غبن کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس صلاح  بن محمد البدیر حفظہ اللہ نے 14 صفر  1439  کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان "غبن کی مذمت اور دیارِ غیر میں مسلمان کی ذمہ داری" ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے  فرمایا کہ جو چیز میں اس دنیا میں قیمتی ہے؛ چور اچکے  اس کی تاڑ میں ہوتے ہیں، حالانکہ چوری ، کرپشن اور بد عنوانی  کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے سخت وعید سنائی اور کچھ پر لعنت بھی فرمائی، بلکہ دنیا میں چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنا لازمی قرار دیا،  تا کہ کسی اور کو چوری اور بدعنوانی کی جرأت نہ ہو، انہوں نے کہا کہ چوری کی وجہ سے قیمتی ہاتھ بے وقعت ہو جاتا ہے،  حالانکہ اسی ہاتھ کی اسلام میں بہت قدر ہے، انہوں نے جرائم پیشہ لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جیسے تم اپنا نقصان برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح کوئی بھی اپنا نقصان برداشت نہیں کرتا، اسلام میں مال و جان کو اتنا تحفظ دیا گیا ہے کہ آپ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی کھونڈی تک نہیں لے سکتے تو جس چیز کی قیمت اس سے زیادہ ہو  تو وہ بنا اجازت لینا کیسا ہوگا؟ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ پبلک پراپرٹی اور کسی کی املاک کو آپ ہتھیا نہیں سکتے اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ کل قیامت کے دن   ہتھیائی ہوئی چیز اٹھا کر لائے گا، پھر انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے بددیانتی کی اور وہ توبہ کر لے تو  اللہ اس کی توبہ قبول فرما لے گا لیکن عوام اور لوگوں کے حقوق انہیں واپس لوٹانے ہوں گے، پھر دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ دیارِ غیر میں کوئی بھی شخص معاہدہ امن یعنی ویزے کے ذریعے داخل ہو تو وہاں کے امن و امان اور مال و جان کا احترام لازمی ہوتا ہے نبوی سیرت ہمیں اسی بات کا درس دیتی ہے ، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

عربی خطبہ جمعہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے کلک کریں

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے  ہیں، اسی نے اپنے بندوں  میں روزی، رزق اور اپنا فیض تقسیم فرمایا، اللہ تعالی نے چوری حرام قرار دی اور اس پر چوروں اور ڈاکوؤں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر فرمائی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک  نہیں  ، اسی کا فرمان ہے: {مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ} تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ رہے گا۔ [النحل: 96]، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں  کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، آپ کو مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا گیا۔ اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی اولاد اور صحابہ کرام  پر  اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک آفتاب  طلوع ہوتا رہے اور سورج کی روشنی چمکتی رہے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

اللہ سے ڈرو، کہ تقوی الہی افضل ترین نیکی ہے، اور اس کی اطاعت سے ہی قدرو منزلت بڑھتی ہے {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔[آل عمران: 102[

مسلمانو!

مال سائے کی طرح جانے والا ہے، جس چیز کو بھی لین دین میں استعمال کیا جاتا ہے  اس کے بارے میں لالچ پائی جاتی ہے، اس کی جانب گردنیں اٹھا کر للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے، چوروں اور ڈاکوؤں کی نظریں اسی پر مرکوز ہوتی ہیں۔

چور اچکے  کسی ایسے موقعے کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کب کسی کی آنکھ لگے ۔ وہ کن انکھیوں سے تاڑتے ہیں کہ جیسے ہی پاسبان، نگران، نگہبان اور مالکان غفلت کا شکار ہوں تو فوری خفیہ اور پوشیدہ  انداز میں اس کی دولت پہ حملہ کر دے۔ ایسے لوگ بے مروّت اور گھٹیا آدمی  ہیں، یہ رذیل ، ذلیل ، کمینے ، ڈھیٹ،  بد لحاظ، ظالم  اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے ہیں۔

چور، ڈاکو، کرپٹ، بدعنوان، شخص بزبان نبوت لعنتی شخص ہے!

محفوظ گھروں  کی دیواریں  پھلانگنا۔ تجوریوں ، تالوں اور  آہنی گلّوں کو توڑنا، جیب کاٹنا، آستین  پھاڑنا، کھجوروں، زرعی اجناس اور پھلوں کو  باغوں سے چوری کرنا صرف بد کار، سیاہ کار، شریر، چور، خیانت کار، دھوکے باز، اچکے اور خبیث شخص کا ہی  کام ہے۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق لعنتی ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (چور پر اللہ کی لعنت ہو جو ایک انڈا چرائے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے  ۔یا رسی چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے) متفق علیہ

چور اور فاسق شخص کو وبال، سزا اور عذاب کی وعیدیں سنائی گئی ہیں؛ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نماز کسوف  والی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (تمہیں جس چیز کا بھی وعدہ دیا جاتا ہے وہ میں نے اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے۔ یقیناً آگ کو [میرے قریب]لایا گیا، یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھا ہٹا تھا؛ مبادا آگ کے شعلے مجھے جھلسا نہ دیں، حتی [کہ اتنا قریب لایا گیا] کہ میں نے آگ میں کھونڈی  والا شخص بھی دیکھا وہ اپنی آنتوں کو کھینچ رہا تھا، وہ اپنی کھونڈی کے ساتھ حاجیوں کی چوری کرتا، اگر کوئی پکڑ لیتا تو کہتا میری کھونڈی سے [سامان]اٹک گیا تھا، اور اگر اس کی طرف توجہ نہ جاتی تو چیز لے نکلتا تھا ) مسلم

چور کا ہاتھ غاصب اور زیادتی کرنے والا ہوتا ہے ایسے ہاتھ کو شریعت کی رو سے کاٹنا اور تن سے جدا کر دینا واجب ہے، تا کہ دوسروں کو عبرت ملے اور ایسی گری ہوئی حرکت سے باز رہیں، نیز اموال اور املاک کو تحفظ بھی ملے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} چور مرد  اور چوری کرنے والی عورت  دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ بدلہ ہے ان کے کئے کا، سزا ہے اللہ کی جانب سے، اور اللہ تعالی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدة: 38]

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال  کی[چوری]  پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت [محض]تین درہم تھی۔ متفق علیہ

جس وقت ہاتھ امین تھے تو ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ تھی، لیکن جب ہاتھوں نے چوری کی تو بے وقعت ہو گئے

علمائے کرام چور کا ہاتھ کاٹنے کے متعلق کہتے ہیں: " جس وقت ہاتھ امین تھے [چوری نہیں کرتے تھے] تو ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ تھی، لیکن جب انہوں نے خیانت کی تو بے وقعت ہو گئے"

یہ بھی پڑھیں:   ملکی ترقی، جمہوریت اور قیادت کا انتخاب - محمد ندیم سرور

کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ:

عِزُّ الْأَمَانَةِ أَغْلَاهَا وَأَرْخَصَهَا

ذِلُّ الْخِيَانَةِ فَافْهَمْ حِكْمَةَ الْبَارِيْ

امانت داری نے اس کی  قدر بڑھائی جبکہ خیانت کی ذلت نے اسے کمتر کر دیا، باری تعالی کی حکمت خوب سمجھ لو!

اللہ کے بندے!

زیادتی کرنے سے باز آ جاؤ، شیطان  کے پیروکار  نہ بنو؛ کیونکہ تمہارا بھائی  بھی اسی طرح محترم ہے جیسے تم محترم ہو، تمہارے بھائی کا مال بھی اسی طرح حرمت والا ہے جیسے تمہارا مال ہے، اس کے گھر کی عزت آبرو بھی اسی طرح ہے جیسے تمہارے گھر  اور اہل خانہ کی عزت آبرو ہے، تو کیا تم یہ پسند کرو گے کہ کوئی تمہارے مال، اہل و عیال ، گھر اور بچوں  سے اسی طرح زیادتی کرے جیسے تم نے دوسروں سے زیادتی کی ہے؟ اگر تم اس حرکت کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے تو لوگ بھی اپنے مال و جان کے بارے میں یہ حرکت پسند نہیں کرتے۔

اللہ کے بندے!

