وہ جِس کی صورت قائد اعظم ؒ جیسی تھی - اسماعیل احمد

دینا واڈیا،قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مریم جناح کی اکلوتی بیٹی 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ دینا جناح پہلی دفعہ 1948 میں اپنے والد کی وفات کے موقع پر پاکستان تشریف لائیں اور آخری باراپنے بیٹے نسلی واڈیا اور پوتوں نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا کے ساتھ 2004 میں پاکستان آئیں۔اپنےوالد کے مزار پر حاضری کے موقع پر مہمانوں کی کتاب میں آپ نے تاثرات لکھے۔" یہ میرے لیے دکھ بھرا شاندار دن تھا۔خدا کرے ان کا پاکستان کے لیے خواب پورا ہو۔ "

قائد کے پاکستان کے خواب کو "شرمندہ تعبیر " کرنے کی ذمہ داری آج کل جن کی اولاد یں اٹھانے والی ہیں وہ نواز شریف، آصف زرداری اور شہباز شریف ہیں۔ کسی نے یہ ذمہ داریاں متنازع وصیت سے اپنے حصے میں ڈالیں اور کسی کو یہ ذمہ داری ادا کرنے کا خیال دولت کے انبار پر بیٹھ کر آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے والے اکثرحکمران بھیڑیوں سے بھی زیادہ سفاک اور کوّے سے بھی زیادہ لالچی رہے۔ ان کی فہم و فراست اگر تھی تو صرف اپنی ذات کے لیے تھی، اس سے پاکستان کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا، پھر ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اقتدار کی خاطر اقدار پر کمپرومائز کرنا ان کی عادت تھی اب چاہے یہ کمپرومائزملکی اسٹیبلشمنٹ سے ہو یا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ ان حکمرانوں نے اپنے بعد اپنے بچوں کو بھی اقتدار کے لیے تیار کیا۔ گویا "ظلِ الہیٰ" تھے اپنے سوا کسی اور کو اقتدار کی کرسی کے قابل ہی نہ سمجھا۔

آج کے اس جدید دور میں جب چار دانگِ عالم جمہوریت کا شہرہ ہے، موروثیت کا تحفہ بھی ان سیاستدانوں نے ہمیں عطا کیا۔ ان کی سیاسی پارٹیاں ان کی ذاتی انٹرپرائزز ہیں جہاں عوام الناس کی جگہ ان کے اپنے حقوق کا تحفظ اور ان کے استحقاق کے لیے دامے، درمے، قدمے، سخنے جتن کیے جاتے ہیں۔عدالتیں ان سے ان کی بے پناہ دولت کا حساب مانگ لیں تو یہ انتقام، سازش اور تصادم ، کے نعرے بھی لگانے لگتے ہیں۔

لیکن دینا جناح کی وفات نے شاید رہنماؤں کے اس دور ابتلا میں ہمیں یاد کرایا ہے کہ ایک محمد علی جناح بھی تھا۔ ایک سچا، کھرا، با اصول، اپنی قوم سے مخلص انسان جو سیاستدان بھی تھا۔ سیاست جب اس نے کی، تو ایسی کی کہ ولیوں نے بھی اس کی خاطر دعائیں کیں۔ اپنےبعد اپنی اولاد کو ملک و قوم کے سر پہ سوار کرنے والوں کی طرح نہیں۔ اس کی اولاد بھی بلا امتیاز ِ مذہب اس کی طرح نیک نیت او رمخلص تھی۔ اپنے والد کے پاکستان پر اپنا حق ِ ملکیت ثابت کرنے کی کوئی خواہش اس نے نہیں کی۔ اس نے سیاست کے سوا بھی زندگی کو اہم جانا۔ اپنے آپ کو اپنی قوم کا واحد نجات دہندہ سمجھنے کی غلط فہمی بھی اسے نہیں تھی۔ ایک ہماری سیاست کے آج کل کے "صاحب زادگان " ہیں جن کی پارٹی گدیوں کا جھگڑا چل رہا ہے اور ایک دینا جناح تھی جس نے کہا تھا" اپنے باپ کے نام سے شہرت نہیں کمانا چاہتی۔"

یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ زندگی کے ایک انتہائی اہم فیصلے میں اختلاف رائے پر باپ بیٹی میں رنجش پیدا ہوئی مگر اس میں شبہ نہیں کہ دینا جناح کی صور ت ہمارے قائد سے ملتی تھی۔قائد اعظم کی عظمت کو سلام اور پاکستان کے اقتدار کے بھوکو ں کےلیے یہ چند اشعار

میری دھرتی پہ جو اندھیرا ہے

اس میں سار ا قصور تیرا ہے

تم نے روکی ہے اس چمن کی نمو

تیرا ایسا برا بسیرا ہے

یہ جو ذہنوں پہ دھند چھائی ہے

تیری پژمردگی کا گھیرا ہے

میرے شہروں پہ راج ہے شب کا

تیرے محلوں میں کیوں سویرا ہے

وہ بلاول ہو یا کہ مریم ہو

تجھ سا مکار خون تیرا ہے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */