یونیورسٹیز کے طلبہ متوجہ ہوں - انجینیئر عبدالحنان خالد

”بیٹا کالج کا دورانیہ تعلیمی میدان میں بہت اہمیت رکھتا ہے، جو کالج میں خود کو محنت پر راغب کرتا ہے اور پھر محنت اس کا شعار بن جاتی ہے،اس کا تعلیمی کیرئیر کے ساتھ ساتھ مستقبل کا پروفیشنل دورانیہ بھی محفوظ اور مضبوط نظر آتا ہے، وہ معاشرے میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔“یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک طالب علم کو گھر سے اور اساتذہ سے سننے کو ملتے ہیں۔ انہی الفاظ کا اثر ایک طالب علم کی تعلیمی زندگی میں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے وہ یونیورسٹی، جو تعلیمی میدان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے بعد پروفیشنل دور کا آغاز ہوتا ہے، اس میں آج کا نوجوان کمزور نظر آتاہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ابھی تو میرا داخلہ بہت اچھی درسگاہ میں ہو گیا ہے اور میں اپنا ہدف مکمل کر چکا ہو ں، لہٰذا مجھے اب محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں تو بس وقت پاس کرنا ہے، چاہے خودکو کتابوں کے ساتھ مشغول رکھو ں یا نہ رکھوں۔ یہی سوچ معاشرے کی اس ”امانت“ کو غلط راستوں پر گامزن کرتی ہے اور وہی قوم کی آنکھ کا تارا، جس نے ملک و ملت کی باگ ڈور سنبھالناتھی، اس کا خود کو سنبھالنا مشکل ٹھہرتا ہے۔

کتنے نوجوان ایسے ہیں جو کالج میں اچھی کارگردگی دکھانے والے، اعلیٰ قابلیت کے مالک اور اسلام کے ساتھ گہری وابستگی اور مضبوط تعلق کے حامل، ان یونیورسٹیز میں داخل ہوتے ہی اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی خراب کر لیتے ہیں کیونکہ اگر کالج میں فتنے ہیں تو یونیورسٹیاں ان فتنوں کی دنیا میں بیسیوں قدم آگے نظر آتی ہیں۔ بہت سے نوجوان ایسے ملتے ہیں، جو کالج میں نمازی تھے مگر جب قدم یونیورسٹی میں رکھا تو پہلے سال پانچ کی بجائے چار پر آئے، دوسرے سال چار چھوڑ کر دو کا معمول بنایا اور تیسرے سال ایک اور آخری سال کوئی ایسا ساتھی جس پر اللہ کا خاص فضل ہو، وہ نماز کی دعوت دے تو جواب یہ ملتا ہے ”یار ! آپ چلو میں آیا“، ”یار! آپ پڑھو میں پڑھ لوں گا“، ”یار! بس دعا کرنا“

یونیورسٹی کے اندر جاتے ہی پہلے دن سب طلبہ اپنے مزاج کے دوست تلاش کرتے ہیں اور جو گروپ پہلے دن بنتا ہے وہ چار سال تک حیات نظر آتا ہے۔ البتہ اگر پہلے دن سوچ سمجھ کر دوست بنائے تو چار سال کا وقت اچھا اور خوبصورت گزرے گا اور نقصان کا سامنا ادارے سے نکلتے وقت محسوس نہ ہو گا لیکن جو اپنی محفل کا درست انتخاب نہ کر سکا، وہ معاشرتی برائیوں میں گرتا اور دھنستا ہی چلا جائے گا جس کا نکلنا بہت مشکل اور بعض دفعہ ناممکن ہوتا ہے۔ میں نے یونیورسٹی میں دیکھا جو گروپ پہلے دن تشکیل پائے آخری دم تک چلے۔ میری کلاس میں ایک گروپ جس کا نام Back Benchers رکھا گیا۔شروع میں اس میں ایک سے دو طالب علم سگریٹ کے عادی تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ”فیشن“ کی نذر با قی اس گروپ کے ممبر بھی بنے اور سارے کا سارا گروپ سیگریٹ پینے لگا۔ سگریٹ کے بعد ان طلبا نے اگلا قدم، سگریٹ نشہ بھر کر پینا اٹھایا۔ ایک دن یونیورسٹی میں ایسا بھی آیا جب ہماری کلاس کاایک نوجوان اور میرا کافی اچھا ساتھی، اس کی والدہ اللہ کو پیاری ہو گئیں تو ہم جنازے کے لیے اس کے گھر گئے۔ شام مغرب کے وقت جنازے سے چند لمحات پہلے وہی میرے گروپ کے لڑکے کلاس کے ساتھ ایک ایک کرتے میرے پاس آئے اور سب کا سوال مشترک تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سیاست کیا جس میں دھڑکتا ہوا دل ہو- محمد عنصر عثمانی

”یار! کل رات میں نے شراب پی ہے کیا میں جنازہ پڑھ لوں؟“

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔“(ابوداؤد، ترمذی شریف)

لہٰذا ہمیں دوستی کی پینگیں ڈالنے سے پہلے ذرا تدبر سے کام لینا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ”انجوائے اور چِل ماحول“ کی نذر سب کچھ ہو جائے۔ یہی انجوائے، چِل ماحول اور فیشن کی مرہون منت آج کے تعلیمی ادارے نشے کی فیکٹریاں نظر آتے ہیں، جن کے متعلق آپ بارہا اخبارات میں پڑھ چکے ہوں گے کہ اسلام آباد، کراچی اور پشاور میں کس طرح صحت کو پامال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی میں چند چیزیں اور بھی ہیں جو طلبا کے مستقبل کو داؤ پر لگاتی ہیں۔ ان میں ”کاپی پیسٹ“ کا ہنر کلاس کے 95فیصد طلبا کی مدد کرتا ہے جس سے نوجوان کا ذہن بند اور تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ”لاسٹ نائٹ سٹڈی“ کا لفظ تو کمال کر دیتا ہے جس کے سہارے سب جیتے ہیں، مگر رزلٹ کے بعد یہ زندگی ناکامی میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ لاسٹ نائٹ سٹڈی کا مطلب یہ کہ پورا سمسٹر کتابوں اور نوٹس کو قریب نہیں آنے دینا اور امتحان سے ایک دن پہلے بڑے فخر کے ساتھ سب کو بتانا کہ یار! میں نے تو نوٹس لیے ہی نہیں ہیں، بس شام کو ”کاپی “ کرواؤں گا۔ اس طریقے سے پڑھنے والے امتحان کی چاند رات نوٹس تو ”کاپی “ کروا لیتے ہیں مگر جب رزلٹ ہاتھ میں ملتا ہے تو یہ بھی نوٹس کی طرح ساتھ والے دوست کا کاپی کروانے کو دل چاہتا ہے جو ناممکن ہوتا ہے اور پھر دل تو ایسا لرزتا ہے، جیسے کنویں میں ڈول کے ساتھ رسیاں لرزرہی ہوں۔

جیسا کہ تحریر میں عرض کیا گیا کہ طلبا مختلف گروپ بناتے ہیں جو امن کو تباہی اور بربادی کی جانب گامزن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ایک طالب علم ” سوشل “ ہے اور طلبا سے تعلقات بنانا اس کا شیوہ ہے تو اسے چاہیے کہ خراب لوگوں کی مجلس اختیار کرنے کی بجائے مثبت راستوں پر چلنے والے ستاروں کے ساتھ تعلق مضبوط کرے تو اللہ کی دی ہوئی صلاحیت جو دوستوں کے ساتھ رابطہ رکھنے، دوستی لگانے کی صورت میں موجود ہے، اس کی معاونت سے وہ دین حنیف کا کام کر سکتا ہے۔ جس سے بہت سے موتی چمکنا شروع ہوں گے اور فلاح کے راستے پر آئیں گے۔ اس کا رب بھی اس سے راضی ہوتے ہوئے اس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے گا جس سے جنت اس کا مقدر بنتی دکھائے دے گی۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں کارگردگی دکھانے کے لیے لائبریریز اور لٹریچر سے بھی استفادہ کرناضروری ہے کیونکہ تعلیم نام ہے سیکھنے کا۔ جو علم انسان اپنے تعلیمی ادراے میں رہتے ہوئے سیکھتا ہے وہ زندگی بھر معاونت کرتا ہے اور کسی بھی موڑ پر شرمندہ ہونے سے بچاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سندھ میں طلبا یونین بل کی منظوری اور خدشات - گہرام اسلم بلوچ

مخلوط ماحول بھی پڑھائی پر اچھا خاصا اثر ڈالتا ہے کیونکہ وہ ہیرا جس نے تعلیمی میدان کو سر کرنا تھا، اس ماحول کی وجہ سے تعلیم میں مگن ہونے کی بجائے لیلیٰ میں مگن ہو جاتا ہے جس سے بظاہر صحت مند نوجوان اندر سے کھوکھلا نظر آتا ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے جو تعلیم کیا، ایک عور ت کی خاطر والدین سے بھی دور کر دیتی ہے اور اس کی دنیا وہ ایک پسند ہی ٹھہرتی ہے۔ کتنے نوجوان ایسے نظر آتے ہیں جو محبوبہ کی خاطر سب کچھ لٹا دیتے ہیں مگر آخر میں نتیجہ ان کے اپنے لٹنے کی صورت میں ہی نکلتا ہے، جس میں خود کشی کے ساتھ پاگل ہونا شامل ہے۔

تڑپ اور جستجو میں رہنا ہی عقلمندی ہے ورنہ اللہ کی مدد کو پامال کرنے والوں، کسی اور کی جستجو میں رہنے والوں کے لیے اللہ کی ناراضگی کے سوا کچھ نہیں۔

تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان اسلام کا مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ حالات میں درپیش چیلنجز سے مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ تبدیلی اور انقلاب کے اصل راستے سے ناواقفیت بھی ہے۔ہمیں اس بات کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور پاکستان 70 فیصد نوجوانوں سے سجا نظر آتا ہے۔ اگر یہ سب اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑیں گے تو نتیجہ کسی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں۔ دنیا کا کفر آج ہمیں نیست و نابو د کرنے کے لیے اکٹھ کر چکا ہے اور آج مختلف بلاکوں میں دنیا تقسیم ہو چکی ہے۔ لہٰذا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہمیں اس پر بہت سوچنا ہے کہ مجھے اپنے تعلیمی ادارے میں ایسا کردار پیش کرنا ہے جس سے میرے والدین کی خواہشات بھی پوری ہو جائیں اور میرا وطن عزیز جو دنیا کی نظروں میں کانٹوں کی طرح چبھتا ہے اور مسلمانوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے، کی حفاظت اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔یقیناً جس وطن کو ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور نوجوانوں کی محنتوں نے بنایا تھا آج ہمیں اس کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے، کیونکہ یہ ذمہ داری اب ہم پر لازم ہے اور یہ تب ہو گا جب آج کا نوجوان اپنی تعلیم کے ساتھ اور اپنے ادارے کے ساتھ مخلص ہو کر محنت کرے گا اور وقت کو قیمتی بنائے گا۔