دبئی میں جاب کی تلاش کیسے کی جائے؟ - میاں جمشید

اگر آپ دبئی میں جاب حاصل کرنا چاہ رہے ہیں تو یہ تحریر خاص آپ کے لیے ہی ہے۔ دبئی میں جاب کا حصول آجکل بہت سارے لوگوں کی آرزو ہے۔ نوجوان اپنی آمدن بڑھانے کے لیے، خوشحالی لانے، قرضوں سے جلد چھٹکارا، اور اپنی محنت کا اچھا معاوضہ پانے کے لیے متحدہ عرب امارات یا قریبی دوسرے خلیجی ممالک میں جاب تلاش کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ایک تو یہ پاکستان کے قریب ہیں، کبھی بھی صرف دو سے تین گھنٹے کی فلائٹ سے آ جا سکتے ہیں، دوسرا وہاں پر آج بھی اچھی جاب ملنے کی امکانات موجود ہیں۔ لیکن اس کے لیے پہلے اچھی معلومات کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اب ذرا میری اگلی باتوں کو آرام و دھیان سے پڑھیے اور ان پر عمل کیجیے۔

1۔ دبئی میں مناسب جاب حاصل کرنے کے لیے آپ کے پاس کالج لیول کی تعلیم اور ایک، دو سال کا تجربہ ہونا لازمی ہے۔ اس سے زیادہ ہو تو کیا ہی بات ہے! مگر یہ بھی نہیں یہ نہیں کہ اس کے بغیر جاب نہیں مل سکتی، مل جائے گی مگر بہت کم لیول کی، زیادہ وقت و محنت والی اور پھر ساتھ میں سالانہ اچھی ترقی و تنخواہ نہیں ہوگی۔

2۔اس کے بعد سب سے پہلے خود کو ذہنی طور پر بہت سارے وقتی سمجھوتے کرنے پر تیار کریں کیونکہ میڈیا میں نظر آنے والا دبئی وہاں سیر کرنے جانے والوں کے لیے ہے۔ مگر وہاں جاب کرنے والوں کے لیے شروع کے کچھ سالوں کے لیے ذرا مختلف ہے جس کے لیے قدم قدم پر آپ کو صبر، ہمت، برداشت اور سمجھوتے وغیرہ کرنے پڑیں گے۔ گرم موسم، ایک کمرے میں کافی لوگوں ساتھ بنکر بیڈ پر رہنا، کئی مرتبہ دن میں صرف ایک دفعہ ہی کھانا، گھر والوں کی یاد وغیرہ وغیرہ۔ مگر یاد رہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اچھی جاب ملنے پر آپ کو کافی سہولت ہو جائے اور سب کچھ جاتے ہی سیٹ ہو جائے یا کچھ وقت لگے مگر آپ نے پہلے سے یہ سب ذہن میں لازمی رکھنا ہے۔

3۔ اپنے تعلیمی اسناد، تجربہ لیٹر، سی وی کی سوفٹ کاپی، پاسپورٹ اور کم از کم پندرہ سفید بیک گراؤنڈ والی پاسپورٹ سائز تصاویر کو تیار رکھیں۔ ساتھ ہی انگلش بول چال اور لکھنے میں ذرا روانی بھی لائیں کہ یہ بہت فرق ڈالنے والی بات ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ دبئی میں اچھے عہدے کی جاب کے لیے آپ کو اپنی تعلیمی اسناد کی متعلقہ تعلیمی بورڈ، ایچ ای سی، فارن آفس اور یو اے ای کی ایمبیسی سے پاکستان میں ہی جانے سے پہلے attestation کروانی پڑے گی۔ دبئی جانے سے پہلے یہ کام کروا لیں تو یقین مانیں بہت سہولت ہو جائے گی۔ آجکل تو یہ سب ویسے بھی بہت آسان ہو گیا ہے کہ کچھ اچھی کوریئر کمپنیز یہ کروا دیتی ہیں۔ یہ سب نہ بھی ہو تو بھی جاب مل سکتی ہے، آپ بعد میں بھی کروا سکتے مگر بہترین ادارے میں جاب کے لیے یہ سب شروع میں ہی لازمی ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی کہ پہلے ہی کروا لیں۔

4۔ سب سے اہم بات کہ جاب کے لیے آپ کا دبئی میں خود موجود ہونا بہت ضروری ہے کہ ادارے انہی کو انٹرویو کے لیے پہلے فون کال اور پھر ای میل کرتے جو دبئی میں موجود ہوں۔ یاد رہے کہ دبئی میں پہلے سے آپ کے کسی دوست یا رشتہ دار کا ہونا بہت ضروری ہے، جو آپ کے لیے رہائش کا بندوبست کر سکے، اپنے پاس رکھے یا کسی دوسری جگہ بیڈ سپیس کا انتظام کرے اور پھر آپ جہاں بھی رہیں گے وہاں وائی فائی کا ہونا لازمی ہو جو بہت اہم ہے۔ باقی کھانا پینا تو آپ اپنے روم میں خود بنا سکتے، شیئرنگ پر کر سکتے یا باہر ہوٹل سے بھی کھا سکتے ہیں۔ اپنا یا کسی دوست کا لیپ ٹاپ ہو تو کیا ہی بات ورنہ آپ کسی نیٹ کیفے بھی جا سکتے ہیں مگر یہ مہنگا بھی پڑتا ہے اور کئی جگہ تو نیٹ کیفے کافی دوری پر ہوتا ہے۔

5۔ پھر جناب اب کسی "اچھے جاننے والے" کی مدد سے دبئی کے لیے وزٹ ویزا کے لیے اپلائی کریں جو کہ تقریباً تین دن کے اندر مل ہی جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹریول ایجنٹ کو آجکل ویزا فیس کے ساتھ قابل واپسی سیکورٹی بھی جمع کروانی پڑتی ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کو آنے جانے کا (ریٹرن) ٹکٹ بھی لینا پڑے گا۔ اس کے لیے پہلے ہی دیکھ لیں کہ کون سی ایئر لائن آپ کو سستی پڑ رہی ہے جو کہ آپ خود بھی مختلف ایئر لائن کی ویب سائٹس پر جا کر چیک کر سکتے ہیں۔ یاد رہے ویزا نکلنے کی بعد بھی آپ کے پاس دو مہینہ کا وقت ہوتا ہے کہ اس کے اندر اندر آپ دبئی جا سکتے ہیں، یہ نہیں کہ آج صبح ملا تو بھاگم بھاگ میں لگ گئے۔ آرام و تسلی سے کرنا ہے سب۔

6۔ دبئی میں پہلے دن ہی وہاں کی سم حاصل کریں اور موبائل نمبر کو اپنی سی وی میں لکھیں۔ اب آتا ہے، اصل مرحلہ، جاب اپلائی کرنے کا، اگر آپ وہاں کا مشہور اخبار "گلف نیوز" روزانہ خرید کر پڑھیں، تاکہ ذرا انگلش بھی بہتر ہو، موجودہ حالات سے بھی باخبری ہو اور ساتھ ہی جاب کے اشتہارات بھی دیکھ سکیں۔ یاد رہے کہ دبئی میں تقریباً ہر جگہ پہلے ای میل یا آن لائن ہی اپلائی کرنا پڑتا ہے۔ پھر انٹرویو کے لیے ادارے آپ سے فون کال اور ای میل پر خود ہی رابطہ کریں گے۔ جاتے ہی انٹرویو کال کا انتظار نہیں کرنا۔ پہلا ہفتہ سمجھیں صرف اپلائی کرتے ہی گزر جانا ہے۔
اس کے بعد آپ کو رسپانس ملنا شروع ہو گا۔

7۔ آپ کی سہولت کے لیے آن لائن جاب کی تلاش اور اپلائی کرنے کے لیے کچھ اچھی و مفید ویب سائٹ دی جا رہی ہیں جن پرآپ اپنا فری اکاؤنٹ اور سی وی بنا کر مختلف جاب کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ ان کو "روزانہ" کی بنیاد پر چیک کریں۔ اس کے علاوہ بھی اور بہت اچھی سائٹس ہیں جو آپ کو آن لائن جاب سرچ کرنے کے دوران نظر آئیں گی ۔ کچھ ہائرنگ کمپنیز کی سائٹس پر جاب اپلائی کے لیے پیسے بھی درکار ہوتے ہیں مگر آپ فی الحال ان مفت سائٹس سے ہی کوشش کریں:

www.indeed.ae

www.careerjet.ae

www.monstergulf.com

www.dubai.dubizzle.com

www.gulftalent.com

www.naukrigulf.com

www.efinancialcareers.com

www.laimoon.com/uae

8۔ اگر آپ کے پاس مختلف فیلڈ کا تجربہ ہے تو سب کی علیحدہ علیحدہ سی وی بنائیں اور پوسٹ کے لحاظ سے اپلائی کریں۔ یہ نہیں کہ مارکیٹنگ کی جاب کے لیے اکاؤنٹس کا تجربہ سامنے ہو۔ یاد رہے کہ ادارے سی وی کے شروع سے ہی پہلا اندازہ لگاتے ہیں۔ اگر شروع میں ہی جاب کے مطابق تجربہ لکھا ملے تبھی وہ مکمل سی وی پرغور کرتے ہیں۔ یہ اصول صرف باہر ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی جاب اپلائی کرتے ذہن میں رکھا کریں۔ خاص طور پر آن لائن کیونکہ اس میں سی ویز کی بھر مار ہوتی ہے۔

9۔ دبئی قیام کی دوران ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ فی الحال وہاں ایک مقصد "جاب کا حصول" لے کر آئے ہیں تو اپنی پوری توجہ اسی مقصد پر صرف کریں۔ اپنے قیام کے آخری دن تک دل جمعی و دلچسپی سے جاب سرچ کریں۔ فضول میں باہر کی آوارہ گردی سے اجتناب کریں اور اپنا پورا فوکس جاب کی تلاش میں لگائیں۔ دبئی میں موجود اپنے جاننے والوں کو اپنے قیام کی مقصد سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی آپ کو کوئی جاب ریفر کر سکیں۔ خود بھی انٹرنیٹ پر خوب سرچ کریں اور مختلف اداروں کی ویب سائٹ پر جا کر ان کے کیریئر سیکشن پر اپلائی کریں۔

10۔دبئی میں اپنے ابتدائی دنوں میں ہی کسی دوست کی ساتھ مل کر میٹرو بس اور ٹرین پر سفر کرنے کا طریقہ سیکھ لیں تاکہ انٹرویو پر جانے کے لیے مشکل نہ ہو۔ ہمیشہ راستہ و منزل اچھے سے کنفرم کر کے ہی جائیں اور وقت سے کافی پہلے نکلیں تاکہ آرام و تسلی سے جا سکیں۔ وہاں کے قوانین کا خاص خیال رکھیں۔ باہر سفر کرتے ہوئے پاسپورٹ اور ویزا کی فوٹو کاپی ضرور ساتھ میں رکھیں۔

11۔ انٹرویو کے لیے فون کال آئے تو اطمینان و غور سے سمجھ کر سنیں۔ جو نہ سمجھ آئے، وہ دوبارہ پوچھ لیں۔ بات کا جواب اعتماد سے دیں۔ یہی باتیں انٹرویو دیتے ہوئے ذہن میں رکھیں۔ انگلش کو اچھے سے سمجھنے کے لیے پہلے ٹھیک سے سننا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ کو سٹارٹ میں چار سے پانچ ہزار تک کی آفر ملتی تو قبول کرنے میں ہرج نہیں کہ اگر آپ خود کو ساتھ ساتھ بہتر بناتے جائیں گے تو اچھی تنخواہ و ترقی لازم ہے۔ اس سے کم تنخواہ پر کام ملنا آسان ہے مگر پھر ذرا زیادہ سمجھوتے کرنے پڑ جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ صرف ایک مشورہ ہے، باقی فائنل فیصلہ آپ نے اپنے موجودہ حالات دیکھ کر ہی کرنا ہے کہ آپ کو کم از کم کتنے تک کی تنخواہ "وارے" میں ہے۔ بہت بہتر ہو کہ اس بارے میں بھی آپ پاکستان سے ہی ذہن بنا کر آئیں۔

12۔ لازمی یاد رکھیں کہ دبئی میں جاب شروع کرنے، چھوڑنے، کسی دوسری کمپنی میں جانے، چھٹیاں حاصل کرنے یا پاکستان مستقل واپس آنے کی اصول و ضوابط پر لازمی عمل کرنا ہوتا ہے۔ جس پر عمل نہ کرنے سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ اس بارے میں اپنے وہاں پر موجود دوستوں سے معلومات لے لیں یا خود آن لائن لیبر لاز کی پالیسی کو پڑھ لیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ جاب ملنے پر اکثر کمپنیز آپ کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں اور آپ کو کوئی خاص ضرورت پڑنے پر ہی واپس کرتی ہیں۔ اگرچہ ان کا یہ کام قانون کے خلاف ہے اور آپ شکایت بھی کر سکتے ہیں مگر بات آتی ہے پھر "مجبوری کا نام شکریہ" والی۔

13۔ حرف آخر یہ ہے کہ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنے کے بعد نتیجہ الله پر چھوڑ دیں۔ اگر دبئی میں جاب آپ کے لیے بہتر ہو گی تو ربّ آپ کا ضرور انتظام کر دے گا۔ بس آپ نے آخری دن تک بھرپور کوشش کرنی ہے۔ اگر دبئی میں جاب نہ ملے اور پاکستان واپس آنا پڑے تو دل چھوٹا مت کریں۔ پاکستان میں ہی کوشش جاری رکھیں یا اگر کوئی انتظام ہو سکے تو کچھ عرصے بعد پھر سے دبئی جا کر کوشش کریں۔ یہی سوچیے گا کہ چلو جاب نہ سہی، اسی بہانے ایک نئے ملک کی سیر ہی ہو گئی ۔ جہاز کا سفر بھی ہو گیا۔ دبئی کی دنیا بھی دیکھ لی، کچھ اور نہیں تو دبئی جانے کا اور دیکھنے کا آپ کا خواب تو پورا ہو ہی چکا نا!


میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com