پیشی کا دن یاد کر! ا س کی ہولناکی یاد کر! انتہائی بلند بالا ذات کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کر! جس دن ثروت اور دولت کچھ بھی کام نہیں آئے گا!  اس دن کو یاد کر جب زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ دیا جائے گا!

مسلمانو!

تم میں سے کوئی بھی کسی کا مال یا اس کی چیز  اجازت  کے بغیر مت لے، چاہے معمولی چیز ہو یا زیادہ؛ چنانچہ  سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (تم میں سے کوئی کسی کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر مت نکالے۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے کمرے میں آئے اور صندوق توڑ کر وہاں سے  کھانے پینے کا سامان لے جائے؟  اسی طرح جانوروں کے تھن بھی لوگوں کی خوراک محفوظ کرتے ہیں، اس لیے تم میں سے کوئی بھی کسی کے جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر مت دوہے)متفق علیہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے تو ہم نے کچھ اونٹ دیکھے جن کے تھن درختوں کی چھال سے بندھے ہوئے تھے، تو ہم ان اونٹوں کی جانب کود پڑے، اس پر آپ ﷺ نے ہمیں آواز لگائی اور ہم آپ ﷺ کے پاس واپس آ گئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ اونٹ مسلمانوں کے ہیں اور یہی ان کی روزی روٹی ہے، اللہ کے بعد یہی ان کے لیے خیر کا ذریعہ ہیں، تو کیا تمہیں یہ بات اچھی لگے گی کہ اگر تم اپنے زادِ راہ تک پہنچو اور تمہیں زادہ راہ ختم ہوا ملے، تو کیا تم اسے عدل سمجھو گے؟ ) صحابہ کرام نے کہا: "نہیں" تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (اونٹ کا دودھ دوہنا بھی اسی طرح عدل نہیں ہوگا) احمد ، ابن ماجہ

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (کسی بھی آدمی کیلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی رضا مندی کے بغیر اس کی لاٹھی لے لے)اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  ایک مسلمان کیلیے دوسرے کے مال  کو سختی کے ساتھ قابل احترام قرار دیا۔ مسند احمد اور ابن حبان

اگر اتنی معمولی چیزوں کے بارے میں اتنی سختی ہے کہ جن کی مالکان  کے ہاں کوئی زیادہ قدر و قیمت نہیں ہوتی ، جیسے کہ لاٹھی وغیرہ ہے  تو اس سے زیادہ  قیمتی چیزوں کا کیا حکم ہو گا؟ یقیناً ان کے بارے میں متنبہ رہنا اور ان سے بچنا  زیادہ ضروری ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کی زمین جبراً بغیر حق کے ہتھیا لیتا ہے ، یا مسلمانوں کے راستے سے ایک بالشت یا ایک ہاتھ جگہ کاٹ لیتا ہے، یا عوامی مشترکہ املاک کو بنا حق مال ہڑپ کرتا ہے تو وہ شخص اپنے آپ کو شدید وعید  اور سخت مذمت  کے درپے کرتا ہے

چنانچہ اگر کوئی شخص کسی کی زمین جبراً بغیر حق کے ہتھیا لیتا ہے ، یا مسلمانوں کے راستے سے ایک بالشت یا ایک ہاتھ جگہ کاٹ لیتا ہے، یا عوامی مشترکہ املاک کو بنا حق مال ہڑپ کرتا ہے تو وہ شخص اپنے آپ کو شدید وعید  اور سخت مذمت  کے درپے کرتا ہے؛ چنانچہ حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایک بالشت جگہ بھی ہتھیا لے تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں  کا اتنا حصہ اٹھائے ہوئے آئے گا) ابو یعلی

فرمان نبوی ﷺ: اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی بغیر حق کے کوئی بھی چیز ہتھیائے تو وہ روزِ قیامت اس کو اٹھائے ہوئے اللہ سے ملے گا

