دینی بیانیہ اور تفہیم مغرب کی ضرورت - محمد رشید ارشد

اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسان اور انسانی تہذیب کے بارے میں تمام کلاسیکی نظریات اور تصورات تقریباً ہر پہلو سے غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ چیزوں پر سے نظریاتی گرفت بہت اہتمام اور زور کے ساتھ کمزور کر دی گئی۔ اس بہت بنیادی تبدیلی کے اثرات اور نتائج بھی اسی کی طرح ہمہ گیر ہیں۔ مغربِ جدید میں اسی مقصود کو سامنے رکھ کر طاقت اور علم کی یکجائی کے اتنے فعال مظاہر وجود میں آگئے ہیں کہ باقی دنیا خود کو پہچاننے اور جاننے کے لیے بھی اور اپنے آپ کو اس نصب العین تک پہنچانے کے لیے بھی جس کا شعور انسان کی خلقت میں داخل ہے، مغرب کی غیر مشروط اور غیر محدود پیروی کرنے پر مائل ہے۔ آج انسان کی خود شعوری اور جہاں بینی کی کسی ایسی جہت کو موجود رہنے یا وجود پانے کی گویا اجازت ہی نہیں ہے جو مغربی ورلڈ ویو سے اختلاف نہیں بلکہ ایک غیرمتصادم امتیاز بھی رکھتی ہو۔ شعور کی اور وجود کی ایک مطلق کنڈیشننگ کا نظام دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک غالب ہے اور اس کی باگ ڈور مغرب کے ہاتھ میں ہے۔ اس یک طرفہ آفاقیت کا احساس تو شاید مذہبی حلقوں کو تھا ، لیکن اس کا نتیجہ خیز ادراک مذہبی ذہن کے رسمیاتی ردِّ عمل سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اُمت ِمسلمہ بالعموم اور علمائے دین بالخصوص تاریخ میں انسانیت کو پیش آنے والے اس سب سے بڑے غلبے کو نہ صرف یہ کہ اچھی طرح سمجھ نہ سکے بلکہ انہیں یہ اندازہ لگانے میں بھی بہت دیر لگی کہ مغرب کا یہ تسلط کیسے نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ مذہبی ذہن ماضی میں، خصوصاً مسلمانوں کی تہذیبی تاریخ میں، ایک کارگر ردّ دعویٰ( anti-thesis )کے طور پر کامیابی کے ساتھ برسرکار رہا ، لیکن دورِ جدید میں دعویٰ( thesis )کی ساخت بدل جانے کی وجہ سے اسے وہ راستہ ہی نہ مل سکا جس پر چل کر وہ دعویٰ کے ساتھ ایک متوازی کشمکش کا ماحول پیدا کرتا یا اس کے سامنے مزاحمت، یعنی کامیاب مزاحمت کی کوئی صورت نکالتا۔ اس ذہن کے روایتی کردار کے اجنبی بن جانے کی وجہ سے اس کا جوابِ دعویٰ ہونا بھی یوں کہہ لیں کہ بے معنی اور بے تاثیر ہو کر رہ گیا۔ جوابِ دعویٰ ایک ایسی مربوط حرکت کا نام ہوتا ہے جو مثال کے طور پر دائرہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ دائرہ بننے کا یہ عمل دعویٰ کو اپنے اندر سمولیتا ہے اور اسے منہدم(deconstruct) کردیتا ہے۔ جدیدیت سے بننے والی دنیا میں مذہبی ذہن میں دائرہ بننے والی حرکت تو ماند پڑ گئی ، بس دائرے کا تصور اور اس تصور پر اعتماد باقی رہ گیا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مذہبی ذہن ، شعور کے اندر ایک مغائرت میں مبتلا ہوگیا اور وجود کے دروبست میں بالکل ہی غیر مؤثر ہوگیا۔ مذہبی تصورات جب ذہن کا نظام ہی بدلنے پر قادر نہ رہے تو لامحالہ دنیا بھی ان کے تصرف سے نکل گئی۔

یہ ہے وہ پورا منظر نامہ جس کا حصہ ہوتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس منظر میں چھوٹی بڑی تبدیلی لاسکنے والی کوئی ایک قوت بھی ہمارے مذہبی شعور کی تحویل میں کیوں نہیں ہے۔ مؤثر دینی بیانیہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ جو شعور کو بھی معنی دے اور وجود کو بھی اس کی حقیقت سے جڑا رکھے۔ ہمارے پاس فطرتِ شعور کی تائید رکھنے والی ایک چیز شروع سے مہیا تھی، کہ کسی نظریے کی غیر موجودگی میں ذہن انسانی میں علم کی تشکیل کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ پیشگی نظریہ ہی ذہن کو علم کا مادہ فراہم کرتا ہے اور اس مادے کی تمام تشکیل کی مسلسل نگرانی رکھتا ہے۔ مغرب نے تو شعور کو اس کی فطرت اور وجود کو اس کی حقیقت سے منقطع کر ہی رکھا ہے لیکن اس کی یہ کامیابی ایک حد تک ہماری غفلت کا بھی نتیجہ ہے۔ ہم نے ان دونوں اصول سے طولِ تاریخ میں کام لینے کی روایت کو یوں لگتا ہے کہ اچانک ہی چھوڑ دیا اور خود کو مغرب کے لیے ایک خالی گھر بنا لیا جس کے دروازے اس کے قبضے سے پہلے ہی کھلے ہوئے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب سے پہلے تو اپنے دینی بیانیے کا دروبست اور اس کے لوازم کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں اور پھر اس کو عہد ِجدید کے تناظر میں رکھ کر یہ دیکھنے کی سعی کریں کہ اس کے لاتعلق اور غیر مؤثر ہونے کے واقعی اسباب کیا ہیں اور ان اسباب کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے۔

کسی تہذیب کی تشکیل کرنے اور اس کی روبہ کمال حرکت کو جاری رکھتے ہوئے اس کی حفاظت کرنے والا بیانیہ بڑی حد تک ایسی قوت پر اساس رکھتا ہے جو مدلول کو ذہنی استدلال سے ماورا حالت میں شعور اور وجود کی اجتماعی ہیئتوں میں راسخ اور نتیجہ خیز رکھتا ہے۔ قوت کا عنصر اگر غائب یا معطل ہوجائے تو کوئی تہذیب کسی دوسرے ذریعے سے خود کو موجود نہیں رکھ سکتی۔ انسان اور دنیا بلکہ خود اس کے نفس میں تعلق کی کوئی نوع ایسی نہیں ہے جو قوت سے مستغنی ہو۔ یہ قوت کوئی رومانوی تصور نہیں ہے بلکہ اس غلبے کا نام ہے جو ذہن کو اپنے موضوع پر ہونا چاہیے۔ جب کبھی تہذیب میں غالب رہنے کا ملکہ کمزور پڑ جاتا ہے تو اس کے اصول و اقدار خود اسی پر بوجھ بن جاتے ہیں اور جبرو ناگواری کی یہ صورت خود انسان کو اپنے معتقدات اور نظریات ، جنہیں ہم نے ابھی اصول و اقدار سے تعبیر کیا ہے، کے ساتھ بھی پیدا ہوجائے تو یہ ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے درخت اپنے بیج سے منحرف ہونے لگے۔ انسان اپنی کسی بھی وجودی سطح پر اس اندرونی دو لختی اور کشمکش کو سہار نہیں سکتا۔ مضبوط تہذیب اپنے اندر دَر آنے والی کشمکش کو ہاتھ کے ہاتھ فیصل کرتی ہے اور داخلی تصادم کو رفع کرنے کا یہ عمل ہی دراصل تہذیب کی وہ قوت ہے جسے اس کی اساسِ بقا کی حیثیت حاصل ہے۔

