میڈیا منڈی میں بھاؤ کیسے چڑھتے ہیں؟ - اسماعیل احمد

کاروباری مخاصمت دنیا کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ کسی خاص کاروبار سے منسلک افراد کے درمیان چپقلش چلنے لگتی ہے۔ یہ رجحان کاروباری رقابت کو مفید مقابلے کی طرف بھی لیکر جاتا ہے۔ جہاں ایک دوسرے سے بہتر کارکردگی پیش کرنے کا جذبہ پھلتا پھولتاہے۔ ہماری میڈیا انٹرپرائزز کے مابین بھی پیشہ ورانہ رقابت چلتی رہتی ہے۔ بڑے بڑے میڈیا گروپ جب کسی بات پر ایک دوسرے سے خفا ہوتے ہیں تو 9 بجے کے خبرنامے، جس کی عادت پی ٹی وی نے پاکستانیوں کو ڈالی تھی،میں بھی ملکی اور بین الاقوامی خبریں دکھانے کی بجائے پہلے دس، پندرہ منٹ ایک دوسرے کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں اور خبریں دیکھنے کے لیے بیٹھنے والا سو چتا ہے کہ یہ کیا تو تو میں میں شروع ہو گئی؟

کچھ عرصہ پہلے جب پاکستان کے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون کے انٹرویو کی آف دی ریکارڈ فوٹیج سوشل میڈیا پر لیک ہوئی تو پاکستان میں ٹاپ ریٹڈ ہونے کے دعویدار دومیڈیا گروپس کے مابین بھی ایسا ہی جھگڑا شروع ہوگیا۔ واضح رہے کہ آج کل وہ دونوں میڈیا گروپس زیادہ تر میاں نواز شریف کے سافٹ امیج کے لیے کوشاں رہتے ہیں یعنی میاں صاحب کی امیج عوام میں "سافٹ" کرتے ہیں۔دونوں میڈیا گروپس کی انٹرویو لیک والے تنازعے میں ایک دوسرے پر الزامات اور صفائیوں کا سلسلہ جاری تھا جب ان میں سے ایک گروپ کا نیوز چینل آن کیا تو وہاں دو مشہور صحافی بیٹھے اپنے گروپ اور اس کے مالک کی حب الوطنی کے دعوے بمع دلائل پیش کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مالک محترم تو اتنے بڑے محب ِ وطن ہیں کہ ایک انٹرٹینمنٹ چینل شروع کرنے کے حوالے سے انہیں مارکیٹ تجزیے میں جب یہ پتہ چلا کہ بھارتی مواد شامل کیے بغیر پاکستان میں تفریحی چینل چلانا بہت مشکل ہے تو انہوں نے انٹرٹینمنٹ چینل شروع کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

گزشتہ دنوں اسی گروپ کے اخبار کی شہ سرخی سے اوپر جہاں اندر ونی صفحات کی اہم خبریں ہوتی ہیں وہاں ایک خبر پڑھنے کو ملی جو بھارت کی ایک متنازع اداکارہ کے ضمن میں تھی جس نے اپنی نئی آنے والی فلم میں بھی اپنی تنازعات سے بھرپور زندگی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کچھ نیاکیا تھا۔ ایک ایسے اخبار کے صفحے پر جو پر و-اسلامک اور حب الوطنی کا ایجنڈا رکھنے کا دعویدار ہے، اس طرح کی خبر دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ لا محالہ حضرت اقبالؒ یاد آئے

ان میڈیا گروپ میں ملازمت پیشہ صحافیوں کا المیہ آسانی سے سمجھ آتا ہےکہ شاذ ہی دنیا میں کوئی ایسا فرد ہو گا جو اپنے باس کی ہاں میں ہاں نہ ملائے۔ وہ کہتے ہیں نا ملازمت کا پہلا اصول ہے باس ہمیشہ درست ہوتا ہے (boss is always right) اس بات کا رونا تو کافی عرصہ سے رویا جا رہا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے میڈیا نے ہمیں ایک ایسی قوم بنا دیا ہے جس نے فحاشی اور بے حیائی کی ایک خاص سطح کو اپنے لیے قابل قبول قرار دیا ہو۔صرف کمرشلز میں گزشتہ دس پندرہ برسوں میں عجیب و غریب انقلاب برپا ہوگیا۔ آج سے دس پندرہ برس قبل کوئی تصور کر سکتا تھا کہ ہمارے پاکستانی کمرشلز میں بلیڈ سے لیکر موٹر سائیکل کی فروخت کے لیے لڑکیوں کا ڈانس دکھایا جائے گا،جوس کا ایک سپ دکھانے کے لیے تمام حدیں عبور کر لی جائیں گی اور کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہمارے فیشن ڈیزائنرز بھی دس پندرہ سالوں میں ایسا پلٹا کھائیں گے کہ ایسے ملبوسات ٹی وی پر پیش کریں گے جن میں لباس برائے نام ہوگا۔ خبرناموں میں خبر وں سے زیادہ مرچ مصالحے چلیں گے، ٹی وی ڈراموں میں بس 'ایلیٹ فیملیز' دکھائی جائیں گی جن کے مرد و خواتین کا واحد مسئلہ محبت کے پردے میں ہوس ہوگی اور آہستہ آہستہ پوری قوم کو ایسا بنا دیا جائے گا کہ فحاشی اور عریانی انہیں فحاشی اور عریانی لگے گی ہی نہیں۔

ادھرانٹرنیٹ پر جب سے اردو بلاگنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ مختلف قسم کی بلاگ ویب سائٹز منظرعام پر آئیں۔ ان میں سے کچھ سوشل میڈیا پر اپنی تشہیر کے باعث خاصی مشہور ہوچکی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ویب سائٹس کے ذریعے ہر شخص کو اپنے خیالات مربوط انداز میں منظرِ عام پر لانے کا موقع ملا ہے جو اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔گزشتہ روز بلاگ ویب سائٹس کی تازہ ترین رینکنگ دیکھی۔ یقیناً ٹاپ رینک آنے والی سائٹس کا تکنیکی کام اور تحریری مواد ہی اس کی وجہ ہے مگر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرح فحاشی اور عریانی پر ہر طرح کا کمپرومائز بھی ان میں سے کچھ ویب سائٹس کی پہچان ہے۔ پاکستانی معاشرے کے حساب سے یہ بات کوئی زیادہ حوصلہ افزا اور لائق تحسین نہیں ہے۔ کیونکہ پھر وہی بات کہ ہم جیسے بھی ہیں ہماری اچھی بری کچھ اقدار ہیں، ہماری عوام کا سوادِ اعظم ان اقدار کی پاکستان کے اندر ہر فورم پر حفاظت چاہتا ہے۔ اگر لبرل ازم سے وابستہ اقوام اپنے لبرل نظریات کا فروغ اور حفاظت چاہتی ہیں تو ہم مسلمانوں کو بھی اسلام سے وابستہ نظریات کو اپنے اندر پروئے رکھنے کا پورا حق ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   ستم گر محبوب - سہیل وڑائچ

نہایت معذرت کے ساتھ۔۔۔ یتیم بچی نے فلاں اداکارہ کی زندگی بدل دی، کسی اداکارہ نےا پناچہرہ تبدیل کرانے کے لیے سرجری کرا لی، اس کے چاہنے والوں کا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا، آپ فلاں اداکارہ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟وغیرہ وغیرہ جیسی خبریں بھی تو ویب سائٹ رینکنگ میں سبقت کی ایک وجہ ہیں جن کے ساتھ متعلقہ اداکارہ کی نہایت فحش تصاویر موجود ہوتی ہیں اور بعد میں آپ صرف اپنی تحریروں اور تکنیک کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں تو یہ ناانصافی ہوگی۔ اس گند کو اپنی بلاگ ویب سائٹس کا حصہ بنائے بغیر بھی اپنی برتری اپنی شاندار تحریروں کے ذریعے قائم رکھی جاسکتی ہے۔ معصومانہ گزارش ہےکہ اردو بلاگزسائٹس کے انتہائی مفید رجحان کو عوام الناس کے خیالات کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے نہ کہ فحاشی اور عریانی کی تشہیر کا پلیٹ فارم!

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.