ایسے ہی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی بغیر حق کے کوئی بھی چیز ہتھیائے تو وہ روزِ قیامت اس کو اٹھائے ہوئے اللہ سے ملے گا، تو میں جانتا ہوں کہ تم میں سے کوئی اللہ تعالی کو بڑبڑاتے اونٹ ، ڈکراتی گائے یا منمناتی بکری اٹھائے ہوئے ملے گا ، پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بلند فرمایا یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی آپ فرما رہے تھے: یا اللہ! کیا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے؟!) بخاری

اسی طرح ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی کے ہاں عظیم ترین خیانت  وہ ایک ہاتھ زمین  یا مکان ہے جس [کے کل حصے ]میں دو شراکت دار ہوں  تو ان میں سے ایک اپنے شریک کے حصے میں سے ایک ہاتھ زمین  زیادہ ہتھیا لیتا ہے، اگر وہ ہتھیا لے تو اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا) احمد، طبری

اور اگر چور ، چوری  اور جرم سے  توبہ کر لے  تو اللہ تعالی اس کی توبہ اس معاملے میں قبول فرما لیتا ہے جو اللہ اور بندے کے درمیان ہے، جبکہ لوگوں کے مال کو لوگوں تک لوٹانا ضروری ہے، لہذا اگر چوری شدہ مال اس کے پاس ہو تو  بعینہٖ اس مال کو مالک کے حوالے کرے،  وگرنہ اس کی متبادل چیز دے یا اس کی قیمت ادا کر دے یا جا کر مالک سے تصفیہ کر لے۔

اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو ایسے رزق سے بچائے جو مہلک ہو، جس کا ماخذ خبیث ہو اور حرام طریقے سے کمایا گیا ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کو عافیت میں رکھے ہمیں حلال روزی سے غنی فرما دے بیشک وہی سخی اور کرم کرنے والا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو سوچا ہوتا - خرم علی راؤ

میں اللہ تعالی سے بخشش چاہتا ہوں تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلیے جو متلاشی ہدایت کی رہنمائی فرماتا ہے، ڈرنے والے کو پچا لیتا ہے، اور جو شخص رضائے الہی چاہتا ہو اللہ تعالی اس کیلیے کافی ہو جاتا ہے، میں اسی کی کامل اور بلیغ ترین حمد خوانی کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے  اور رسول  ہیں ، اللہ تعالی آپ پر، آپکی آل ،و صحابہ کرام ، اور آپکے نقش  قدم پر چلنے والوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: مسلمانو!

تقوی الہی اختیار کرو؛ اسی کو اپنا نگران اور نگہبان سمجھو، اسی کی اطاعت کرو ، نافرمانی بالکل مت کرو، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} اے ایمان والو! تقوی الہی اختیار کرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ [التوبہ : 119]

عصر حاضر میں ویزے کے ساتھ کسی ملک میں داخل ہونا ایک مکمل عہد و پیمان ہے، اس لیے کسی ملک میں‌جا کر وہاں تخریبی کاروائیاں‌کرنا اس عہد کی خلاف ورزی ہے اور مسلمان عہد شکن نہیں ہوتا.

مسلمانو!

ہم میں سے جو بھی غیر مسلم علاقوں اور ملکوں میں کسی امن معاہدے کے ساتھ جائے جو کہ ویزے کی شکل میں ہوتا ہے اور یہ ویزا  لوگوں کو ان ممالک میں داخل ہونے کیلیے دیا جاتا ہے، تو ویزا ملنے پہ غیر مسلموں کے ساتھ دھوکہ کرنا، ان کی چوری کرنا، ان پر جارحیت کا مظاہرہ کرنا ، یا ان کے امن و امان کو سبوتاژ کرنا، ان کی جانوں، عزت اور املاک  کو نقصان پہنچانا حرام ہو جاتا ہے، اور جو شخص ان کی کوئی چوری کر بھی لے تو اس پر وہ چیز مالکان تک پہنچانا واجب ہے؛ کیونکہ یہ مال اس کیلیے حرام ہے۔

اسی لیے جس وقت نبی ﷺ نے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی تو علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ  آپ ﷺ کے پاس قریش کی جو امانتیں تھیں وہ انہیں واپس کر دیں، چنانچہ ابن سعد نے طبقات الکبری میں علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ: " جس وقت رسول اللہ ﷺ  مدینے کی جانب ہجرت کیلیے نکلے  تو مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے بعد مکہ میں ہی ٹھہروں اور آپ ﷺ کے پاس موجود لوگوں کی امانتیں ان تک پہنچا دوں"

