قومی بے حسی کی سزا عزت دار کیوں بھگتے؟ - فراز الحسن

ماہ اکتوبر بہت کرب میں گزرا اور جاتے جاتے ہمیں عمر بھر کا روگ لگا گیا۔ ہماری پری، ہماری آنکھوں کا نور ہم سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ کر جنت کی راہ کی مسافر ٹہری۔ اس کا ملال اپنی جگہ اور اللہ کی رضا میں راضی رہنا اپنی جگہ۔

ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اُس سے جنگ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس آرزو کے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے اور ہمیں ہماری بیٹی اپنے ہاتھوں سے تھام کر جنت میں داخل کروائے۔ وہ بہت پیار کرنے والی بیٹی تھی۔ باپ میں اس کی جان بستی تھی۔ بابا کب آئیں گے؟ اس وقت کہاں ہیں؟ ہر چیز کا حساب اس کے پاس ہوتا تھا۔ اکثر میری وائف کے نمبر سے کال آتی اور دوسری طرف میری بیٹی کی آواز ہوتی تھی۔ سوال صرف ایک ہوتا "بابا آپ کہاں ہیں؟" اور میں جواب میں کہتا بیٹا آفس میں ہوں۔ آگے سے وہ اللہ حافظ کہتی اور پھر کال منقطع ہو جاتی۔ کبھی دوسرے بہن بھائیوں کی طرح بے جا ضد نہیں۔

خیر، میں کیا آپ کو اپنا غم سنانے بیٹھ گیا۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں کرتے، یہ جملہ آٹھ دن میں بیسیوں دفعہ میرے خود ساختہ غم خواروں سے میں سن چکا ہوں۔ بس دعا ہی کر سکتا ہوں کہ اللہ آپ میں سے کسی کو اولاد کا غم نہ دے۔

یہاں میں بات کرنا چاہتا ہوں عزت نفس کی، سفید پوش مجبور انسان کی، جس سے اسپتال کا اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کہتا ہے کہ آپ کا بل روزانہ کی سطح پر اچھا خاصا بن رہا ہے۔ آپ ویلفیئر کیوں نہیں اپلائی کرتے؟ جب جواب میں میں نے الٹا سوال کیا کہ یہ ویلفیئر کیا ہے؟ تو پتا چلا کہ زکٰوۃ کے پیسوں سے ویلفیئر اکاونٹس چلتے ہیں۔ کتنی آسانی سے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ نے مجھے زکٰوۃ کی پیشکش کردی اور میں اُسے کچھ کہہ بھی نہیں پایا۔ سوائے مسکرا کر منع کرنے کے۔

تیرہ دن میں لا تعداد کیسز ایسے دیکھے کہ ویلفیئر کے پندرہ فیصد کے ڈسکاؤنٹ کے بعد بقیہ 85 فیصد کے لیے لوگ اِدھر اُدھر سر مارتے پھر رہے تھے۔ لیکن دودھ کا جلا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے والا، کوئی اس ضرورت مند کو ضرورت مند ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ متعدد ایسے مریضوں کو دیکھ کر میری نازک طبعیت امّی نے مجھے کہا لاؤ فراز! اتنے پیسے دو اِن خاتون کو دینے ہیں یا کسی اور کو۔

سوال میرا یہ ہے کہ شہر میں کتنے اسپتال ایسے ہیں جہاں کسی ضرورت مند کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر اس کے یا اس کے مریض کا علاج معالجے کے لیے سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہوں؟ یا اگر کی جاتی ہیں تو وہاں کے شماریات کیا کہتے ہیں کہ کتنے دن میں نمبر مل جاتا ہے مرنے سے پہلے کہ علاج کی کوشش کی جا سکے؟

کہنے والے کہتے ہیں کہ کراچی میں اس وقت جناح اور سول کے بعد انڈس ہاسپٹل یہ سہولت دے رہا ہے، بس مریض کی قسمت اچھی ہو اور بیڈ دستیاب ہو۔ میں فلاحی اداروں کی طرف بھی آتا ہوں، پہلے یہ معلوم ہو کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہر سیاستدان کا علاج تو دبئی یا لندن کے مہنگے ترین اسپتالوں میں ہو لیکن غریب کے لیے ہر شہر میں ایک ایسا اسپتال نہ ہو جہاں اس کے علاج کے لیے اس کی عزت نفس کو ننگا کیے بغیر اس کا علاج ہو سکے؟ کوئی سوال کیوں نہیں کرتا؟ کوئی ان کا گریبان کیوں نہیں پکڑتا جب یہ بے غیرت ہر الیکشن میں ہٹے کٹے بن کر ووٹ کی بھیک مانگنے ہمارے در ہر کھڑے ہوتے ہیں؟ بے حس قوم کی بے حسی کی سزا وہ عزت دار کیوں بھگتے جس کے لیے اس کی عزت نفس کی بے انتہا اہمیت ہو؟

کیا فائدہ فلاحی اداروں کی ایسی کروڑوں کی کھالیں، زکٰوۃ فطرے جمع کرنے کا، جس سے آپ شہر میں ایک جدید لیکن فلاحی ادارہ نہ بنا سکیں، جہاں کوئی مجھ جیسا انسان شرمندہ ہوئے بغیر اپنی اولاد کا علاج کروا سکے۔

شاید میں جذبات کی رو میں بہہ کر کسی کے ساتھ زیادتی کر گیا ہوں لیکن میرا سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ اللہ نے مجھ جیسے استطاعت نہ رکھنے والے کو اتنی طاقت عطا کر دی کہ میں آخری وقت تک بھی اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے لڑتا رہا، لیکن ان کا کیا ہوگا جو صرف ایمرجینسی میں داخلے کے لیے بھی تین ہزار روپے مانگتے پھرتے ہیں اور کوئی ان کا یقین نہیں کرتا؟