تھینک یو مسز واڈیا - مہران درگ

اتنی بڑی شخصیت نہ اس سے پہلے کبھی میرے گھر آئی تھی نہ کبھی آئے گی، ان کے بولنے کا انداز بھی جناح جیسا تھا، ان کو دیکھ کر کوئی بھی پہچان سکتا تھا کہ وہ جناح کی بیٹی ہیں، لاہور چھ گھنٹے تک وہ میری حویلی میں میرے گھر پہ رہیں، میں نے ان سے جھجھکتے ہوئے اک "اعتراف" کیا، "آپ کے والد نے جو ملک بنایا ہم اس کو ویسا نہیں بنا سکے جیسا کہ وہ چاہتے تھے"، انہوں نے انتہائی سکون سے اختلاف کیا، No, No Pakistan is a great country، میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے دوسرا سوال پوچھا، ہم نے ہمیشہ سنا آپ کے قائداعظم سے بہت زیادہ اختلافات تھے، انھوں نے ڈائننگ ٹیبل پر سے مجھے چونک کر دیکھا، listen young man ! ہمارا شادی کے سوا کسی موضوع پر کبھی اختلاف نہیں رہا. ان کےگھر میں قائداعظم کی وہ وہ تصاویر ہیں جو آج تک کسی نے دیکھی تک نہیں ہوں گی.
(علامہ اقبال کے نواسے یوسف صلاح الدین)

قائداعظم محمد علی جناح کا مصمم ارداہ و عمل دیکھیے کہ اکلوتی اولاد دینا نے اک پارسی بزنس مین مسٹر واڈیا سے شادی کی، ان کا اک سلسلہ تھا کہ وہ ہر برتھ ڈے پر اپنے والد کو کارڈ اور پھول بھیجتی تھیں، اور قائداعظم بیک جنبش سگنیچر، بظاہر تشکر آمیز مگر گِلے اور اس سے بڑھ کر جتلائے ہوئے سے لہجے میں ملفوف اک سطر "تھینک یو مسز واڈیا" لکھ کر کارڈ واپس بھیج دیتے. شادی کے بعد پھر کبھی ان کا نام دینا جناح نہیں لکھا، "مسز واڈیا" ہی لکھتے کہتے تھے.

میں قائداعظم کے اس تغافل عارفانہ اور فیصلہ کن انداز ِحزف سے اک چیز جو شدت سے جان پایا ہوں، وہ یہ کہ انھوں نے انھیں اپنا تعارف دینا اپنی سماجی ڈگنٹی کے خلاف جانا، ہمیں ان کے اس کوڈ آف کنڈکٹ کا، ان کے اس مؤقف کا آج بھی احترام کرنا ہے. جس منسوبیت الیہ کو وہ اپنی زندگی میں ہی تاسف و پرماندگی کے نہاں خانوں میں گاڑ گئے، مسز واڈیا کے سوا کبھی کچھ بھی اپنی ذات تک آکر ان کو تخاطب دینا انہوں نے اپنے لیے اک حد سے متجاوز جانا، وہ اپنے اصولی عائلی مذہبی جذباتی کیفیات پر تا دم مرگ اک لکیر سی کھینچ کر قائم رہے. یہ ان کی سیلف ایسٹیم ہے. مسز واڈیا کا احترام از طرف مگر جذبات بھی برطرف کہ جس حیثیت کو خود قائداعظم نے بیان کرنا ترک کر دیا، اسے ہم بحیثیت پاکستانی بحال رکھیں گے، اور انھیں قائداعظم کی بیٹی کا تخاطب نہیں دیں گے. وہ خود بھی کہتی تھیں "میں نے اپنی سماجی شہرت اور تعارف کمانے کے لیے قائد کی بیٹی ہونے کو استعمال میں لانے سےگریز کیا". سو وہ مسز واڈیا تھیں اور رہیں گی، یہاں تک کہ ان کو موت نے آ لیا. اور شاید بہت شاید! دو قومی نظریے کی ابتداء ان کے اپنے گھر اور اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے، جس چیز نے مجھے بےاختیار مسکرانے پر مجبور کر دیا.

ہمیں تسلیم ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی جو آپ نے گزاری، جن میں آپ کو اپنے فیصلے لینے کا مکمل اختیار تھا، مگر آپ ایک بہت بڑے لیڈر کی بیٹی تھیں، آپ کو تو بیٹی بھی اتنا ہی بڑا بننا تھا، آپ جتنے بڑے باپ کی بیٹی تھیں، آپ نے انہیں اتنا ہی بڑا دکھ دیا، آپ کا رنگ، آپ کی شکل، آپ کا لب و لہجہ ہمارے قائد کے ہو بہو تھا، مگر ہمیں اب یہ پھانس ہے کہ ہم آپ کو ان کی بیٹی کہہ کر مخاطب کرنا اپنے قائد کو دکھ دینا سمجھتے رہیں گے، آپ ان کا خون ضرور تھیں مگر ان کی ''بیٹی'' نہیں تھیں.

Thank you for your complement Mrs wadiya. Thank you Mrs wadiya"
1919 - 2017

Comments

مہران درگ

مہران درگ

بنیاد مکران کیچ پُنل سے، مقیم شہر، گور گرد گرما و گدا ملتان، تعلیم زرعی گریجویٹ، شاعر اور شاعری، درویش اور درویشی دونوں پسند، جدید نظم، جدید و قدیم نثر، فکشن، افسانوی ادب، تصوف، رد الحاد، دلچسپی کے موضوع تھے، ہیں اور رہیں گے. ابھی بھی سمجھتا ہوں کوکھ مادر میں ہوں کہ بہت سی گرہیں ابھی باقی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */