انٹرنیٹ کے نشئی - حنا صدف

ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کے آسانی پیدا کرنا ہے اور ہر سال پہلے سے بہتر ایجادات انسانی زندگی کو زیادہ آرام دہ اور بہتر بنا رہی ہیں۔ مشینوں کو ہی دیکھ لیجیے، یہ اس لیے ایجاد کی گئی تھیں کہ انسان کا کا وقت اور طاقت بچائیں۔ گھریلو استعمال میں مصالحہ پیسنے کی مشین سے لے کر سڑکوں پر چلتی گاڑیاں اور آسمان پر اُڑتے جہاز، سب انسان کے قیمتی وقت کو بچانے کے ساتھ ساتھ اسے آرام بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ان سب ایجادات میں ایک ایجاد ایسی بھی ہے جسے بنایا تو انسان کے فائدے کے لیے تھا مگر جتنا وقت اور توانائی اس پر انسانوں کی صرف ہو رہی ہے، آج تک کسی اور چیز پر نہ کی ہوگی۔ جی میرا اشارہ اسی 'موبائل فون' کی طرف ہے، جو اس وقت یہ مضمون لکھتے ہوئے میرے ہاتھ میں ہے اور پڑھتے ہوئے آپ میں سے بہت سوں کے ہاتھوں میں موجود ہوگا۔

موبائل فون بذاتِ خود ایسا کوئی خاص مسئلہ نہیں، مسئلہ ہیں اس کے ساتھ جڑے ہوئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مقناطیس۔ یہ ایسے مقناطیس ہیں کہ آدھی شب کو بھی جب کوئی شخص بیدار ہوتا ہے تو اسے پانی پینے یا بیت الخلاء کی جانب جانے سے قبل جس چیز کا خیال آتا ہے وہ اس کا فون ہوتا ہے۔ صبح اُٹھ کر اب ہم اپنے پہلو میں لیٹے ہوئے ساتھی کا چہرہ دیکھنے سے پہلے چہروں کی کتاب یعنی 'فیس بُک' کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ رات کو سونے سے قبل دعا کو ہاتھ اُٹھانے کا خیال آئے نہ آئے، موبائل پر پیغامات دیکھنے کا خیال بلا ناغہ ذہن میں آتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، ایک عام انسان دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے پانچ گھنٹے اپنے موبائل فون کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ اندازہ کیجیے، ایک آدمی جو سونے کے لیے دن میں اوسط آٹھ سے نو گھنٹے لیتا ہے، وہ باقی سولہ گھنٹوں میں سے پانچ گھنٹے اس ہتھیلی جتنی مشین کو دیکھتے ہوئے گزار دیتا ہے یعنی ایک چیز جو کہ انسان کا وقت بچانے کی غرض سے بنائی گئی تھی اب خود اس وقت کی سب سے بڑی دشمن بن چکی ہے۔ کسی بھی کام کے دوران آپ محض یہ سوچ کر موبائل اٹھاتے ہیں کہ پانچ منٹ میں بس نوٹیفکیشن دیکھ کر بند کر دیں گے مگر حقیقتاً یہ پانچ منٹ آدھے گھنٹے تک جا پہنچتے ہیں۔

موبائل فون اور سوشل میڈیا، دونوں کے شیدائی جتنے بھی افراد ہیں ان میں اور دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے نشے کے بغیر گزارا نہ ہونا۔ جیسے کوئی ہیروئن کا عادی اس کا نشہ کیے بغیر بے چین و بے کل رہتا ہے، ٹھیک اسی طرح ٹیکنالوجی کے نشئی بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بے کراں دکھائی دیتے ہیں۔ چند روز ہوئے مجھے میرے ایک عزیز نے انٹرنیٹ کے بند ہونے پر پریشان ہوتے ہوئے کہا تھا کہ 'انٹرنیٹ بند ہو تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے'؛ اب کہیے یہ نشہ ہوا یا کچھ اور؟'

کچھ اسی طرح کا معاملہ ہمارے بچوں کے ساتھ بھی ہے۔ جس طرح ہم بچپن میں کھیل کود کے شیدائی تھے اور گھر سے دوڑے دوڑے باہر جاتے تھے، ٹھیک اسی طرح آج کل کے بچے دوڑ کر گھروں کو آتے ہیں اور آکر موبائل فون کی اسکرین سے چمٹ جاتے ہیں یا کسی ٹیبلٹ میں منہ دیے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور ان معصوم ذہنوں کو کسی جانب بھی باآسانی موڑا جا سکتا ہے، یہ وہی سیکھتے ہیں جو ان کے بڑے سارا دن ان کے سامنے کرتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کو بھی آہستہ آہستہ ہم اس نشے کے لت لگا رہے ہیں، اب جب بچہ روتا ہے تو ماں آرام سے فون پر کارٹون لگا کر اُس کے سامنے کر دیتی ہے۔ لیجیے جناب اب اپ کا بچہ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک گھنٹے کے لیے موبائل فون کی دنیا میں وارد ہوچکا ہے اور اب آپ با آسانی اپنے کام نمٹا سکتی ہیں۔ بچہ کھانا نہیں کھا رہا تو اس کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیا جاتا ہے کہ اس میں مگن رہے اور کھانا کھلانے کے لیے زیادہ جتن نہ کرنے پڑیں۔

اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے جہاں والدین اپنے لیے آسانی ڈھونڈ رہے ہیں وہیں اپنے بچوں کے لیے مشکلات میں بے پناہ اضافہ بھی کر رہے ہیں۔ اس طرح بچوں میں کھیل کود کی کمی سے نہ صرف موٹاپے کا رجحان بڑھا رہا ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما اور کارکردگی بھی بے حد متاثر ہورہی ہے۔ بد قسمتی سے سے اس بارے میں ہمارے ملک میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے مگر اس سلسلے میں فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی مختلف تنظیموں کی جانب سے تحقیق کی گئی ہے اور یہ بات واضح طور پر بیان کی جا چکی ہے کہ ایک عام بچے کا دماغ کسی بڑے انسان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ radiation جذب کر سکتا ہے۔ اسی بناء پر بچے کے دماغ کے خلیے موبائل فون کے استعمال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان میں برین ٹیومر کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

چند روز قبل کی بات ہے، ہم ایک ریستوران تشریف لے گئے۔ وہاں موجود ایک خاندان کے ساتھ ڈیڑھ دو سالہ بچہ جو کہ ابھی ٹھیک طرح سے بولنے کے قابل بھی نہ ہوا تھا، اپنی والدہ سے ان کا فون چھیننے کا خواہشمند تھا اور ان کی والدہ فخر سے دیگر احباب کو یہ بتا رہی تھیں 'بیٹا سارا دن فون سے چپکا رہتا ہے اور مجھے کسی سے بات ہی نہیں کرنے دیتا، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اسے الگ سے ایک فون خرید کر دے دیا جائے'۔ یعنی کہ حد تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو انسان کا بچہ تو رہنے نہیں دیا بلکہ موبائل کی گود دے دیا ہے۔ وہ وقت جس میں بچے کی تربیت ہوتی ہے، جس دوران وہ کھیل کھیل میں والدین سے بہت سی باتیں سیکھتا ہے، وہ وقت ہمارے پاس نہیں اس لیے ہم نے ٹیکنالوجی کا سہارا لے لیا، مگر ایک بات بھول گئے کہ بچے کی فطرت میں مشاہدہ کرنا ہے، نئی نئی باتیں سیکھنا ہے اور اگر یہ سب ہم خود اسے نہیں سکھائیں گے تو کوئی اور ضرور سکھا دے گا، اب چاہے وہ اچھا سکھائے یا بُرا!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com