اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے - یاسر محمود آرائیں

زمانہ جوں جوں ارتقائی مراحل طے کرتا جارہا ہے بہت سی ایسی چیزیں اور اقدار ہیں جن کی پابندی اور ان پر عمل کسی زمانے میں فخر کا باعث اور اعزاز کا سبب سمجھا جاتا تھا اب ان کے ساتھ وابستگی کو معیوب خیال کیا جانے لگا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں عوام کے ذہنوں میں شرم وحیا کے روایتی تصور کو ختم کرنے کے لیے میڈیا اپنے مخصوص مفادات کے تحت غیر محسوس انداز سے کمپین چلا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے اور یہ مقصد ہمارے روایتی مشرقی معاشروں میں کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہمارا میڈیا کبھی صنفی آزادی تو کبھی عورت اور مرد کے درمیان مساوات جیسے نعروں سے کام لے رہا ہے۔ اور ایک خاص مقصد کے تحت کبھی ملالہ یوسفزئی تو کبھی شرمین عبید چنائے اور اب مریم نواز کو اس طرح پذیرائی دی جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ کافی چیزوں کی تعریف ہی بدل کر رہ گئی ہے جن باتوں پر کسی زمانے میں مطعون کیا جاتا تھا اب ان پر دادوتحسین کے ڈونگرے برستے ہیں اور جن کو گزرے زمانے میں فخریہ پیش کیا جاتا تھا اب ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مثلاً کسی زمانے میں بے پردگی اور موجودہ بے لباسی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ شرفا کے گھرانوں میں بہن بیٹیوں کا اپنے محرم رشتے داروں کے سامنے بھی کھلے بالوں آنا نہایت بے شرمی کی بات سمجھی جاتی تھی اور اس وقت بیٹیوں اور بہنوں کو اپنے باپ، بھائی سے بات کرتے وقت بھی اک حد فاصل کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔ اس وقت کسی بیماری کی صورت بھی مستورات اپنے بالوں، چہرے یا ہاتھوں کو کسی معالج کے سامنے بے پردہ کرتے وقت ہفتوں ہچکچاہٹ کا شکار رہا کرتی تھیں۔ خاندان،محلے کے بچوں اور بڑوں کے درمیان ایک احترام اور خوف کا رشتہ ہوا کرتا تھا۔

مگر بدلے زمانے میں پردہ کو دقیانوسی اور تنگ نظری کی علامت قرار دے دیا گیا۔ جو بہن،بیٹیاں باپ اور بھائی سے بات کرتے ہچکچاتی تھیں اب وہ پارکوں اور درسگاہوں کے ویران گوشوں میں بوائے فرینڈ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھنٹوں تنہا بیٹھنے سے نہیں گھبراتیں۔ علاج کی خاطر بے پردگی سے شرمندہ ہونے والی بیبیاں اب اپنے جسم کو سوشل میڈیا کی بدولت بیچ چوراہے پر دیدار عام کے لیے رکھ کر کمنٹس مانگتی ہیں۔ بزرگوں اور بچوں کے مابین فطری جھجک اور شرم وحیا کو کانفیڈنس بلڈنگ کا نام دیکر کہیں پیچھے دفن کردیا گیا ہے۔

زمانے کی سوچ اور نفسیات میں اس بدلاؤ کا بہت بڑا ذمہ دار میڈیا ہے۔ میڈیا انسان کے دماغ پر اس قدر اثر انداز ہوچکا ہے کہ اس کے لیے سوچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ،سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دکھانا کوئی بڑی بات نہیں رہی۔ اور اس وقت میڈیا اپنی اس طاقت کو اپنے مخصوص مفادات کے تحت لوگوں کی رائے اور خیالات بدلنے کے لیے بھرپور استعمال کررہا ہے۔ اور رائے عامہ بدلنے کا یہ عمل صرف سماجی یا اخلاقی اقدار کے بدلاؤ تک ہی محدود نہیں بلکہ غیر محسوس انداز میں سیاسی روایات اور اقدار بدلنے کی کوشش بھی کی جارہی اور اس کاوش میں بھی میڈیا نے قابل ذکر حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