بلکہ  رسول اللہ ﷺ مکہ میں تیرہ سال رہے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی تھے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی آپ ﷺ نے اجازت نہیں دی کہ کسی کا مال چوری کریں، یا کسی کو قتل کریں یا کسی کی عزت لوٹیں، پھر جب آپ ﷺ نے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور  کچھ کمزور مسلمان مکہ میں رہ گئے یا مکہ میں روپوش گئے  تب بھی آپ ﷺ نے انہیں اس قسم کے کسی بھی کام کی اجازت نہیں دی۔

اسلام ایفائے عہد کا حکم دیتا ہے، معاملات طے کرتے ہوئے سچائی کا حکم دیتا ہے، اسی طرح دھوکا دہی ، خیانت اور جارحیت سے روکتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اور آپ سب کو ہدایت یافتہ بنائے ، اور ہمیں زیادتی کرنے والوں اور برے لوگوں کے راستے سے محفوظ رکھے۔

احمد الہادی، شفیع الوری ، نبی  ﷺ پر بار بار درود و سلام بھیجو، (جس نے ایک بار بھی درود پڑھا تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس پر  دس رحمتیں نازل فرماتا ہے)

یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر درود و سلام نازل فرما، تمام اہل بیت، صحابہ کرام  اور تابعین عظام پر درود و سلام نازل فرما،  نیز ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا، یا کریم! یا وہاب!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، دین کے دشمنوں کو تباہ و برباد فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو خوشحال اور استحکام کا گہوارہ بنا ۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیرے پسندیدہ اور تیری رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، نیکی اور تقوی کے کاموں کیلیے ان کی رہنمائی فرما، یا اللہ! انہیں ،ان کے ولی عہد ، وزرا اور مشیروں کو بھی اسلام اور مسلمانوں کیلیے بہتر اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا یاب فرما، مصیبت زدہ لوگوں کی مشکل کشائی فرما، فوت شدگان پر رحم فرما، قیدیوں کو رہائی نصیب فرما، اور جو بھی ہمارے خلاف جارحیت کرے اس پر ہمیں غلبہ عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! سرحدوں پہ مامور ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا اللہ! ان میں سے زخمیوں اور بیماروں کو شفا یاب فرما،  اور فوت شدگان کو شہدا میں قبول فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! جلد اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! جلد اپنی مدد نازل فرما، یا اللہ! جلد اپنی مدد نازل فرما، جس سے اہل سنت اور اہل توحید کے پرچم لہلہا اٹھیں، نیز اہل بدعت، شرک اور تیرے شریک بنانے والوں کے جھنڈے سر نگوں ہو جائیں، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں موسلا دھار بارش عطا فرما، زندگی افزا اور بہار لانے والی بارش عطا فرما، لا تعداد قطروں والی اور دلوں کو بھانے والی ہو، ضرورت کے مطابق، قابل برداشت، سر سبزے والی، ٹھہرنے والی اور نرمی والی بارش ہو، سبزہ زاروں کو پیدا کرنے والی ایسی بارش ہو کہ جس کا پانی بہہ پڑے ، معمولی چیزوں کو بہا لے جائے، بڑے بڑے قطروں والی، موسلا دھار بارش ہو جس کا پانی کافی دیر تک ہمارے استعمال میں آئے، ایسی بارش ہو کہ جس سے ہمارا فائدہ ہو نقصان نہ ہو۔ فوری نازل ہو اور نزول بارش میں تاخیر نہ ہو۔

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما اور جو علاقے خشک سالی کا شکار ہیں وہاں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما اور جو علاقے خشک سالی کا شکار ہیں وہاں بارشیں نازل فرما، یا اللہ! ہماری اور تمام امت محمد ﷺ کی مشکلات وا فرما دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، یا اللہ! ہماری دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں بلند فرما، یا کریم! یا عظیم! یا رحیم!

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں