نصاب سے حقیقت تک - ناصر محمود اعوان

بچہ سکول سے نکلتا ہے توایک نئی دنیا، بڑوں کی دنیا، اس کی منتظر ہوتی ہے۔ ایسی دنیا جہاں اس نے والدین کی چھتری سے نکل کر خود انحصاری کے سفر پر نکلنا ہے۔اس نے ملازمت، کاروبار یا کسی اور معاشی سرگرمی سے وابستہ ہونا ہے۔ کچھ ہی سالوں کے بعد اس کی شادی ہونی ہے، ایک نئے خاندان کا آغاز کرنا ہے،اپنی ذات اور اپنے خاندان کا تحفظ کرنا ہے، ہمسایوں، رشتے داروں، رفقائے کار کے ساتھ تعلق نبھانا ہے اورمعاشرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔

سکول اور گریڈ

بچہ سکول میں ہوتا ہے تو وہ آنے والی زندگی سے بے نیاز پڑھائی میں مگن ہوتا ہے۔ اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ تم صرف پڑھائی لکھائی پر دھیان رکھو اور خوب محنت کرو تاکہ اچھے نمبر اور گریڈ حاصل کرسکو۔ یہ نمبر اور گریڈ والدین، استاد اور سکول کی ترجیح اوّل ہوتے ہیں۔

بچہ والدین کی طرف دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں میں اسے گریڈ لکھے ملتے ہیں۔ اساتذہ کی بات پر دھیان دیتا ہے تو ان کی زبان پر گریڈ اور نمبروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔سکول کی پبلسٹی پر نظر پڑتی ہے تو یہ نمبر اور گریڈ بطور اشتہار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ گریڈ اور نمبر بچے پر پریشر بن کر نازل ہوجاتے ہیں۔ اس پریشر سے نکلنے کے لیے وہ رٹّا لگاتا ہے، ٹیوشن پڑھتا ہے، گیس پیپر استعمال کرتا ہے، حتیٰ کہ امتحان کے دوران نقل لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اچھے نمبر حاصل کر لیے تو کامیاب ورنہ ناکام۔

بچے کو بتایا جاتا ہے کہ یہ گریڈ اور نمبر انتہائی اہم ہیں۔ بلکہ یہ نمبر ہی سب کچھ ہیں۔ انھی نمبروں پر اس کے روشن مستقبل کا انحصار ہے۔آپ غور کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ روشن مستقبل بس ایک اچھی سی ’’ملازمت‘‘کے سوا کچھ نہیں۔ یعنی پورا خاندان اورسکول سسٹم بچے کو اچھی ملازمت دینے پر لگا ہوا ہے۔

چلیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے کہ بچے کو ملازمت مل جائے تو بھی غینمت ہے، کم ازکم کچھ تو خوش حالی آئے گی۔ لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔

ملازمت کی دنیا

سکول بچے کو نمبر دے دیتا ہے اور اس کے ہاتھ میں ’’ملازمت کی کنجی‘‘ یعنی ڈگری بھی تھما دیتا ہے لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بچہ ملازمت کے لیے 'بڑوں کی دنیا' میں پہلا قدم رکھتا ہے۔

سکول اسے یہ تو بتاتا ہے کہ اس ڈگری سے ملازمت مل جائے گی لیکن اسے یہ نہیں بتاتا کہ ’’ملازمت ‘‘ تلاش کیسے کرنی ہے؟ انٹرویو کی تیاری کیسے کرنی ہے؟ اگر کوئی ملازمت نہیں ملتی تو پھر کیا کرنا ہے؟ اور اگر ملازمت مل جاتی ہے تو اسے برقرار کیسے رکھنا ہے؟ اور اس میں ترقی کے مواقع کیسے تلاش کرنے ہیں؟ یعنی سکول بچے میں وہ مہارتیں پیدا نہیں کرتا جنہیں روزگار کی مہارتیں یا Employability Skills کہا جاتا ہے۔

