ملحدین کی مغفرت، کاشف شیروانی کے جواب میں– عرفان شہزاد

محترم جناب کاشف علی خان شیروانی صاحب نےمیری فیس بک کی ایک casual پوسٹ کو لے کر باقاعدہ ایک نقد، بعنوان، " ملحدین کی مغفرت، امام رازی کو فریق نہ بنائیں" لکھنے کی زحمت فرمائی۔ بہتر ہوتا کہ کسی سنجیدہ نقد کرنے سے پہلے وہ مجھ سے میرا تفصیلی موقف جان لیتے۔ بصد معذرت عرض کروں گا کہ علمی بدیانتی کا تو سنا تھا لیکن یہ واردات پہلی بار آج کی تاریخ میں میرے ساتھ پیش آئی ہے۔ تفسیر کبیر کے متعلقہ مقام میں سے پہلی عبارت چھوڑ کر باقی ساری عبارت پیش کرنے سے محترم کاشف صاحب کا مقصد کیا ہے؟ وہ پہلی عبارت جس سے انھوں نے صرف نظر کرنا ضروری سمجھا، پیش نظر رہتی تو یہ نقد وجود پذیر ہی نہ ہو پاتا اورقارئین کا وقت ضائع نہ ہوتا، بہرحال صورت حال کی وضاحت کے لیے تفسیر کبیر سے وہ پہلی عبارت یہاں پیش کی جاتی ہے:

عُلِمَ أَنَّ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى حَكَوْا هَذَا الْكَلَامَ عَنْهُ، وَالْحَاكِي لِهَذَا الْكُفْرِ عَنْهُ لَا يَكُونُ كَافِرًا بَلْ يَكُونُ مُذْنِبًا حَيْثُ كَذَبَ فِي هَذِهِ الْحِكَايَةِ وَغُفْرَانُ الذَّنْبِ جَائِزٌ

معلوم ہونا چاہیے کہ نصاریٰ نے یہ بات (کہ مسیح اور اس کی ماں بھی خدا ہیں) مسیحؑ کی طرف سے نقل کی تھی۔ پھر اس کفر کو نقل کرنے والا کافر نہیں بلکہ گناہ گار ہوتا ہے کہ اس نے اس جھوٹ نقل کیا اور گناہ گار کی بخشش جائز ہے۔

اس عبارت سے ٹھیک اگلی سطر سے انھوں نے تفسیر کبیر سے عبارت اٹھا کر اپنے نقد میں شامل فرمائی ہے، لیکن اس سطر سے اغماض برت لیا ہے اور پھر پوری بحث کر ڈالی۔ اس پر وہ اپنے قارئین کے ساتھ خدا کو کیا جواب دیں گے وہی جانتے ہوں گے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ خدا نے بخشش کی شرط سچائی اور دیانت داری کو قرار دیا ہے۔ ہر شخص اپنا محاسبہ خود کر سکتا ہے۔

میرے شذرے سے کوئی یہ اگر سمجھا ہو کہ امام رازی کا موقف یہ تھا تو مجھے اس سے ہمدردی ہے۔ میں نے اس casual شذرے میں بھی یہی لکھا تھا کہ امام صاحب نے ایسا موقف بیان کیا ہے، نہ کہ یہ ان کا موقف ہے۔ یہ معلوم ہے کہ امام صاحب بہت سے مواقف بیان کرتے ہیں اور ہر موقف ان کا موقف نہیں ہوتا۔

فیس بک پر ہم جو شذرات لکھتے ہیں وہ فوری نوعیت کی چیزیں ہوتی ہیں، جو یاداشت کے بھروسے پر لکھی جاتی ہیں، ان کی بنیاد پر کوئی سنجیدہ نقد کرنا اور اس کی بنیاد پر کسی شخصیت کے علمی مقام کا تعین کرنا از حد جلد بازی اور غیر علمی رویہ ہے، مگر ہمارے ہاں اسی کا چلن ہے۔ خاکسار کو کسی علمی مقام کا کوئی دعویٰ نہیں ہے، لوگ خود ہی بناتے اور گراتے رہتے ہیں۔ جہاں لوگ غامدی صاحب کی طرح کئی اور اصحاب علم کی علمیت کا ادراک و اعتراف کرنے سے قاصر رہے ہیں، وہاں مجھ سے حقیقی کم علم کی کم مائیگی کا ادراک کرنے کی صلاحیت کا پایا جانا میرے لیے خوش گوار ضرور ہے۔ کاشف صاحب کے اس نقد سے یہ معلوم کرنے میں البتہ سہولت ہوگئی کہ "حرف نیم گفتہ" اسم بامسمی ہے۔