ذیل میں ہم دینی بیانیے کے بارے میں کچھ ابتدائی معروضات پیش کریں گے:

دینی بیانیے سے مراد ہے اسلام کی حقانیت اور اس کی آفاقیت کو موجودہ ذہن کے لیے قابل قبول اور حالاتِ حاضرہ کے لیے مؤثر بنانا۔ اسلام کی حقانیت کا مطلب ہے کہ اسے کسی علمی دلیل سے جھٹلایا نہ جاسکے اور کسی اخلاقی معیار پر اس کا انکار نہ ہوسکے۔ حقانیت کے لفظ میں یہ دعویٰ مضمر ہے کہ انسان اور دنیا کے پہلو سے اسلام کا ہر متعلقہ امر ، حتمی، ناقابل ِ تغیر اور ہر طرح کی تبدیلی کے ساتھ تطابق(relevance)‌‌ اور تاثیر کا تعلق رکھنے والا ہے۔ انسانی ذہن اور دنیاوی حالات چاہے جتنا بدل جائیں اسلام کا دیا ہوا تصورِحق اپنے علمی اور اخلاقی اطلاقات کے ساتھ مستقل مؤثر انداز سے موجود ہے اور یہ موجودگی وحدت اور ہمہ گیری کی حامل ہے۔

آفاقیت کا مطلب یہی وحدت اور ہمہ گیری ہے جو ابھی ذکر ہوئی۔اسلام کی نسبت سے اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دین حق کی وحدت کو استقلال اور پھیلاؤ کے ساتھ قائم رکھنے اور ثابت کرنے کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ حق کو اس کی یکتائی اور خلاقی کے ساتھ تمام ذہنی اور فطری مظاہر کی فعال اصل اور مستقل غایت بنانے کا سامان رکھتا ہے اور اپنے ماننے والے سے یہ لازمی تقاضا کرتا ہے کہ وہ اسلام کی اس بنیادی ساخت کو ذہن اور زندگی کے بنتے اور بدلتے دائروں میں مرکز کی حیثیت دیے رکھے اور اپنے ایمان کو اس سطح پر استوار کرنے میں یقینی کامیابی حاصل کرے کہ اس کی روشنی میں تمام چیزیں متعین(define) ہوجائیں، یعنی حق سے مربوط رہیں۔ اس باب میں ذہن کی علمی روایت کے وارثوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ایمان اور اس کے تمام غیبی و شہودی محتوی (content) کی مسلسل علمی تشکیلات کرتے رہیں، تاکہ ذہن کے مجموعی احوال اور حاصلات، حق اور خلق کے تعلق کے paradigm میں رہیں۔ اسی طرح اخلاقی روایت کے ترجمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی کے زمانی مزاج اور اس کے سلسلۂ موثرات کو دین کے اخلاقی مقاصد سے ہم آہنگ رکھیں جو انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کو معیاری احوال اور حتمی مقاصد کا حضور مہیا کرتے ہیں۔

اس دین کا عالم اس دین کے علمی غلبے کا ایک ثبوت ہوتا ہے اور داعی اس کی اخلاقی برتری بلکہ ناگزیری کی دلیل ہوتا ہے۔ عالم کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ اسلام کے انکار میں استعمال ہونے والے دلائل کو ان کے پورے نظامِ استدلال سمیت اس طرح رَدّ کرسکے کہ حق کا علمی و عقلی غلبہ خود انکار کا قصد رکھنے والوں پر ثابت ہوجائے۔ دین کو ایسی دلیل بنالینا عالم دین کا وظیفہ ہے کہ جس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز ایک پرشور ضد سے زیادہ کوئی حیثیت نہ رکھتی ہو۔داعی یا مبلغ اصل میں ایمان کو مرکز حیات بناتا ہے جس طرح کہ عالم اسے مرکز شعور بناتاہے۔اسلام کے داعی کی ذمہ داریاں علمی سے زیادہ اخلاقی ہیں، تاہم اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دعوتِ دین میں اخلاق برتری کے مقام پر ہے اور علم کم تری کی جگہ پر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالم ایمان کو شعور کی تربیت کا واحد ذریعہ بناتا ہے جب کہ مبلغ ایمانی شعور رکھتے ہوئے اسی کی رہنمائی میں انسانیت کی تاسیس اور تعمیر کرتا ہے، یعنی شعورِ ایمانی کو انسان کی اخلاقی تشکیل کی بنیاد بناتا ہے۔

اپنے زمانے میں مسلمات سازی کرنے والے تمام علوم کی یکجان تاثیر سے مجموعی شعور تشکیل پاتا ہے۔ اس مجموعی شعور کو اثرپذیری کی تمام جہتوں کے ساتھ ایمان سے مانوس کردینا، یہ دین کاا یسا مطالبہ ہے جسے نظر انداز کرکے وہ دینی بیانیہ وجود میں نہیں آسکتا جس کی آج ہمیں اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح انسان کے اخلاقی وجود کی تعمیر میں کارفرما مختلف عناصر کو ایک ایمانی وحدت اور تاثیر دیے بغیر اس بیانیے کا عملی پہلو سامنے نہیں آسکتا۔ علمی رخ سے یہ بیانیہ ایمانی آدرشوں( ideals )کو اپنے زمانے میں بننے والے مجموعی شعور کے لیے convincing بناتا ہے اور ادھر اخلاقی پہلو سے انہی آدرشوں کو انسان کے فطری اخلاقی وجود کے لیے لائق تسکین ٹھہراتا ہے۔ ہمیں مطلوب دینی بیانیہ ان دونوں قوسوں سے بننے والی دنیا کو بندگی کے مزاج پر رکھتا ہے اور ایمانی مقاصد کی طرف یکسو رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

ایک اور پہلو سے دیکھیں تو دینی بیانیہ اصل میں ایک ایسے تصورِ انسان کا بیان ہے جو بندگی کی اصل پر قائم ہے۔ خلق و خالق، عبد ومعبود اور محکوم و حاکم کا مسلمہ اس کا مستقل تناظر ہے جس کا علمی اثبات اور عملی تصدیق ہر صورتِ حال میں قطعیت کے ساتھ ممکن ہو۔ اس مستقل تناظر میں کائنات بھی define ہوجاتی ہے اور خدا اور کائنات کے بیچ انسان کا ایک فعال برزخ ہونا بھی ثابت ہوجاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر انسان کی انفسی کلیت اور کائنات کا مجموعی پھیلاؤ، خواہ تجربی ہو یا غیر تجربی، کل علم اور تمام اخلاق کی متحدہ اساس بن جاتا ہے۔یہی علم اور اخلاق کا وہ نقطہ عینیت (point of identity)ہے جو شعور کو اپنی مستقل اور عارضی فعلیت (functioning) کے ساتھ ایمانی بننے کی راہ دکھاتا ہے اور اسی سے یہ معرفت حاصل ہوتی ہے کہ علم اور اخلاق کی ideal اکائی، خدا کو مانے بغیر تصور میں تو آسکتی ہے ، وجود میں نہیں۔

موجودہ دنیا جس میں ہم دینی بیانیے کے فقدان کا المیہ جھیل رہے ہیں، اپنی اصولی بناوٹ میں مغربی ہے۔ یعنی ساری دنیا یا تو مغربی بن چکی ہے یا ایسا بننے کے انتظار میں ہے۔اس بات کا ادراک کیے بغیر ہم آج کی دنیا کو ٹھیک سے سمجھ نہیں سکتے۔ بظاہر کچھ چیزیں مغرب کی schemes of things سے باہر یا اس سے متصادم دکھائی دیتی ہیں ، لیکن ذرا غور سے دیکھا جائے تو یہ چیزیں بھی مغرب کی توسیع کا ذریعہ بننے کے سوا اور کوئی قابل ذکر نتیجہ نہیں پیدا کررہیں۔مغرب نے دنیا کا کلاسیکی جدلیاتی نظام بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب دعویٰ ہی ترکیب (synthesis) ہے اور جو تہذیبی یا نفسیاتی مظاہر ردّ دعویٰ کے طور پر نظر آتے ہیں انہیں بھی یہ دعویٰ یا تو نگل لیتا ہے یا پھر بالکل اجنبی، غیر مؤثر اور ڈراؤنا بنا دیتا ہے۔ تاریخ کا یہ جدید نظامِ حرکت کسی طرح کی اجزائی مزاحمت سے نہیں روکا یا بدلا جا سکتا۔ اس کے لیے ایک مجموعی نظریاتی، تہذیبی اور اخلاقی قوت یعنی ایک مکمل دعویٰ درکار ہے جوپھیلاؤ کی ایسی طاقت رکھتا ہو کہ دنیا کو اس کے موجودہ ideals اور actualities سے خالی کر دے۔ مغرب کے مکمل نظریاتی اور تہذیبی انخلا کو مقصود بنائے بغیر اسلامی بیانیہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ گویا آج دینی بیانیہ وہ ہوگا جو مغربی thesis کے مقابلے میں anti-thesis نہیں بلکہ ایک نیا synthesized thesis بن کر سامنے آئے گا۔اسلام اپنے مزاج ہی میں محض anti-thesis ہونا قبول نہیں کرتا، بلکہ یہ ایسا synthesis ہے جو خود سے مغائرت رکھنے والے جدلیاتی، تاریخی، اخلاقی ڈھانچوں (structures) کو بے اثر اور بے معنی بنا دیتا ہے اور حق اور زمانے کی حقیقی نسبت کا انکشاف کردیتا ہے، جو جوہری طورپر تقدیری ہے، محض تاریخی نہیں۔

آج کی دنیا ایسی ہوچکی ہے کہ اس میں بامعنی اور پراثر طریقے سے موجود رہنے کے لیے ہر رُخ پر مغرب کا سامنا ہے۔ مغرب سے اپنے تصادم یا توافق یا لاتعلقی کو اچھی طرح متعین کیے بغیر کوئی ایسا نظریہ اور تصور باہر کی دنیا ہی نہیں ذہن میں بھی اپنی تشکیل کا جواز اور گنجائش نہیں پیدا کرسکتا، جو اپنی اساسات اور مقاصد میں مغرب سے مختلف ہے اور مختلف رہنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی زندگی اور عقیدے کے تعلق کو نتیجہ خیز سطح پر بروئے کار لانے کے لیے جہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارا دین اور اس کے بنیادی مطالبات کیا ہیں، وہیں اس بات کا فہم بھی ناگزیر ہے کہ مغرب کیا ہے اور دنیا پر اس کی عملی اور علمی حکومت کے اسباب، ذرائع اور مقاصد کیا ہیں؟

مغرب کے عالمگیر غلبے کے بنیادی اسباب یہ ہیں:

(۱) علم اور اخلاق کے بارے میں تمام مذہبی اور کلاسیکی تصورات کو بالکل منقلب کردینا۔

(۲) انسانی شعور کو ہر طرح کے مابعد الطبیعی پن سے خالی کردینا ، بلکہ ایسے امور کے بارے میں اس میں وحشت، تحقیر، انکار اور لاتعلقی کے رویے پیدا کردینا۔ ان رویوں کے نتیجے میں جو حسی بلکہ جبلی اور افادی شعور پیدا ہوا اس شعور کو باقی دنیا کے لیے بھی علم کا واحد معیار بنادینا۔ آزادی کے ایسے تصور کی تشکیل کرکے اسے ایک عالمگیر توسیع دینے میں کامیابی حاصل کرلینا جس کا زیادہ زورانکار کی طرف ہے۔ یہ انکار یا خوئے انکار، جسے مغرب نے آزادی کا عنوان دیا، دراصل انسان کے ہمہ گیر ماضی اور اس کے تمام مشمولات سے چھٹکارا پانے کے لیے تھا۔ یہ آزادی عمل میں کبھی کسی ایجابی قدر تک نہیں پہنچی اور نہ مغرب اپنے لوگوں کو یا باہر کی دنیا کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ آزادی کو اس کے اپنے بنائے ہوئے نقشے سے باہر کسی تعمیر کا ذریعہ بنائیں۔اس یک رخی آزادی نے دنیا میں تبدیلی کا سارا نظام مغرب کے ہاتھوں میں دے دیا اور یہ تبدیلی بھی ایسی تھی جس نے مختلف ناموں سے انسانی ماضی کو اس کی کلیت کے ساتھ رد نہیں بلکہ غائب کردیا۔ شعور کی فطری ساخت میں کامیابی کے ساتھ بنیادی ترمیم کردینے کے بعد اس مشروط آزادی نے جو بظاہر غیر مشروط نظر آتی ہے، انسان کا اپنے بارے میں تصور بدل کر رکھ دیا۔ مغرب کی غالبا ً سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے تصور ِ انسان کو یکسر تبدیل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

مغرب کو سمجھنا ہے تو اس کے تصورِ انسان کو اچھی طرح جاننا ہوگا۔یہ اس کے تجزیے کی کنجی ہے جسے استعمال کیے بغیر ہم اس تہذیب کے اندر نہیں داخل ہوسکتے۔اس نوزائیدہ تصورِ انسان کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ آدمی ایک مادی وجود ہے جس کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ غیر مخلوق ہے۔ اس مادّی وجود کے دو اصولی مطالبات ہیں: خوشی اور افادیت۔ ان مطالبات کو پورا کرنے کی کوششوں کے نتائج علمی بھی ہیں اور اخلاقی بھی۔ خوشی اخلاق کا idea ہے اور افادیت علم کا۔ چونکہ انسان مادّی وجود ہے ، لہٰذا مسرت اور فائدے کا دائرہ بھی غیر مادّی نہیں ہو سکتا۔ یعنی روحانی خوشی اور اُخروی نفع بے معنی بلکہ غیر انسانی تصورات ہیں۔خوشی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جبلت اور ذہن دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اس میں جبلی عنصر نکال دیا جائے تو خوشی کا پیکر ناتمام رہ جاتا ہے۔ اسی طرح افادیت محض مادّی ہے ، گو کہ اس میں کچھ اخلاقی مضمرات بھی ہوسکتے ہیں ، لیکن وہ اخلاقی مضمرات بھی کسی بڑے تصور کا حصہ نہیں ہیں یا کسی مافوق مادی مقصود کی طرف یکسو ہونے کے نتائج نہیں ہیں ، بلکہ ایک پہلو سے نفسیاتی اور دوسری جہت سے انتظامی ہیں۔ مثلاً کسی کو فائدہ پہنچانا نفسیاتی تسکین کا سبب بھی ہے ، لیکن اس کے بڑھ کر اس کی وجہ سے ریاست اور معاشرے کو درکار ایک قانونی اور عملی ہم آہنگی کا قیام بھی ممکن ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ خوشی اور افادیت کے اصول کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس پر استوار ہوجانے سے آدمی اس دنیا کا نظام کامیابی سے چلا سکتا ہے جس کا ایک سرا جبلت ہے اور دوسرا مادیت۔ مغرب ان دونوں انتہاؤں کے بیچ میں ایک نئی دنیا اور نیا انسان پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔مغربی تصور ِانسان کے ان بنیادی عناصر کو اگر گرفت میں لایا جاسکے تو ان کی تہذیب کو چلانے والاپورا نظام اپنے ضروری اجزاء کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے۔


مغرب کے غلبے کے اسباب کو تاریخی عوامل کے معنی میں لیا جائے تو ہمیں مغرب ِ جدید کے چند تشکیلی مراحل دیکھنے ہوں گے: Anthropological Metaphysics جس میں یونانی mythology سے لے کر معروف عیسائی عقائد شامل ہیں+Romanization+ Cartesian Dualism+Skepticism+ افادیت پسندی کا فلسفہ +انکار ِ دین + تجربیت کا فلسفہ + Scientism+ Capitalism۔ ان مرحلوں کو مربوط انداز سے طے کرکے جدید مغرب وجود میں آیا۔

(۱) Anthropological Metaphysics جسے مادّی مابعد الطبیعیات کہنا چاہیے۔یونان جو مغرب کی جنم بھومی ہے وہاں سے دیکھنا شروع کریں اور عیسائیت کی معروف شکل تک پہنچیں تو ایک ہی بات تسلسل کے ساتھ نظر آتی ہے کہ اس مابعد الطبیعیات میں خدا کی کوئی مرکزی جگہ نہیں ہے ، یا عیسائیت کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا خالص نہیں ہے۔ایسی مابعد الطبیعیاتی روایت میں بہت آسانی کے ساتھ ممکن ہوجاتا ہے کہ دینی مابعد الطبیعیات یعنی عقائد سے پوری مناسبت پیدا نہ ہو اور انہیں کسی بھی مرحلے پر رد کردینا کوئی بڑا مسئلہ نہ بنے۔ مغرب کے ساتھ یہی ہوا کہ خدا کاتصور دینی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے یہ عقلی حقیقت بنی ، پھر اخلاقی ideal بنا اور پھر نفسیاتی ضرورت تک محدود ہو کر رہ گیا ، جسے نفس پر تسکین کے دیگر ذرائع کھول کر اس کے اندر سے خارج کیا جاسکتا ہے۔

(۲) Romanization: عیسائیت سیدنا عیسیٰ کے صدی دو صدی بعد ہی ایک ایسا دین بن گئی تھی جس کا مرکز خدا نہیں تھا بلکہ مسیح d تھے اور خود آنحضرت ؑبھی ایک پہلو سے خدا نما انسان تھے اور دوسرے پہلو سے انسان نما خدا۔ اس دین کو طاقت کے بغیر حکومت کرنے کی عادت پڑ گئی تھی ، لیکن چونکہ ایسا زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہے لہٰذا جب حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت کی لازمی ضرورت سامنے آئی تو عیسائیت کو اپنے بانیوں کے قاتلوں کے ساتھ یعنی طاقت کے واقعی مظاہر کے ساتھ سمجھوتا کرنا پڑا۔رومیوں کی دنیاوی طاقت نے اہل کلیسا کے روحانی دبدبے کو سب سے بڑا سہارا فراہم کیا۔ اس Romanization سے عیسائیت کی طبیعت میں رچ بس جانے والی دنیا بیزاری کا غیر فطری ڈھب سے خاتمہ ہوگیا ، جو اس کے پیشواؤں میں نہیں تھی، لیکن بہرحال اس کی روایت میں مرکزی درجہ رکھتی تھی۔گویا پہلے مرحلے میں تصور ِ خدا بدلا اور اس مرحلے میں تصور ِ دنیا۔ اور یہیں سے دین اور دنیا کی مستقل دوئی کا آغاز ہوا۔

(۳) دیکارٹ کی ثنویت (Cartesian Dualism): رومن دور میں رونما ہونے والی دین و دنیا کی دوئی بعض تاریخی اسباب سے ایک بہت بڑے نتیجے میں صرف ہو گئی، وہ تھاذہن اور مادہ، یا روح اور جسم کی دوئی کا نظریہ، جس نے ناقابل یقین تیز رفتاری کے ساتھ ایسا پھیلاؤ اختیار کرلیا کہ شعور اور وجود کی تعریف متعین کرنے کا واحد لائق اعتبار اور قابل عمل ذریعہ بن گیا۔ یہ گویا رومیوں کے سہارے سے محروم ہوجانے والی عیسائیت کو ایک باعزت راہ فراہم کرنے کی کاوش تھی۔ اس میں مادہ حقیقی اور غیر مادی اعتباری ہوگیا۔

(۴) تشکیک (Skepticism) یعنی خدا کو جاننے میں ایسی بے بسی جو خدا کو نہ ماننے کاٹھوس جواز بن جائے۔ اس کے بانی اور سب سے بڑے نمائندے ڈیوڈ ہیوم کے یہاں تشکیک کا یہی مصرف ہے کہ اقرار کو اتنا ناممکن بنادیا جائے کہ انکار بغیر کسی دعوت و اعلان کے ناگزیر ہوجائے۔ثنویت کی طرح تشکیک نے بھی مغرب کو اندر سے حتماً بدل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اس تشکیک کا پہلا حصہ یہ تھا کہ خدا کا علم تو صحیح ہو ہی نہیں سکتا ، دوسرا حصہ یہ تھا کہ دنیا کا علم بھی قطعی نہیں ہے۔یہ گویا بیج تھا knowledge & technology کے اس blend کا جو آج مغرب کی سب سے بڑی طاقت ہے۔علم کا حتمی نہ ہونا معیشت اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ، اور اس کا دروازہ کہہ سکتے ہیں کہ ہیوم ہی نے کھول دیا تھا۔ علم حتمی ہوجائے تو ان دونوں کی نشوو نما پر روک لگ جائے گی۔ یہ نکتہ ہم آگے capitalism کے بیان میں کھولیں گے۔تشکیک کا مرحلہ اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے ذہن اور شے کی اپنی اپنی تعریف اور حدود کے ساتھ ساتھ ان کے تعلق کا بنیادی منہج بھی پوری طرح بدل گیا۔ اس دوطرفہ تبدیلی ٔ ماہیت اور انقلاب ِ تناظر کو بھی مغرب ِ جدید کی بڑی بنیادوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

(۴) افادیت پسندی (Utilitarianism): دیکارٹ کی آمد کے بعد یعنی روح اور مادّے میں اصولی اور مستقل دوئی پیدا ہوجانے کے بعد ، بلکہ اس کے نتیجے میں ، انسان کا اپنے بارے میں اور اپنی دنیا کے بارے میں جو کلاسیکی تصور تھا وہ بالکل بدل کر رہ گیا۔ روح اور مادّہ یا خداور دنیا علم اور وجود کی بالکل لاتعلق قسموں میں بٹ کر رہ جائیں تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ انسان کی زندگی کے تمام قوانین اور مقاصد مابعدالطبیعی یا دینی اصول سے بالکل منقطع ہوجائیں۔دیکارٹ کی فکر نے مغرب کے ذہن کو اس طرح condition کردیا کہ اس کے لیے خدا کو ماننے کا پورا عمل نہ صرف یہ کہ علمی نہیں رہا بلکہ ذہن میں اس کی مرکزیت غائب ہوجانے سے وہ دینی یا روحانی سیاق وسباق میں اخلاقی بھی نہیں رہ گیا۔ خودی کی آزاد، غیر منضبط اور نامربوط خودآگاہی ، جو عقلی سے زیادہ جبلی اور علمی سے زیادہ احساساتی تھی، اس نے وجود کی نفسیاتی معنی میں بھی subjective structuring کو کچھ ایسا بنادیا کہ انسان کے لیے اپنی حقیقت اور غایت کو اپنے باہر سے اخذ کرنا بہت مشکل ہوگیا۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں مادہ ہی لائق تصدیق رہ گیا ہو وہاں چیزوں کو دیکھنے کا بنیادی تناظر وہ نہیں رہتا جو مابعدالطبیعی حقائق کو ماننے سے تشکیل پاتاہے۔ حق یا حقائق کی بے مرکز subjectivization نے ذہن اور طبیعت دونوں کو محض مادیت کی طرف یکسو ہونے پر مجبورکردیا۔ بنیادی تناظر کی اس تبدیلی سے انسان نے اپنے بارے میں کچھ ایسے فیصلے کیے جن کا تعلق دین وغیرہ سے نہیں تھا۔ ان میں سے ایک فیصلہ افادیت پسندی (utilitarianism) کا تھا، یعنی ہر چیز، ہر خیال، ہر عمل کو دنیاوی پیمانے پر مفید ہونا چاہیے اور جو امر یا نظریہ دنیاوی افادیت نہیں پیدا کرتا اسے انسانی زندگی کی صورت گری کرنے والے لازمی عناصر سے نکال دینا چاہیے۔ خدا اور انسان کے تعلق میں پہلی ہمہ گیر دراڑ یہیں سے پڑی ، جس کی وجہ سے مذہب کی اعتقادی ساخت تو غائب ہوئی ہی تھی، اس کے اخلاقی اصول بھی بے مصرف قرار پائے۔ یعنی اب مادہ ہی حقیقت ہے اور دوسروں کو خوش رکھنا، اخلاق۔ افادیت پسندی کا نظریہ اس شدت کے ساتھ مانا گیا کہ مغرب کی تقریباً تمام علمی، سیاسی، معاشی روایتیں، اس نظریے کی تصدیق کے لیے پیدا ہوئیں۔ یہ دیکھنا اب شاید زیادہ مشکل نہیں ہے کہ خدا پرستی کا سب سے مقبول متبادل دراصل یہی افادیت پرستی ہے۔اس social theory میں افادیت کا مفہوم صرف اتنا نہیں ہے کہ مادّی فوائد میسر آجائیں، بلکہ اس کا ایک نفسیاتی version بھی ہے ، اور وہ ہے حصولِ مسرت، یعنی انسان کو بس ایک خوش حالی کی ضرورت ہے جو اس کے حالات میں بھی ہو اور کیفیات میں بھی۔جس طرح مادی افادیت کے امکانات لامتناہی ہیں، نفسیاتی مسرت کے ذرائع بھی غیر محدود ہیں۔اسی سے آزادی کے اس تصور کا بیج پڑا جو آج ایک بڑے درخت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، اور یہیں سے خدا اور آخرت سے لاتعلقی کی وہ بنیاد استوار ہوئی جس پر آج مغرب ِ جدید نے پوری عمارت تیار کر رکھی ہے۔ مفادِ عاجلہ کے حصول کو مقصد ِزندگی بنا کر ظاہر ہے کہ آخرت اور خدا کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی۔۔

(۵) انکارِ دین (Atheism): جب مذہبی لوگوں نے افادیت پسندی کی زمین پر بھی چلنا سیکھ لیا تو ان کے قدم اکھاڑنے کے لیے ایک زلزلہ ایجاد کیا گیا۔یہ زلزلہ کیا تھا؟ Utilitirianism کے اصل چہرے کی رونمائی! یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کب، مگر یہ بہرحال تیقن کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انکار ِ دین کا رویہ افادیت پسندی کے پہلے ہی دور میں کچھ کچھ سامنے آنے لگا تھا، لیکن اس رویے کا مکمل اظہار مختلف شعبوں میں کچھ عرصے بعد ہوا۔انکار ِ دین محض کلیسا کے استبداد کا ردِ عمل نہیں ہے، بلکہ اصل میں افادیت پسندی کے شجر کا پھل ہے، کیونکہ افادیت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمات اور عقائد اور پھر نظری مابعد الطبیعیات کو شعور کی اقلیم سے خارج کردیا جائے، اور انسان کو یہاں تک پہنچا دیا جائے کہ وہ خدا کو اپنی نادانی اور کمزوری کا نتیجہ سمجھنے لگے۔ یہ انکارِ دین ذہن اور زندگی کے ان گوشوں میں بھی سرایت کرگیا جو neutral zones کی طرح تھے۔ یعنی ٹھیٹھ دنیاوی اور نفسیاتی علوم میں بھی کسی سمجھ میں آسکنے والے جواز و ضرورت کے بغیر خدا اور دین سے انحراف یا لا تعلقی کا رنگ داخل کردیا گیا۔مثلاً میز بنانے میں خدا کو ماننا یا نہ ماننا لازمی شرط نہیں ہے ، لیکن اس سطح پر بھی اس رویے کو گویا رچا بسا دیاگیا۔ انکار ِ دین کی ایسی روایت کے تسلسل میں جدیدیت پیدا ہوئی جس کی روح ہی انکار ہے۔شروع میں آرائشی طور پر بعض دنیاوی مسلمات کا انکار کیا گیا ، لیکن فوراً ہی بعد اس انکار کا رخ خدا، دین وغیرہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ اب جدیدیت ایک منتخب انکار کی آزادی بن کر سامنے آئی۔ چونکہ مغرب اپنے تمام اصول و اقدار کو آفاقی بنانے میں بہت حد تک کامیاب چلا آرہا ہے لہٰذا اہل دین کو انکار ِ دین کے اس مزاج کو ، جسے مغرب ِ جدید میں پیدا ہونے والے تمام علوم کی پشت پناہی حاصل ہے، نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اس کا سامنا کرنے کے لیے درکار وسائل کا پورا شعور اور استطاعت حاصل کرنی چاہیے۔ سردست اسے ایک کلامی اور منطقی مبحث سمجھ کر جو طبع آزمائی کی جارہی ہے، ایک تو اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں اور دوسرے وہ اس مزاج کو مزید تقویت پہنچا رہی ہے۔ اس زہریلے سیلاب سے بچنے کے لیے زندگی اور اس کے مؤثرات پر جس طرح کی قدرت درکار ہے وہ فی الحال کہیں نظر نہیں آتی۔ ہم انکارِ دین کو ایک مجموعہ استدلال سمجھ کر اس کی تردید کی اَن گڑھ کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ گویا ایسی تیراندازی ہے جو دشمن کے مخالف رخ پر کی جارہی ہے۔

(۶) تجربیت (Empiricism): مغرب میں دیکارٹ کے بعد ایک پورا نظریہ علم پیدا ہوا جس کا یک عنوان تجربیت (Empiricism) ہے، یعنی علم کا صحیح ہوناحسی تصدیق سے مشروط ہے۔ دائرہ ٔ حواس سے باہرہم کوئی بامعنی تصور تو تشکیل دے سکتے ہیں لیکن اس تصور کو اس کی ممکنہ تاثیر کے باوجود علم نہیں کہا جائے گا۔ اس مکتبہ فکر میں محسوس ہی معلوم ہے اور معقول کا کردارمحسوسات کی تنظیم، توجیہہ اور معنویت سازی تک محدود ہے۔گو کہ حسی علم پر اصرار کرنے والی روایت قدیم سے چلی آرہی تھی لیکن دیکارٹ سے پہلے تک اس روایت نے’’علم کیا ہے؟‘‘ کا ایک مستقل جواب تیار کیا اور اسے ذہن اور شے کے تعلق اور اس تعلق سے برآمد ہونے والے نتائج، بلکہ یہاں تک کہا جاسکتا ہے کہ اس تعلق کے مقاصد کو بھی ،اپنے بنائے ہوئے جواب کے دائرے میں سمولیا۔شروع شروع میں تصدیق کے تمام حدود حسی نہیں تھے ،بلکہ منطقی استدلال کو بھی کسی علم کی صحت میں کچھ نہ کچھ دخل ضرور تھا، لیکن آگے چل کر منطقی معقولات بھی غائب ہوگئے اور تصدیق کا محض ایک مطلب باقی رہ گیا: حسی تجربہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ دیکارٹ تجربیت پسند (Empiricist) نہیں تھا، تاہم اس کے نظریۂ ثنویت نے تجربیت کے لیے سنگ بنیاد کا کام دیا۔ تجربیت کو جب فلسفے کے علاوہ دیگر سائنسی اور معاشرتی علوم کی تائید بھی حاصل ہوگئی تو اس نے ایک مجموعی ذہن تعمیر کیا ،یعنی جدید آدمی کا ذہن ، جس کا ایک موضوع بھی وہ دنیا تھی جو صورت و معنیٰ دونوں اعتبار سے مادّی تھی۔ تجربیت کے قوام سے بننے والا مجموعی ذہن وہی ہے جس نے جدید مغرب کو اس کے تمام اصول و مظاہر سمیت جنم دیا، اور اب وہی اسے چلا رہا ہے۔انسانی زندگی کے تمام محرکات و مقاصد اسی ذہن سے متعین ہوتے ہیں اور نفسیات سے لے کر تہذیب تک کے تمام مراحل اسی کی رہنمائی میں طے ہوتے ہیں۔ اس ذہن کا غلبہ اب مقامی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ عالمگیر ہونے کی کیفیت رکھتا ہے۔ اب یہ بات شاید فرض بھی نہ کی جاسکے کہ تجربیت کے رویے سے بننے والے دائرے کو کسی بھی استدلال سے توڑا جاسکتا ہے۔ مغرب اپنے بعض دیگر اصول کی طرح صحت علم کے اس عقیدے کو ایک ایسا معیار بنانے میں پوری طرح کامیاب ہوچکا ہے کہ دنیا کے جو حصے یعنی غیر مغربی تہذیبیں فی الحال اس طغیانی سے کسی قدر بچی ہوئی نظر آتی ہیں ان کا رویہ بھی بچ کر خوش ہونے والوں جیسا نہیں ہے بلکہ وہ اس طغیانی میں چھلانگ لگانے کی تیاری کررہی ہیں، رشک کے ساتھ، احساسِ کمتری کے ساتھ۔اس وقت یہ کہنا خود کو دھوکہ دینا ہے کہ وجود اور علم دونوں میں واحد معیار مغرب نہیں ہے۔باقی پسماندہ قومیں ہیں جو اس معیار پر پورا اترنے کی کوشش کررہی ہیں یا اس کی حسرت میں مبتلا ہیں۔دیگر پہلوؤں سے قطع نظر تجربی ذہن اب دینی علم کی روایت میں بھی کارفرما ہوچکا ہے۔اس معاملے میں سارے عالم اسلام کی ایک سی صورتِ حال ہے۔روایتی عقیدہ یا فکر عملاً اجنبی ہوچکا ہے اور دین کی اس تعبیر کو مسلمانوں میں مقبولیت اور علمی اہمیت حاصل ہوچکی ہے جومغرب کے بنائے ہوئے گویا عالمگیر ذہن سے مناسبت رکھتا ہے۔ ٹھیٹھ مذہبی فکر اسے تجدد وغیرہ کا عنوان دے کر فی الحال رد تو کر رہی ہے ،لیکن یہ تردید آج بننے والی علمی فضا کے اندر کوئی وزن نہیں رکھتی اور کوئی کشش بھی نہیں رکھتی۔ دین کی منتقلی اور تسلسل کا عمل ظاہر ہے کہ تعلیم و تربیت کی ایسی روایت کی پاسداری کے ساتھ ممکن ہوسکتا ہے جو آغاز ِدین سے چلی آرہی ہے۔لیکن آج بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دین کے ساتھ خلقی مناسبت رکھنے والا علم اور اخلاق، موجودہ آدمی اور موجودہ دنیا میں کسی طرح کی تاثیر نہیں رکھتے۔یعنی اب ٹھیٹھ مذہبی فکر نہ آدمی کو بدل سکتی ہے اور نہ دنیا کو، اور جہاں اس کے تصرفات کا مظاہرہ ہورہا ہے، وہاں وہاں تخریب کی حکومت نظر آتی ہے، تعمیر کا پہلو نہیں دکھائی دیتا۔ اس صورتِ حال میں ،جو تخیل نہیں ہے بلکہ ہر شخص کو دکھائی دے سکنے والاواقعہ ہے ، مذہب کی ترویج تو دور کی بات ہے، اس کے دفاع کا سامان بھی ہمیں میسر نہیں۔تجربیت کی وبائے عام کا ایک اثر یہ ہے کہ علمی سطح پر ایمانیات کو حِسی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اخلاقیات میں اللہ اور آخرت سے دوری پر مطمئن رہنے والی خدمت خلق اور تسخیردنیا ایک جنون کی طرح پھیل رہی ہے اور مسلم معاشروں میں پھیلائی جارہی ہے۔یہ باتیں مایوسی کی پیداوار نہیں ہیں بلکہ ہر سچے آدمی کا مشاہدہ ہیں۔مذہبی ذہن جب تک اس بھیانک منظر کو خوش فہمی کے بغیر دیکھنے کی صلاحیت نہیں پیدا کرے گا ،بالآخر اپنے دین اور ایمان کو بھی اسی منظر کا حصہ بنانے پر مجبور ہوجائے گا، بلکہ ہوتا جارہا ہے۔ایمان کی تاثیر فی الذہن اور اخلاق کی تاثیر فی الاشیاء کو بحال کیے بغیراور مغرب سے مکمل فصل اختیار کیے بغیر اسلامی دنیا کی بقا محالات میں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

(۷) سائنس پرستی (Scientism) کا مطلب ہے سائنس کو معیار ِحق و باطل بنالینا۔سائنٹزم کے دو حصے ہیں،ایک پرانا اور ایک نیا۔پرانے حصے میں دین کو ماننے کی بھی گنجائش نکالی جاتی ہے،اس شرط کے ساتھ کہ دین اتنا ہی سچا اور یقینی ہے جتنا سائنس سے ثابت ہو۔جو عقائد سائنس سے ثابت نہیں ہیں ان پر ایمان عملاً معطل اور ذہناً مفقود رہتا ہے۔نیا حصہ، دینیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور دینداری وغیرہ کو غیر سائنسی رویہ گردانتا ہے۔سائنٹزم تجربیت ہی کا ایک مظہر ہے، بس فرق اتنا ہے کہ تجربیت میں تمام علوم کو برابری کے ساتھ موجود رہنے کی اجازت ہے ،لیکن سائنٹزم میں ہر علم سائنس کا محکومِ محض ہے اور اس محکومیت کو مانے بغیر کسی بھی علم کا کوئی جواز نہیں ہے۔دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ تجربیت کا بنیادی کام یہ ہے کہ صحیح اور غلط علم میں تمیز کی جائے، جبکہ سائنٹزم میں معاملہ صرف صحت علم اور اس کی شرائط تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں کسی امر کا حقیقی یا غیرحقیقی ہونا بھی طے کیا جاتا ہے۔

(۸) سرمایہ داری (Capitalism):مغربی ذہن کے مطابق کیپیٹل ازم ایک ابدی تقدیر ہے جو انسان نے دنیا کی لوحِ محفوظ پر لکھی ہے۔آج کی دنیا میں انسان سے بلاواسطہ یا بالواسطہ نسبت رکھنے والے تمام ہی معاملات کیپیٹل ازم کے دست تصرف میں ہیں۔صورتِ حال یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ ریاست دینی بنے گی تو اس کی مرضی سے اور سیکولر ازم اختیار کرے گی تو اس کی اجازت سے۔ کیپیٹل ازم نے انسان کو آزمائش کے ماحول اور بڑے فیصلے کرنے کی مشکلات سے نکال دیا اور عالمگیر سطح پر اپنا یہ تاثر منوالیا ہے کہ سارے مسائل ایک اَن دیکھے نظام سے حل ہوجائیں گے جس کی باگ ڈور کیپیٹل ازم کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے لیے نظریے کا لفظ چھوٹا ہے، اسے تو گویا انسانوں کا بنایا ہوا ’’دین‘‘ کہنا چاہیے، تو بہرحال اس نے فرد کے معاشی اختیارات سے آغاز کرکے غیر محدود ملکیت کے تصور کی تشکیل کرتے ہوئے ا ب ایک کسوٹی اور حکم کی شکل بنالی ہے،جس کی تصدیق اور امر کے بغیر انسانی ذہن اور زندگی کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔اور ایسا صرف مغرب میں نہیں ہے، مغرب تو کسی کونے کھدروں میں کیپیٹل ازم سے آزادی کا ماحول رکھتا ہے ،یہ تسلط مغرب کے باہرکی دنیا پر زیادہ ہے۔جہاں بلاشبہ Capitalist agenda کی ادنیٰ سی خلاف ورزی محالات میں سے ہے۔خصوصاً مسلم ریاستیں اور معاشرے کیپیٹل ازم کے زیر نگیں ہونے کے سب سے واضح مظاہر ہیں۔یہاں دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو بھی اس سے موافقت اور سازگاری پیدا کرنے پر مجبور یا مائل ہونا پڑرہا ہے۔دینی زندگی میں سے آخرت کے تصور کو جس باریکی اور مہارت سے بے دخل اور بے اثر کردیا گیا ہے یہ کیپیٹل ازم ہی کا کارنامہ ہے،جس پر جدید مسلمان فخر کرتے ہیں۔غرض مختصر یہ کہ انسان ،دنیا اور خدا کے تمام دینی تناظرات اور آفاقی تصورات پہلی مرتبہ کیپیٹل ازم کے ہاتھوں اندر سے منقلب ہوئے ہیں اور تمام کلاسیکی اورروایتی جدلیات اس کے ہاتھوں بالکل بے معنی ہوکر رہ گئی ہے۔حق و باطل،صحیح و غلط،آزادی و غلامی، فرد و معاشرہ، وغیرہ ایسے تمام جدلیاتی تناظر کیپیٹل ازم نے اگر پوری طرح بدلے نہیں تو بھی ان کی معنویت اور حیثیت کو یکسرتبدیل کردیا ہے، اور یہ سب کچھ مسلم دنیا میں اپنی انتہا پر نظر آتا ہے۔ کیپیٹل ازم کا crude لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت ایک بہت چھوٹی اقلیت کے تصرف میں رہے،لیکن احساسِ آزادی کے ساتھ،خوشی کے ساتھ اور سامانِ عافیت کے ساتھ۔یہ چھوٹی سی اقلیت آج کل کی اصطلاح میں کوئی مجموعۂ افراد نہیں ہے بلکہ corporations کا اکٹھ ہے،جس کے اندازِکار اور مقاصد کا شاید کسی کو پوری طرح علم نہ ہو۔ان کے پاس مشکل کا حل بھی ہے اور مشکل پیدا کرنے کا فن بھی۔ کیپیٹل ازم مشکلات کی پیدائش اور ان کے مؤثر حل کی نمائش کو ساتھ ساتھ رکھتا ہے۔کسی موقع پر تفصیل میں جانا پڑا تو یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیپیٹل ازم اپنے مبادی اور تفصیلات میں کیا ہے؟ اور اس کے اندر وہ کون سا وصف ہے جس کی وجہ سے اس کی شکست اور خاتمہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔بہرحال جمہوریت،حقوقِ انسانی، اوپن مارکیٹ اور غیر مشروط آزادی، انسان کے بنائے ہوئے اس دین کے بنیادی ارکان ہیں،مگر یہ الفاظ اپنے معنی بھی ساتھ لائے ہیں، پہلے سے موجود معنی کو قبول نہیں کرتے۔ کیپیٹل ازم کسی عقیدے یا روایتی مسلمے یا کسی بھی علم وغیرہ کی تردید سے دلچسپی نہیں رکھتا ،یہ ہر چیز کو ایک binding context کا پابند بنادیتا ہے۔مذہبی ذہن اس بات کو سمجھنے میں دیر لگا رہا ہے کہ دنیاوی کی طرح دینی علم کا بھی سیاق وسباق (context) اور حیطۂ تسلیم و تاثیر بدلتا رہتا ہے۔یہ فطری قانون کیپیٹل ازم نے سمجھا ہے اور اسے پوری تفصیل سے کل انسان ،کل دنیا پر apply کرکے دکھایا کہ context ہی علم ہوتا ہے۔

یہ وہ چند تاریخی اسباب تھے جس نے مغرب جدید کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مغرب کو جاننا اب ’’know thy enemy‘‘نہیں بلکہ بدقسمتی سے ’’know thyself ‘‘کی ضرورت ہے۔ سرمایہ داری کا جادو لاس ویگاس سے زیادہ دبئی کے ڈاؤن ٹاؤن میں چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ خدا کی بستی کو دکان میں کیسے ڈھالا جاتا ہے، اس کا مشاہدہ حرمین شریفین کے پیش و عقب میں شاید مین ہٹن سے زیادہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں یورپ کو انسان کی اخلاقی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گردانا ہے۔آخر میں اقبال کی مثنوی ’’ پس چہ باید کرد اے ‘‘اقوامِ شرق کاایک حصہ بلا تبصرہ نقل کیا جاتا ہے:

دانی از افرنگ و از کارِ فرنگ

تا کجا در قید زُنارِ فرنگ؟

زخم ازو، نشتر ازو، سوزن ازو

ما و جوئے خون و اُمید رفو!

خود بدانی بادشاہی قاہری است

قاہری در عصر ما سوداگری است

تختہ دُکاں شریک تخت و تاج

از تجارت نفع و از شاہی خراج

آں جہاں بانے کہ ہم سوداگر است

بر زبانش خیر و اندر دل شر است

گر تو میدانی حسابش را درست

از حریرش نرم تر کر پاس تست

بے نیاز از کار گاہِ او گذر

در زمستاں پوستین او مخر

کشتن بے حرب و ضرب آئین اوست

مر گہا درِ گردش ماشین اوست

بوریاے خود بہ قالینش مدہ

بیذق خود را بہ فرزینش مدہ

گوہرش تف دار و در لعلش رگ است

مشک ایں سوداگر از نافِ سگ است

رہزن چشم تو خواب مخملش

رہزن تو رنگ و آب مخملش

صد گرہ افگندہٖ در کارِ خویش

از قماشِ او مکن دستارِ خویش

ہوشمندے از خم او مے نخورد

ہر کہ خورد اندر ہمیں میخانہ مرد

وقت سودا خند خند و کم خروش

ما چو طفلانیم و او شکر فروش

محرم از قلب و نگاہ مشتری است

یا رب ایں سحر است یا سوداگری است

تاجرانِ رنگ و بو بردند سود

ما خریداراں ہمہ کور و کبود

آنچہ از خاک تورست اے مردِ حر

آں فروش و آں بپوش و آں بخور

آں نکو بیناں کہ خود را دیدہ اند

خود گلیم خویش را بافیدہ اند

اے زکارِ عصر حاضر بے خبر

چرب دستیہاے یورپ را نگر!

قالی از ابریشم تو ساختند

باز او را پیش تو انداختند

چشم تو از ظاہرش افسوں خورد

رنگ و آب او ترا از جا برد

واے آں دریا کہ موجش کم تپید

گوہر خود را از غواصاں خرید!

٭تو فرنگیوں کو بھی سمجھتا ہے اور ان کے کام کو بھی، کب تک فرنگ کے زنار میں قید رہے گا؟

٭زخم بھی اُسی کی وجہ سے، نشتر بھی اُسی کا ہے، پھر وہی اس زخم کو سینے والا ہے۔ ہم ہیں اور جوئے خون۔ اور اسی سے زخموں کے سینے کی امید رکھے ہوئے۔

٭تو خود جانتا ہے کہ پادشاہت چیرہ دستی سے قائم ہوتی تھی، مگر اس دور میں یہ چیرہ دستی تجارت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔

٭آج کل دکانداری تخت و تاج کی شریک بن گئی ہے ، تجارت سے نفع حاصل کرتے ہیں اور حکومت کے ذریعے خراج۔

٭وہ حکمران جو تاجر بھی ہے، اس کی زبان پر بھلائی کی باتیں ہیں مگر دل کے اندر شر ہے۔

٭اگر تو اس کے معاملات کو اچھی طرح سمجھ لے تو تجھے معلوم ہو گا کہ اس کے ریشم سے تیرا کھدر بہتر ہے۔

٭اس کے کارخانوں کی طرف توجہ نہ دے ،موسم سرما میں بھی اس سے گرم کپڑے نہ خرید۔

٭بغیر جدال و قتال کے قتل کرنا اس کا طریق کار ہے ،اس کی مشینوں کی گردش میں کئی اموات پوشیدہ ہیں۔

٭اپنا بوریا چھوڑ کر اس کا قالین نہ لے۔ اس کے وزیر کے عوض اپنا پیادہ نہ دے۔

٭اس کا موتی عیب دار او رلکیر دار ہے۔ یہ سوداگر اپنی کستوری کتے کی ناف سے حاصل کرتا ہے۔

٭اس کے مخملیں بستر پر سونے سے آنکھ کی بینائی چلی جاتی ہے۔ اس کے ریشم کی چمک دمک تجھے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیتی ہے۔

٭تونے اپنے کاموں میں سینکڑوں مشکلات پیدا کر لی ہیں ،اس کے کپڑے سے اپنی پگڑی نہ بنا۔

٭کوئی سمجھ دار اس کے خم سے شراب نہیں پیتا ،اور جو پیتا ہے وہ اسی مے خانے کے اندر مر جاتا ہے۔

٭وہ ہنس ہنس کے اور میٹھی زبان سے سودا بیچتا ہے۔ ہم بچوں کی طرح ہیں اور وہ مٹھائی بیچنے والے کی مانند۔

٭وہ خریدار کی سوچ اور پسندیدگی کو جانتا ہے۔ یارب !یہ سوداگری ہے یا جادوگری؟

٭یہ رنگ و بو (ظاہری چمک دمک) کے تاجران سارا منافع لے گئے، اور ہم خریدار اندھے کے اندھے ہی رہ گئے۔

٭اے مرد حر جو کچھ تیری سرزمین سے پیدا ہوتا ہے اسے کھا اور اسے پہن اور اسے فروخت کر۔

٭وہ سمجھ دار لوگ جو اپنے آپ کو پہچانتے ہیں وہ اپنی گودڑی کو خود بنتے ہیں۔

٭تو جو اس دور کے طور طریقوں سے بے خبر ہے یورپ کی کاریگریوں کو سمجھ!

٭وہ تیرے ریشم سے قالین بنتا ہے اور پھر اسے تیرے ہی سامنے فروخت کے لیے پیش کر دیتا ہے۔

٭تیری آنکھ نے اس کے ظاہر سے دھوکا کھایا ہے ،اور اس کی ظاہری چمک دمک نے تجھے اپنے مقام سے گرا دیا ہے۔

٭افسوس اس دریا پر جس کی موجوں میں جوش و خروش نہ رہا ،جس نے اپنے ہی موتی کو غواصوں سے خریدا!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • تفہیم مغرب کے سلسلے میں موثر اور جاندار کاوش ہے۔جدیدیت ،استعمار اور استشراق کو سمجھنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، میں نے جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اردو زبان میں ابھی تک جناب خالد جامعی (جامعہ کراچی) ، ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری ،ڈاکٹر عبدالوہاب سوری، نادر عقیل انصاری ، محمد دین جوہر اور زاہد صدیق مغل صاحب کے انتقادی مقالات و مضامین سامنے آئے ہیں ۔