"مخلص و محقق" ملحد کے عذر کی دلیل اور عہد الست - محمد زاہد صدیق مغل

چند روز قبل "ملحد کے عذر" کے حوالے سے ایک گفتگو چل نکلی تھی جس پر جواب اور پھر جواب الجواب کا سلسلہ پڑھنے کو ملا۔ پھر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بھی اس پر گفتگو کی۔ اس حوالے سے چند متفرق نکات کو یہاں پیش کیا جاتا ہے، ترتیب اہمیت نہیں رکھتی۔

"مخلص و محقق "ملحد کا استدلال
• ملاحدہ کے "حق جنت" کو محفوظ رکھنے کے لیے "جدید محققین" کا اسلوب کچھ یوں ہوتا ہے: "اگر کوئی شخص پورے خلوص کے ساتھ تحقیق کرنے کے بعد بھی وجود باری تعالی پر کوئی قابل اطمینان دلیل نہ ملنے کی وجہ سے اس کا انکار کرے تو اسے معاف کردیا جائے گا."
یعنی وجود باری تعالی کوئی ایسا خفیہ، پیچیدہ و مشکل امر ہے جس میں "پورے خلوص" اور "تحقیق" کے بعد بھی گمراہ رہنے کا امکان موجود ہے، سبحان اللہ۔ بھائی ذرا غور تو کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اس قدر واضح مسئلے میں غلطی لگنے کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک بدنیتی (یعنی خلوص نہ ہونا) اور دوسرا بدفہمی و عدم تحقیق (یعنی تحقیق نہ کرنا)۔ جب دونوں ہی موجود تھے تو غلطی لگنے کا کیا مطلب؟ الغرض "خلوص و تحقیق" کے ساتھ خدا کے وجود کا انکار، ایں خیال است محال است و جنوں۔ خدارا وجود باری تعالی جیسے واضح مسئلے پر ایمان اور کفر کے امکان کو "خلوص اور تحقیق" کی صفوں مساوی تو نہ کھڑا کیجیے، کہ ان کی موجودگی کے باوجود دونوں کا امکان مساوی ہے۔ ایمان اپنی ذات میں عقل (rationality) ہے اور کفر حماقت (irrationality)، اور ہمارے ان حضرات کا فرمانا ہے کہ خلوص و تحقیق کے باجود بھی دونوں کے ظہور کا امکان مساوی ہے، کیا کہنے ان کی فکری پیراڈئم کے۔ کفر (وہ بھی وجود باری تعالی جیسی بدیہی حقیقت کے انکار) کی کوئی "پرخلوص اور محققانہ" توجیہ ممکن نہیں، کفر (irrationality) اپنی ذات میں کج روی اور کج فہمی ہی کا اظہار ہوتا ہے۔ جس طرح دن اور رات مساوی نہیں، اسی طرح خلوص اور تحقیق کے بعد ایمان اور کفر کا امکان مساوی نہیں، یہ بات خود اللہ تعالی کی بیان کردہ سکیم ہی کے خلاف ہے۔ جو کوئی خلوص نیت کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو، اس کا رب اسے گمراہیوں کی وادیوں میں بھٹکنے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا کرتا۔ پس اس معاملے میں جو کوئی یہاں گمراہ ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس کی نیت و تحقیق میں لازما کج روی شامل ہے۔ چنانچہ خلوص و تحقیق سے ماوراء کوئی تیسرا عذر تراشیے کیونکہ یہ دلیل اپنی وضع میں ہی باطل ہے۔

• خدا (کائنات کا ایک خالق) ہے" ان معنی میں اس کائنات کا ایک واضح ترین ثابت شدہ قضیہ ہے کہ یہ اس کائنات اور انسان کی سب سے زیادہ قرین قیاس توجیہ ہے۔ جو اس قضیے کا منکر ہے، بار ثبوت اس کے ذمے ہے کہ وہ انسانی ذہن و قلب کے لیے اس کائنات کے بارے میں اس سے زیادہ قرین قیاس و اطمینان بخش توجیہ پیش کرے۔ ایسی کوئی توجیہ کبھی موجود تھی نہ ممکن ہے، ایسی ہر توجیہ ایک وہم ہے اور اس توجیہ پر ڈٹے رہنا ضد و سرکشی کی علامت ہے۔ لوگ اس سرکشی کا شکار متعدد وجوہ کی بنا پر ہوتے ہیں، مثلا اپنے ماضی کے بعض برے تجربات کی بنا پر، اہل مذہب سے نفرت کی بنا پر، کسی غلط دلیل کی بنا پر اور یا پھر "الحاد کے فیشن" سے متاثر ہو کر (اکثریت کا تعلق اس آخری قبیل سے ہے)۔ خدا کا انکار کرنا اس کائنات کی سب سے بڑی حماقت ہے، یعنی یہ اپنی ذات میں حماقت (irrationality) ہے، کیونکہ یہ "اپنے وجود کی حقیقت" (کہ میں مخلوق ہوں) کی نفی ہے،اور حماقت کی کوئی عقلی توجیہ ممکن نہیں، ہاں یہ بوجہ "نفسیاتی عوارض" ممکن ہے۔