زندگی کے مسائل

اب بچے کو پتا چلتا ہے کہ اس نئی دنیا میں قدم قدم پر چیلنج ہیں۔ اس کے پاس تو زندگی کے پہلے چیلنج ، ملازمت، سے نبٹنے کی مہارت نہیں ہے۔ پھر اسے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی صرف ملازمت نہیں ہے جہاں اسے بس Employability Skills کی ضرورت ہو۔بڑوں کی اس دنیا میں ضروریات کا دباؤ ہے، مسابقت کی ایک زبردست فضا ہے، قدم قدم پر مفادات کا ٹکراؤ ہے، اختلافات ہیں، کشمکش ہے۔ اس نے مسائل کے اس جھاڑ جھنکار سے دامن بچاتے ہوئے آگے جانا ہے۔

اس وقت اسے نئی دنیا میں زندہ رہنے اوراپنی بقا کے لیے اسے بہت سی انفرادی اور معاشرتی مہارتوں (Skills)کی ضرورت پڑتی ہے۔

اسے گفت و شنید کی مہارت (Negotiation Skills) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ روزمرہ زندگی میں دوست، احباب اور عام لوگوں کے ساتھ اختلافات کووہ احسن طریقے سے حل کرسکے۔

اسے سوچ بچار کی مہارت (Thinking Skills) کی ضرورت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ معاملات کو سمجھ کر درست فیصلے کرسکے۔

اسے خاندان سنبھالنے کی مہارت(Parenting Skills) کی ضرورت ہوتی ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے وہ بچوں کی صحیح پرورش کرسکے۔

اسے مالیاتی نظم و نسق کی مہارت (Financial Management Skills) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ آمدن اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے گھریلو بجٹ بنا سکے اور اسے کامیابی سے چلاسکے۔

اس کے علاوہ اسے ذاتی دفاع کی مہارت، مسائل حل کرنے کی مہارت، دباؤ سے نکلنے کی مہارت(Stress Management)، وقت کی تنظیم کی مہارت(Time Management)،نئے ماحول اور افراد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی مہارت جیسی کئی ایک مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ سب مہارتیں اس کی زندگی کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس وقت اس کے پاس کوئی ایک بھی مہارت نہیں ہوتی۔ اس عملی زندگی میں گریڈ اور نمبر بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ سکول نے تو اسے کچھ بھی نہیں سکھایا۔

سکول کیا سکھاتا ہے؟

سکول بچے کو عملاً دو مہارتیں سکھاتا ہے: ایک پڑھنے لکھنے کی مہارت دوسری نمبر اور گریڈ لینے کی مہارت۔ پڑھنا لکھنا بھی چونکہ نمبروں کے لیے ہوتا ہے اس لیے سکول بچے کو محض نمبراور گریڈ لینے کی مہارت سکھا تاہے۔ زندگی کے مسئلے مسائل کیاہیں؟ بچہ ان سے کیسے نبرد آزما ہوگا، سکول کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔سکول اس کے ہاتھ میں ایک عدد ڈگری تھما کر فارغ ہوجاتا ہے۔اب بچہ جانے اور اس کے والدین۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا سکول ان مہارتوں کی اہمیت سے واقف نہیں؟اگر واقف ہے تو وہ یہ مہارتیں بچے کی شخصیت میں کیوں پیدا نہیں کرتا؟

آپ حیران ہوں گے کہ سکول نہ صرف ان مہارتوں کی اہمیت سے واقف ہے بلکہ وہ ان میں بہت سی مہارتیں پیدا کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ اور پھر جائزہ لیتا ہے کہ یہ مہارتیں پیدا ہوگئی ہیں یا نہیں۔اس کے مطابق بچوں کو پاس اور فیل کرتا ہے۔

نصاب کا دعویٰ

آپ پاکستان کا قومی نصاب (Curriculum) دیکھ لیں۔اس کے معاشرتی علوم کے نصاب کے سرنامے میں لکھا ہوا ہے کہ ہماری تدریس کا منتہائے مقصود ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو جمہوری معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکیں۔آگے چل کر دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاشرتی علوم کا یہ نصاب بچوں میں سوچنے کی مہارت، معلومات اکٹھی کرنے، ان کی تشریح کرنے، اور ان کا تجزیہ کرنے کی مہارت، ابلاغ کی مہارت، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور فیصلہ کرنے کی مہارت پیدا کرے گا۔

آپ یہ مقاصد پڑھ کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ جامع اور ہر لحاظ سے بچوں کی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ ان میں آنے والے دور کی واضح تصویر بھی دکھائی گئی ہے جب بچے جمہوری معاشرے میں اپنے حصے کا فعال کردار ادا کریں گے۔ نصاب میں کئی ایک انفرادی و معاشرتی مہارتوں پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

نصاب بنانے کے بعد ان مقاصد کو بروئے کارلانے کا اہتمام ہوتا ہے۔ان مقاصد کی روشنی میں درسی کتب تیار کی جاتی ہیں، تعلیمی سرگرمیاں مرتب کی جاتی ہیں اور جائزے یا امتحانات(Assessment) کا ایک نظام تشکیل دیا جاتا ہے۔ آپ اس پوری کارروائی کے عملی نتائج دیکھتے ہیں تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اتنے کچھ دعوے کیے گئے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

اس کی ایک مثال ’’مسائل حل کرنے کی مہارت‘‘ (Problem Solving Skills) ہے۔ یہ مہارت کیا ہے؟ اورسکول بچوں میں یہ مہارت کیسے پیدا کرتا ہے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

مسائل حل کرنے کی مہارت کیا ہے؟

ہمیں روزمرہ روزمرہ زندگی میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ مسائل حل بھی ہوسکتے ہیں اور الجھ بھی سکتے ہیں۔ ظاہر ہے ہم مسائل حل نہیں کریں گے یا انہیں اچھے طریقے سے ہینڈل نہیں کریں گے تو وہ الجھ جائیں گے اور ایک مسئلے کے بطن سے کئی اور مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ مسئلے انفرادی بھی ہوتے ہیں اور اجتماعی بھی۔

بڑوں کی طرح بچے بھی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ مسائل کمرہ ٔ جماعت میں تعلیمی مشکلات سے لے کر کھیل کے میدان میں جھگڑوں تک ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بچے میں شروع ہی سے مسائل حل کرنے کی مہارت پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مہارت کی مدد سے بچے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ خود اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اگر اس میں یہ مہارت نہ ہو تو وہ غلط صحیح کچھ بھی کرسکتا ہے۔ مثلاً اگر اس کا کھیل کے میدان میں کسی بچے کے ساتھ جھگڑا ہوجائے تو وہ اس مسئلے کا سامنا کرنے کی بجائے ممکن ہے کہ کھیل جیسی مثبت سرگرمی ہی کو ترک کردے۔ پھر یہ مہارت اس کی آئندہ زندگی کے لیے بھی ایک قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔

اس مہارت کے لیے بچوں کے روزمرہ کے مختلف مسائل کو سامنے رکھا جاتا ہے اورمسائل حل کرنے کے مختلف طریقوں کے ذریعے مسلسل مشق کرائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ یہ مہارت ان کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔

مسائل حل کرنے کے مختلف طریقوں میں سے ایک Problem Solving Method ہے۔ اس طریقے کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔یہ مراحل بچوں کو سمجھائے جاتے ہیں یوں ان پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنا مسئلہ حل کرلیتے ہیں۔ اس Method کو ایک مثال کے ذریعے سمجھیں۔

