دینا واڈیا کا نوٹ، ایک تاریخی حوالہ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آنجہانی دینا واڈیا کا لکھا یہ نوٹ کچھ عرصہ قبل نظر سے گزرا۔ کل ان کے انتقال کی خبر آنے کے بعد سے لے کر اب تک پھر اسے چند دوستوں کی وال پر دیکھا۔ سوچا میں بھی اسے پوسٹ کروں کیونکہ اب یہ ایک بہت اہم تاریخی حوالہ ہے اور شاید آج کے پاکستان میں اس کی اہمیت اور بھی دوچند ہو گئی ہے کیونکہ یہاں آزادی اظہار کا مطلب بعض حلقوں کے نزدیک بس اسی قدر ہے کہ محترم اور معزز کو متنازع بنا کر رکھ دیا جائے۔ ابھی تو یہ دوست مزید "آزادی" کے متقاضی رہتے ہیں، معلوم نہیں اور کس کے بخیے ادھیڑنا ابھی باقی ہیں۔

بہت سے دوستوں نے اپنے تعزیتی اپڈیٹس میں اس بات پر افسوس کیا ہے کہ قائد اعظم کی صاحبزادی مسلمان نہ رہ سکیں یا پھر یہ کہ کم از کم وہ پاکستان ہی آ جاتیں۔ اللہ تعالٰی کے کام اور ان کی حکمت بعض اوقات ہم سے پوشیدہ رہتی ہے تاآنکہ اس کا وقت آ پہنچے. آج صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ تحریر قائد اعظم کی بیٹی کی ضرور ہے، لیکن اس بیٹی کی جس نے اپنے والد کے مذہب، سیاسی جدوجہد اور اس جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونے والے ملک سے کبھی کوئی سروکار نہ رکھا۔ یہ قائد کو نہایت قریب سے جاننے والی شخصیت کے خیالات ضرور ہیں لیکن حالات کے سبب یہ شخصیت اسی درجہ غیر جانبدار اور معروضی بھی ہے۔ یہی اس نوٹ کے مندرجات کی اہمیت ہے۔

اس تحریر میں 4 باتیں بہت نمایاں ہیں :

1. قائداعظم کوئی دکھاوا کرنے والے شخص نہ تھے اور واقعی نہایت اصول پرست انسان تھے۔

2. انہوں نے پاکستان بنانے کے واسطے سخت محنت کی اور اس ضمن اپنے پیاروں سے بھی دور رہے۔ پاکستان کے کاز کو وہ دل کے قریب رکھتے تھے، جیسا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی بیٹی سے قیام پاکستان کے امکان کو بطور ایک بڑی خبر شئیر بھی کیا۔ کسی دوسرے کے ایماء پر یا اس کے "ایجنٹ" کے طور کام کرنے والے ایسے نہیں ہوتے۔

3. ہمارے ہاں بعض لوگ کسی مسٹر ایم سی چھاگلہ کا ریفرنس دے کر قائد پر خنزیر کا گوشت مرغوب رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کو بھی اس نوٹ میں جواب مل گیا ہو گا کہ کسی بھی مسلمان کی طرح محمد علی جناح بھی خنزیر کو حرام جانتے اور اس کو کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسز دینا واڈیا نے قائد سے قربت کا دعویٰ رکھنے والوں کو جھٹلاتے ہوئے ایسی باتوں کو ان لوگوں کی خیالی باتیں قرار دیا۔ امید ہے ہمارے وہ دوست جو ایسے اقتباسات لگا کر اپنی جانب سے بڑی توپ چلایا کرتے تھے ان کو اگر شرم نہیں بھی آئی تو تسلی تو ہو گئی ہو گی کہ سوانح نگار کی نسبت بیٹی کی بات زیادہ قرین حقیقت ہو گی۔

4. آخری بات یہ کہ مسز واڈیا نے ییاں یہ بات بھی جتلا دی کہ مسلمانان ہند کے بہت سے ممتاز رہنما ہوئے، لیکن یہ قائد کا طرہ امتیاز اور مسلمانوں پر احسان ہے کہ انہیں ایک الگ ملک لے کر دیا۔ اب یہ ان کا کام ہے قائد کی اس محنت و عطا کی لاج رکھیں۔ محسوس کرنے والے کے لیے اس بات میں شکوہ بھی ہے اور امید بھی۔

بحیثیت پاکستانی ہمارے لیے یہ تحریر قائد کی ذات اور ان کی جدوجہد کے حوالہ سے تجدید اعتماد کا باعث ہونا چاہیے اور اپنے عمل کے لحاظ سے عزمِ نو کا سامان۔

دینا واڈیا اللہ کے حضور پہنچ گئیں۔ ان کا معاملہ اس ذات کے سپرد جو ہر شے کا علم رکھتی ہے۔

ہمارے لیے قائداعظم، ان کا پاکستان اور ہمارا عمل ہے ... اہم ترین بات یہ ہے کہ سوائے ہمارے عمل کے، اس مثلث میں کچھ بھی مشکوک نہیں!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.