• پس جو شخص مثلا ڈاکنز کی طرح سب کچھ پڑھ لکھ اور سمجھ چکنے کے بعد بھی یہ کہے کہ "میں خدا کے وجود پر مطمئن نہیں ہوسکا" تو یہ صرف اس کی فطرت و عقل کے مسخ ہوچکنے کا اظہار ہوتا ہے، نہ کہ کوئی "عقلی ابہام" وغیرہ۔ ایسا شخص بد نصیب ہونے کے ساتھ ساتھ ان معنی میں قابل رحم بھی ہے کہ اپنی فطرت کو یوں آخری درجے تک مسخ کرلینا، یہ کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔ ایسے شخص کے ایمان کے لیے دل سے "دعا" کرنے کا حکم ہے نہ کہ اسے اپنے کفر و الحاد پر مطمئن ہوکر خدا سے مناظرے کا موقع مل سکنے کی امید دلانے کا کہ گویا "آپ ماشاء اللہ نہایت نارمل نفسی کیفیت کا شکار ہیں، کوئی ٹنشن کی بات نہیں ہے، بس اللہ سے مناظرے کی تیاری کر رکھو"

یہ بھی پڑھیں:   اخلاقی زوال اور اس کا تدارک - علی اعظمی

عہد الست پر اہل مذہب کی پوزیشن
• پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ عہد الست کے بارے میں اہل مذہب کی پوزیشن کیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عہد الست کو گویا بطور "انسان سے بیروی کسی خبر" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کہ مثلا جیسے کسی تاریخ کی کتاب سے پڑھ کر مجھے پتہ چلا کہ 1947ء میں پاکستان بننے کا واقعہ ہوا۔ تو اب اگر مجھ تک تاریخ کی وہ کتاب نہ پہنچی یا میں اس کتاب کو معتبر نہ مانوں جس میں یہ لکھا ہے تو اب یہ واقعہ "میرے لیے" کوئی واقعہ نہیں یا میں اسے ماننے کا مکلف نہیں۔ چنانچہ جو شخص قرآن کو اللہ کی کتاب نہیں مانتا تو آخر وہ عہد الست کو کیونکر مانے گا؟ اور اگر ایسا کوئی عہد ہوا بھی تو وہ اب کسی کو یاد تھوڑی ہے، وہ تو یادداشت کی گرفت میں ہی نہیں رہا۔

• عہد الست" کے بارے میں مذہب کا مقدمہ سمجھنے کے لیے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ "عہد الست" ہر نفس کا یہ اقرار تھا کہ "اللہ میرا رب ہے" اور یہ اقرار ہر نفس میں "بائے ڈیفالٹ" فکس کرکے اسے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ اس کی یادداشت کے لیے "قابل گرفت نہ ہونے" کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ ایک وجود اپنے سے خارج کسی بات کو یاد کرکے معلوم کرلے، بلکہ یہ تو عین انسانی وجود (being) "جس حال میں وہ تخلیق کیا گیا اور موجود ہے" کا بیان ہے۔ یعنی یہ بات کہ "میں کسی کی مخلوق ہوں"، یہ انسان کا "دائمی حال" ہے، نہ کہ اس سے باہر کوئی واقعہ۔ چنانچہ "یاد کرنے کا سوال" تو اس چیز پر ہوتا ہے جو محو یا عدم وجود کا شکار ہو سکے، یہ تو ہمہ وقت طاری حال ہے۔ قرآن میں "عہد الست" کا ذکر انسانی نفس کے اس حال کا بیان ہے، یعنی انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ جو تمھارے قلب میں اپنے کسی خالق کے تصور و اقرار کا ازلی دیا جل رہا ہے تو یہ یونہی کہیں سے نہیں آگیا بلکہ یہ تمہاری ارواح کا کیا ہوا اقرار ہے۔ تو یوں سمجھیے کہ "خدا کا وجود" مذہب کے نزدیک ایک قطعی اور بدیہی (self evident) حقیقت ہے اور جس کا انکار صرف جہالت، بددیانتی، کج روی و ضد وغیرہ ہی کی بنا پر ممکن ہے، کیونکہ یہ خود "اپنی ذات (کہ میں اصلا مخلوق ہوں) کی نفی" کے ہم معنی ہے۔ ذات کی اس نفی کی ایسی کوئی "عقلی توجیہ" ممکن نہیں جو خود بندوں ہی کے آگے چل سکے، چہ جائیکہ اس موضوع پر خدا کے حضور کامیاب مناظرہ کرکے خدا کو چپ کروا کر بچا جاسکے۔

• تاریخ میں گزری ہوئی ہر تہذیب کے بسنے والے انسانوں نے یہ گواہی دی ہے کہ "خدا ہے"، ایسی کسی انسانی تہذیب کا سراغ نہیں ملتا جس میں خالق (یعنی انسانی ذات کے مخلوق ہونے) کا تصور نہ رہا ہو۔ دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان، چاہے وہ منکر خدا ہی کیوں نہ ہو، اس سوال کا شعور رکھتا ہے کہ آیا "میرا کوئی خالق ہے؟" تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر طویل تاریخ اور اس قدر وسیع و عریض کرہ ارض پر پھیلے ہوئے ہر دور کے انسانوں کے یہاں اس قدر تسلسل کے ساتھ خالق کا یہ تصور کہاں سے آگیا؟

یہ بھی پڑھیں:   کبھی اے نوجواں مسلم - سید مصعب غزنوی

• اس کا ایک جواب وہ ہے جو مذہب دیتا ہے کہ یہ "عہد الست" کی بازگشت ہے جسے کھرچ سکنا کسی صورت ممکن نہیں، کیونکہ یہ تو "تمھارا حال" ہے، اس بارے میں انسان زیادہ سے زیادہ بس یہ کرسکتا ہے کہ وہ کسی جہالت کی وجہ سے اپنے اس حال کا انکار کردے اور یا پھر سرکشی کی راہ اختیار کرکے جھوٹ بولے۔ اس کا متبادل جواب وہ ہے جو سوشل سائنسز کے بعض ماہرین دیتے ہیں جن کے مطابق بعض مظاہر قدرت کے سامنے اپنی بے بسی کی وجہ سے انسان نے اپنے سے زیادہ طاقتور قوتوں کو ڈر کے مارے خدا مان لیا تھا کہ ان کی منت سماجت کرنے سے شاید وہ ان کے برے اثرات سے بچ سکے وغیرہ۔ مذہب بتاتا ہے کہ ایسی چیزوں کو خدا وغیرہ بنا لیا جانا، یہ بعض انسانوں کی جہالت و سرکشی کا نتیجہ تھا جس کے سبب انھوں نے خالق کے تصور کو بگاڑ دیا تھا، اسی بدیہی تصور کی درست تفصیلات بتانے کے لیے انبیاء بھیجے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل سائنسز کے ان ماہرین کا یہ تجزیہ دور از کار تاویلات پر مبنی ہے اور یہ جہالت و سرکشی ہی کی ایک صورت ہے۔

ایک سوال
• جن صاحب نے اس بحث کو شروع کیا ہے، ان سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ اعمال کے حسن و قبح کے بارے میں ان کا نظریہ کیا ہے؟ غامدی صاحب تو متعدد آیات سے یہی استدلال کرتے رہے ہیں کہ انسان بوجہ اللہ تعالی کے انسانی نفس پر الہام ان سے پوری طرح واقف ہے اور اس معاملے میں، ما سواء چند امور، کوئی ابہام موجود نہیں ہے، (اور انھی چند کی وضاحت کے لیے وحی آتی ہے)، یعنی اس معاملے میں انسان کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ مثلا عمار خان ناصر صاحب کی حالیہ پوسٹ میں "قتل" والی مثال ہی کو لے کر اگر ابویحی صاحب سے یہ سوال کیا جائے کہ "میں نے قتل کے فی نفسہ برا ہونے پر کافی کتابیں پڑھی ہیں مگر میں اس کی اخلاقی قباحت پر مطمئن نہیں ہوسکا، تو میرے لیے کسی کو قتل کرنے کا کیا حکم ہے وغیرہ؟" تو پھر دیکھتے ہیں یہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان کا جواب غالبا غامدی صاحب کے نظریے کے مطابق ہی ہوگا، تو کیا کسی کو قتل کرنے کی برائی اللہ تعالی کے وجود سے زیادہ واضح حقیقت ہے؟ اگر تقوی و فجور والا الہام انسان پر حجت ہے تو "عہد الست" والا کیوں نہیں؟ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ عہد الست سے تو بس ایک احساس ہی پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی قطعی حجت تھوڑی ہے۔ تو یہی بات اگر "اخلاقی معاملات والے الہام" کے بارے میں کہہ دی جائے تو کیسا رہے گا کہ "وہ تو بس ایک مبہم سا احساس ہے، وہ انسان کے لیے کوئی قابل اتباع حجت تھوڑی ہے"، اس کے بعد پھر آپ کا "نظریہ اخلاق و فطرت" کہاں کھڑا ہوگا؟

آخری بات یہ کہ الحاد کوئی "جدید فکر" نہیں ہے، بعض لوگوں کو لاحق رہنے والا یہ نفسیاتی عارضہ بہت قدیم ہے اور خود رسول اللہﷺ کے دور میں بھی ایسے خیالات رکھنے والا گروہ موجود تھا، جو زمانے ہی کو مؤثر مانتا اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کو ناممکن قرار دیتا تھا، قرآن میں ان پر تبصرہ موجود ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ نئے دور میں یہ عارضہ مذہب مخالفت میں "اپ ٹو ڈیٹ" دکھنے کے "ایک فیشن" کے طور پر بھی متعارف ہوگیا ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.