فرض کریں ساتویں جماعت کے طلبہ چھٹی کے بعد سکول کے میدان میں فٹ بال کھیلتے ہیں۔ یہ ان کا روز کا معمول ہے۔ ایک دن وہ آئے تو انہوں نے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو وہاں فٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھا۔ ساتویں جماعت کے طلبہ نے اپنے سینر دوستوں سے کہا کہ وہ روزانہ چھٹی کے بعد اس میدان میں کھیلتے ہیں اس لیے آج بھی انہیں یہاں کھیلنے دیا جائے۔ آٹھویں جماعت کے طلبہ نے کہا کہ کھیل کا میدان کسی ایک جماعت کی ملکیت نہیں، اس لیے آئندہ سے وہ یہاں کھیلیں گے۔ اس بات پر دونوں جماعت کے بچوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ اختلاف جھگڑے کی صورت اختیار کرنے ہی لگتا ہے کہ اچانک ہیڈ ماسڑ صاحب ادھر آنکلتے ہیں۔وہ بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ پیارے بچو! آپ نے معاشرتی علوم کی کتاب میں مسئلہ حل کرنے کا ایک طریقہ پڑھا ہے۔ جسے ہم Problem Solving Method کہتے ہیں۔ اسی طریقے کے مطابق اپنے مسئلے کو حل کرو۔ اب بچے اس مسئلے کو Problem Solving Method کے درج ذیل مراحل کے ذریعے حل کرتے ہیں۔

1:سب سے پہلے تشخیص کریں کہ مسئلہ کیا ہے؟

(ساتویں جماعت کے طلبہ سکول کے میدان میں کھیلناچاہتے ہیں جب کہ آٹھویں جماعت کے طلبہ کی بھی یہی خواہش ہے)

2: مسئلے کے متعلق کچھ مزید معلومات اکٹھی کریں۔

(ساتویں جماعت کے طلبہ ہمیشہ چھٹی کے بعد یہاں کھیلتے ہیں، کھیل کا میدان سکول کی ملکیت ہے، تمام طلبہ یہاں کھیل سکتے ہیں، ایک ہی وقت میں تمام ٹیمیں نہیں کھیل سکتیں )

3: مسئلے کے کون کون سے حل ممکن ہیں؟

((الف) ہر روز یہاں کھیلنے کی وجہ سے ساتویں جماعت کے طلبہ کا حق فائق ہے۔ (ب) جو پہلے آئے گا وہی کھیلے گا۔ (ج) کھیل کے لیے دونوں جماعتیں باریاں بنا سکتی ہیں۔ (د) کھیلنے کے لیے قرعہ اندازی ہوسکتی ہے۔ (ہ)کسی بات پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کو منصف بنایا جاسکتا ہے۔)

4: مندرجہ بالا ممکنہ حل میں کون سا حل بہتر اور قابل قبول ہے۔(طلبہ فیصلہ کریں گے)۔

مسئلہ حل ہو نہ ہو۔ آپ دیکھیں کہ جب بچے مسئلے کے حل پر سوچنا شروع کردیں گے تو انہیں یہ مسئلہ، مسئلہ ہی نظر نہیں آئے گا۔

مسائل حل کرنے کے کئی ایک طریقے ہیں۔ لیکن اگر بچے اسی ایک طریقے یعنی Problem Solving Methodہی کو اختیار کرلیں تو مسائل حل کرنے کی مہارت ان کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔

نصاب کس طرح مہارت سکھاتا ہے؟

اب آئیں قومی نصاب کی طرف۔ معاشرتی علوم کے نصاب (Curriculum)میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ بچوں میں مسائل حل کرنے کی مہارت پیدا کردے گا۔

اب ملاحظہ کریں کہ اس دعوے کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے۔

جماعت سوم کے نصاب(Curriculum) میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو پڑھایا جائے گا کہ گھر، سکول اور معاشرے میں افراد کے درمیان اختلافات اور قضیے پیدا ہو جاتے ہیں۔بچے ان اختلافات کو Problem Solving Method کے ذریعے ختم کرنا سیکھیں گے۔

اس نصاب کی روشنی میں تیسری جماعت کی درسی کتاب (پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ) تیار کی گئی تو اس کے سبق نمبر 11 میں یہ Method سکھایا گیا۔ سکھایا کیا گیا، بغیر کسی مثال کے بس لوازمہ (Content) دے دیا گیا جسے برتنا تو ایک طرف طلبہ کے لیے سمجھنا بھی مشکل ہے۔

سبق نمبر 11، صفحہ نمبر 145 میں مسئلہ حل کرنے کے طریقے(Problem Solving Method) سے متعلق ٹیکسٹ یوں دیا گیا ہے(انگلش سے ترجمہ کررہا ہوں، ناصر):

’’بچو! کسی بھی قضیے کو ہم Problem Solving Method کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ اس کے مندرجہ ذیل مراحل ہیں:

(۱) سب سے پہلے جانیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

(۲) مسئلے کا فریق کون ہے؟

(۳) مسئلہ حل کرنے کے لیے کسی طریقے کی منصوبہ بندی کریں اور اس منصوبے پر عمل کریں۔ (حیرت ہے کہ طریقے(Method) کی منصوبہ بندی بھی طلبہ خود کریں؟ یعنی ان کو طریقہ بتایا ہی نہیں گیا، ناصر)

(۴) قضیہ یا اختلاف ختم کرنے کے لیے ممکنہ حل کا اندازہ لگائیں (تیسری جماعت کا بچہ ممکنہ حل کا اندازہ لگائے گا؟ ناصر)۔

(۵) قضیہ حل کرنے کے لیے فریقین سے مشورہ کریں اور ان کی معاونت کریں۔

(۶) اکثریت کی رائے کے مطابق مسئلہ حل کریں۔

سبحان اللّٰہ ! بغیر کسی مثال کے مسئلہ حل کرنے کا کیا شان دار طریق کار بتایا گیا ہے۔ یہ اساتذہ کی سمجھ میں آنے والا نہیں ہے طلبہ اس کو کیا سمجھیں گے۔ ہاں طلبہ اس کا رٹا لگا کر نمبر ضرور حاصل کر لیں گے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں درسی کتاب کلیدی اور بعض صورتوں واحد ذریعہ تدریس ہوتی ہے۔استاد اور طلبہ کا کلی انحصار درسی کتاب پر ہوتا ہے۔اس لیے یہاں درسی کتاب کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ جماعت سوم کی اس درسی کتاب اوراس میں دیے گئے لوازمے کا جائزہ لیں۔ بدقسمتی سے معیار کے اعتبار سے یہ پست ترین سطح پر ہے۔اس میں دیا گیا لوازمہ انتہائی گنجلک ہے۔ بچے کے لیے تو یہ ناقابل فہم ہے ہی سہی، استاد کے لیے بھی اسے سمجھنا مشکل ہے۔ ہمارے ہاں استاد کی رہنمائی کے لیے درسی کتاب کے ساتھ کوئی ٹیچر گائیڈ نہیں دی جاتی۔ لیکن ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ایک ٹیچر ذاتی دلچسپی لے کر انٹرنیٹ اور مختلف کتب کی مدد سے اس تصور کو خود اچھی طرح سمجھ لیتا ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سمجھ لینے کے بعد استاد بچے کوپڑھائے گا کیسے؟

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

استاد کی تدریسی حکمت عملی

کسی تصور کی تدریس بذریعہ لیکچر کی جائے تو بچہ صرف 5 فی صد سیکھتا ہے۔اگر بچہ کسی تصور کو بذریعہ مطالعہ سیکھے تو وہ 10 فی صد تک سیکھ پاتا ہے۔ سمعی و بصری ذرائع سے یعنی کسی تصور کا مشاہدہ کرنے پر وہ اس تصور کو20 فی صد تک سیکھتا ہے۔استاد بچوں کے سامنے اس تصورکا عملی مظاہرہ کرکے دکھائے تو بچہ 30فی صد ٍتک سیکھ جاتا ہے۔ اگر بچہ کسی تصور پر بحث و مباحثہ کرے تو وہ 50فی صد تک سیکھ جاتا ہے۔ اگر بچہ کسی تصور کی عملی طور پر مشق کرے یعنی بذریعہ رول پلے سیکھے تو وہ اس تصور کو 75فی صد تک سیکھ جاتا ہے۔

ہمارے ہاں تدریس کا مروجہ اور روایتی طریقہ کار کیا ہے؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں، سب جانتے ہیں کہ بذریعہ لیکچر ہے یا الا ماشااللّٰہ بذریعہ مطالعہ۔ اور لیکچر بھی کوئی موثر لیکچر نہیں ہوتا جس میں بچوں کے سامنے سوالات رکھتے جاتے ہوں اور بچوں کو سوالات کرنے کی اجازت دی جاتی ہو۔ استاد بس بولتا ہے اور بچے خاموش ہوکر سنتے ہیں۔ استادکا سارا زور لیکچر کے ذریعے ’’ سمجھانے‘‘ پر ہوتا ہے۔سمجھانے پر اس لیے تاکہ بچہ اس کو اچھی طرح اور آسانی سے ’’یاد‘‘کرلے، امتحانی پرچے میں اس کو کامیابی سے لکھ آئے، اچھے نمبر حاصل کرلے اوریوں استاد اور سکول کی عزت کا باعث بنے۔استاد کی تدریسی حکمت عملی کا محور محض نمبر کا حصول ہوتا ہے۔اس تصور کی عملی مشق یا اس تصور کو عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی کوئی سکیم سکول سسٹم کے پاس نہیں ہوتی۔اور نہ ہی عملی زندگی میں برؤے کار لانے پر اسے نمبر اور گریڈ ملتے ہیں۔ یہاں فٹ بال کے میدان میں بچوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوجائے تو کوئی ہیڈ ماسٹر آکر نہیں بتاتا کہ اس جھگڑے کو Problem Solving Method کے ذریعے ختم کرو۔چلیں عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی حکمت عملی نہ سہی، بذریعہ رول پلے ہی انہیں مشق کا موقع مل جاتا تو کم ازکم وہ تصور کو 75 فی صد تو سیکھ جاتے۔

حاصل کلام

صرف اس ایک مثال کو سامنے رکھیں اور دیانت داری سے رائے دیں کہ کیا سکول بچوں میں مسائل حل کرنے کی مہارت (Problem Solving Skills) پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ یقیناً نہیں۔اسی ایک مہارت پر دیگر مہارتوں کو قیاس کرلیں کہ ہمارے بچوں کے پاس عملی زندگی کی مہارتیں کیوں نہیں۔اس سے آپ رائج سکول سسٹم کی افادیت اور اس کے عملی زندگی کے ساتھ تعلق کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔

دراصل پورے سکول سسٹم کی عمارت کاغذ کی چھت اور پنسل کے ستونوں پر کھڑی ہے۔ سکول نے نصاب کے کاغذ پر مقاصد اور مہارتیں تحریر کردیں اور بچے نے پیپر پرلکھ کر دکھا دیں کہ لوآکر دیکھ لو میں نے یہ مقاصد اور مہارتیں حاصل کر لی ہیں۔ استاد نے پیپر دیکھ کر بچے کو A+ گریڈ دے دیا۔اور مہر تصدیق ثبت کردی کہ بچے نے یہ مہارتیں سیکھ لی ہیں۔ عملاً بچے کو کچھ پتا نہیں کہ یہ مہارتیں کیا ہیں۔ اگر پتا بھی ہیں تو ناقص معلومات کی حد تک۔ یہ معلومات امتحان تک اس کے دماغ میں ہوں گی۔ اگلی جماعت میں وہ بھول چکا ہوگا۔ عملی زندگی میں پہنچتے پہنچتے تو شاید اسے ان مہارتوں کے نام بھی یاد نہ ہوں گے۔ یہ مہارتیں اس کی عملی زندگی کا کبھی حصہ نہیں بن پاتیں۔یوں یہ مہارتیں محض پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں برتنے کے لیے نہیں۔

مجموعی طور پرہمارا تعلیمی نظام بچے کو حقیقی دنیا کے چیلنج کے لیے تیار نہیں کرتا۔سکول میں سیکھنے کا ایک قاعدہ (Norm)ہوتا ہے جس سے بچہ ہٹ نہیں سکتا۔ یہ بچے کو صرف پڑھنا لکھنا، یاد کرنااور ٹیسٹ پاس کرنا سکھاتا ہے۔بچے پر معلومات کی بارش برسائی جاتی ہے جسے جذب کرکے وہ پیپر پر انڈیل آتا ہے۔ بچہ محض معلومات اکٹھی کرتا ہے مہارتیں نہیں سیکھ پاتا۔ یوں عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دامن میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔

مسئلے کا حل کیا ہے؟

بچے میں مہارتیں پیدا کرنے میں ہم سکول کا کردار دیکھ چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیاہے؟ سچی بات یہ ہے کہ پورے نظام تعلیم میں ہمہ گیر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسی اصلاحات جو نصاب سے لے کر طریقہ تدریس اورنظام امتحانات تک محیط ہوں۔ لیکن اصلاحات کا یہ عمل صبر آزما اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ سردست والدین آگے بڑھ کر اپنے حصے کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بچے دن کا بیشتر حصہ اپنے والدین کے پاس گھر میں رہتے ہیں۔ والدین بچوں کو بہت سی باتیں سکھاتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ بچوں کے استاد بھی ہوتے ہیں۔ والدین اگر چاہیں تو بچوں میں اہم مہارتیں پیدا کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گھر میں بہن بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کردیتے ہیں۔ والدین بچوں کو یہ اختلافات ’’مسائل حل کرنے کی مہارت‘‘ کے ذریعے ختم کرنا سکھاسکتے ہیں۔ گھر میں بچے اس مہارت کو بروئے کار لائیں گے تو لڑائی جھگڑے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اوریہ مہارت بتدریج بچوں کی عادت ثانیہ بن جائے گی۔ لیکن ایک بات یاد رہے کہ والدین بچوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔بچے والدین کی صرف باتیں اور ہدایات ہی نہیں سنتے وہ ان کی عملی زندگی کا مشاہدہ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔والدین خود ’’مسائل حل کرنے کی مہارت‘‘ بروئے کار لائیں گے تو بچے کے لیے وہ عملی نمونہ بنیں گے۔ بچے ان کی پیروی کرتے ہوئے آسانی سے اس مہارت کو عملی زندگی کا حصہ بنالیں گے۔

اس طرح والدین بچوں کو مالیاتی نظم و نسق کی مہارت (Financial Management Skills) ابتدائے بچپن سے سکھا سکتے ہیں۔ انہیں ایک ہفتے کا جیب خرچ دے کر سکھایا جاسکتا ہے کہ اس رقم سے اپنی ہفتے بھر کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کس طرح پوری کرنی ہیں۔ بچے ذرا بڑے ہوجائیں(ہائی سکول میں پہنچ جائیں) تو ان کا بنک اکاؤنٹ کھلوایا جاسکتا ہے۔ اس رقم کے ذریعے انہیں اپنی تعلیمی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی تلقین کی جاسکتی ہے۔ اس طرح بچے آمدن(جیب خرچ) اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ بنانا سیکھ جائیں گے اور ان میں بچت کی عادت بھی پیدا ہوجائے گی۔

علیٰ ہذالقیاس والدین بچوں کودیگر انفرادی و معاشرتی مہارتیں سکھا سکتے ہیں۔

(پس تحریر:مذکورہ بالا درسی کتاب، معاشرتی علوم کا 2014 ء کا ایڈیشن تھا۔اس میں کم از کم نام کی تو مہارتیں تھیں۔ نئے ایڈیشن میں ان مہارتوں کو سرے سے ہی نکال دیا گیا ہے۔اب درسی کتاب ایک سیدھی سی کتاب ہے جسے آپ معلوماتی کتابچہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں نہ مہارتیں پیدا ہونے کا امکان ہے اور نہ ہی سرگرمیوں کی گنجائش ہے۔ رٹے کی ایک کتاب ہے جسے یاد کرکے بچے پاس ہوجائیں گے اور بہت اچھے نمبر اور گریڈ حاصل کرلیں گے)