خدا ہم سب کو علمی دیانت داری اور علمی سنجیدگی سے نقد کر نے کی صلاحیت عطا فرمائے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یہ جواب نہیں ہے، اعتراف ہے، کہ واقعی عرفان شہزاد صاحب سے تسامح ہوا ہے، اور انہوں نے تساہل کی بنا پر امام رازی سے کچھ غلط باتیں منسوب کر دی ہیں جو تفسیر کبیر میں موجود نہیں ہیں۔ دو باتوں پر تو عرفان شہزاد صاحب خاموش رہے ہیں، تیسری پر دفاع دیا ہے اور وہ بھی بہت کمزور ہے۔ امام رازی علیہ الرحمہ کا یہ موقف نہیں ہے۔ لیکن سب سے اہم بات عرفان شہزاد صاحب کی وہ خاموشی ہے جو انہوں نے حضرت مسیح بن مریم علیہما السلام کے نام کو بے ادبی اور لاپرواہی سے لینے پر اختیار کی ہے۔ اس میں عرفان صاحب کی بڑائی ہوتی، اگر وہ اس میں اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے استغفار کرتے، اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا ارادہ کرتے۔ لیکن انہوں نے اس موضوع پر خاموشی اختیار کی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی عزت اور تقدس کا لحاظ کرنا ازحد ضروری ہے، اور وہ جو دین پر تحقیق کرتے ہیں، یا دعوت و وعظ کا کام کرتے ہیں، انہیں تو اس میں روشن مثال بننے کی ضرورت ہے۔ کاشف صاحب نے بڑے سوز سے یہ انذار کیا ہے۔ امید ہے عرفان شہزاد صاحب اس پر ضرور غور کریں گے، اور ان کے دینی جذبے سے ہمیں قوی امید ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف فرمائیں گے۔

  • محترم جناب ڈاکٹرعرفان شہزاد صاحب آپ نے تو نہ جواب دیا اور نہ اپنی غلطی تسلیم کی بلکہ وہی مناظرانہ انداز اپنایا کہ ناقد کی تحریر میں کوئی کمزور پہلو تلاش کرکے اس کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جائے اور اس پہلو سے ان کے موقف کو کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔۔۔۔
    اور جس ادبی پہلوکی طرف محترم جناب کاشف خان شیروانی نےانتہائ مثبت انداز میں بڑی دلسوزی کےساتھ توجہ دلائی تھی اس کی طرف التفات بھی کیا۔۔۔
    اللہ جل شانہ ہم سب کو حق کا داعی اور تابع بنائے۔

  • ویسے casual اور نظرے خوش گذرے کا اندز ہی متاثرین غامدیت کا شعار ہے ۔ اب اس انداز پر نقد کیا کیاجائے َ؟ جو بات ازحد شرمندگی کی ہونی چاہیے کہ کیوں ایسے نازک و حساس مسئلہ پر یہ casual اظہار خیال کیا گیا بجائے اس کے اسی بے تکے اظہار خیال کو آڑ اور تاویل بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ بھائی عرفان شہزاد صاحب خدار اس امت کو اپنی ژولیدہ فکری کی دست درازیوں سے محفوظ رکھیے اور کچھ مفید کام کیجیے۔

  • شہزاد صاحب نے موضوع کو تشنہ چهوڑ دیا ہے!
    بہتر ہوتا کہ اس بحث کی کچهہ مزید تفصیل فراہم کرتے اور قارئین کو فیصلہ کرنے کے لیے قابل لحاظ مواد پیش کرتے.