کرتے رہو کام نوجوانوں پر! - وقاص احمد

مشہور جریدے اکانومسٹ پر ایک تازہ مضمون پڑھ رہا تھا جس میں مضمون نگار مشرقِ و سطیٰ اور بالخصوص مصر میں لوگوں، خا ص طور پر نوجوانوں میں نماز پڑھنے کے رجحان میں کمی کو ایک نیک شگون کے طور پر نمایاں کر رہا تھا۔ اس بات پر طمانیت کا اظہار تھا کہ مسلمانوں سے بنیاد پرستی جو اس کی نظر میں انتہا پرستی کو فرو غ دیتی ہے اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ مضمون کا آغاز ہی مصر کے پیش اماموں کے اس صدمے سے ہوتا ہے کہ میں جمعہ کے نماز میں حاضری بتدریج کم ہو رہی ہے اور مارکیٹوں و ریستورانوں میں مردوں کے ساتھ شیشہ پینے والی بے حجاب عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی پرنٹ اور ایلکٹرونک میڈیا مسلم معاشروں میں موجود اپنے لبرل سیکولر اتحادیوں کے ساتھ ملکر جانفشانی سے کام کر رہا ہے۔ یہ دونو ں مل کر یہ تأثر دیتے ہیں مصر کی عرب بہار میں اخوان کو ووٹ دینا ان کی بہت بڑی غلطی تھی اور عوام کو اب اسلامسٹوں کو پسند کرنے سے تائب ہو جانا چاہیے۔ اور یہ کہ جو رجحان، راستہ اور منزل، جنرل سیسی نے عوام کو دیا ہے اس پر دائیں بائیں دیکھے بغیر چلتے رہنا چاہیے۔ نہایت ڈھٹائی سے صدر مرسی کی ایک سالہ کارکردگی پر اس طرح تبصرہ کرتے ہیں جیسے انہوں نے دس پندرہ سال کرپٹ، غیر ذمہ دار، اور منصوبہ بندی کے بغیر حکومت کرکے اپنی معزولی اور موجودہ حالت میں ہونے کی حجت تمام کرلی تھی۔ جمہوری تقاضوں اور عدل و انصاف کے ان چیمپئنو ں سے ایک مصدقہ آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے بر سر اقتدار آنے والے مرسی کی حمایت میں دو بول لکھے نہیں جاتے۔

نہایت انبساط سے مصر کے ایک سروے کا ادارہ (جو امریکہ کے تعاون سے بنا ہے اور جس کا سربراہ ایک امریکی ہی ہے ) کہتا ہے کہ اسلام پسندوں کی اس ’’مایوس کن ‘‘ کارکردگی کے بعد اب مصر میں شریعت کے خواہشمند افراد کا نتاسب 2011 کے 84 فیصد سے کم ہو کر 2016 میں 34 فیصد پر آگیا ہے۔ لبنان اور مراکش میں آدھی سے زیادہ آبادی قرآن نہ پڑھتی ہے، نہ سنتی ہے۔ عرب لیڈرز نے وقت کے سا تھ چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس لیے کہ سیکولر لبرلزم کا راگ الاپنا ہی ان کے اپنے اقتدار کی بقا کی ضمانت ہے۔ یہیں سے وہ نہ صرف مغرب بلکہ اپنے جیسے دوسرے حکمرانوں کی بھی حمایت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ظالمانہ داخلی اقدامات، کرپشن اور غلامانہ خارجہ پالیسیوں پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انور سادا ت کے قتل، مسجدِحرام پر قبضے اور 911 جیسے بڑے واقعات کے بعد سے اسلامی بنیاد پرستی کو ہی یہ ڈکٹیٹر حکمران اور خاندانی بادشاہ اپنی قیادت و سیادت و سلطنت کا دشمن سمجھتے ہیں۔ واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ پر ایک بڑے تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر ایک اور مضمون کے مطابق عرب نوجوان اب ٹوئٹر پر سیکولر لبرل رہنماؤں، تجزیہ کاروں کو زیادہ فالو کر رہے ہیں۔ حتٰی کہ سعودی عرب میں یو ٹیوب پر دس میں سےچھ سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز لبرل سیاسی طنزیہ چینلز ہیں جن کو باغیانہ سو چ کے حامل عرب نوجوان چلا رہے ہیں۔ مضمون کے مطابق فلم، موسیقی اور دوسری عریاں سائٹس تو درکنار، اب عرب دنیا میں ملحدانہ اور ہم جنس پرستی کی ویب سائٹس پر بھی آمد و رفت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مغربی انداز کے لبرل قدروں کا فروغ طوفانی ہے۔ مضمون نگار اسے ایک ’’اچھا ‘‘رجحان قرار دیکر عرب دنیا کے تابناک مستقبل کی نوید سنا تا ہے کہ اس سے ان کے حکمرانوں پر لبرل، سیکولرز کا دباؤ بڑ ھے گا جبکہ جیسا اوپر بیان ہوا کہ حکمران تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہیں۔ مضمون نگار امریکہ، یورپ اور عرب دنیا میں اپنے ہم خیالوں کو مشورہ دیتا ہے کہ انٹرنیٹ اور اس سوشل میڈیا میں جنم لینے والے اس طو فان کو زمین پر یکجا کیا جائے۔ گراس روٹ لیول کی تنظیمیں بنا کر فنڈ نگ کی جائے۔ عرب نوجوانوں کے اندر پیدا ہونے والی اس زبردست ’’تبدیلی‘‘ اور ابھرنے والے ’’جذبات ‘‘ کو ایک نئی سماجی اور سیاسی حقیقت کا روپ دیا جائے اور اسی طریقے سے اسلامی تنظیموں جیسے اخوان المسلمون کا مقابلہ کیا جائے۔ ہم جانتے ہیں عرب دنیا میں صرف اور صرف ایک اخوان لمسلمون ہی تھی جو اپنے چاروں اطراف انتہائی دین دشمن ڈکٹیٹرز اور ان ہی جیسے خاندانی بادشاہتوں میں گھِرکر بھی پولیٹکل اسلام کا پرچم لیے کھڑی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   کاش میں بےگناہ ثابت نہ ہوتا - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

عرب رہنما اب اسی ڈگر پر چلنے میں اپنی عافیت سمجھ رہے ہیں، سیسی تو مصر کو سیکولر بنانے کے معاملے میں کافی عجلت میں ہے۔ عرب ممالک میں بہت عرصے سے ایک منظم انداز میں عوام کو علمائے حق سے بدظن اور دور رکھنے کی مہم بھی چل رہی ہے۔ دوسری طرف انہی ذہین طاقتوں نے لبنان، اردن اور خاص طور پر دبئی اور دوحہ کے ذریعے خطے کے عرب ممالک کو جو عرب لبرلزم کا ماڈل دیا ہے وہ پورے عرب دنیا کے نوجوانوں اور ادھیڑ عمروں کے لیے دلربائی اور دل فریبی کا سبب بن رہا ہے۔ انسان کو نفس کی پستیوں میں گرانے کے لیے تو ویسے بھی زیا دہ محنت کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن مسلمان معاشرے کو کسی نہج پر لے جانے کے لیے کئی جہتوں پر کام کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو علماء سو اور نفس پرستی کے ذریعے علمائے حق سے دور کرنا، خالصتاً سیاسی نا انصافیوں اور استعمار سے جنم لینے والی انسانی دہشت گردی کو جو کہ ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جیسے فلسطین، شام،عراق کا مسئلہ لیکن پھر بھی اس کو اسلام سے جوڑ کر عام عوام کو خائف رکھنا اور ان کی توجہ، سیاسی مسائل کے حل کے بجائے دین حق کے بیانیے کو تبدیل کرنے پرمبذول کرنا۔ مڈل، اپر مڈل کلاس عوام میں آسائشوں کو ان کی مجبوری بنا دینا اور ضروری چیزوں جیسے گھر کا کرایا، اسکول کی فیس وغیرہ کو مہنگا کرکے آدمی کو اس چکی میں دن رات پیستے رہنا اور پھر اس کے رہے سہے عقل و شعور کو ہالی وڈ، بالی وڈ اور لبنانی آرٹ کی پبلک نمائش اور میڈیا کے ذریعے ابلاغِ عام سے ایک خاص طرز زندگی اور جسمانی ضروریات اور مطالبات کی جستجو میں رکھنا اور ایک پر کشش انداز حیات کی طرف راغب رکھنا، یہ ہے ان ڈکٹیرز اور خاندانی حکمرانوں کی پیہم جدو جہد!

یہ بھی پڑھیں:   کاش میں بےگناہ ثابت نہ ہوتا - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

اکانومسٹ واضح الفاظ میں لکھتا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے وہابی مذہبی طبقے سے اپنی ڈھائی سو سالہ پرانے سیاسی اور مذہبی اختیار کے فارمولے کو تبدیل کرنے کا آغاز کردیا ہے اور مذہبی رہنماؤں اور پیش اماموں پر نظر رکھی جارہی ہے اور ان لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں جو ولی عہد کی پالیسیز سے اختلاف کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں گوکہ کچھ حالیہ تبدیلیاں بہتر ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ خواتین کا ڈرائیو کرنا اور اسی طرح اسلامی شعار اور سلیقے سے کھیلوں کے مقابلے دیکھنا۔ لیکن اس کے متعلق کیا کہا جائے کہ سعودی عرب کے شمال مغربی ساحلوں پر 500 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک دبئی طرز کا شہر آباد کیا جا رہا ہے جس کی پروموشنل ویڈیوز میں وہی مغربی لبرل انداز کی زندگی کے خواب دکھائے جارہے ہیں جن کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا۔ بحیرہ احمر کے دوسری طرف مصر کا مشہور شرم الشیخ شمال میں اردن اور مشرق میں اس نئے شہر’’نیوم‘‘ کا منصوبہ ہے۔

دیکھ رہے ہیں آپ کہ کس بلند عالمی سطح پر اور طاقت کے ایوانوں سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام کو ایک ذاتی پسند نا پسند کا معاملہ بنا دیا جائے؟ موجودہ استحصالی نظام جس نے لبرلزم، انفرادیت، آزادی اور ترقی کے نام پر بڑھتی ہوئی غربت، ٹوٹتا پھوٹتا خاندانی نظام اور آزادجنسی ماحول تحفے میں دیا، چاہتا ہے کہ اسلام کو متبادل کے طور پر سامنے آنے کا ادنیٰ سا بھی موقع فراہم نہ کیا جائے۔ اگر یہ سب احوال پڑھ کر آپ کو اپنی کمزوری، مجبوری، بے وقعتی اور بےمائیگی کا احساس ہوتا ہے تو کم از کم ہم آج سے وہ کوششیں تو کر سکتے ہیں جس میں ہم پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ ہم اپنی نمازوں کو تو مضبوط بنا سکتے ہیں، قرآن سے تعلق تو مستحکم کر سکتے ہیں۔ علمائے حق سے ربط اور ان کو’’ فالو‘‘ تو کر سکتے ہیں۔ قرآن و سنت کے احکامات پر چلنے کا مصمم ارادہ تو کرسکتے ہیں اور وہ احکامات اور سنتیں اور وہ ترجیحات جو ذاتی طور پر اختیار کی جاسکتی ہیں اور جو نیو ورلڈ آرڈر اور موجودہ دجالی نظام کے خلاف ہیں ان کو اختیار تو کر سکتے ہیں۔ اور اگر یہ سب ابھی مشکل اور نفس پر گراں گزر رہا ہے تو صدق دل سے، آنکھوں میں پانی لا کر، اللہ سے ہدایت کی دعا تو مانگ سکتے ہیں۔ یقین جانیں ہم سے ہر ایک کا اسلام کے حقیقی پیغام کی جانب پیش قدمی کرنا اللہ کی رضا کا سبب تو ہو گا ہی مگر یہ ا وپر بیان کی گئی تمام سازشوں اور منصوبوں کے خلاف ایک ضرب کاری بھی ہوگا۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.