مثلاً کسی زمانے میں حکمران کی بزدلی اور منافقت کو بہت برا خیال کیا جاتا تھا مگر اب میڈیا کی جادوگری کی بدولت اسی کام کو مفاہمت کا نام دے دیا گیا ہے۔ پچھلے دور حکومت میں آصف زرداری نے پانچ سال تک ملک کو خوب لوٹا اور کھایا، خود بھی مال بنایا دوسروں کو بھی اس بہتی گنگا میں کھل کر نہانے دیا گو اس تمام عرصہ میں وطن عزیز کا انگ انگ نچوڑ لیا گیا مگر کسی نے ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی کیونکہ ان کے جرائم پر میڈیا نے اپنی سلیمانی چادر جو ڈال دی تھی۔ بلکہ ان کو مفاہمت کا بادشاہ اور نجانے کن کن خطابات سے بھی نواز دیا گیا۔

اسی طرح کبھی کوئی اپنے ملکی اداروں کے خلاف بات کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا اور ایسے خیالات رکھنے والے غدار سمجھا جاتا تھا مگر اب میڈیا کی کرشمہ سازی کی ہی بدولت یہ ہرزہ سرائی بھی اب فیشن بلکہ اسٹیٹس سمبل بنتی جارہی ہے کیونکہ ایسے سیاستدانوں کے لیے بھی آج کل ایک نئی اور متاثر کن اصطلاح "نظریاتی سیاست"رائج کردی گئی ہے۔

اب یہی دیکھ لیں کہ مریم نواز نے اپنی سیاست اور بیانات کی بدولت پارٹی اور خاندان کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر اب میڈیا اور اس کے دانشوروں نے ان کو بھی مسیحا بنا کر پیش کرنے کا عمل شروع کردیا جس کا اندازہ اعتزاز احسن کے ان کے متعلق بیانات کے بعد مسلسل ان کی مدح سرائی پر مبنی پروگراموں سے ہورہا ہے۔ اعتزاز احسن کی جانب سے کی گئی ان کی تعریف کا مقصد بخوبی سمجھا جاسکتا ہے اور اگر ان کی نظر سے ہی دیکھا جائے تو واقعی مریم نواز بجا طور پر ان کارناموں پر تعریف کی مستحق ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی موجودگی میں جو مسلم لیگ کرپشن کے معاملے میں بدنامی کے میدان میں کونے پر کھڑی تھی، اسے مریم نواز کی ہی فہم نے بیچ میدان میں لاکر کھڑا کیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ لوگ پیپلز پارٹی کی کرپشن کو بالکل فراموش کرچکے ہیں اور اب بچے بچے کی زبان پر نواز شریف جو اس سے پہلے ایماندار تصور کیے جاتے تھے، ان کی بے ایمانی کے تذکرے ہیں اس کا واحد سبب مریم نواز کی حکمت عملی ہی ہے۔

اس کے علاوہ نواز شریف اور سلامتی کے اداروں کے درمیان تعلقات جو کبھی نہایت خوشگوار ہوا کرتے تھے انہیں خراب کرنے اور ان کو پنجاب میں مذہبی اور دائیں بازو کے ووٹ بینک سے محروم کرنے جو پنجاب میں ان کی کامیابی کا ہمیشہ سے ضامن رہتا آیا ہے انہیں مریم نواز اور ڈان لیکس میں ان کی دست راست ٹیم کا ہی کارنامہ ہے۔ مزید یہ کہ اس نواز شریف کو جو کبھی اسلام پسند تصور کیے جاتے تھے اور امیرالمومنین بننے کے خواہاں تھے ان کی شیروانی اتروا کر کوٹ پینٹ پہنانا اور آخری عمر میں ممتاز قادری کی پھانسی، توہین رسالت کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کی بدولت ان پر قادیانیت نوازی کا لیبل لگانا بھی مریم نواز اور ان کے نفس ناطقہ افراد کا ہی اعزاز ہے۔ مشرف دور کی سختیوں اور آزمائشوں کے باوجود جن رفقا کے قدم نہ ڈگمگائے اور ڈکٹیٹر کے پناہ تشدد اور ترغیب کے باوجود جس جماعت اور خاندان میں تقسیم کی کوئی پرچھائی نظر نہیں آئی اس کے اختلافات کی خبروں کو چوک چوراہوں اور لونڈے لپاڑوں کی زبانوں تک پہنچانا بھی اسی مریم نواز کا ہی خاصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

اب اچانک اعتزاز احسن کی جانب سے جو خود پانامہ کیس میں میاں صاحب کے سخت خلاف تھے مریم نواز کی حمایت میں بیان دینے کا سبب یہ ہے کہ ایک تو وہ اس صورت چوہدری نثار سے اپنا دیرینہ بغض نکالنا چاہتے ہیں دوسرا ان کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح ایک بار پھر تیلی لگا کر نواز شریف کو بھڑکایا جائے کہ وہ اداروں کے خلاف محاذ آرائی کو کسی صورت ختم ناکریں کیونکہ صرف اسی صورت پیپلز پارٹی اور اعتزاز احسن جیسے خود ساختہ دانشوروں کے لیے کوئی گنجائش نکل سکتی ہے۔ جبکہ میڈیا کی جانب سے ان کی حمایت کا واحد سبب یہ ہے کہ ان کے مفادات اور فنڈنگ کا براہ راست تعلق اسی سوچ کو پروان چڑھانے سے ہے جس کے مطابق ایک طرف تو عورتوں کو سیاست اور جلسوں میں ملوث کرکے ہماری سماجی اقدار کو کھوکھلا کرنا ہے دوسری طرف ہمیں کمزور کرنے کے لیے مسلسل اندرونی خلفشار میں مبتلا رکھنا ہے۔

مگر اس میں آزمائش کا مقام میاں نواز شریف کے لیے ہے کہ وہ اس سازش کو سمجھیں اور کسی کی باتوں میں نہ آئیں اور سب سے بڑی بات تمام تر محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس چراغ کو فورا گل کردیں جس کی وجہ سے ان کے گھر کو آگ لگنا شروع ہوچکی ہے اور سختی سے پارٹی کے اس فیصلے پر عمل در آمد کروائیں جس میں مریم نواز کے پارٹی پالیسی کے بارے میں بیانات دینے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کو یہ بات بہت گراں گزرے مگر میری کوتاہ فہم کے مطابق آج مسلم لیگ اور خود میاں صاحب جن بدترین حالات اور مشکلات کا شکار ہیں اور ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت آج جتنی خوار اور ناپسندیدہ ہوچکی ہے اس کا سب سے بڑا سبب مریم نواز کی عاقبت نا اندیش پالیسیاں اور جارحیت پر مبنی رویہ ہے۔ اسی طرح جیسے کہ پیپلز پارٹی کو ضیاالحق جیسا حکمران توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا مگر اس کے اپنے اندر سے ہی آصف زرداری نے اس ملک گیر پارٹی کو اپنی کارکردگی کی وجہ سے ایک علاقائی جماعت تک محدود کردیا بالکل ایسے ہی مسلم لیگی گھرانے کو جو مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے ہاتھوں زوال کا شکار نا ہوا اس کو بھی اس کے اپنے ہی چراغ سے آگ لگنا شروع ہوچکی ہے اور میڈیا اور اعتزاز احسن جیسے مسلم لیگ کے "خیر خواہ" پھونکوں سے اس آگ کو بڑھاوا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.