حاجی صاحب - خالد ایم خان

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے شہر کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز جوڑیا بازار میں چاولوں کی خریداری کی خاطر جانا ہوا۔ جوڑیا بازار کراچی بلکہ پاکستان بھر میں تھوک یعنی بلک بیوپاریوں کے حوالے سے کافی مشہور ہے۔ مسلمان بیوپاریوں کے ساتھ ساتھ اس علاقہ میں کثرت سے ہندو بیوپاری بھی اپنا اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ دکان میں داخل ہوتے ہی مجھے سامنے گلے پر ایک باریش شخص سفید کاٹن کے بے داغ لباس میں بیٹھے نظر آئے۔ نورانی چہرے پر کرختگی مجھے کچھ عجیب سی محسوس ہوئی اورطرّہ یہ کے حاجی صاحب کا طرز تکلم بھی انتہائی نامناسب سا محسوس ہوا۔

خیر، ہمیں کیا لینا دینا تھا، چاول چاہیے تھے اچھی نسل کے۔ دکان کے ایک مزدور کے ساتھ دیکھنے لگ گئے کہ اچانک ایک صاحب دکان میں آئے اور سلام کرکے حاجی صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور دونوں میں حساب شروع ہو گیا کہ اچانک اُن صاحب نے کہا حاجی صاحب میرے آپ کی طرف مزید پچاس ہزار روپے نکلتے ہیں ، برائے مہربانی دے دیجیے۔ حاجی صاحب نے انتہائی نامناسب لہجے میں کہا کون سے پچاس ہزار؟ جاؤ میں نے اب تمہارا کچھ بھی نہیں دینا۔ وہ بندہ حیرانگی کے عالم میں حاجی صاھب کو دیکھتے ہوئے بولا حاجی صاحب! آپ کے فرزند سے میرا جو سودا ہوا، اُس کے مطابق میری آپ کی طرف اتنی رقم بنتی ہے۔ آپ برائے مہربانی غصہ نہ کریں اور ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے پوچھ لیں۔ حاجی صاحب نے انتہائی غصہ کے عالم میں "اُٹھو! نکلو یہاں سے، بنیے کا بچہ کوئی رقم نہیں دینی تمہاری اور ایک پیسہ بھی مزید تمہیں نہیں دوں گا، جاؤ یہاں سے!" وہ بولا ٹھیک ہے حاجی صاحب! لیکن آپ اپنے بیٹے سے کہیں کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر میرے منہ پر کہہ دے کہ ہمارا سودا اتنے میں نہیں ہوا تو میں یہ رقم معاف آپ کو معاف کردوں گا۔

حاجی صاحب تو جیسے چراغ پا ہو گئے۔ چیختے ہوئے بولے ابے ہندو بنیے! تیرا کیا لینا دینا اللہ سے؟ جا جا کر رام رام کر! لیکن اُس ہندو بنیے کے ادا کیے آخری الفاظ میرے کانوں میں سیسے کی مانند اُترے، کہا "ایسی بات نہ کریں حاجی صاحب! آپ انتہائی غلط بات کررہے ہیں اور پھر دنیا کی کس کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ صرف مسلمانوں کا ہے؟

میں بنا کچھ لیے اُس دکان سے نکلتا چلا گیا۔ میرے کانوں میں بابا بلہے شاہ کا ایک شعر، جیسے خود بابا بلہے شاہ با آواز بلندگُنگنا رہے ہیں

مندر ڈھادے مسجد ڈھا دے، ڈھادے جو کُجھ ڈھیندا

پر دل نہ کسی دا ڈھاویں بُلہیا دلاں وچ رب وسدا

ایک بُلہے شاہ ہی کیا؟ دنیا کے تمام پیغمبران، انبیاء ؑ اور تمام اولیا ء کا یہی کہنا ہے کہ دلو ں میں رب بستا ہے، دل اللہ کا گھر ہے، دل کی قدر کرنا۔ دل کی قدر کرو گے تو انسانیت کی قدر آہی جائے گی، اور انسانیت کا آنا تب ہی ممکن ہے جب آپ کی نیتیں صاف ہوں گی۔

مار ٹکراں رب نہیں ملدا رب ملدا سچی نیتاں ہو

اس لیے جس قدر جلد ممکن ہو اپنی نیتیں صاف کریں۔ ورنہ نہ ہی دنیا آپ کے کام آئے گی اور نہ ہی آخرت۔ کسی ایک جگہ پر بھی نہیں لکھا کہ عوام کے مال ودولت کر لوٹ لوٹ کر کھاؤ اور پھر سر پر سفیدٹوپی پہن کر مکہ مدینے جا کر ماتھے رگڑو تو پاک ہو جاؤ گے، سب کچھ معاف کردیا جائے گا۔ اگر ایسا ہے تو پھر سب ہی لوٹ مار میں مشغول ہوجائیں، سود کھائیں، خون آشام جونکوں کی مانندغریبوں کا خون چوسیں، ملک اور قوم کو تباہی کے ہھانے پر کھڑا کرکے خود ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ٹوپی پہنے اللہ کے حضور جا کھڑے ہوں اور کعبہ شریف کی دیواروں پر ہاتھ رکھ کر رو رو کر اللہ سے فریاد کریں کہ اللہ مجھے معاف کردیں، میں بہت بڑا غاصب ہوں، اللہ مجھے معاف کردے، میری گردن میں سے سریا نہیں نکل سکتا، اللہ مجھے معاف کر دے۔ عوام کا مال ناجائز انداز میں ہڑپنا میری مجبوری بن چکی ہے، اللہ مجھے معاف کردے ! لیکن بقول بلہے شاہ

تسبیح پڑہیں مکاراں والی، تو داڑھی کیتی چٹی

پرایا مال ایوں کھادا ہی جیویں ترکاری لگدی مٹھی

یہ تو ایسا ہی ہو گیا ہے کہ جیسے ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق،، کُھل کر گناہ کرو اور جاکر گنگا نہا لو، سب پاپ دُھل جائیں گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ لوگ بارگاہ الہیٰ میں عبادت کی غرض سے،فرائض کی تکمیل کے لیے، اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں جاتے بلکہ آپ لوگ مکے اور مدینے پاک ہونے کے لیے جاتے ہیں، گناہ دھلوانے کے لیے جاتے ہیں۔ پورا سال رج کے لُٹو،تہ فیر سال دے آخر مکہ مدینے جاواں گے اور اپنے گناہ معاف کروا لواں گے۔ تو بھائی حاجی صاحب معذرت کے ساتھ! ایسا نہیں ہوتا، آپ مذاق کررہے ہیں اپنے ساتھ، آپ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یہ آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے۔

بے شک میرا پروردگار بہت بڑا رحم کرنے والا ہے، رحیم ہے، کریم ہے، بے شک اللہ جسے چاہے معاف کردے اور جسے چاہے دھتکار دے، اللہ دے کر بھی آزماتا ہے اور نہ دے کر بھی۔ اللہ نے آپ کو تین مواقع دیے جس کے بعد اب اللہ کی رسی کھنچ رہی ہے۔ آپ بار بار ہر بار پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ تو جناب حاجی صاحب آپ اپنے گریبان میں جھانکیں شاید جواب آپ کو مل ہی جائے۔ اپنی نیتیں صاف کرلیں وقت گیا نہیں ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ حاجی ڈار صاحب کو بھی پکڑ کر واپس لائیں اور اُن سے مُلک اور قوم کا لوٹا گیا خزانہ واپس مانگیں۔ شاید اللہ آپ کو معاف کردے۔ زرداری ٹولے سے لے کر ملک کے ہر کرپٹ انسان کو آپ پکڑ کر کٹہرے میں لائیں جس سے آپ کی کریڈیبیلٹی بھی بڑھے گی اور عوام پر آپ کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور پھر شاید آپ کے گناہوں کا کفارہ بھی ادا ہو جائے۔

میرے ایک دوست چوہدری صاحب، جنہوں نے اس سال چودہواں حج کیا ہے، کو میں نے کہا کہ چوہدری صاحب! ہر مسلمان پر ایک حج فرض ہے۔ چلیں آپ دو تین کرلیتے باقی حج ادا کرنے کے بجائے آپ اپنے حلقۂ احباب میں سے کچھ ایسے غریب افراد تلاش کرتے جن کی آج کے دور میں حج ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے اپنی رقم سے اُن کو حج ادا کروا دیتے اُن کے فرائض کی تکمیل بھی ہو جاتی اور اللہ کی نظر میں آپ کی جانب سے ادا کی گئی قربانی بھی منظور نظرٹھہرتی۔ چوہدری صاحب ناراض ہو گئے۔ اسی طرح میاں صاحب آپ بھی ہم سے ضرور ناراض ہوتے ہوں گے۔ ناراض نہ ہوں ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ ہم آپ ہی کے بھلے کی خاطر کہہ رہے ہیں۔ یہ احتساب کا عمل آپ کی جانب سے شروع ہوا ہوتا تو آپ طیب اردوان کی طرح اس ملک کے ہیرو ہوتے۔ اللہ کو آپ کے عمروں اور حجوں کی ضرورت نہیں ہے، اللہ کو آپ کے خالص نیک اعمال اور مُخلص نیتوں کی ضرورت ہے۔