کھلا خط، شرمین عبید چنائے کے نام - ہما پرائس

ہما پرائس معروف پاکستانی نژاد برطانوی وکیل ہیں۔ شرمین عبید چنائے اور آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹر کے معاملے پر انہوں نے فیس بک پر ایک کھلا خط لکھا، جو بڑے پیمانے پر پھیلا۔ اس خط کا ترجمہ ہم قارئین کے لیے پیش کررہے ہیں۔


عزیز شرمین عبید چنائے،

پہلے تو آپ نے یہ کہا کہ "میرے خاندان میں عورتیں مضبوط ہیں اور اپنے بل بوتے پر کھڑی ہوتی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔" مجھے آپ پر یقین نہیں آیا کیونکہ اگر آپ کے خاندان کی خواتین نے آپ کی بہن کو بااختیار بنایا ہوتا تو وہ اس معاملے کو خود سنبھالتیں بجائے اس کہ آپ کا سہارا لیتی، اپنی نامور بہن کا کہ وہ ان کی طرف سے جنگ لڑے۔

دوسری بات، وہ فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ کو مسترد کرنے کا اختیار استعمال کرتیں، ڈاکٹر کو بلاک کرتیں اور پھر بھی اصرار ہوتا تو آپ کو منظر عام پر لائے بغیر اس کی شکایت کرسکتی تھیں؛ اس بات کا حوالہ دیے بغیر بھی کہ وہ آپ کی بہن ہیں۔ تب یہ دیکھنا زیادہ بہتر ہوتا کہ آپ جیسی نامور شخصیت کے سامنے نہ آنے کی صورت میں ہسپتال کیا کارروائی کرتا ہے۔

اگر وہ کچھ نہ کرتے تو آپ کے ان تمام تبصروں کو جواز ملتا کہ پاکستان میں کس طرح جنسی ہراسگی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا کیونکہ بقول آپ کے پاکستان میں "کوئی حد نہیں"۔ آئیے میں آپ کو ایک حد بلکہ سرحد کے بارے میں بتاتی ہوں، جس کا میں نے مشاہدہ کیا ہے، وہ جو امیر اور طاقتور طبقے کو ورکنگ کلاس سے جدا کرتی ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ آپ اس لکیر کے کس طرف کھڑی ہیں۔ آپ نے ذاتی مفادات کے لیے اپنے مقام کا استعمال کیا۔

مجھے شک ہے کہ فیس بک ریکویسٹ کے بعد آپ کے گھر میں کوئی گفتگو ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ آپ، خاندان کی نامور شخصیت، اس معاملے کو ہسپتال تک لے جائے گی۔ درحقیقت، یہ آپ ہی تھیں جنہوں نے اپنی شہرت کا استعمال کرکے ایک غیر اخلاقی حرکت کو جنسی ہراسگی سے خلط ملط کیا، بڑا ہنگامہ کھڑا کیا اور ایک ایسے مسئلے کو معمولی بنا دیا جو کئی عورتوں کی زندگیاں تباہ کر دیتا ہے۔ اس عمل میں آپ نے چار بچوں کے ایک باپ کو بھی ملازمت سے نکلوا دیا۔

کیا آپ کی بہن واقعی فیس بک کی پرائیویسی سیٹنگ سے نابلد ہیں؟ اب آپ اس نئی معلومات کا بھی انکشاف کر رہی ہیں کہ انہوں نے آپ کی ہمشیرہ کو ریکویسٹ بھیجنے سے پہلے ان کی چند تصاویر لائک بھی کیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی بہن نے یہ تصاویر "پبلک پوسٹس" کے طور پر رکھی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص دوست نہیں، وہ انہیں دیکھ پایا۔ اس "معصوم" کو فوری طور فیس بک پرائیویسی سیٹنگ کا کورس کروانے کی ضرورت ہے۔

اس خط میں بھی آپ نے وہی سخت زبان استعمال کی ہے، جیسا کہ "پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کی سخت کمی جو ایک عورت کو مظلوم اور ہراساں محسوس کرنے کا سبب بنی۔" گویا صرف آپ کی بہن ہراسگی کے عمل کی شدت کو جانتی ہیں، جس سے روزانہ دنیا بھر میں کئی عورتیں گزرتی ہیں۔ اس مسئلے سے نہ نمٹ پانے کی وجہ دراصل آپ جیسی گھمنڈی خواتین ہیں جو خود کو activists کہتی ہیں اور ایسے معاملات کو اپنی مرضی کے وقت پر اٹھاتی ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈاکٹر جواد کو بھی جنسی ہراسگی کے الزام کا سامنا تھا؟ آپ ان کو جانتی تو ہوں گی کیونکہ وہ آپ کی دستاویزی فلموں میں تھے۔ چلیں تصویر سے پہچان جائیں گی۔ مجھے معلوم ہے کہ اپنی مریضہ کو جنسی ہراساں کرنے کے بعد بھی جب ان کے خلاف تحقیقات چل رہی تھیں تو آپ ان کے کلینک کے افتتاح کے لیے گئی تھیں۔ کیا یہ نچلے طبقے کے افراد ہی ہیں جنہیں آپ "ہراساں" کیے جانے کا سبق پڑھاتی ہیں؟

ان تمام عورتوں کا اتنا احساس کرنے کا بہت شکریہ کہ آپ نے اس ڈاکٹر کو ملازمت سے نکلوایا حالانکہ مجھے تقریباً یقین ہے کہ آپ نے یہ اس لیے کیا کیونکہ آپ اس پر برہم تھیں کہ اس ڈاکٹر نے سوچا کیسے کہ وہ عظیم چنائے "خاندان" کا دوست بن سکتا ہے۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ ہالی ووڈ تک پہنچنے والے سپر اسٹارز کے ساتھ دوستی رکھے یا اس کی خواہش بھی کرے!

یہ ہے آپ کی طاقت اور شہرت کی حد؟ آپ اتنی مضبوط نہیں ہیں، ہے نا؟ حقیقی مضبوط اور طاقتور خواتین ایسا رویّہ ہرگز اختیار نہیں کرتیں۔ اگر کسی اصل طاقتور خاتون کو آپ کی جگہ پر رکھا جاتا تو وہ سب سے پہلے اس معاملے کو سوشل میڈیا پر نہ اچھال کر اپنی بہن کو محفوظ کرتی۔

وہ "آزمائش" کی اس گھڑی سے نکلنے کے لیے بہن کی مدد کرتی، اور پھر ڈاکٹر سے نمٹنے کے لیے معقول اقدامات اٹھاتی۔ طاقتور خواتین کمزور عورتوں کا سہارا بنتی ہیں اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اختیار دیتی ہیں اور اپنے مسائل سے خود نمٹنے کا حوصلہ بھی۔ طاقتور خواتین جو کام بالکل نہیں کرتیں، وہ سوشل میڈیا پر جذباتی بڑھکیں مارنا ہے، وہ بھی ایسی جو ملک اور قوم پر سوالیہ نشان عائد کریں۔

طاقتور خواتین خود پر یقین رکھتی ہیں، وہ جذباتی نہیں ہوتیں۔ وہ متحمل مزاج ہوتی ہیں اور معاملات سے انتہائی مضبوطی اور عزم کے ساتھ نمٹتی ہیں۔ طاقتور خواتین افراد کو نشانہ نہیں بناتیں بلکہ مسئلے کو اٹھاتی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے دوسروں کا ساتھ چاہتی ہیں۔ یہ ساتھ بھی محض صنفی نہیں ہوتا۔ طاقتور خواتین مرد کو اپنا دشمن نہیں گردانتیں بلکہ اس حل کی نشاندہی کرتی ہیں جو جہاں تک دونوں اصناف کی مدد سے پہنچا جائے۔

بیشتر طاقتور خواتین رحم دل ہوتی ہیں، مغرور اور گھمنڈی نہیں ہوتیں۔ وہ کمزور اور پسے ہوئے طبقے کا خیال رکھتی ہیں، وہ بھی بغیر صنفی امتیاز کے۔ اس لیے ایک طاقتور خاتون ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے اپنے اقدامات سے متاثر ہونے والے افراد کے بارے میں سوچتی ہے۔ تو آپ کے خیال میں ایک مصروف حادثاتی و ہنگامی وارڈ سے ایک ڈاکٹر کو نکالنے سے کتنے مریض متاثر ہوں گے؟ آپ کے اقدامات کے نتائج ایک معصوم عورت پر کیا پڑیں گے کہ جو چار بچوں کی ماں ہے؟ جی ہاں ڈاکٹر کی اہلیہ پر۔

یہ معاملہ کمزور خواتین اور ان کے حقوق کا تھا ہی نہیں بلکہ ایک مراعات یافتہ خاندان کے اعلیٰ حقوق کا تھا، جو کسی 'ناپسندیدہ' شخص سے خود کو محفوظ کرنا چاہ رہا تھا۔

کیا آپ ایک لمحے کے لیے سوچ سکتی ہیں کہ ان چار معصوم بچوں پر کیا بیت رہی ہے جو اپنے والد پر لگنے والے الزام سے متاثر ہیں اور اس داغ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہیں کسی کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے یا ایک خاتون مریضہ کے معائنے کے دوران چھونے کا فرق بھی نہیں پتا ہوگا۔ کیا آپ کو اس صدمے کا اندازہ ہے جو آپ نے ان معصوم بچوں کی سماجی حیثیت کو یا والد کے ساتھ ان کے تعلقات کو پہنچایا ہے؟

اگر کوئی حقیقی طاقتور اور مضبوط عورت اس مسئلے سے نمٹتی تو ہمیں ان کا پتا بھی نہ ہوتا لیکن اس مسئلے کو ایک طاقتور مشہور شخصیت نے سمیٹا ہے، کسی انصاف کی طالب شکار عورت نے نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ قومی تنازع بن گیا۔ یہ معاملہ کمزور خواتین اور ان کے حقوق کا تھا ہی نہیں بلکہ ایک مراعات یافتہ خاندان کے اعلیٰ حقوق کا تھا، جو کسی 'ناپسندیدہ' شخص سے خود کو محفوظ کرنا چاہ رہا تھا۔ مجھے گمراہ، مغرور، جذباتی و غیر مستحکم عورت کی ضرورت نہیں جس کے پاس کوئی قدم اٹھانے کے بعد اس کی ذمہ داری کا احساس نہ ہو۔ آپ کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ ہراسگی ہوتی کیا ہے؟ مجھے آپ کی نمایندگی کی ضرورت ہے اور نہ اپنے حقوق کے لیے آپ کی جدوجہد کی۔ آپ نے میرا اعتماد کھویا ہے اور میں جانتی ہوں کہ بہت سارے لوگ اس طرح سوچ رہے ہیں۔

والسلام

ہما پرائس

(بیرسٹر)

لندن