "مجرم والدین" اور بے لگام آزادیاں - محمد عاصم حفیظ

یہ وقت اسی جذباتیت میں گزر جاتا ہے، اصل آزمائش تب آتی ہے جب لڑکی شادی کے بعد شوہر کے ہمراہ عملی زندگی کا آغاز کرتی ہے. اس انتہائی پاکیزہ رشتہ کو دونوں کے گذشتہ زندگی میں بنے ناجائز تعلقات اور دوستیوں کا ایسا گھن لگتا ہے کہ نشیمن جل کر خاکستر ہونے لگتے ہیں، بےاعتمادی اور بدگمانی کی فضا جنم لیتی ہے، اور لاکھ وضاحتیں بھی مسائل حل نہیں کر پاتیں.

میری نوجوان بچیوں سے گزارش ہے کہ ان بھول بھلیوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات سے آگاہی حاصل کریں، آپ کے پاس اپنی حفاظت کے لیے علم کا ہتھیار ہونا لازمی ہے
آپ گوہر نایاب ہیں، اپنی حیثیت پہچانیں.
اپنے جذبہ حیا کو مرنے نہ دیں، جو عمل بھی ضمیر کے لیے چبھن بننے لگے اسے چھوڑ دیں.
اچھی صحبت اختیار کریں.
برے دوستوں سے نجات حاصل کریں.
تصویر کے فتنہ سے جس حد تک ہو سکے بچیں.
تصویر پسند ناپسند اور محبت نفرت کا معیار نہیں ہوتی.

دیکھیے
ہمارے محبوب آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم، صحابہ کرام اور بزرگان دین،
ہم بنا دیکھے ان محبتوں سے سرشار ہیں انہیں محسوس کرتے ہیں.
اللہ کریم نے جو صلاحیتیں عطا کی ہیں، ان کا ادراک کیجیے ان سے مثبت کام لیجیے.
یقین جانیے سکون صراط مستقیم پہ ہی ہے، بے راہ روی میں نہیں
چور دروازوں سے خود کو بچائیں
نماز قرآن اور ذکر الہی کو ہتھیار بنائیں
اچھی کتب کا مطالعہ کریں
دعاؤں کے ذریعہ رب کریم کی مدد مانگیں

کچھ گزارشات والدین سے
اپنی ذمہ داریوں اور ترجیحات کو محسوس کریں
آپ سے اولاد کی تعلیم وتربیت کے بارے میں سوال ہوگا
محض دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنے سے ذمہ داری ادا نہیں ہوتی، دینی اور اخلاقی تعلیم وتربیت اس سے بھی اہم ہے، ورنہ یہ نسل کھوکھلی رہ جائے گی، اندرونی طور پہ کمزور اور ڈیپریس.
سوچیے
اگر گھر میں والدین خود محرم نامحرم اور غیر محرم کی تمیز نہ کریں،
تمام دن ہر وقت گھر میں ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز اور ڈراموں و اشتہارات کی روح کو زخمی کر دینے اور نظر کو تباہ کرنے والی ہنگامہ پرور نشریات کا شور شرابا رہے گا تو آپ کا ذہن کسی مثبت نکتہ پہ کب سوچے گا؟
پھر بچوں سے بھی یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ آپ کی کسی ہدایت کو قابل توجہ سمجھیں گے.
کچھ پختگی پیدا کیجیے،
دیکھیے جائزہ لیجیے،
بچوں کے بدلتے رویوں کا، ان کی رخ بدلتی گفتگو کا، ان کے بے باک انداز کا،
انھیں بر وقت تھام لیجیے کہ سب سے قیمتی متاع ہیں آپ کی.
پھر جب وقت پھسل جاتا ہے تو ذرا سی لاپرواہی کے سبب ہم یہ قیمتی متاع بھی گنوا بیٹھتے ہیں.
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے معاملے میں بچوں کی رہنمائی اور نگرانی کیجیے.
ان سے دوستانہ ماحول رکھیے
ان کے لیے مثبت سرگرمیوں کا انتظام کیجیے اور
صراط مستقیم پہ چلنے میں ان کی مدد کیجیے،
عقائد کی پختگی کا اہتمام کرتے ہوئے نیکی کی راہ ان کے لیے پر کشش بنائیے

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.